تہذیب سے کٹے ہوئے جنگلی قبائل

ذیشان محمد بیگ  اتوار 6 مئ 2018
 ان وحشیوں کی داستان جو دوسروں کی نگاہوں سے اوجھل رہنا چاہتے ہیں۔ فوٹو: فائل

 ان وحشیوں کی داستان جو دوسروں کی نگاہوں سے اوجھل رہنا چاہتے ہیں۔ فوٹو: فائل

ذرا تصور کریں کہ آپ ایک ایسی دنیا میں رہ رہے ہیں جہاں نہ آپ کو موبائل فون کا کچھ پتا ہے اور نہ ہی آپ کمپیوٹر کے متعلق کچھ جانتے ہیں اور نہ صرف یہ کہ آپ کو ان چیزوں کے بارے میں کچھ پتا نہیں ہے بلکہ آپ کو ان کا ادراک ہی نہ ہو کہ ایسی کوئی چیز وجود بھی رکھتی ہے۔

جی ہاں، دنیا میں ایسے کئی مقامات موجود ہیں یا یوں کہیے کہ وہاں رہنے والے لوگوں کے متعلق مہذب دنیا کو زیادہ معلومات نہیں ہیں۔ دوسری طرف ان لوگوں کی صورتحال بھی چنداں مختلف نہیں اور وہ بھی مہذب دنیا کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ آج ہم آپ کو چند ایسے ہی قبائل کے متعلق بتارہے ہیں جو اس دنیا میں موجود تو ہیں پر تمام دنیا سے الگ تھلگ زندگی گزار رہے ہیں۔

-1 ’’سینٹینیلیس‘‘ (Sentinelese)

اس قبیلے کے لوگ دنیا بھر میں سب سے الگ تھلگ رہنے اور دوسروں میں نہ گھلنے ملنے کے حوالے سے جانے جاتے ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اس قبیلے کی آبادی پچاس تا پانچ سو نفوس پر مشتمل ہے۔ یہ قبیلہ بھارت کے مشرق میں واقع ’’اینڈیمان‘‘ جزائر میں آباد ہے اور یہ ہر وہ طریقہ اختیار کرنے پر ہمہ وقت تیار رہتے ہیں جس کے ذریعے یہ اپنے قبیلے کو تحفظ فراہم کرسکیں۔ اس بات کا مطلب یہ بھی ہے کہ یہ باہر سے آنے والوں کے خلاف ہتھیار بھی استعمال کرنے سے نہیں ہچکچاتے۔ ان کی پہچان ایک روایتی قبیلے کی سی ہی ہے، یعنی یہ صرف شکار کرکے اپنا پیٹ بھرتے ہیں۔ نہ انہیں زراعت آتی ہے اور نہ ہی انہیں آگ کا کچھ اتا پتا ہے۔ یہ آج بھی ان دقیانوسی رواجوں پر عمل پیرا ہیں۔ جو ہم عام طور پر دیگر جنگلی قبائل سے موسوم کرتے ہیں۔

-2 ’’رک‘‘ (RUC)

یہ قبیلہ وسطیٰ ویتنام میں آباد ہے اور ’’چٹ‘‘ (Chut) قبیلے کی ایک ذیلی شاخ ہے۔ مذہبی لحاظ سے یہ قبیلہ مظاہر پرست ہے۔ ان کے عقیدے کے مطابق مظاہر قدرت جیسے درخت اور دریا وغیرہ ایک زندہ روح رکھتے ہیں۔ اس قبیلے کے لیے زندگی گزارنا ایک مشکل امر ہے کیونکہ حکومت نے متعدد بار کوشش کی ہے کہ قبیلے کی زمین کو تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے اور انہیں کسی دوسری جگہ منتقل کردیا جائے مگر قبیلے والے ان اقدام کے خلاف مزاحمت کرتے ہیں اسی لیے وہ پر سکون زندگی سے کوسوں دور ہیں اور اس بات کے لیے کوشاں رہتے ہیں کہ اپنے آپ کو بچا سکیں ۔

-3 ’’ٹوٹو بگو سوڈو‘‘ (Totobiegosode)

