طوفاں جب پہنچا لبِ ساحل تو کیا ہوگا، یہ سوچو تم

رحمت علی رازی  اتوار 29 اپريل 2018
rehmatraazi@hotmail.com

[email protected]

جاتی امر اکے نواز شریف ایک بار صوبائی وزیر، دو بار وزیر اعلیٰ اور تین بار وزیر اعظم رہے ہیں۔ان کے سیاسی مخالفین اور موافقین کا متفقہ خیال ہے کہ میاں صاحب ہمیشہ آسانیوں میں رہے ہیں۔

انگریزی محاورے کے مطابق،انھوں نے کبھی’’مشکل پانیوں‘‘ میں وقت نہیں گزارا۔ سیاسی‘ انتخابی ہوائیں اور فضائیں انھیں ہمیشہ موافق اور ہموار ہی ملی ہیں۔ پاکستان کا تقریباً ہر اہم ادارہ ان کی ’’محبت‘‘ میں سرشار رہا ہے۔ بینظیر بھٹو کے بالمقابل انھیں ہمیشہ ترجیح اور تفوق حاصل رہا ہے۔ اِس دعوے کے لیے کئی مثالیںبھی پیش کی جا سکتی ہیں۔ یہاں تک کہ انھیں جسٹس (ر) قیوم ملک کی طرف سے بھی ہر ممکنہ ’’تعاون‘‘ اور ’’اکرام‘‘ میسر رہا۔

نواز شریف کی خوش بختی رہی ہے کہ اگر وہ منہ میں سونے کا نوالہ لے کر پیدا ہُوئے تو سیاست میں بھی انھیں بہت سی ایسی قوتیں اور شخصیات دستیاب آ گئیں جو ان کے منہ میں سیاسی سونے کا ہی نوالہ دئیے رہیں۔ انھیں گھر بیٹھے بٹھائے جو مراعات اور سہولیات فراہم کی جاتی رہی ہیں، پاکستان کا عام سیاستدان اور سیاسی ورکر اِس کا محض خواب ہی دیکھ سکتا ہے۔

آج کل وزیر برائے اطلاعات ونشریات مریم اورنگزیب اکثر اوقات بطورِ طنز عمران خان کو کسی کا ’’لاڈلا‘‘ کہہ کر پکارتی ہیں لیکن درحقیقت یہ نواز شریف ہیں جو سیاسی اصطلاح میںہمیشہ ’’لاڈلے‘‘ رہے ہیں۔ انھیں تو کبھی کسی طرف سے’’ تَتّی‘‘ ہوا نہیں لگی۔ انھوں نے سیاست و اقتدار کی دنیا میں جو چاہا، مل گیا۔ اور جو نہیں چاہا، وہ بھی مل گیا۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ وہ نہ تو اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنے اور نہ ہی پاکستانی عوام کے۔اِسے ناشکری اور کفرانِ نعمت نہیں کہا جا ئے گا؟

رنج دینے والی بات یہ ہے کہ جنہوں نے ووٹ دیکر انھیں تین بار وزیر اعظم بنایا، انھیں بھی ہمیشہ نواز شریف نے خود سے دُور ہی رکھا۔ خود انھوں نے اپنے عمل سے ہمیشہ ثابت کیا ہے کہ نہ تو انھیں ووٹ کی حرمت کا پاس ہے اور نہ ہی ووٹر کی عزت کا لحاظ۔ ہاں، ووٹ لے کر وہ اپنے اور خاندان کے مفادات کا تحفظ کرتے ضرور پائے گئے ۔یوں اندرونِ ملک بھی ان کی جائیدادوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوتا گیا اور بیرونِ ملک بھی اُن کی دولت کے انبار لگتے گئے۔ انھوں نے ہمیشہ یہی خیال کیے رکھا کہ عوام کی احتسابی نظریں کبھی ان کی جانب نہیں اُٹھیں گی۔

