’’ہے شاباش!‘‘

عبد الطیف ابو شامل  اتوار 6 مئ 2018
جانوروں کے خدمت گار حاجی علی محمد بلوچ کی کتھا۔ فوٹو: فائل

جانوروں کے خدمت گار حاجی علی محمد بلوچ کی کتھا۔ فوٹو: فائل

دور تک سنسان سیاہ سڑک بچھی ہوئی تھی۔ یوں لگ رہا تھا جیسے تھک کر لمبی تان کے سو رہی ہو۔ آوارہ کتے کونے کھدروں میں دبکے بیٹھے تھے۔ شبِ تاریک کا تیسرا پہر بیت رہا تھا۔ میں بھیم پورہ کے پرانے مندر کے سامنے سے گزر رہا تھا کہ وہ مجھے پانی کے حوض صاف کرتے ہوئے نظر آگئے۔

ویسے تو وہ روزانہ نظر آتے اور حوض پر پیاسے نڈھال جانوروں کی قطار لگی رہتی۔ وہ گدھے، گھوڑے، اونٹ، گائے، بیل کو سیر ہوکر پانی پیتے دیکھتے اور پھر سکون کی ایک لہر ان کے وجود پر چھا جاتی۔ انھوں نے اپنے لیے کیا انوکھا کام منتخب کیا ہے۔ سارا دن وہ یہی کام کرتے ہیں اور کسی سے ایک پیسہ طلب نہیں کرتے۔ تو پھر اپنی ضروریات کیسے پوری کرتے ہیں؟ یہی سوال مجھے ان کے پاس لے گیا تھا۔

حاجی علی محمد بلوچ ایک سچا، اَکل کُھرا انسان، بناوٹی باتوں اور منافق رویوں سے دور، انسانیت، پیار، محبت اور خلوص میں گندھا ہوا۔ لوگ یہاں انسانوں کو پیاسا مار ڈالتے ہیں، وہ جانوروں کا خیال رکھتا ہے۔ کیوں؟ وہ اپنی ہر بات ’’اﷲ تم کو نیکی دیوے‘‘ سے شروع کرتے اور ’’آفرین ہے‘‘ پر ختم کرتے ہیں اور درمیان میں ان کا نعرہ گونجتا ہے ’’ہے شاباش!‘‘

وہ اپنی کہانی یوں بیان کرتے ہیں:

میری کہانی بھی کیا کہانی ہے۔ یہاں یتیم کی کیا کہانی ہوسکتی ہے۔ رونا دھونا، لوگوں کی گالیاں اور دھکے، اور بس۔ میں 1929ء میں یہیں کمہارواڑے میں پیدا ہوا۔ باپ مزدور تھا، تنگ دستی اور غربت۔ ہم صرف دو بھائی ہیں۔ جب میرا چھوٹا بھائی پیدا ہوا تو ماں فوت ہوگئی اور جب ہم دس سال کا تھا تو باپ مرگیا۔ اﷲ تم کو نیکی دیوے، باپ ہم لوگ کا بہت اچھا تھا۔ خود محنت کیا، مزدوری کیا، مزدوری محنت میں اپنا جان کو جان نہیں سمجھا۔ اس کا ایک ہی بات تھا ’’بچہ علی محمد دیکھو! محنت تیرا جاگیر ہے، کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاؤ، اپنا محنت مزدوری کرو، اﷲ سائیں عزت رکھے گا۔‘‘

بس ہم نے بھی یہی کیا۔ جب ہمارا ماں باپ، دونوں نہیں رہا تو کیا ہونا تھا۔ ہم خودسر اور آوارہ ہوگیا۔ ابھی سر پر کوئی بڑا نہیں ہوئے گا تو بچہ خراب ہی ہوئے گا۔ پندرہ سال تک ہم نے بہت آوارگی کی۔ سچی بات پوچھو تو یار ہم کو کوئی فکر بھی نہیں تھا۔ جوانی تھا نی اس لیے۔ اور پھر ہمارا کون سا بچہ بھوکا تھا جو سوچتا۔ تھوڑا تھوڑا بات پر ہم جھگڑا کرتا تھا۔ بازو میں دم تھا، دل میں امنگ تھا اور پھر پڑھا لکھا نہیں، جاہل تھا۔ اڑے بابا جاہل تو اور بھی بہادر ہوتا ہے۔ پڑھا لکھا تو ہر کام کرنے سے پہلے سو دفعہ سوچتا ہے۔ جاہل تو نہیں سوچتا۔ بس اﷲ تم کو نیکی دیوے، دن گزرتا چلا گیا۔

