مانیٹری پالیسی…

ایم آئی خلیل  منگل 16 اپريل 2013

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے رواں مالی سال کا آخری مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک میں اسٹیٹ بینک کی طرز پر ادارے قائم ہیں جنھیں اس ملک کا مرکزی بینک، سینٹرل بینک، فیڈرل یا دیگر ناموں سے پکارا جاتا ہے۔ دنیا کا قدیم ترین مرکزی بینک سوئیڈن میں 1868میں قائم کیا گیا تھا جسے Risks Bank of Sweeden کا نام دیا گیا۔ پھر ربع صدی گزرنے کے بعد برطانیہ نے اسی طرز کا ایک بینک قائم کر دیا۔

1894 میں قائم ہونے والے اس بینک کو بینک آف انگلینڈ کا نام دیا گیا، البتہ اسے قانونی طور پر نوٹ جاری کرنے کا اختیار بعد میں حاصل ہوا۔ 1881 میں ڈنمارک کا مرکزی بینک قائم کیا گیا اور 1882 میں جاپان نے بینک آف جاپان کی بنیاد ڈالی۔ انیسویں صدی تک تقریباً تمام یورپی ممالک اپنے اپنے مرکزی بینک قائم کر چکے تھے۔ البتہ امریکا کو اچھی خاصی تاخیر ہو چکی تھی کہ 1907 میں ایک مختلف صورت لیے وہاں کا مرکزی بینکاری کا نظام وجود میں آیا۔ پاکستان کا مرکزی بینک جسے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کہا جاتا ہے 1948 میں قائم ہوا اور یہی بینک مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتا ہے جو کہ ہر دو مہینے کے لیے ہوتا ہے، چنانچہ رواں مالی سال کی یہ آخری مانیٹری پالیسی ہے۔ اسٹیٹ بینک کے اگرچہ مختلف اقسام کے فرائض ہیں۔

ان میں سے زرعی پالیسی انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ ایسے میں جب کہ ملک میں بے شمار زرعی اور مالیاتی مسائل پیدا ہو چکے ہوں، معیشت سے متعلق بینکاری اور قرضوں و زر کے پھیلاؤ اور دیگر مسائل کے حل کے لیے زرعی پالیسی پیش کی جاتی ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان ملک کے زر کی مقدار کو اس طرح کنٹرول کرتا ہے کہ زر کی  صنعتکاروں، تاجروں اور کاروباری اداروں کے ساتھ عوام کی ضروریات بھی پوری ہو سکیں۔ اس پالیسی کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ زر اعتبار کو ملکی ضرورت کے مطابق ڈھال لیا جائے تا کہ ملک میں زر کے مسائل پیدا نہ ہوں۔ کاروباری افراد کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مالیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جاتا ہے۔ کاروباری افراد کو قرض گیری کے لیے آسانی پیدا کی جاتی ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے شرح سود حسب سابق 9.5 فیصد ہی برقرار رکھا ہے۔ البتہ تاجر برادری نے اسے مایوس کن قرار دیا ہے کیونکہ صنعتکار سستے قرضوں کو ترجیح دیتے ہیں تا کہ وہ زیادہ قرض حاصل کر سکیں اور کاروباری ادارے اپنے کاروبار کو فروغ دے سکیں۔ پاکستان میں رائج شرح سود کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ دیگر ملکوں کی نسبت زیادہ ہے۔ تاجروں کا مطالبہ ہے کہ شرح سود 8 فیصد ہونا چاہیے۔ لیکن اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے شرح سود میں کمی کرنے کے بجائے محتاط رویہ اختیار کر رکھا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ روپے کا بہاؤ حکومت کی طرف ہے۔ حکومت نے حد سے زیادہ قرضہ لینا شروع کر رکھا ہے جس کی وجہ سے پرائیویٹ اداروں کے لیے قرض کا حصول مشکل ہو کر رہ گیا ہے، حکومت کو قرض دیتے وقت بینکوں کو ذرہ بھر کچھ سوچنا نہیں پڑتا۔