پاکستان کا ووٹر کبھی اُن سے ان کے اعمال کا حساب نہیں پوچھے گا۔ اب ذرا سا پوچھا ہے تو میاں صاحب ہتھے ہی سے اُکھڑ گئے ہیں۔ اُن کا یہ طرزِ عمل اور طرزِ گفتار ووٹ کی بے حرمتی بھی ہے اور ووٹر کی توہین بھی۔ چاہیے تو یہ تھا کہ جب عوامِ پاکستان نے انھیں محبتوں اور چاہتوں سے ووٹ کی طاقت دیکر پاکستان کا تیسری مرتبہ وزیر اعظم منتخب کیا تو وہ پاکستان ہی کے بن کر رہتے، پاکستان ہی کے گُن گاتے نظر آتے، پاکستانی عوام اور پاکستانی ووٹر کے شکر گزار لگتے لیکن وہ ایسا طرزِ عمل اپنانے کے بجائے پاکستان کے سب سے بڑے ازلی اور مکار دشمن ملک کی محبت میں سرشار نظر آنے لگے۔

سچ تو یہ ہے کہ اس طرزِ عمل سے ووٹر کا دل لخت لخت ہو گیا جس نے بڑے رچاؤ اور محبتوں کے ساتھ انھیں تیسری بار وزیر اعظم بنا کر ایسے اعزاز سے نوازا تھا جو اعزاز آج تک کسی پاکستانی سیاستدان کو نصیب نہیںہوا۔ تیسری بار وزیر اعظم بنتے ہی میاں نواز شریف کا سرے سے یہ دعویٰ ہی بے بنیاد تھا کہ مجھے پاکستانی عوام نے ووٹ ہی اس بات کا دیا ہے کہ مَیں بھارت سے محبت بھرے اور ’’برادرانہ‘‘ تعلقات استوار کروں۔

غلط، میاں صاحب بالکل غلط۔وہ بھارت جس نے 70سال گزرنے کے باوجود پاکستان کے وجود کو ابھی تک دل سے تسلیم نہیں کیا ہے، جس نے پاکستان کے خلاف تین بڑی جنگیں لڑی ہیں، وہ بھارت جس نے ابھی تک سیاچن میں پاکستانی علاقے پر قبضہ جما رکھا ہے، و ہ بھارت جس نے سازشوں اور چالاکیوں سے پاکستان کو دو لخت کیا اور وہ بھارت جس نے پاکستان کی ’’شہ رَگ‘‘ کو سات عشرے سے اپنی گرفت میں جکڑ رکھا ہے، بھلا اُس دشمنِ جاں بھارت سے ’’محبت بھرے‘‘ اور ’’برادرانہ تعلقات‘‘ استوار کرنے کی غرض سے پاکستانی عوام آپ کو ووٹ کیسے دے سکتے ہیں؟

سچ تو یہ ہے کہ میاں صاحب نے یہ دعویٰ کرکے پاکستان کے بیس بائیس کروڑ عوام کے دل بھی دُکھائے اور پاکستانیوں کے ووٹ کی رہی سہی عزت بھی پاؤں تلے روند ڈالی۔ محض بھارت کی محبت میں۔ نواز شریف کو بھاری عوامی ووٹ ملے تھے کہ وہ دنیا بھر میں پاکستان کا اعتبار اور وقار قائم کریں گے۔ یہ ووٹ اس لیے نہیں دئیے گئے تھے کہ وہ صرف ایک ملک کی محبت میں بے خود ہو کر اپنے ملک کی توقیر فراموش کر بیٹھیں۔ نہیں، ہرگز نہیں۔

چنانچہ کہا جا سکتا ہے کہ انھوں نے پاکستانی ووٹ کے حقیقی معنوں کا ادراک کیا نہ ووٹر کی عزت کو درخورِ اعتناء جانا۔یہ احساس سارے ملک کا ہے، پاکستان کی اکثریتی عوام کا ہے۔ نواز شریف پر عائد کیے جانے والے مالی کرپشن کے الزامات نے پاکستانی ووٹروں کا دل تو پہلے ہی توڑ رکھا ہے اور اب میاں صاحب کے ہاتھوں ووٹ اور ووٹر کی جس طرح بے حُرمتی کی جارہی ہے، اِس نے عوام کا دل مزیدکھٹا کر دیا ہے؛چنانچہ سابق نااہل وزیر اعظم نواز شریف جب ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کی بات کرتے ہیں، اپنے جلسوں میں یہ نعرہ لگاتے ہیں اور اپنی پریس ٹاکس میں اِسے بڑھاوا دینے کی کوشش کرتے ہیں تو ان کے منہ پر یہ الفاظ سجتے نہیں ہیں۔

