بُک شیلف

بشیر واثق / شہباز انور خان  اتوار 13 مئ 2018
جانیے دلچسپ کتابوں کے احوال۔ فوٹو : فائل

جانیے دلچسپ کتابوں کے احوال۔ فوٹو : فائل

 سفرنامہ نگاری کے انتقادی امکانات
مصنف: شبیر ناقد
قیمت: 500 روپے
صفحات: 116
ناشر: اردو سخن، چوک اعظم، لیہ

شبیر ناقد ناصرف ادب کے قدر داں بلکہ ادب کی خدمت میں پیش پیش ہیں ، وہ اب تک شاعری اور ادبی تنقید کی متعدد کتابیں تصنیف فرما چکے ہیں۔ ان کی ان کاوشوں کی ادبی حلقوں میں بڑی قدر و منزلت ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب ہے تو تنقید کے حوالے سے مگر اس کی خاص بات یہ ہے اس مرتبہ شبیر ناقد نے سفرنامہ نگاری کو موضوع تنقید بنایا ہے اور اس حوالے ادب میں کام نہ ہونے کے برابر ہے ۔

اس حوالے سے ظہور احمد فاتح لکھتے ہیں ’’معروف شاعر و ادیب شبیر ناقد جو میدان تنقید میں اپنا لوہا منوا چکے ہیں ، انھوں نے یہ ضرورت محسوس کرتے ہوئے کہ سفرنامہ نگاری سے جو بے اعتنائی اصحاب تنقید نے روا رکھی ہے، اس کا ازالہ ضرور کرنا چاہیے۔ کتاب ھٰذا میں کم و بیش دو درجن سفرناموں کے حوالے سے تنقیدی مضامین شامل کئے گئے ہیں۔ ان مضامین سے قبل انھوں نے ایک جامع شذرہ لکھا ہے جس میں سفرنامے کی شناخت اور اس کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالی گئی ہے اور مختلف انتقادی امکانات کو بروئے کار لاتے ہوئے ان کی جانچ پرکھ کی ہے۔‘‘ مصنف نے تنقیدی جائزہ لیتے ہوئے اعلیٰ معیار کو چھو لیا ہے کہ تنقید میں غیر جانبداری کا عنصر سب سے اہم ہوتا ہے وہ ہمیں بدرجہ اتم نظر آتا ہے ۔

انھوں نے جائزہ لیتے ہوئے کسی بھی سفر نامے کی معمولی سی خامی کو بھی نظر انداز نہیں کیا، جہاں تعریف کی ضرورت تھی اس کا بھی حق ادا کیا ہے۔ البتہ یہ الگ بات ہے کہ بعض تنقید نگاروں کی طرح تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے نہیں ملائے یعنی تعریفی پہلو کو بھی اس کی حدمیں ہی رہنے دیا ہے ۔ مصنف کی یہ کاوش ادب کی دنیا میں شاندار اضافہ ہے۔

 کامیابی کیسے؟
مصنف : برین ایڈ مز
مترجم: نادیہ بٹ
قیمت: 900 روپے
:312
ناشر: بک ہوم ، مزنگ ، لاہور

ہر انسان کی اپنی زندگی میں خواہش ہوتی کہ وہ جس بھی میدان میں قدم رکھے کامیابی اس کے قدم چومے، قطع نظر اس کے کہ اس کی اس میدان میں کی گئی کاوش یا کوشش کتنی بھرپور تھی۔ مگر سب کے ساتھ ایسا نہیں ہوتا جن افراد کی کوشش اور منصوبہ بندی ٹھوس ہوتی ہے اور وہ ہر قسم کی مشکل کا مقابلہ دل جمعی سے کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہتے ہیں کامیابی انھی کے قدم چومتی ہے ۔

کچھ لوگ کامیابی کے حصول کے لئے کوشش تو کرتے ہیں مگر ان کی حکمت عملی میں کوئی نہ کوئی خامی یا کمی رہ جاتی ہے جس کی وجہ سے وہ اپنا مقصد حاصل کرنے میں ناکام ہو جاتے ہیں اور بالآخر مایوس ہو جاتے ہیں، یوں وہ خوامخواہ اپنے اوپر ناکامی کا لیبل لگا لیتے ہیں ۔