میں شرارتی تھا اور یہ سامنے ایک سنیما تھا اس کا نام تھا ’’جگدیش ٹاکیز‘‘۔ ہم ادھر فلم کا پوسٹر دیکھنے آتا تھا۔ سینما کا مالک ایک ہندو سیٹھ تھا۔ وہ روزانہ میرے کو دیکھتا اور سچا بات یہ ہے کہ وہ ہمارا منہ زوری سے تنگ آگیا۔ ایک دن اس نے بولا ’’اڑے بچہ علی محمد! تم کیوں خجل خوار گھومتا پڑا ہے، کوئی کام دھندا کرو۔‘‘ ہم اس کے سر ہوگیا۔ ہم نے بولا ’’لالہ کوئی کام ہووے تو کرے گا۔‘‘ اس نے بولا ’’چلو آج سے تم ہمارے سنیما میں کام کرو۔‘‘ اﷲ تم کو نیکی دیوے، کام کیا تھا ؟ سنو، جو آدمی لوگ فلم دیکھنے آتا تھا، ہم ان کا لین لگاتا تھا۔

وہ بدمعاشی کرتا تو ہم اس کا دانت ہلاتا تھا۔ تم کو خبر ہے ہمارا تن خواہ کتنا تھا، اڑے صرف بارہ روپیہ۔ ہم بہت خوش تھا۔ چھوٹا بھائی کو ساتھ رکھتا تھا۔ ہمارا ایک دن کا خرچ تھا دو بھائیوں کا ایک روپیہ۔ ابھی تم بولے گا کہ وہ تو بارہ دن میں ختم ہوجاتا تھا، اڑے چَریا بارہ روپیہ ہمارا تن خواہ اور اوپر سے ہم بلیک میں ٹکٹ بیچتا تھا۔ اس طرح گزارہ ہوگیا۔ ابھی تم سمجھ گیا نی۔ ہے تو بے ایمانی، اﷲ معاف کرے۔ ادھر جس کا جتنا بس چلتا ہے وہ کرتا ہے۔ جس کا بس نہیں چلتا وہ بولتا ہم تو شریف ہے، ہمارے کو تمغۂ شرافت دو۔ تم پوچھتا ہے ہمارے زمانے کا فلم کیسا تھا تو ظالم تم نے ہم کو کیا یاد دلا دیا۔

فلم تو اسی زمانے کا تھا۔ اس زمانے میں بہت شریف فلم تھا۔ آج کی طرح فلم بدمعاش نہیں تھا۔ ابھی تم دیکھو اس وقت کا ہیروئن پورا کپڑا پہنتا تھا، سر کا بال سے پیر کا ناخن تک کپڑا۔ اس زمانے کا بلیک اینڈ وائٹ فلم آج کا رنگین فلم سے بہت اچھا تھا۔ اس فلم میں سبق تھا، نصیحت تھا۔ ہم تم کو بتاوے ہم نے خود لوگوں کو فلم دیکھتے ہوئے چیخ مار مار کر روتے دیکھا ہے۔ وہ دل پر اثر کرتا تھا نی، اور آج کا فلم اﷲ نہ دکھائے۔