بنیادی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے خود ووٹر کو عزت سے کبھی سرفراز نہیں کیا ہے۔ ووٹر کو عزت دینے کا معنی یہ ہے کہ ووٹ لیتے وقت اُن سے جو وعدے وعید کیے تھے، اُن سے عملی وفا کی جاتی۔ لیکن یہاں وفا کے بجائے ووٹر سے جفا کی گئی۔ اگر ووٹر کی عزت کی جاتی تو آج میاں صاحب کو اِن دگرگوں حالات کا سامنا بھی نہ کرنا پڑتا۔

شاید یہی وجہ ہے کہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار صاحب نے بھی اِنہی معنوں میں چند دن پہلے یہی کہا ہے کہ ’’ووٹ کی عزت کا مطلب یہ ہے کہ ووٹر کو عزت دی جائے، اُس سے کیے گئے وعدے نبھائے جائیں، عوام کے مفادات کا تحفظ کیا جائے، ان کے دکھوں اور مسائل کو کم کرنے کی ہر ممکنہ کوشش کی جائے۔‘‘ لیکن اِس کا کیا کِیا جائے کہ میاں صاحب اپنے ووٹر کو عزت دے سکے نہ اُسکے مفادات کی پاسبانی ونگہبانی کر سکے۔ ہاں، انھیں اپنے ذاتی، اپنی اولاد اور اپنے خاندان کے مفادات کا ہر دَم خیال رہا۔

ووٹر کا کوئی کام نہیں ہُوا لیکن اُنکا ذاتی کام کوئی رُکا نہیں۔ اللہ تعالیٰ اورووٹر نے انھیں جس اقتدار اور اختیار کا مالک بنایا تھا، وہ اقتدار اور اختیار صرف میاں صاحب کی ذات کے ارد گرد گردش کرتارہا۔ ان کی ذات ہی ان کے اقتدار کا مرکز ومحور بنی رہی۔ وہ اگر اپنی ذات کے حصارسے باہر نکلنے کا کبھی تکلّف کرتے تو اُن پر عیاں ہوتا کہ یہ ملک اور اس ملک کے بائیس کروڑ عوام کن عذابوں اور مصائب کا شکار ہیں۔

عوام کے ووٹ کی طاقت سے بننے والے حکمران کے کیایہ انداز واطوار ہوتے ہیں جن اطوار کا مظاہرہ میاں محمد نواز شریف نے چار سال تک کیا؟ قومی خزانے میں اضافہ ہُوا نہ قومی معیشت مستحکم ہو سکی۔ درآمدات میں بے تحاشہ اضافہ تو یقینا ہُوا لیکن برآمدات کا بیڑہ غرق ہوتا چلا گیا۔ ملک بھر میں کوئی نیا اور جدید اسپتال بنا نہ اسٹیٹ آف دی آرٹ کوئی نئی یونیورسٹی بنائی جا سکی۔

کالاباغ ڈیم تو نہ بنایا گیا لیکن توانائی کے لیے کسی نئے ڈیم کی بنیادیں بھی نہ رکھی جا سکیں۔ ملکی اقتصادی صورتحال کا یوں ستیاناس کیا گیا کہ مبینہ طور پر جعلی اعدادو شمار سے عالمی معاشی اداروں کی آنکھوں میں دُھول جھونکی گئی اور یوں ڈنگ ٹپاؤ کام چلایا گیا۔ اس کا یہ نتیجہ نکلا ہے کہ جونہی نواز شریف اور اُن کے ’’اقتصادی جادوگر‘‘ سمدھی صاحب اقتدار سے فارغ کیے گئے، پاکستانی معیشت بھی فارغ ہو گئی۔

کاٹھ کی ہنڈیا بھلا کب تک چڑھی رہ سکتی ہے؟ عالمی معاشی ادارے ’’گرے لسٹ‘‘ میں شامل کر کے پاکستانی معیشت کو پابجولاں کر چکے ہیں۔ پاکستانی روپیہ بے قدر اور بے توقیر ہو کر ناک کے بَل گر چکا ہے اور یہ سطور لکھتے وقت امریکی ڈالر کی اوپن مارکیٹ میں قیمت 120روپے کو چھو رہی ہے۔ مبینہ طور پر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے سربراہ کو ہنگامی میٹنگ بھی بلانا پڑ گئی ہے۔