’’ٹوٹو بگو سوڈو‘‘ دنیا کا واحد قبیلہ ہے جو جنوبی امریکہ میں رہائش پذیر نہیں اور ابھی تک عالم تنہائی میں زندگی بسر کررہا ہے۔ یہ قبیلہ ایک نسلی گروہ ’’آئیوریو‘‘ (Ayoreo) کی ذیلی شاخ ہے اور یہ ’’پیراگیوئے‘‘ میں رہتا ہے۔ کیونکہ اس قبیلے کے افراد کی زندگی کو مستقلاً خطرات لاحق رہتے ہیں، اس لیے دو فلاحی تنظیموں نے ان کی بقا اور تحفظ کے لیے خود کو وقف کردیا ہے۔ اس قبیلے کے لوگوں میں زندہ دفن کرنے کا رواج پایا جاتا ہے، کیونکہ ان کے عقیدے کے مطابق زمین کے اوپر مرنا اچھا شگون نہیں ہوتا۔ اسی لیے جب ان کے یہاں کوئی بندے مرنے لگتا ہے تو یہ اس کو زندہ ہی زمین میں دفن کردیتے ہیں اور یوں وہ بندہ سانس گھٹ جانے کی وجہ سے ہلاک ہوجاتا ہے۔

-4 ’’واؤ ڈانی‘‘ (Waodani)

جنوبی امریکہ کے ملک ’’ایکواڈور‘‘ میں ’واؤ ڈانی‘ قبیلے کے تقریباً چار ہزار افراد رہتے ہیں۔ ان کا عقیدہ یہ ہے کہ مادی اور روحانی دنیائیں درحقیقت ایک ہی ہیں۔ اسی لیے یہ لوگ مظاہر پرستی پر یقین رکھتے ہیں۔ یہ لوگ وحشی اور تشدد پسند واقع ہوئے ہیں۔ ان کے ساٹھ فیصد افراد قتل ہوجانے کیے باعث موت کے گھاٹ اتر جاتے ہیں۔ بیرونی دنیا کے لوگ ان میں گھل مل جانے اور انہیں مہذب بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ اس وجہ سے اب واؤ ڈانی قبیلے والوں نے اپنے طرز زندگی کو تبدیل کرلیا ہے اور شکار کرنے اور پرانے طور طریقوں سے زندگی گزارنے کی بجائے وہ جنگلوں میں باقاعدہ بستیاں بسا کررہنے لگے ہیں لیکن طرفہ تماشہ یہ ہے کہ اس طرح اب وہ مزید الگ تھلگ ہوکر رہ گئے ہیں۔

-5 ’’کارابیو‘‘ (Carabayo)

’’کولمبیا‘‘ میں رہنے والا ’’کارابیو‘‘ قبیلہ شاید دنیا کے سب سے زیادہ تلاش کیے جانے والے قبیلوں میں سے ایک ہے۔ یہ کولمبیائی ایمازون کے دریائے ’’پیور‘‘ کے کنارے آباد ہیں۔ یہ لمبے اور طویل گھروں میں مل جل کر رہتے ہیں۔ یہ گھر لمبائی میں زیادہ جبکہ چوڑائی میں کم ہوتے ہیں اور ان میں کئی لوگ بیک وقت رہ سکتے ہیں۔ اس قبیلے پر اتنی بار حملے ہوئے کہ بالآخر کولمبیا کی حکومت کو ان کے تحفظ کے لیے قانون سازی کرنا پڑی۔ ان کو ربڑ کے تاجروں اور انسانوں کو غلام بنانے والے بردہ فروشوں کی جانب سے خطرات کا سامنا ہے۔ انہیں منفی روابط اور باہمی تال میل کے باعث ’’کارا بیو‘‘ قبیلے والے مسلسل ایسے نئے طریقے ڈھونڈنے میں لگے ہوئے ہیں جن کے ذریعے وہ بیرونی دنیا سے خود کو علیحدہ رکھ سکیں تاکہ جب تک ممکن ہو باقی دنیا سے الگ تھلگ ہی رہیں۔

-6 ’’پیاروآ‘‘ (Piaroa)

’’پیاروآ‘‘ قبیلے کے لوگ ’’وینزویلا‘‘ کے دریائے ’’اورینوکو‘‘ کے پیٹھے کے علاقے میں رہتے ہیں۔ یہ علاقہ کولمبیا کے دریا ’’اورینوکو‘‘ کے آس پاس اور سرحد پر ہونے کی وجہ سے کولمبین حکومت کے لیے انتہائی حساس ہے۔ مگر ’’پیاروآ‘‘ قبیلے کے لوگ مجموعی طور پر امن پسند واقع ہوئے ہیں۔ اس قبیلے کے افراد اختیارات کی تقسیم، برابری و مساوات اور مل بانٹ کر رہنے کے فلسفے پر یقین رکھتے ہیں۔ اسی لیے ان میں اقتدار پر قبضے کے لیے گروپ بندی نہیں پائی جاتی۔ اس قبیلے کی آبادی تقریباً چودہ ہزار کے لگ بھگ ہے جو علاقے میں کافی نمایاں اور اہم حیثیت رکھتی ہے۔ اگرچہ یہ دوسرے قبائل سے اکثر الجھ بھی پڑتے ہیں اور یہ جھگڑے عموماً چکنی مٹی کے حصول کے لیے ہوتے ہیں اور جن میں پُرتشدد واقعات بھی رونما ہوجاتے ہیں لیکن یہ محض چھوٹی موٹی لڑائیوں تک ہی محدود رہتے ہیں۔