فلم کا ہیروئن نے قسم کھایا ہوا ہے کہ وہ کپڑا نہیں پہنے گا۔ بس خالی خولی ہلنا جلنا اور بے حیائی۔ اس فلم کو کیا کرے دیکھ کے۔ سارا فلم شیطانی کام سے بھرا ہوا ہے۔ لوگوں کو صرف برا کام کا ٹریننگ دیتا ہے۔ یہ لوگ عاشقی معشوقی سکھاتا ہے بس۔ آج کا فلم کسی کام کا نہیں ہے۔ اسی طرح ہیرو لوگ بھی ختم ہوگیا۔ آج کا ہیرو تو لڑکی سے بھی زیادہ نازک ہے۔ اڑے یہ ہم کدھر نکل گیا۔ اپنا کہانی کے بہ جائے فلم کا کہانی سنانے بیٹھ گیا۔ تم بھی مزے سے سنتا پڑا ہے، میرے کو بولتا نہیں ہے کہ اپنا کہانی سناؤ۔

تو اﷲ تیرے کو نیکی دیوے، پھر ایسا ہوا کہ ہم سنیما میں کام کرتا تھا، گزارہ اچھا تھا۔ لوگ بھی اچھا تھا۔ ادھر ہندو مسلمان ساتھ رہتا تھا۔ بہت بھائی چارہ تھا۔ کوئی بھی مسئلہ نہیں تھا۔ سب ایک دوسرے کو پیارا تھا۔ کوئی دشمن نہیں تھا۔ ابھی تو مسلمان کون ہے؟ یہ میرے کو شبہ ہوتا ہے، جس کو دیکھو دوسرے کو بولتا ہے یہ کافر ہے۔ ابھی اور تو چھوڑو مسجد بھی اپنا اپنا بنا لیا ہے۔ پھر بولتا ہے اﷲ کا رحمت نہیں ہے۔ اڑے بدبخت لوگ! رحمت کہاں سے آئے گا، تم لوگ اس کا رحمت کا قابل ہو تو رحمت آئے نی۔ تم تو آپس میں ایسا لڑتا ہے جیسے کتا لڑتا ہے۔

ہم بات کرنے میں تھوڑا سا سلپ مارتا ہے۔ تم ناراض نہیں ہونا۔ یار میرا دل جلتا ہے جب ہم ان مسلمان لوگ کو دیکھتا ہے۔ یہ تو سب سے اچھا تھا۔ ابھی یہ سب سے برا ہوگیا ہے۔ پہلے سب مسلمان پر بھروسا کرتا تھا۔ ابھی سب اس سے بھاگتا ہے۔ یہ اپنا کرتوت کی وجہ سے خجل خوار ہوگیا ہے نی، اﷲ نے نہیں کیا۔ یہ لوگ اﷲ کو بدنام کرتا ہے۔ جو بھی غلط کام کرتا ہے بولتا ہے یہ اﷲ کا مرضی ہے۔ اڑے خوار! اﷲ غلط کام نہیں کرتا۔ یہ تم لوگ کرتا ہے۔ اﷲ تم لوگ کو سمجھے۔

پھر بابا ایسا ہوا کہ سنیما کے سامنے یہ مندر تھا۔ ابھی جدھر ہم بیٹھا جانوروں کو پانی پلاتا ہے، یہ پانی کا جگہ ایک ہندو سادھو نے بنایا تھا۔ جانور لوگ ادھر پانی پیتا تھا اور سادھو کو دعا دیتا تھا۔ سنیما کا مالک بھی ہندو تھا۔ وہ میرے کو روزانہ کچھ پیسہ دیتا تھا، کبھی راشن دیتا تھا کہ سامنے سادھو بابا کو دے آؤ۔ میں سادھو بابا کو دے دیتا تھا۔ اس طرح اس سادھو بابا سے ہمارا پکا دوستی ہوگیا۔ اس کا نام تھا بابا جگن ناتھ۔ پھر ایک دن اس نے ہم کو اپنا بیٹا بنالیا۔ ہم بھی اس کو اپنا باپ جیسا سمجھتا تھا۔ وہ جو کام بولتا تھا ہم کرتا تھا۔

