اقلیتوں کے لیے ہماری عدلیہ کے مستحسن اقدام

تنویر قیصر شاہد  پير 30 اپريل 2018
tanveer.qaisar@express.com.pk

[email protected]

ہمارے ہاں بد قسمتی سے ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں جو وطن مخالفوں کے بیانئے سے ہم آہنگ ہو کر یہ پروپیگنڈہ کرتے ہیں کہ پاکستان میں اقلیتوں کے مذہبی اور بنیادی انسانی حقوق کا خیال رکھا جاتا ہے نہ اِن کا تحفظ ہی کیا جاتا ہے۔

ویسے تو پاکستان کی تمام اقلیتوں کے جملہ حقوق کو تحفظ دینے کے لیے بانیِ پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناح ہی کے ارشادات کافی ہیں۔ جن لوگوں کی نظریں بوجوہ قائد اعظم علیہ رحمہ کے مذکورہ ارشادات کی جانب نہیں اُٹھتیں، اُن سے گزارش ہے کہ وہ آئینِ پاکستان ہی کا مطالعہ کرنے کا کبھی تکلّف کرلیا کریں۔ ہمارے آئین نے تمام پاکستانی اقلیتوں کو اُن کے ہر قسم کے حقوق کی ضمانت فراہم کی ہے۔

ہماری معزز عدالتیں بھی اقلیتوں کے حقوق  محفوظ رکھنے میں خاصی مستعد ثابت ہُوئی ہیں۔ خصوصاً ہماری عدالتِ عظمیٰ نے اس سلسلے میں کئی شاندار اور قابلِ تحسین فیصلے سنائے ہیں۔ مثال کے طور پر کچھ عرصہ قبل ہی سپریم کورٹ کے ایک معزز جج صاحب کا کٹاس راج اور اس میں رکھے بعض نوادرات کے حوالے سے متروکہ وقف املاک کے ذمے داران کی سرزنش کرنا۔ عدالتِ عظمٰی نے جو ریمارکس دیے تھے، سب نے اُن سے اتفاق کیا تھا۔

26اپریل2018ء کوایک انگریزی اخبار نے چیف جسٹس صاحب کے حوالے سے ایک خبر اِن الفاظ میں شایع کی:CJP orders  establishment of Minority Wing at Supreme court. یقینا اِس وِنگ کا قیام پاکستانی اقلیتوں کے لیے ایک شاندار اقدام ہے۔

پاکستانی مسیحیوں کے بعد ہندو کمیونٹی شائد ہماری دوسری بڑی اقلیت ہیں۔چکوال میں کلر کہار کے نزدیک واقع کٹاس راج ہمارا قومی ورثہ ہے۔ یہاں ہندوؤں کے سیکڑوںسالہ قدیم ترین منادر اور ان کی دلکش طرزِ تعمیر حیرت زار ہیں۔ جس منفرد جگہ پر کٹاس راج کی یہ عبادتگاہیں تعمیر کی گئی ہیں، وہ حیران کن ہیں۔ اگر صدیوں پرانا ایسا کوئی مقام مغربی یورپ کے سفید فاموں کے پاس ہوتا تو وہ اِسے بہترین ٹورسٹ لوکیشن بنا دیتے۔

اپنے ملک کی سیاحتی مشہوری بھی کرتے اور متعلقہ مذہب کے ماننے والوں کی دعائیں بھی سمیٹتے۔ ہم نے مگر کٹاس راج ایسے قیمتی اور منفرد ترین مقام کی قدر نہیں کی۔چند دن پہلے پی ٹی ڈی سی نے یہ خوش کن خبر تو سنائی ہے کہ2017ء میں 17لاکھ سیاحوں نے پاکستان کا چکر لگایا لیکن یہ نہیں بتایا کہ ان میں سے کتنے بھارت سے آ کر کٹاس راج دیکھنے آئے تھے۔ وہ تو چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الٰہی کا شکریہ جنہوں نے اپنے پچھلے ایک دَورِ اقتدار میں کٹاس راج کی عظمتِ رفتہ بحال کر دی تھی۔

یوں ساری دنیا سے ہندو یاتری اِس مقدس ہندووانہ مذہبی مقام کی یاترا کرنے جوق در جوق پاکستان آنے لگے تھے۔ بھارت سے آنے والے ہندو یاتری جب پہلی بار کٹاس راج کوایک نظر دیکھتے ہیں تو مبہوت رہ جاتے ہیں۔یہاں موجود صدیوں پرانا تالاب، جو آج تک کبھی خشک نہیں ہُوا ہے، ہندوؤں کے نزدیک خاص دلکشی، انفرادیت اور تقدیس رکھتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اِس تالاب کے پیندے میں کوئی ایسا پُراسرار چشمہ آب ہے جس کے پانی نے سیکڑوں برس سے اِس تالاب کو حیاتِ دوام بخش رکھا ہے۔