طرفہ تماشہ یہ ہے کہ نواز شریف کے چُنے گئے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور شاہد خاقان عباسی کے چُنے گئے نئے معاشی مشیر مفتاح اسماعیل نے پاکستان کے گرے لسٹ میں شامل کیے جانے اور پھر روپے کی قیمت کم کرنے کے موقع پر قوم کو یہ نوید سنائی تھی کہ نہ تو مہنگائی بڑھے گی، نہ ہی ڈالر کی اوپن مارکیٹ قیمت میں بے تحاشہ اضافہ ہو گا اور نہ ہی ملک کو گرے لسٹ سے بلیک لسٹ میں شامل کیا جائے گا۔

یہ سب وعدے اور دعوے دھوکا اور جھوٹ ثابت ہُوئے ہیں۔ایکسچینج کمپنیزایسوسی ایشن آف پاکستان کے جنرل سیکریٹری ظفر پراچہ اورفاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے صدر ملک بوستان روپے کی قیمت کے بارے میں اچھی خبریں نہیں سنا رہے ہیں۔ ڈالر کی نئی اونچی اُڑان نے عوام کے ہوش بھی اُڑا کررکھ دیے ہیں۔ حکمرانوں کا تو کچھ بگڑا ہے نہ بگڑے گا، اس لیے کہ ان کی ملکی و غیر ملکی تجوریاں لبا لب بھری ہیں۔ پھر انھیں کاہے کا ڈر؟ کس کا ڈر؟

عوامی بد حالی اور پریشانی کا عالم یہ ہے کہ پہلے سولر پینل سے بنا جو یو پی ایس 85ہزار روپے سے تیار ہوتا تھا، اب ڈالر کی قیمت بڑھنے سے اُتنی ہی توانائی کا حامل یو پی ایس ایک لاکھ پندرہ ہزار روپے میں بن رہا ہے۔ڈالر کی قیمت بڑھنے سے مہنگائی کی جو ’’دیگ‘‘ پکی ہے، یہ تو اس کا محض ایک ’’دانہ‘‘ ہے۔ ملک سے بجلی غائب ہو چکی ہے۔ لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بڑھ رہا ہے۔

ایسے پیش منظر میں وہ سفید پوش عوام جو کڑوا گھونٹ بھر کر سولر سسٹم سے بنے یو پی ایس سے ایک پنکھے اور ایک بلب سے کام چلا لیتے تھے، یک دَم تیس ہزار روپے کا اضافے کا کمر شکن بوجھ کیسے برداشت کر سکیں گے؟ یہ عوام اپنی فریاد لے کر کہاں جائیں؟ کسے اپنا دُکھڑا سنائیں؟ جب کہ سابق نااہل وزیر اعظم نواز شریف ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کی گردان کیے جا رہے ہیں۔ کیا انھیںاپنے اُن اقدامات کا ذرا سا احساس بھی ہے جو اَب عوام کے پاؤں میں بھاری پتھر کی طرح باندھ دیے گئے ہیں؟

پاؤں اُٹھانا دشوار تر ہو چکا ہے اور یہ صاحب ایک بار پھر عوام کو نیا دھوکا دینے کے لیے ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کے مسلسل نعرے لگاتے چلے جا رہے ہیں۔ اِس میں کوئی شک نہیں ہے کہ جمہوری معاشروں میں ووٹ کی زبردست عزت ہوتی ہے۔ ہر شخص کا ووٹ ایک خاص پس منظر میں تقدیس کادرجہ رکھتا ہے۔ یہ ووٹ کی طاقت ہے جو اجتماعی شعور بن کر منتخب قومی اسمبلی کی شکل میں ڈھلتا ہے۔ اِسی لیے پارلیمنٹ کی بھی تقدیس ہے لیکن کیا نواز شریف خود بھی ووٹ اور پارلیمنٹ کو عزت دیتے ہیں؟

نواز شریف نے تیسری بار وزیر اعظم منتخب ہو کر ووٹ اورووٹر کو عزت یوں دی ہے کہ پچھلے چار برسوں میں صرف پانچ یا چھ مرتبہ قومی اسمبلی میں تشریف لائے۔ تو کیا ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کا مطلب محض یہ رہ گیا ہے کہ ووٹ لینے والوں کو قومی خزانہ لُوٹنے کی کھلی چھُوٹ دیدی جائے؟ اُنکا احتساب کیا جائے نہ اُن سے کوئی حساب لیا جائے؟ ان کی کرپشن کی داستانیں سُن اور دیکھ کو عدالتیں اپنی آنکھوں پر چادر ڈال لیں؟

