انتخابات کا سہانا موسم

محمد مشتاق ایم اے  بدھ 9 مئ 2018
گرمی ہو یا سردی، بہار ہو کہ خزاں، اس موسم کا استقبال ہم بانہیں کھول کر کرتے ہیں۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

گرمی ہو یا سردی، بہار ہو کہ خزاں، اس موسم کا استقبال ہم بانہیں کھول کر کرتے ہیں۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

الحمدللہ! پاکستان دنیا کا ایک ایسا ملک ہے جس میں سال کے ہر موسم کا ہر رنگ موجود ہے۔ یہاں کی بہار بے مثال، سردی لاجواب، گرمی کی اپنی الگ ہی تپش اور خزاں کا موسم جب آتا ہے تو اپنے ہی رنگ لے کر آتا ہے۔ غرض ہم دنیا کی چند ان خوش نصیب قوموں میں سے ہیں جو اللہ کے بنائے ہوئے موسمی نظام کے ہر ہر رنگ سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

ہمارے ہاں ان چار خوبصورت موسموں کے علاوہ ایک اور موسم بھی آتا ہے جس کا کوئی وقت مقرر نہیں۔ ویسے قاعدے قانون کے مطابق تو یہ موسم ہر پانچ سال بعد آنا چاہیے مگر ہماری جلد بازی اور ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے کی عادت سے یہ موسم پانچ سال میں دو بار بھی آجا تا ہے اور ہم خوشی سے پھولے نہیں سماتے کہ واہ! ہم نے بھی کیا تیر مارا ہے۔

آپ یقیناً سمجھ گئے ہوں گے کہ ہم اپنے ہر دلعزیز موسم ’’الیکشن کے موسم‘‘ کی بات کررہے ہیں کیونکہ جتنا انجوائے ہم اس موسم میں کرتے ہیں، شاید ہی کسی اور میں کرتے ہوں۔ گرمی ہو یا سردی ہو، بہار ہو کہ خزاں، اس موسم کا استقبال ہم دونوں ہاتھ کھول کر کرتے ہیں اور اس کی وجہ سے پیش آنے والی مشکلات کو ہم خندہ پیشانی سے قبول کرتے ہیں۔ مجال ہے کہ ہمارے ماتھے پر ایک بھی شکن نمودار ہو۔ اسی لیے اس موسم کا کوئی ثانی کم ازکم ہماری مملکت خداداد میں تو نہیں پایا جاتا۔

ہمارے ہاں انتخابات والے موسم میں ملک کے اصل عوام کچھ دن وی آئی پی پروٹوکول کی چھتری تلے زندگی کے مزے لوٹتے ہیں۔ اپنے ہر دلعزیز سیاسی رہنماؤں سے قربت میسر آتی ہے اور عوام کے ساتھ ان کا رومانس اپنے عروج پر دکھائی دیتا ہے۔ ان کے بغیر نہ ان کا کھانا ہضم ہوتا ہے اور نہ پانی کا گھونٹ حلق سے نیچے اترتا ہے؛ تو پھر کیوں نہ ہم اپنے ان محبوب قائدین کے صدقے واری جائیں۔

اس موسم میں ہمارے ملک کا ہر شہر اور ہر گاؤں ایک مکمل فلاحی ریاست کی عملی صورت کا بہترین نمونہ پیش کرتا ہے۔ اور کرے بھی کیوں نہ، کہ آپ کے سارے رکے ہوئے کام جو کئی دنوں یا مہنیوں کی بھاگ دوڑ کے باوجود بھی اپنے منظقی انجام کو نہیں پہنچ رہے تھے، وہ پلک چھپکنے میں ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ آپ کے محلے کا کونسلر جب آپ کے کندھے سے کندھا ملا کر چلتا ہے تو آپ اپنے آپ کو اپنے قد سے بہت بڑا سمجھنے لگ جاتے ہیں۔

اگر آپ کی حیثیت کچھ بہتر ہے یا کچھ ووٹ بینک رکھتے ہیں تو آپ کے کونسلر صاحب آپ کے موجودہ یا ہونے والے ایم پی اے کو بھی آپ کی چوکھٹ پر لے آتا ہے اور آپ اپنا دیدہ و دل ان کےلیے فرش راہ کردیتے ہیں۔ آپ کے قائدین آپ کی تعریف میں ایسی ایسی خوبیاں بیان کرتے ہیں کہ جن کا شائبہ تک آپ کی زندگی میں نہیں ہوتا۔ لیکن، اس کے باوجود، آپ اپنا سینہ پھلائے سب کچھ سن کر ہضم کرجاتے ہیں۔

الیکشن کے چند دنوں کے دوران تو عوام کا کھانا پینا بھی قائدین اپنے ذمے لے لیتے ہیں۔ دوسرے شہروں بلکہ دوسرے ممالک میں رہنے والے ووٹروں کےلیے آنے جانے کا ٹکٹ اور خرچہ بھی اپنی جیب سے ادا کرنے میں ذرا بھی سستی نہیں کرتے۔ آپ کے بچوں کے گال کے دونوں طرف پیار کرتے ہیں تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آوے۔ آپ کو محلے شہر کا سب سے ایماندار اور انصاف پسند ووٹر قرار دیتے ہیں۔ اس کے باوجود آپ ان سے راضی نہ رہیں تو یہ اب آپ کی مرضی ہے۔

