خوف کے باعث عوام ووٹ کاسٹ نہیں کرینگے،ماہر نفسیات

اسٹاف رپورٹر  منگل 16 اپريل 2013
 انتخابی مہم حلقوں کے بجائے ٹاک شوزاورفیس بک پر چل رہی ہے،پروفیسرحیدر عباس. فوٹو: فائل

انتخابی مہم حلقوں کے بجائے ٹاک شوزاورفیس بک پر چل رہی ہے،پروفیسرحیدر عباس. فوٹو: فائل

کراچی:  ممتاز ماہرنفسیات اورجامعہ کراچی شعبہ نفسیات کے پروفیسرحیدرعباس نے ’’انتخابی سیاست میں خوف اوردہشت گردی کے عنصر‘‘کے موضوع پرگفتگوکرتے ہوئے کہاہے کہ جس شہراورملک میں سیاست دان اورانتخابی امیدوارخود اس قدرخوف کاشکارہوں کہ وہ اپنی انتخابی مہم کیلیے اپنے حلقوں میں جانے کے بجائے ’’ٹاک شوز‘‘ اور ’’فیس بک‘‘کااستعمال کررہے ہوں۔

وہاں ووٹرزسے یہ امید رکھنا مشکل ہے کہ وہ 11مئی کوووٹ ڈالنے کیلیے گھروں سے باہرآئیں جس قدرسیاست دان اورانتخابی امیدوارخوف کاشکارہیں دہشت گردی نے عوام کی نفسیات بھی اتنی ہی متاثر کی ہے،ایکسپریس سے گفتگوکرتے ہوئے پروفیسرحیدرعباس کا کہنا تھاکہ غیریقینی صورتحال،خوف اورسراسیمگی کا شکار لوگوں کی نفسیات انھیں11مئی کوگھروں میں پابند رکھنے میں کرداراداکرسکتی ہے۔

کراچی سمیت پورے ملک میں اسی طرح کی بے یقینی چھائی ہوئی ہے اورگلی محلوں میں لوگ انتخابات کے انعقادکے حوالے سے بھی ایک دوسرے سے استفسار کررہے ہیں کہ انتخابات کا انعقاد ممکن ہوگا پروفیسرحیدرعباس کاکہناتھاکہ امن وامان کی صورتحال کے سبب لوگوں کی نفسیات میں عدم اعتماد جگہ بنا چکا ہے۔

لوگوں کے اذہان کشمکش کا شکار ہیں اور اسی ذہنی کشمکش کے سبب معاشرہ بھی عدم توازن کاشکارہے،دہشت گردی کے خوف نے بھی ان کے اذہان میں جگہ بنالی ہے ایک سوال کے جواب میں ان کاکہناتھاکہ اگر11مئی کودہشت گردی کاکوئی واقعہ پیش آتاہے تولوگ ووٹ ڈالنے کے بجائے گھروںمیں بیٹھنے کوترجیح دیں گے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