یاد رکھا جائے کہ ایسے خواب دیکھنے والوں کے نہ تو خواب پورے ہو سکتے ہیں اور نہ ہی ایسی خواہشیں رکھنے والوں کی خواہشوں میں رنگ بھرا جا سکتا ہے۔ اگر خدانخواستہ ایسا ہو جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم سب مل ملا کر جنگل کا معاشرہ قائم کرنے کے درپے ہیں۔ پاکستان ایسے ایٹمی ملک میں جس کا ایک متفقہ اور مقدس آئین بھی ہے، ایسے منظر کا تصور ہی دل کو دہلا دیتا ہے۔

پاکستان کے بائیس کروڑ عوام بھی ایسا شتر بے مہار معاشرہ قائم کرنے کی ہر گز اجازت نہیں دے سکتے۔’’کسی‘‘ کو ایسے خواب دیکھنے اور ایسی خواہشات پالنے سے روکا جارہا ہے تو اُس نے ’’فتویٰ‘‘ سنا دیا ہے کہ ’’ملک میںجمہوریت کی بجائے بدترین آمریت قائم ہے، جو ہو رہا ہے جوڈیشل مارشل لا سے کم نہیں ہے۔‘‘ نواز شریف کی فرسٹریشن بول رہی ہے۔ انھوں نے وطنِ عزیز کی سب سے بڑی عادل شخصیت کا نام لے کر اپنا غصہ نکالنے کی سعی کی ہے۔

سارا ملک اور ملک کے سارے عوام ان کی اس جسارت پر ششدر ہیں۔ یہ تو براہِ راست عدالتِ عظمیٰ پر الزام ہے۔ اِس انداز میں تو اُس بھارت میں بھی کسی کو الزام لگانے کی جرأت نہیں ہو سکی ہے جہاں پچھلے ہفتے ہی چیف جسٹس آف انڈیا (دیپک مشرا) کے خلاف ایک بڑی سیاسی جماعت نے مواخذے کی کوشش تو کی لیکن قدم آگے نہ بڑھ سکے۔جو شخص اپنے ملک کی سب سے بڑی عدالت کو عزت نہیں دیتا، وہ ملک کے ووٹروں اور ووٹ کو کیا عزت دیگا؟

یوں کہنے والے درست ہی تو کہتے ہیں کہ سابق نااہل وزیر اعظم نواز شریف نے ووٹ کی عزت بنانے اور ووٹ کی عزت کرنے کی بجائے ووٹ کی عزت خراب ہی کی ہے۔ مگر ’’مستقل مزاجی‘‘ کی بھی کوئی حد ہوتی ہے کہ ووٹ کی عزت خراب کرنے والوں کا یہ نیا دعویٰ اور نعرہ سامنے آیا ہے کہ وہ چند ہفتوں بعد قومی انتخابات میں ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کے نعرے پر الیکشن لڑیں گے۔لیکن جن سابق حکمرانوں اور عدالت کی طرف سے نااہل ہونے والوں نے کبھی اپنے ووٹر کو عزت ہی نہیں دی، وہ جب’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کے نعرے کے ساتھ میدانِ انتخاب میں اُتریں گے تو ووٹر بھی انھیںٹھینگا دِکھا دیں گے۔

اس لیے کہ جن حکمرانوں نے کبھی ووٹر کو عزت نہیں دی، ووٹر ان کی عزت کیوں کرینگے؟ انتخابات ہی میں تو ووٹر کو بدلے چکانے اور حکمرانوں کا براہِ راست احتساب کرنے کا موقع میسر آتا ہے۔ ووٹر یقینا یہ سنہری موقع ضایع نہیں ہونے دیں گے۔ نااہلوں نے قوم کو معاشی طور پر جس طرح تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے، اس کا بھی تو ابھی احتساب کیا جانا باقی ہے۔

یہ بھی حکمرانوں کے احتساب ہی کی ایک شکل ہے کہ چند روز قبل ’’نیشنل اکنامک کونسل‘‘ کے اجلاس میں پاکستان کے تین وزرائے اعلیٰ نے جس حیرت انگیز طور پر نون لیگی حکومت کے خلاف متحدہ احتجاج کرکے واک آؤٹ کیا ہے، اِس نے ایک نئی مثال قائم کی ہے۔ لیکن حیرانی کی بات یہ ہے کہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی واک آؤٹ کرنیوالوں کو منانے اور ان کے گلے شکوے سُننے کی بجائے اپنی ضِد پر اَڑے رہے۔