1965ء میں ہمارا شادی ہوگیا۔۔۔۔ کیسے ہوا ؟ یہ کہ میرا ماموں نے میرے کو بولا، اڑے بچہ علی محمد! شادی بناؤ، ابھی بہت ہوگیا۔ ہم نے کرلیا۔ اب میرا سات بچہ ہے، چار لڑکا اور تین لڑکی لوگ۔ ہمارا کیا ہے، سب اﷲ کا مال ہے۔ ہم لوگ کا بچہ بہت اچھا ہے۔ ابھی سب کام کرتا ہے۔ میرے مولا کا کرم ہے۔ ایک جدہ میں ہے، اس نے بولا آؤ بابا حج کرو۔ اب ہم حاجی ہے۔ یہ سارا اﷲ سائیں کا کرم ہے۔

ہم ان کو تھوڑا پڑھایا بھی، وہ نرا جٹ نہیں ہے۔ پر ہم نے دیکھا کہ پڑھاؤ لکھاؤ، پھر اس کو بے روزگار کا فوج میں بھرتی کراؤ۔ ہم نے بولا، بچہ لوگ، ہنر سیکھو، ابھی وہ لوگ میکینک ہے۔ اپنا پیر پر کھڑا ہے۔ ہم نے حکومت کو تکلیف نہیں دیا، اس کا اور بہت کام ہے۔ اتنا بے روزگار کو کھپانا ہے۔ جس کو دیکھو وہ بولتا ہے پڑھو، پڑھو۔ اڑے پڑھے گا برابر، پر کھائے گا کیا؟ یہ کوئی نہیں سوچتا ہے۔ ادھر پڑھے لکھے کو تو تین ہزار کا نوکری بھی نہیں ملتا ہے۔ ہم کو اﷲ سائیں نے عقل دیا، ہم نے ان کو ہنر سکھا دیا۔ ابھی وہ بھی آرام سے، ہم بھی آرام سے۔

پھر یہ ہوا بچہ، اﷲ تم کو نیکی دیوے، کہ 1947 میں پاکستان بن گیا۔ جدھر دیکھو ہنگامہ، ہم تو ادھر تھا۔ ابھی یہ تم نہیں لکھے گا نی۔ تم اخبار والا بھی اپنی مرضی کا بات لکھتا ہے اور جو اصل بات ہے اس کو گول کر جاتا ہے۔

میرے کو یہ اچھا نہیں لگا۔ ادھر ہمارے ساتھ جو ہندو لوگ تھا وہ کون سا ساہوکار تھا۔ غریب لوگ تھا، ادھر مسلمانوں نے ان کا جینا حرام کردیا۔ وہ غریب لوگ کیا کرتا، اپنا بوریا بستر باندھا اور انڈیا چلا گیا۔ ان کے مکان پر، دکان پر مسلمانوں نے کلیم داخل کرکے قبضہ کرلیا۔ اُدھر کا ہندو لوگ بھی کم ظلم نہیں کیا۔ لیکن تم میرے کو بتاؤ، اگر ہم بھی وہی کام کیا جو ان لوگوں نے کیا، تو میرا بچہ ہم اور ان میں کیا فرق رہ گیا۔ ہمارا پیغمبر سرکارؐ تو سارے انسان کے لیے رحمت ہے۔ دیکھو ہم مُلّا نہیں ہوں، پر اتنا تو معلوم ہے، اسلام انسانیت کا سب سے بڑا حمایتی ہے۔ ابھی جو ہونا تھا ہوگیا، کیا لکیر پیٹے، چھوڑو۔

پھر ایک دن ایسا آیا کہ بابا جگن ناتھ نے میرے کو اپنے پاس بلایا۔ اس کو بھی لوگوں نے بہت تنگ کردیا تھا۔ بچہ لوگ اس کو پتھر مارتا تھا۔ اس کے بڑے بڑے بالوں کا مذاق کرتا تھا۔ وہ اچھا آدمی تھا، بوڑھا بھی تھا، تنگ ہوکر اپنا سامان باندھا، اور سامان بھی کیا تھا۔ میرے کو وہ رات زندگی میں کبھی نہیں بھولے گا جب بابا نے ہمارے کو کہا، دیکھو بچہ علی محمد، ہم یہاں سے جا رہا ہے۔ یقین مانو ہمارا دل کٹ گیا۔ ہم نے بولا، بابا تم ادھر رہو۔ اﷲ قسم کسی نے ادھر غلط آنکھ سے دیکھا بھی تو اس کا تکہ بوٹی کردیں گا۔