برین ایڈمز نے یہ کتاب ہر اس شخص کے لئے لکھی ہے جو زندگی میں ہر حال میں کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اس سلسلے میں چند رہنما اصول بیان کئے گئے جن پر عمل کر کے کوئی بھی شخص کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔کتاب کو پندرہ ابواب میں تقسیم کیا گیا جن میں سے چندکے عنوانات کچھ یوں ہیں ، آپ کی پیدائش کا مقصد کامیابی کا حصول ہے،آپ کی عظیم ذہنی صلاحیتیں کیسے کام کرتی ہیں،کامیابی کو پانے کے لئے اپنی سوچ کو کیسے منظم کیا جائے، زندگی میں آنے والی کامیابی سے ناکامی تک کسی بھی صورتحال میں تبدیلی کے لیے ایک عظیم اصول کو کیسے اپنایا جائے ، عمر کے کسی بھی حصے میں کامیابی کو کیسے حاصل کیا جائے،آپ کیسے اپنی ذہنی صلاحیتوں کو بہتر بنا سکتے ہیں؟۔

ان عنوانات سے ہی پتہ چل جاتا ہے کہ مصنف کیسے آپ کو کامیابی کی شاہراہ پر گامزن کرنے کے لئے رہنمائی کر رہا ہے۔ ویسے تو یہ کتاب ہر عمر کے افراد کے مفید ہے مگر نوجوانوں کو اس کا ضرور مطالعہ کرنا چاہیے تا کہ وہ اپنی زندگی میں کامیابی کے حصول کو یقینی بنا سکیں۔

نور الہدیٰ
 ( تفسیر و ترجمہ، پارہ دہم)
 مصنف/  مفسر : ڈاکٹر ملک غلام مرتضیٰ
 صفحات: 144
 ناشر: ڈاکٹر مرتضیٰ ایجوکیشن ٹرسٹ، ڈی ایچ اے ، لاہور

ڈاکٹر ملک غلام مرتضیٰ مرحوم کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ وہ ایک معروف عالم، مبلغ اور مفسر قرآن کی حیثیت سے شہرت رکھتے ہیں۔ وہ اسلامک یونیورسٹی مدینہ کے فاضل رہے ہیں اور وہیں مدرس کی حیثیت سے خدمات بھی انجام دیتے رہے ہیں ۔

علاوہ ازیں انہوں نے ایک عرصہ تک لاہور میں بھی درس و تدریس کا سلسلہ جاری رکھا اور ریڈیو ، ٹی وی سمیت مختلف فورموں پر اسلامی تعلیمات کے روشنی میں خطبات اور تقاریر کے ذریعے دلوں کو سیراب کرتے رہے ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب ان کے دروس ِ قرآن کے سلسلے ہی کی ایک کڑی ہے جو وہ ہر اتوار کو دیتے رہے اور ان دروس ِ قرآن کو اب کتابی شکل میں مرتب کرکے قارئین کے استادہ کے لیے پیش کردیا گیاہے ۔

جس کا اہتمام ان کی صاحبزادی پروفیسر میمونہ مرتضیٰ ملک اور صاحبزادے حافظ بلال کی کوششوں کا ثمرہ ہے جس کے لیے انہوں نے اپنے مرحوم والد کے نام پر ٹرسٹ قائم کیا اور اسی کے زیر انتظام اسے شائع کیاگیا ہے ۔ یہ کتاب قرآن حکیم کے دسویں پارہ کی تفسیر وترجمہ پر مشتمل ہے جو اردو زبان میں بڑے سادہ اور عام فہم انداز میں کیاگیا ہے ۔ قرآن مجید کو سمجھنے اور سمجھ کر پڑھنے کا اپنا ایک لطف اور مزہ ہے ا وریہ کتاب اس لطف کو دوبالا کرنے میں یقینا ممدو معاون ثابت ہوسکتی ہے ۔

 آثار ِ محبت
 مصنف : صوفی شوکت رضا
 صفحات: 432، قیمت: 800ْ روپے
 ناشر : ادبستان ، لاہور

زیر تبصرہ کتاب ’’ آثار ِ محبت ‘‘ صوفی شوکت رضا کا نتیجہ فکر ہے ۔جومنفرد نوعیت کا حامل ہے ۔اس میں مولف نے مختلف موضوعات کو یک جا کر کے ان پر طبع آزمائی کی ہے۔ ان میں اقوال ِ زریں بھی ہیں اور منظوم کلام بھی ہے ۔کتاب کو تین حصوں میں تقسیم کیاگیا ہے حصہ اول میں احادیث سے اخذ کیے گئے مختلف موضوعات کو تصوف کی روشنی میں بیان کیاگیا ہے ۔

