ایچ اقبال کی تصانیف- ایک جائزہ (حصہ اول)

رئیس فاطمہ  اتوار 29 اپريل 2018
fatimaqazi7@gmail.com

fati[email protected]

ایچ اقبال بنیادی طور پر ناول نگار ہیں، بطور خاص جاسوسی ادب میں ان کا نام بہت بلند ہے۔ انھوں نے تاریخی ناول بھی لکھے ہیں لیکن مجھے حیرت ہوئی یہ جان کر کہ موصوف موسیقی میں بھی اتنی ہی جانکاری رکھتے ہیں جتنی کہ جاسوسی اور تاریخی ناولوں میں۔ صرف یہی نہیں بلکہ انھیں فن موسیقی پر عبور حاصل ہے۔ مشرقی موسیقی لکھی نہیں جاتی، مشکلات در پیش آتی ہیں۔

موسیقی پر اور بھی لوگوں نے کتابیں لکھی ہیں لیکن وہ سب ان کے لیے ہیں جو موسیقی سے واقف ہیں لیکن اس وقت جو دو کتابیں ایچ اقبال کی میرے سامنے ہیں وہ دونوں موسیقی کی ابجد کے حوالے سے ان کے لیے بہت اہم ہیں جو مبتدی ہیں۔ وہ لوگ جوگانا سیکھتے ہیں اور وہ لوگ جو موسیقی کے اسرار و رموز سے سادہ الفاظ میں واقفیت چاہتے ہیں ان کے لیے جو مبتدی ہیںکی کتاب ’’ابجد موسیقی‘‘ بہت کار آمد ہے۔

موسیقی اور وہ بھی سیمی کلاسیکل موسیقی میری بھی کمزوری ہے۔ اسی لیے اس کتاب نے مجھے متاثرکیا۔ یہ جملہ آج بھی اتنا ہی سچا ہے جتنا کبھی پہلے تھا کہ ’’موسیقی روح کی غذا ہے‘‘ خواہ خوشی ہو یا غم دونوں کیفیتوں میں موسیقی ہمارے جذبات سے ہم آہنگ ہوکر ہمیں سرور اور خوشی عطا کرتی ہے اور ہمیں ڈیپریشن سے نکالتی ہے۔ اب تک موسیقی پر صرف ان لوگوں کے لیے کتابیں لکھی گئی ہیں جو پہلے ہی سے موسیقی سے واقف ہیں لیکن ’’ابجد موسیقی‘‘ ان نو آموزگلوکاروں کے لیے ہے جنھوں نے اپنے شوق کی خاطر موسیقی کو اپنایا ہے۔

یہ کتاب ایک طرح سے موسیقی کی ابتدائی کتاب ہے، بالکل اسی طرح جسے الف، ب، ت کا قاعدہ جس کو پڑھے بغیر آپ آگے نہیں بڑھ سکتے۔ اس کتاب میں دھنوں کی نوٹیشن کی تمام باتیں اچھی طرح سمجھائی گئی ہیں۔ یہ بڑا مشکل کام ہے جسے مصنف نے بحسن و خوبی انجام دیا ہے خاص کر نوٹیشن کے حوالے سے نوٹیشن سے مراد موسیقی کے سُر تال وغیرہ کو مقررہ علامات کے ذریعے تحریر میں لانے کا طریقہ ہے۔

مہدی حسن نے اس کتاب کے بارے میں فرمایا کہ ’’ایچ اقبال نے ’’ابجد موسیقی‘‘ کے نام سے یہ کتاب لکھی ہے میں نے خود اس کی جانچ پڑتال کی تو ماشا اﷲ سو فی صد نوٹیشن اور صحیح۔ کا معیار محسوس کیا۔ یہ کتاب لوگوں کے درس کے لیے موسیقی میں ان کو راستہ دکھانے کے لیے بہت بہترین ثابت ہو گی۔ اردو میں کوئی ایسی کتاب جو الف، ب، ت کے قاعدے جیسی ہو میری نظر سے نہیں گزری ہے۔

مہدی حسن کی یہ رائے سو فیصد درست ہے۔دوسری کتاب بھی موسیقی ہی کے بارے میں ہے اس کا نام ہے ’’سُر، سنگ، سنگیت‘‘ جو فلمی گیتوں کے نوٹیشن یعنی سُر نویسی پر مشتمل ہے۔ یہ کتاب بھی نو آموز موسیقی کے دلدادہ لوگوں کے لیے ہے۔ اردو میں جو کتابیں موسیقی پر دستیاب ہیں ان میں نوٹیشن کا کوئی جامع طریق نظر نہیں آتا جس کا سبب ہماری موسیقی کی پیچیدگیاں ہیں۔ مصنف نے اس کتاب میں جن گیتوں کا نوٹیشن کیا ہے ان میں زیادہ تر پرانے اور سدا بہار گیت شامل ہیں۔ یہ دیکھ کر مجھے بے حد خوشی ہوئی کہ اس فہرست میں میرے پسندیدہ گیت بھی شامل ہیں۔ مثلاً