لیکن اس نے بولا نہیں علی محمد، تم کو ہم نے بیٹا بولا ہے ابھی بیٹا بن کر دکھاؤ، کسی کو دکھ نہ دو، بس ایک احسان کرو۔ یہ پانی کا گھاٹ میں تمہارے حوالے کرکے جا رہا ہوں۔ پیاسے جانوروں کا خیال رکھنا۔ خود پیاسے رہ جانا، بے زبان کا خیال رکھنا۔ تم یہ کام کرنا، بھگوان تمہارا مدد کرے گا۔ میرا دعا تمہارے ساتھ ہے۔ اس نے میرے سے وعدہ لیا کہ میں یہ کام فی سبیل اﷲ کروں گا، کسی سے ایک پیسہ بھی نہیں لوں گا۔ ہم نے اس سے وعدہ کرلیا۔ بس پھر اس وقت سے اب تک میں ہم یہ کام کر رہا ہوں۔ اس کام میں بہت سکون ہے، بے زبان پیاسے جانور دعا کرتے ہیں۔ میری عمر کے لوگ تو چل پھر نہیں سکتا اور میرے کو دیکھو، جانوروں کی دعا سے بالکل ٹھیک ہوں۔

جب میرے بچے کمانے لگے اور میں نے حج کرلیا تو ایک دن ایک صاحب سنیما آیا اور میرے سے بولا حاجی صاحب کون سا فلم لگا ہوا ہے۔ ہم نے دل میں سوچا، یار حج کرلیا لیکن شیطانی کام نہیں چھوڑا۔ بس بچہ میں اسی وقت دفتر گیا اور اس کام سے توبہ کرلیا۔ اب اﷲ اﷲ کرتا ہوں۔ صبح تین چار بجے یہاں پہنچ جاتا ہوں۔ پانی کے حوض صاف کرتا ہوں، تازہ پانی بھرتا ہوں اور پھر جانوروں کا انتظار کرتا ہوں۔ رات کو نو بجے گھر چلا جاتا ہوں۔ بس یہی کام ہے۔ بس اﷲ راضی ہوجائے اور کچھ نہیں مانگتا۔

تم ابھی بولتا تھا کہ جانوروں کو پانی پلاتا ہوں اور انسانوں کے لیے کیوں انتظام نہیں کیا۔ اڑے اتنا عقل اور انسانیت تو ہم میں بھی موجود ہے۔ ہم نے اس جگہ صاف پانی کا چھوٹا سا ٹنکی بنایا۔ انسانوں نے آکر پانی پینے کے بہ جائے اپنا گندا ہاتھ منہ دھونا شروع کردیا۔ سارا گندا پانی جانوروں کے پینے کے پانی میں مل جاتا تھا۔ ہم نے ان لوگوں کو سمجھایا لیکن انسان کا بچہ سمجھتا نہیں ہے۔

ہم نے وہ ٹنکی ہی بند کردیا۔ ہم کیا کرتا۔ گندا پانی جانوروں کو پلا کر بیمار کرتا۔ ہم جانوروں کو بیمار نہیں کرسکتا۔ ابھی تم ساری دنیا کا بات چھوڑو۔ تم جو بولتا ہے انسانوں کو گندا پانی بھی نہیں مل رہا۔ اڑے میں پوچھتا ہوں، اﷲ نے تو اچھا پانی دیا تھا، انسان نے خود یہ پانی گندا کیا ہے۔ ابھی اﷲ سائیں سے کیا گلہ کرتا ہے۔ سارا گند تو انسان پھیلا رہا ہے۔ کیوں اس میں عقل نہیں ہے کہ جدھر رہتا ہے ادھر ہی گندا کرتا ہے۔ آج کا انسان میں تو انسانوں والا خصلت نظر ہی نہیں آتا۔