دوسری طرف تجارتی بینکوں کا منافع بھی بڑھتا چلا جاتا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق جولائی 2012 سے 29 مارچ 2013 تک حکومت نے 853 ارب روپے سے زائد کا قرضہ حاصل کر لیا ہے۔ اب نجی شعبے کو قرض فراہمی کی گنجائش بہت کم کی جاتی ہے۔ غالباً اسی محتاط رویے کی بنا پر شرح سود میں کمی نہیں کی گئی، اگلی پالیسی میں بھی ایسا کرنا مشکل ہو گا کیونکہ ایک طرف سبسڈیز میں اضافہ ہو رہا ہے اور ٹیکس اصلاحات نہ ہونے کے سبب حکومتی آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو رہا ہے۔ دن بدن توانائی کے بحران میں اضافے کے سبب اور دیگر اداروں کے نقصان میں چلنے کے باعث سبسڈی بڑھ رہی ہے۔ لہٰذا ایسی صورت میں حکومتی قرض گیری میں بھی مسلسل اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔ اگرچہ گزشتہ دور حکومت میں شرح سود 14 فیصد تک بھی تھا۔

بینک نے شرح سود میں وقتاً فوقتاً کمی بھی کی حتیٰ کہ اب 9.5 فیصد تک لے آئی ہے۔ لیکن ملک میں توانائی کی قلت امن و امان کے مسائل اور دیگر بہت سے مسئلوں خصوصاً بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمت کی وجہ سے نئی سرمایہ کاری نہیں ہو رہی۔ حالانکہ خطے کے دیگر ملکوں میں بجلی کے نرخ پاکستان کی نسبت کم ہیں اور جن پیداواری کمپنیوں نے بجلی کی قیمت فروخت کی ہمیں پیش کش کی تھی اور پاکستان نے اسے قبول کیا، یہی کمپنیاں خطے کے دیگر ملکوں کو ہم سے بھی نصف قیمت کی پیش کش کر کے بجلی کی پیداوار کر کے اسے فروخت کر رہی ہیں۔ ہمارے یہاں کرپشن کے باعث انھی کمپنیوں کو ایسی راہ دکھا دی جاتی ہے جس سے عوام کا بھلا کم ہی ہوتا ہے۔

حکومت کی طرف سے مسلسل لیے جانے والے قرضوں میں اضافے کے باعث گزشتہ کئی سال سے معیشت کی بدحالی میں بے انتہا اضافہ ہی ہوتا چلا گیا۔ اس کے علاوہ اسٹیٹ بینک کے مطابق رواں سال کے دوران آئی ایم ایف کو مزید 835 ملین ڈالر واپس کرنے ہیں۔ جس کے باعث آیندہ مہینوں میں زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ جاری رہنے کا امکان ہے، جنوری 2013 میں زرمبادلہ کے ذخائر 8.7 ارب ڈالر تھے جو کہ 5 اپریل کو مزید کم ہوکر 6.7 ارب ڈالر رہ گئے ہیں۔ اس کی اہم وجہ قرضوں کی واپسی ہے۔

اسٹیٹ بینک کے ذمے نوٹ چھاپنا ہوتا ہے۔ نوٹ جاری کرنے کے دو طریقے اختیار کیے جاتے ہیں۔ اول نوٹ جاری کرتے وقت مرکزی بینک ان نوٹوں کی مالیت کا ایک خاص فیصد سونا یا چاندی اپنے پاس رکھتا ہے۔ بعض ملکوں کے مرکزی بینکوں کو اس ملک کی اسمبلی ایک زیادہ سے زیادہ حد تک نوٹ جاری کرنے کی اجازت دیتی ہے، اگر اس سے زائد مقدار میں نوٹ جاری کیا جائے تو نوٹوں کی مالیت کے برابر سونا رکھا جاتا ہے۔ پاکستان میں حکومت کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے لیے اسٹیٹ بینک نوٹ چھاپتا رہتا ہے۔ مرکزی بینک نے حکومت کے لیے قرض کی جو حد مقرر کی تھی حکومت اس حد سے آگے جا چکی ہے۔