ہندو چونکہ اپنے کسی بڑے دیوتا سے بھی اس تالاب کو منسوب کرتے ہیں، اس لیے اُن کے نزدیک اس کی عظمت میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔ ہمارے لیے یہ محض ورثہ ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اگر پاک بھارت تعلقات بہتر ہوتے اور دونوں ممالک میں ویزے کے حصول میں آسانیاں ہوتیں تو پاکستان بہت بہتر طریقے سے کٹاس راج کے سپاٹ کو کیش کروا سکتا تھا۔کٹاس راج کے منادر کی فلمبندی کے لیے جس طرح جدید ڈرون کو بروئے کار لایا گیا ہے، اس نے تو کٹاس راج مندروں کے تمام وہ خوبصورت گوشے بھی عیاں کر دیے ہیں جو انسانی آنکھ سے آج تک اوجھل تھے۔

اِسی طرح کی ایک اور قابلِ رشک ویڈیو فلم اُنہوں نے سکھوں کے مقدس مقام(گردوارہ دربار صاحب کرتار پور) کے بارے میں بھی تیار کروائی تھی۔ یہ مقام شکرگڑھ اور نارووال کے درمیان، دریا کنارے، واقع ہے اور سکھوں کے نزدیک اس کی بلند مذہبی حیثیت ہے۔ بھارتی و عالمی سکھ کمیونٹی نے اِس فلم کو بے حد پسند کیا ہے۔ مجھے یہ تو معلوم تھا کہ محمد سلیم بیگ صاحب اعلیٰ کتابوں کا اعلیٰ ذوق رکھتے ہیں لیکن مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اُن کے باطن میں ایک اعلیٰ درجے کا آرٹسٹ بھی چھپا رکھا ہے۔

لیکن ایسے بھی ہیں جن کے ہاتھوں سے، دانستہ یا نادانستہ، کٹاس راج منادر اور اس کے ’’مقدس تالاب‘‘ کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔کٹاس راج کے آس پاس چار عدد سیمنٹ فیکٹریاںدن رات کام کررہی ہیں۔ سیمنٹ کے ان کارخانوں کو پانی کی بھاری مقدار بھی چاہیے۔ کارخانوں کے مالکان نے دریا سے پانی لانے کے بجائے ای پی اے (انوائرنمنٹ پروٹیکشن ایجنسی) کے (سابق) سینئر اہلکاروں سے مبینہ طور پر مل ملا کر زیر زمین بورنگ کرکے اپنے اپنے ٹیوب ویل لگا لیے۔

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب، محترمہ عاصمہ حمید، کا کہنا ہے: پچھلے 14برسوں کے دوران یہ سیمنٹ فیکٹریاں تقریباً 31 ارب گیلن پانی زمین سے کھینچ چکی ہیں۔1962ء کے کینال اینڈ ڈرینیج ایکٹ کے مطابق ،اِن سیمنٹ فیکٹریوں کو25 پیسے فی گیلن کے حساب سے رقم قومی خزانے میں جمع کروانی چاہیے تھی۔ اور اگر یہ سیمنٹ فیکٹریاں25 پیسے فی گیلن کے حساب سے رقم ادا کرتیں تو اُنہیں سات ارب روپے ادا کرنا پڑتے۔

زمین سے نکالے گئے پانی کی وجہ سے کٹاس راج کا تاریخی، قدیم اور ’’مقدس تالاب‘‘ بھی تقریباً خشک ہو چکا ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان جناب ثاقب نثار صاحب اس بارے میں از خود نوٹس لے چکے ہیں۔آجکل وہ سپریم کورٹ کے تین رُکنی بنچ کے تحت اس مقدمے کی سماعت بھی کررہے ہیں۔محترم جسٹس ثاقب نثار صاحب کے علاوہ اس بنچ میں جسٹس عمر بندیال صاحب اور جسٹس اعجاز الاحسن صاحب بھی شامل ہیں۔

ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے ان تینوں معزز جج صاحبان نے اس ضمن میں جو اقدام کیا ہے، قابلِ ستائش بھی ہے اور قابلِ تحسین بھی۔ جناب جسٹس عمر عطا بندیال صاحب نے کیس کی سماعت کرتے ہُوئے مبینہ طور پر کہا ہے کہ اگر سیمنٹ فیکٹریاں پانی کی قیمت ادا نہیں کرتیں تو پھر عدالت دیکھے گی کہ اِن کے خلاف کیا ایکشن لیا جا سکتا ہے۔ اور چیف جسٹس صاحب نے اِس بارے سماعت کے دوران کہا :’’ہم یہ صنعتیں بند تو نہیں کررہے ہیں لیکن سیمنٹ فیکٹری مالکان کو بتانا چاہیے کہ اُنہوں نے کس قانون کے تحت زمین میں بورنگ کی؟‘‘

عدالتِ عظمیٰ کے سب سے بڑے جج صاحب نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ’’کیا فیکٹری مالکان نے یہ بھی نہ سوچا  کہ بورنگ کی وجہ سے زیر زمین پانی کی مقدار میں جو کمی واقع ہوگی، اُس سے کٹاس راج کا (تاریخی) تالاب بھی خشک ہو جائے گا؟۔‘‘واقعہ یہ ہے کہ ان سیمنٹ فیکٹریوں کی وجہ سے کٹاس راج ہی کو نقصان نہیں پہنچا ہے بلکہ چکوال کا آس پاس کا سارا علاقہ بھی زیر زمین پینے کے پانی سے تقریباً محروم ہو چکا ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے اب جو قدم اُٹھایا ہے، اہلِ چکوال بھی جج صاحبان کے شکر گزار ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