ابھی تم بولتا ہے ادھر کوئی اور کام کرو۔ کیوں، اڑے نیکی کا کام بڑا ہے یا روپیہ بنانا بڑا ہے؟ ایک دفعہ نہیں سو دفعہ، میرے پاس آدمی لوگ آیا کہ حاجی صاحب، اس جگہ کو دس لاکھ میں فروخت کردو۔ ہم نے بولا جاؤ، اڑے دفع ہوجاؤ۔ کہیں غرق ہوجاؤ تم لوگ۔ ہم کو دس کروڑ بھی دے گا تو ہم یہ جگہ نہیں بیچے گا۔ اگر یہ جگہ بیچ دیا تو جانور لوگ کدھر جائے گا۔ قیامت والا دن یہ ہمارا گریبان پکڑے گا کہ اڑے تم حاجی تھا، ہمارا مظلوم بے زبانوں کا پانی کا حوض بیچ دیا۔ پھر ادھر ہم کیا جواب دے گا۔

اس لیے جب تک ہم زندہ ہے، یہ حوض رہے گا۔ ہم مرگیا تو اس کا بھی اﷲ مالک ہے۔ یہاں ہم نے بجلی لگایا ہے، پانی کا بورنگ کرایا ہے، جانوروں کے لیے اچھا انتظام کیا ہے اور یہ سارا کام مفت کرتا ہوں۔ کسی سے ایک پیسہ نہیں لیتا۔ اگر ایک ہفتہ پانی نہیں بھی آوے تو پروا نہیں ہے، بہت پانی ہے۔ ہم نے الگ اسٹاک کیا ہے۔ تم حوض میں دیکھو اپنا منہ نظر آتا ہے۔ جانور کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بس چالو کام کرو۔ جانور انسان کو فائدہ پہنچاتا ہے۔ سارا دن محنت کرتا ہے اور پیسہ کون لیتا ہے؟ انسان۔۔۔۔ تو انسان کا بھی فرض بنتا ہے وہ اپنا جانور کا قدر کرے۔ بیمار ہوجاوے تو اس کا علاج کراوے۔ ادھر انسان کا قدر نہیں ہے تو جانور کا کیا کرے گا۔ لیکن بچہ کرنا تو چاہیے نی۔ یہ اﷲ کا حکم ہے، سرکار سائیںؐ کا حکم ہے۔

دیکھو بچہ مسلمان کا یہی کام ہے کہ وہ خدمت کرے، سب کا خدمت۔ ابھی جو کام ہم کو کرنا تھا وہ تو دوسرا لوگ کرتا ہے۔ دوسرا مذہب والا نیکی کا کام کرتا ہے۔ خدمت کرتا اور خدمت سے لوگوں کو رام کرتا ہے۔ میں بولتا ہوں، یہ سارا ویلفیئر کا کام مسلمانوں کا تھا۔ جب مسلمان نے خدمت چھوڑ دیا تو خوار ہوگیا۔ دیکھو بچہ میرے کو بابا لوگ نے بتایا کہ ’’عبادت سے جنت اور خدمت سے خدا ملتا ہے۔‘‘ ابھی خدا مانگتا ہے نی۔ اس لیے کہ جب خدا مل جائے گا تو سارا کچھ ملے گا۔ میرے کو اس کام میں بہت مزا آتا ہے، بہت سکون ملتا ہے۔ ہم جب پیاسا جانوروں کو پانی پیتا دیکھتا ہوں نی تو دل بہت خوش ہوجاتا ہے۔

جب وہ پانی پی کر خوش ہوکر میرے کو دیکھتا ہے تو ایسا لگتا ہے کہ بولتا ہے ’’ہے شاباش علی محمد، تم نے ہمارا خیال کیا اﷲ تمہارا خیال رکھے۔‘‘ بس اور کیا چاہیے۔ ہمارے لیے یہ کام نجات بن جاوے۔ اﷲ سائیں کو جانور لوگ خود بولے: اﷲ سائیں! حاجی علی محمد کو معاف کرو۔ ابھی اﷲ سائیں بے زبان جانور کا بات تو نہیں ٹالتا نی واجہ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