الیکشن کے اس سہانے موسم کے مزے یہیں پر ختم نہیں ہوتے بلکہ آپ کے قائدین خوشی اور غم، ہر دو میں آپ کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ جیسے ہی انتخابات کی مہم شروع ہوتی ہے، ہمارے قائدین کوئی ایک بھی جنازہ ’’مِس‘‘ نہیں کرتے لیکن اگر جنازے میں شرکت بالکل ہی ناممکن ہو تو پھر پہلی فرصت میں ہی فاتحہ خوانی کےلیے پہنچتے ہیں اور اس قدر دکھ درد میں شریک ہوتے ہیں کہ انجان بندہ ان سے بھی افسوس کرنے لگتا ہے کہ جیسے وہی دار فانی سے کوچ کرنے والے کے حقیقی رشتہ دار ہیں۔

ایک بار ایسی ہی صورتحال کے بارے میں لطیفہ پڑھا تھا کہ ایک سیاسی لیڈر کسی کے گھر فاتحہ خوانی کرنے کے بعد مرحوم کی بڑی تعریفیں کرنے لگے اور ساتھ ہی کہنے لگے مرحوم بہت اچھے اخلاق کے مالک تھے، میرا اور ان کا بہت اچھا ساتھ رہا، اور طویل وقت اکٹھا گزارا۔ ان کی یہ باتیں سن کر لوگ انہیں حیرت سے دیکھنے لگے کیونکہ مرنے والا ’’مرحوم‘‘ نہیں ’’مرحومہ‘‘ تھی اور یہ ساری باتیں لیڈر صاحب اس کے شوہر کے سامنے بیٹھ کر کر رہے تھے۔

خیر، انتخابات کے موسم کی رنگ رلیاں مناتے مناتے آخر الیکشن کا دن بھی آن پہنچتا ہے اور یہی وہ دن ہوتا ہے جب ہر پاکستانی اپنے معیار کے جوبن پر ہوتا ہے اور سیاسی قائدین ان کو زمین پر پاؤں تک نہیں رکھنے دیتے کہ کہیں میلے نہ ہوجائیں۔ آپ گھر کا دروازہ کھولیں تو باہر آپ کی سہولت کے حساب سے گاڑی حاضر ہوتی ہے؛ اور اگر ووٹ ڈالنے جارہے ہیں تو پھر تو آپ کو سر آنکھوں پر بٹھا کر لے جایا جاتا ہے۔ اس سارے پروٹوکول کو دیکھ اور جھیل کر عام پاکستانی بھی ایک وی آئی پی کے زندگی کے مزے لے رہا ہوتا ہے۔ سارے لوگ ایک ہی معیار پر پورے اتر رہے ہوتے ہیں گویا:

ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز
نہ کوئی بندہ رہا، نہ کوئی بندہ نواز

الیکشن کی شام بڑی رونق، ہلّے گُلّے اور گولوں پٹاخوں کی گونج سے مزین رہتی ہے۔ رات گئے جیتنے والے جیت اور ہارنے والے ہار جاتے ہیں۔ اگلے دن جیتنے والے جشن اور ہارنے والے کہیں چھپ کر اپنے ہونے والے خرچے کا حساب کررہے ہوتے ہیں۔ جیتنے والا سمجھتا ہے کہ سب نے اسے ووٹ دیا ہے اور ہارنے والا اپنے گھر والوں کو بھی شک کی نظر سے دیکھتا ہے کہ پتا نہیں انہوں نے بھی مجھے ووٹ دیا ہے یا نہیں۔ کچھ دن تک مبارکبادوں اور افسوس کا سلسلہ چلتا رہتا ہے۔

انتخابات کا یہ سہانا موسم جیسے ہی ہمارے ملک سے رخصت ہوتا ہے تو ایک عام پاکستانی اسی لمحے اپنی اوقات میں واپس آجاتا ہے۔ کھانا پینا پھی گھر سے اور ہر کام کےلیے دفاتر کے وہی دھکے اور غم روزگار کے وہی پرانے قصے چل پڑتے ہیں۔ وہی بچوں کا اپنی فرمائشوں کےلیے رونا دھونا اور بیگم کا چولہے میں لکڑیاں ڈال کر ان کے جلانے کےلیے پھونکیں مار کر سرخ آنکھوں سے کبھی گیس والوں کو اور کبھی بجلی والوں کو کوسنا معمول بن جاتا ہے… اور آخر میں سونے پہ سہاگہ یہ کہ اگر راستے میں آپ کا کونسلر یا ایم پی اے مل جائے تو وہ اپنے کپڑے بچاتے ہوئے سرسری سا ہاتھ ملاتے ہوئے پوچھتا ہے: ’’جی آپ کون؟ میں نے پہچانا نہیں۔‘‘ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب عام پاکستانی کو اپنی اصل اوقات نظر آجاتی ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