حصہ دوم میں محبت کے سات سو نام ہیں ( جو حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر ؒ کے قول کے مطابق ) بحوالہ تصوف بیان کیے گئے ہیں۔ حصہ سوم میں محبت کے اوپر اشعار ہیں ۔ کتاب میں جو اشعار شامل کیے گئے ہیں وہ دراصل جذبات و احساسات ہیں جنہیں شعروں کی زبان میں بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔جن میں بحر اور عروض کی کوئی قید نہیں رکھی گئی کہ فن پر جذبے کی صداقت غالب ہے ۔ کتاب کو بڑی نفاست اور اہتمام کے ساتھ شائع کیاگیاہے جس نے اس کے معنوی کے ساتھ ساتھ صوری حسن کو بھی دو چند کردیا ہے۔

انارکلی
 مصنف: مرزا حامد بیگ
 صفحات: 248،  قیمت: 500  روپے
 ناشر: دوست پبلی کیشنز ، اسلام آباد

انارکلی ہمارے مغلیہ عہد کا ایک اہم کردار ہے جس نے لازوال شہرت پائی اور مر کے بھی امر ہو گئی ۔مرزا حامد بیگ نے اس کردار کو اپنے ناول کا موضوع بنایا ہے اور بڑی مہارت ، چابک دستی اور لیاقت کے ساتھ اسے فکشن کے روپ میں ڈھال کر مزید نکھا ر بخشا ۔ کتاب کا سرورق اپنے دور کی معروف مصورہ صغریٰ ربالی کے موء قلم کا شاہکار ہے جس پر اسے 1940 ء کے آل انڈیا مقابلہ ء پینٹنگز میں اول انعام کا حق دار قراردیاگیا ۔ناول کا اسلوب ، بنت اور رزبان و بیاں بھی حد درجہ با کمال ہونے کے ساتھ ساتھ مغلیہ عہد کی خوشبو اور مٹھا س لیے ہوئے ہے ۔یہ ایسا ناول ہے کہ جسے ایک بار نہیں بار بار پڑھنے کی ضرورت ہے ۔دوست پبلی کیشنز نے اسے اپنے روائتی انداز میں بڑے دلکش انداز میں پیش کیاہے ۔

شاہ محمد کا تانگہ
 ( افسانے )
 مصنف علی اکبر ناطق
 صفحات 152
 قیمت 300 /  روپے
 ناشر سانجھ پبلی کیشنز ، بک سٹریٹ ، مزنگ روڈ ، لاہور

علی اکبر ناطق اردو اور پنجابی کے ادیب اور شاعر ہیں ’’ شاہ محمد تانگہ ‘‘ 14 کہانیوں پر مشتمل ہے ۔ اور ہر کہانی ایک سے بڑھ کر ایک ہے ۔یہ ہمار ے دیہی سماج کی جیتی جاگتی کہانیاں ہیں جو ہمارے ارد گرد بکھری ہوئی ہیں ۔ان کہانیوں میں ہماری دیہی زندگی اپنی پوری آب وتاب ، تمام تر ر عنائیوں اور خوب صورتیوں کے ساتھ جلوہ گر دکھائی دیتی ہے ۔افسانوں کی زبان اتنی اوریجنل ، پر تاثیر اور پر تجسس ہے کہ قاری اس کے سحر میں ہی کھو جاتا ہے ۔روانی اور بے ساختہ پن ان کی تحریر کا وہ حسن ہے جو انہیں اپنے ہم عصروں سے ممتاز کرتا ہے ۔علی اکبر ناطق اس سے پہلے ’’ قائم دین ‘‘ کے نام سے افسانوں کا مجموعہ اور ’’ نولکھی کوٹھی ‘‘ کے عنوان سے ایک ناول بھی لکھ کر اہل ادب سے داد پاچکے ہیں ۔امید ہے کہ یہ کتاب بھی ہاتھوں ہاتھ لی جائے گی ۔

جو صورت نظر آئی
 خاکہ نگار فاروق عادل
 صفحات 259
 قیمت 525 روپے
 ناشر دوست پبلی کیشنز ، اسلام آباد

کسی بھی شخصیت کے بارے میں خاکے کے انداز میں تصویر کشی کرنا کوئی ایسا کام نہیں ہے کہ جس میں کسی اچنبھے یا حیرت کو کا کوئی پہلو نکلتا ہو۔ کہ اردو ادب میں بے شمار خاکے لکھے جاتے رہے ہیں لیکن اس کے باوجود یہ صفنت ایسی ہے کہ اپنے اندر بے پناہ کشش رکھتی ہے ۔کہ خاکہ نگاری کے ذریعے ہی قاری کو متعلقہ شخصیت کے اندر جھانکنے کا موقع ملتا ہے اور وہ اس ’’ تاک جھانک ‘‘ سے حظ اٹھاتا ہے ۔فاروق عادل ایک سینئر صحافی ہیں اور اس اعتبار سے انہیں ملک کی مختلف سیاسی ، علمی وادبی شخصیات سے ملاقاتیں کرنے ، ان کی شخصیت کو سمجھنے اور جاننے کے موقع میسر آتے رہے ہیں ۔چنانچہ ان میل ملاقاتوں کے نتیجے میں انہوںنے ان شخصیات کو ان کی ظاہری صورت اور حیثیت سے ہٹ کر جس طرح سمجھا اور جانا ہے اسے خاکہ کی صورت میں قلمبند کردیا ۔