اب الیکشن اخراجات کے باعث بینکوں سے کرنسی نکلوانے کی طلب میں بھی شدید اضافہ ہو گا کیونکہ امیدواروں کو اخراجات کرنے کی جو حد دی گئی ہے عموماً اس سے زائد رقم خرچ کی جائے گی۔ کیونکہ بہت سے امیدواروں کے نزدیک الیکشن ایک قسم کی سرمایہ کاری ہے۔ اس میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے جتنی زیادہ رقم خرچ کی جائے گی، کامیابی کی صورت میں اس سے 10 گنا رقم کسی نہ کسی طرح وصول کر لی جائے گی۔ لہٰذا ایک طرف نقدی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے تا کہ الیکشن پر جو اخراجات کیے جا رہے ہیں اس سلسلے میں بینکوں میں کیش کی کمی نہ ہو شاید اس لیے شرح سود میں کمی نہیں کی گئی ورنہ ملک میں قرض گیری میں اضافہ بھی ہو سکتا تھا اور نقدی کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا۔

انھی وجوہات کی بنا پر یہ محتاط رویہ اختیار کیا گیا ہے۔ اگرچہ مرکزی بینک نے اس سے قبل تجارتی بینکوں کو مشورہ دیا تھا کہ وہ نجی کاروباری اداروں کو قرضوں کی فراہمی میں کشادگی پیدا کریں۔ لیکن چونکہ حکومت تجارتی بینکوں سے بھی بڑی مقدار میں قرض حاصل کر لیتی ہے۔ لہٰذا ملک کی خراب معاشی صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے تجارتی بینک بھی نجی اداروں کاروباری افراد کو قرض کی فراہمی میں کوئی دلچسپی نہیں لیتے۔ انھی وجوہات کی بنا پر اسٹیٹ بینک کا یہ کہنا ہے کہ سرمایہ کاری میں اضافے کی کوئی توقع نہیں ہے۔ رپورٹ کے مطابق افراط زر کی شرح میں توقع کے برعکس 15 فیصد کمی ہوئی ہے۔

آیندہ دنوں میں بھی مہنگائی کو بڑا چیلنج قرار دیا گیا ہے۔ بیرونی کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ موجودہ نگران حکومت اور منتخب حکومت کو جس سلسلے میں بھرپور اقدامات کی ضرورت ہے وہ ٹیکس وصولی میں اضافہ ہے۔ دنیا کے کئی ملکوں نے پاکستان پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کا امیر طبقہ ٹیکس ادا نہیں کرتا اور جو لوگ ٹیکس نیٹ ورک میں شامل ہیں مختلف طریقے اپنا کر بہت سا ٹیکس بچا لیتے ہیں اور اس کی خاطر وہ رشوت دے دیں گے لیکن حکومتی خزانے میں رقم نہیں جمع کرائیں گے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی میں جن مسائل اور خدشات کا ذکر کیا گیا ہے اس کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ حکومتی خزانے میں رقم اس لیے نہیں ہوتی کہ اسے ٹیکس کم وصول ہوتا ہے کیونکہ جو لوگ ٹیکس ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں یا ان پر جتنا بھی ٹیکس عائد ہوتا ہے وہ اس سے بہت ہی کم ٹیکس حکومتی خزانے میں جمع کراتے ہیں۔ لہٰذا اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کی کامیابی کا دارومدار دیگر باتوں کے علاوہ ٹیکس نیٹ ورک کا دائرہ بڑھانے اور ٹیکس وصولی کی رقوم میں نمایاں اضافہ کرنے پر ہے۔

[email protected]

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