-7 ’’ٹورومونا‘‘ (Toromona)

یہ قبیلہ ’’بولیویا‘‘ میں پایا جاتا ہے اور ان کے متعلق بس اتنی ہی معلومات دستیاب ہیں۔ یہ قبیلہ آج تک اس طرح کے تمام قبائل میں سے سب سے زیادہ خفیہ رہنے والا قبیلہ ہے۔ یہ اپنے آپ کو اتنا چھپا کر رکھتے ہیں کہ اس علاقے میں جانے والوں کو بھی پتا نہیں چلتا کہ وہ کہاں ہیں۔ یہاں تک کہ حکومت کو بھی صحیح طرح ان کے بارے میں معلومات نہیں ہیں۔ اس قبیلے کی بہتری اور تحفظ کے لیے 2006ء میں حکومت نے ’’میڈیڈی نیشنل پارک‘‘ کا ایک وسیع و عریض قطعہ اراضی ان کے لیے علیحدہ کرکے وقف کردیا۔ خوش قسمتی کی بات یہ ہے کہ حکومت اور اس علاقے میں آنے والے سیاح، اہل قبیلہ کی پرائیویسی کی ضرورت کا احترام کرتے ہیں۔

-8 ’’وے امپی‘‘ (Way Ampi)

’’وے امپی‘‘ قبیلے کے چند لوگوں نے اٹھارویں صدی میں کچھ عیسائی مشینریز کے ساتھ رابطے کیے۔ تاہم اب بھی ان کے کئی قبائل ایسے ہیں جو تنہا اور الگ تھلگ رہنا ہی پسند کرتے ہیں۔ یہ قبائل ’’فرنچ گیانا‘‘ اور برازیل میں پائے جاتے ہیں۔ ان کی آبادی ایک ہزار چھ سو افراد پر مشتمل ہے جو آج بھی اپنے قدیم رہن سہن اور طریقوں اور رواجوں پر کاربند ہے۔ یہ اکثر زراعت پیشہ بھی ہوتے ہیں۔ ان کی فصلوں میں کیلے، شکرقندی اور اروی کی قسم کی ایک سبزی شامل ہیں۔ ان تنہائی پسند قبائل میں باہر والوں کے خلاف شدید ردعمل اور مزاحمت پائی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ یہ ’’وے امپی‘‘ قبیلے کے ان افراد کو بھی نہیں بخشتے جن کے روابط عیسائی مشنریز کے ساتھ ہیں۔ یہ ان تعلقات اور ان لوگوں کو رد کرتے ہوئے اپنے تئیں قبیلے سے نکال چکے ہیں جو بیرونی دنیا کے لوگوں کے ساتھ رابطے رکھتے ہیں۔ انہیں یہ تو معلوم ہے کہ باہر کی دنیا کے لوگ ان کے علاقے میں موجود ہیں مگر ان کا ان کے ساتھ کوئی لینا دینا نہیں۔

-9 ’’جراوا‘‘ (Jarawa)

’’جراوا‘‘ قبائل جو بھارت کے مشرق میں واقع ’’اینڈیمان‘‘ جزائر میں رہائش پذیر ہیں، کافی عرصے سے اپنے آپ کو خفیہ رکھنے میں کامیاب چلے آ رہے ہیں۔ ہاں، اب یہ نہیں کہا جاسکتا کہ مزید کتنے عرصے تک وہ اس میں کامیاب رہیں گے کیونکہ بدقسمتی سے ’اینڈیمان ٹرنک روڈ‘ عین اس جگہ بنائی گئی جہاں اس قبیلے کا بسیرا تھا۔ اس وجہ سے نتیجہ یہ نکلا کہ ٹریفک اور سیاحوں کے آنے جانے کے باعث قبیلے کی پرائیویسی برقرار نہ رہ سکتی۔ بیرونی دنیا کے لوگوں کی اسی آزادانہ آمدورفت کی وجہ سے دوبار یہاں خسرے کی دباء پھوٹ پڑی اور ’’جراوا‘‘ قبائلی اس کی لپیٹ میں آکر بیمار ہوگئے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