اس سے سارے ملک میں ایک منفی پیغام پہنچا ہے۔ لیکن حکمرانوں کو شائد قومی یکجہتی کی اب کوئی پروا نہیں رہ گئی۔ اِسی وجہ سے تو وفاقی وزیر داخلہ و منصوبہ بندی احسن اقبال بھی اسلام آباد کے ایک سرکاری سیمینار سے خطاب کرتے ہُوئے پچھلے روز چیف جسٹس آف پاکستان پر برس پڑے ہیں۔ اُن کا لہجہ بھی قابلِ گرفت تھا اور اُن کی باڈی لینگوئج بھی۔انھوں نے پاکستان کے چیف جج صاحب کو جس انداز میں للکارا ہے، اِس میں سراسر سرکشی پائی جاتی ہے۔

کہا جا سکتا ہے کہ احسن اقبال کو یہ ’’ہلا شیری‘‘ اپنے نااہل اور ’’تاحیات‘‘ قائد کے اختیار کردہ لہجے سے ملی ہے۔ جُوں جُوں ایک بڑے فیصلے کے دن قریب آرہے ہیں، نون لیگی اور شین لیگی حضرات کی فرسٹریشن بھی بڑھتی جارہی ہے اور ان کی زبانیں بھی بے قابو ہوتی جا رہی ہیں۔احسن اقبال نے تو ثابت بھی کر دیا ہے لیکن عدلیہ مخالف زبان بولنے والوں پر واضح ہوجانا چاہیے کہ وہ اِن ہتھکنڈوں سے عدلیہ اور جج صاحبان کو دباؤ میں نہیں لا سکتے۔

ہماری عظیم عدلیہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آزاد ہے اور آزادانہ فیصلے ہی کررہی ہے۔ اس پر کسی کا دباؤ و رعب ہے نہ کوئی رعب اور دباؤ ڈالنے کی جرأت کر ہی سکتا ہے۔ نون لیگی اور شین لیگی اپنے جلسوں، اپنے اخباری بیانات اور ٹی وی ٹاک شوز میں خواہ عدلیہ مخالف کیسی ہی زبان استعمال کر لیں، عدلیہ کو کوئی مائی کا لعل اپنے ڈھب پر لانے میں کامیاب وکامران نہیں ہو سکتا۔

کسی کو یقین نہ آئے تو وہ 26 اپریل کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے تین معزز جج صاحبان کا وہ تازہ فیصلہ ملاحظہ کر لے جس میں نون لیگی یا شین لیگی رہنما اور سابق وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف کو نااہل قرار دیا گیا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 62 وَن ایف کے تحت خواجہ میاں اب سیاست اور انتخابات کی دنیا سے آؤٹ ہو چکے ہیں۔ یوں وہ اُس صف میں جا شامل ہُوئے ہیں جس صف میں اُن سے قبل نواز شریف، نہال ہاشمی اور جہانگیر ترین شامل ہو چکے ہیں۔ خواجہ صاحب کو غصے اور طیش میں آنا چاہیے نہ عدالت کو کوسنا چاہیے۔ انھیںدراصل اپنے ووٹروں اور قوم سے جھوٹ بولنے کی سزا ملی ہے۔

عثمان ڈار نے اُن کے خلاف عدالت جا کر درست قدم اُٹھایا تھا۔غضب خدا کا وہ پاکستان کے وزیردفاع ، وزیر پانی و بجلی اور وزیر خارجہ ایسے حساس عہدے پر بھی فائز تھے اور ساتھ ہی ایک غیر ملکی فرم کے باقاعدہ ملازم بھی۔ اقامہ بھی جیب میں رکھے پھرتے تھے۔ تو کیا اِس سب کے باوصف اُن سے در گزر کیا جاتا؟ اُن کی کذب گوئی کی طرف سے آنکھیں بند رکھی جاتیں؟ ایسے جھوٹے لوگ کس منہ سے یہ دعوے کرتے ہیں کہ ووٹ کو عزت دی جائے۔ افسوس، صد افسوس!! اب تو ملک کے بے بس، مجبور، لاوارث اور مظلوم عوام حکمرانوں کو کوستے سنے گئے ہیں کہ

ہمیں تو ڈوبنا ہے ڈوب جائیں گے،  ہمارا کیا

طوفاں جب پہنچا لبِ ساحل تو کیا ہوگا، یہ سوچو تم

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