(1) ۔ دھیرے سے آجاری انکھین میں نندیا آجاری آجا… گلوکارہ لتا جی ہیں۔

(2) ۔ مدھوبن میں رادھیکا ناچے رے۔ جسے محمد رفیع نے گایا اور دلیپ صاحب پر فلمایا گیا۔ اس گیت کو پکچرائز کروانے میں ستار بجانے کی پریکٹس میں دلیپ صاحب کی انگلیاں زخمی ہوگئی تھیں۔کوہ نور فلم کا یہ گیت آج بھی سدا بہار ہے۔

(3) ۔ پیا ناھیں آئے سکھی ری۔ استاد امانت علی اور نور جہاں نے گایا۔

(4) ۔ اے ری میں تو پریم دیوانی میرا درد نہ جانے کوئی۔ فلم نو بہارکا یہ گیت لتاجی نے گایا اور بہت مقبول ہوا۔

(5) ۔ جا جا میں تو سے سے نہیں بولوں۔ فلم موسیقار میں یہ گیت نور جہاں نے گایا۔

(6) ۔ چھاپ تلک سب چھینی رے موسے نیناں ملائے کے۔ ناہید اختر نے گایا اور خوب گایا۔

(7) ۔ سکل بن پھول رہی سرسوں۔ بلقیس خانم اور ان کے ساتھیوں نے گایا ۔

(8) ۔ میرے نیناں ساون بھادوں پھر بھی میرا من پیاسا۔ اسے کشور کمار نے گایا۔

ایچ اقبال نے نوٹیشن سے پہلے پورا گیت لکھا ہے تاکہ سیکھنے والا آسانی سے سیکھ سکے اور سُر اٹھا سکے۔ انھوں نے نوٹیشن پر عمل کرنے کا طریقہ بھی بتایا ہے اور ساتھ ساتھ نوٹیشن سمجھنے کی علامات ایک علیحدہ باب میں بتائی گئی ہیں تاکہ موسیقی سیکھنے والے ان اسرار و رموز یعنی علامات کو سمجھ کر ذہن نشین کرلیں، اس کے بعد آگے بڑھیں۔ بلاشبہ اقبال صاحب کی یہ محنت قابل ستائش ہے۔ ایک ناول نگار اور کہانی کار ہوتے ہوئے موسیقی پر اتنی ماہرانہ دسترس واقعی لائق ستائش ہے۔

ایچ اقبال  نے چومکھی لڑائی لڑی ہے۔ ایک طرف جاسوسی ناول، دوسری طرف موسیقی، تیسری طرف تاریخی ناول اور چوتھی طرف شاعری۔ جی ہاں موصوف کا شعری مجموعہ عنقریب منظر عام پر آنے والا ہے۔

ایک اور کتاب ایچ اقبال  کی جو میرے سامنے ہے اس کا نام ہے  ’’اورنگ زیب کے بعد سے بہادر شاہ ظفر تک‘‘ یہ ایک تاریخی ناول ہے اس پر مختصر بات کروںگی ورنہ تو مصنف کی ہر کتاب پر ایک مقالہ لکھا جاسکتا ہے۔ اس کتاب میں انھوں نے آخری گیارہ مغل بادشاہوں کے 150 سالہ عہد کا تذکرہ کیا ہے، یعنی اس عہد کا جب تخت و تاج کے لیے بھائیوں اور چچاؤں کا خون بہایا گیا۔ شاہ جہاں اور اورنگ زیب کے بعد لوگوں کے ذہنوں میں بہادر شاہ ظفرؔ کا نام آتا ہے جب کہ ان دونوں کے درمیان دس مغل بادشاہ اور بھی گزرے ہیں۔ جن کے نام اور کارنامے اس ناول میں درج ہیں۔ یہ کتاب ان مغل بادشاہوں کے حالات و واقعات پر مشتمل ہے جو اورنگ زیب کے بعد تخت نشین ہوئے اور سلطنت دہلی کے تخت پر بیٹھے۔

ان کے نام یہ ہیں ۔(1)۔شاہ عالم بہادر شاہ۔ (2)۔جہاں دار شاہ(3)۔فرخ سیر(4)۔رفیع الدرجات (5)۔محمد شاہ(6)۔احمد شاہ(7)۔عالم گیر ثانی(8)۔شاہ عالم ثانی(9)۔اکبر شاہ ثانی (10)۔بہادر شاہ ظفر۔

جو آخری مغل بادشاہ تھے اور رنگون میں مدفون ہیں۔

(جاری ہے)

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