یہ خاکے روائتی انداز میں نہیں بلکہ غیر روائتی انداز میں لکھے گئے ہیں ۔اسی وجہ سے ان میں دلچسپی کا عنصر بھی غیر معمولی طورپر پایا جاتا ہے ۔پھر فاضل خاکہ نگار کا انداز ِ تحریر بھی ایسا کہ دلچسپی اول سے آخر تک قائم رہتی ہے ۔زیر تبصرہ کتاب میں 35 سیایس ، ادبی و علمی شخصیات کے خاکے شامل ہیں جن میں سے بیشتر معروف اور مقبول بھی ہیں ۔دوست پبلی کیشنز اس لحاظ سے مبارک باد کے مستحق ہیں کہ انہوںنے اردو ادب کے قارئین کی ضیافت طبع کے لیے ایک عمدہ تحفہ پیش کیا ہے ۔

عجمی کا حج
مصنف : ڈاکٹر اے آر خالد
قیمت: 300 روپے،صفحات: 168
ناشر: آتش فشاں،ستلج بلاک، علامہ اقبال ٹاؤن ، لاہور

پروفیسر(ر) ڈاکٹر اے آر خالد کا نام علمی و ادبی حلقوں میں بڑی محبت اور عقیدت سے لیا جاتا ہے کیونکہ وہ علم و عرفان کے بہتے جھرنوں سے ہزاروں ذہن و قلوب کی آبیاری کر چکے ہیں۔ اور ان سے مستفید ہونے والے زندگی کے ہر شعبے میں اپنی خدمات بھرپور طریقے سے انجام دے رہے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب بیک وقت دانشور،استاد، لکھاری،صحافی اور دیگر بہت سے پہلو رکھتے ہیں یوں ان کی شخصیت گوناگوں صفات کا مرقع ہے۔

بطور استاد علم کا سمندر، با اصول ، طلبہ کی ہر حوالے سے بہترین رہنمائی کرنے والا پایا، بطور کالم نویس ان کی تحریریں قارئین کے لئے غور وفکر کے نئے در وا کرتی ہیں۔ ’’عجمی کا حج‘‘ ڈاکٹر صاحب کا سفرنامہ حج ہے، انھوں نے پہلی مرتبہ 1968ء میں حج کی سعادت حاصل کی، دوسری مرتبہ 1985ء میں اپنی والدہ کے ہمراہ حج کے لئے گئے۔

تب عجمی کا حج کا پہلا ایڈیشن 1988 میں شائع ہوا ۔ انھوں نے تیسرا حج 2016ء میں کیا، زیر نظر ایڈیشن میں 2016ء کے سفر حج کے مشاہدات و تاثرات نے اسے مزید شگفتہ و دل کش بنا دیا ہے۔ یہ سفر نامہ ڈاکٹر صاحب کی قلبی کیفیات کا عکاس ہے، ان کی محبت، خلوص اور والہانہ پن نے اسے حج کے دوسرے سفرناموں سے ممتاز کر دیا ہے، تحریر میں سنجیدگی اور شگفتگی کا عنصر بیک وقت پایا جاتا ہے۔ حبیب خداﷺ سے ان کا عشق چھلکتا نظر آتا ہے جو ان کی دعاؤں اور مدینہ منورہ کے ذکر سے نمایاں ہے۔ مجلد کتاب کو دیدہ زیب ٹائٹل کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔

کاں واہگے بارڈر
 مصنف : مدثر بشیر
 صفحات: 127، قیمت: 250/ روپے
 ناشر : سانجھ پبلی کیشنز، بک سٹریٹ، مزنگ روڈ، لاہور

زیر تبصرہ کتاب درجن بھر کہانیوں یا افسانوں پر مشتمل ہے جنہیں مدثر بشیر نے پنجابی زبان میں سپرد قلم کیا ہے۔ یہ سب کہانیاں اس دھرتی سے جنم لیتی ہیں اور اسی دھرتی میں ہی انہیں روپ ملا ہے ۔ان میں ڈپٹی کمشنر ، جندڑی نمانی ، بیٹری ، کاں واہگے بارڈر، لنگڑا سماج، مونہہ پرنے، مسز سنیتا جیکب ، سرکٹ شارٹ، گراہی ، چھیکڑ لا درس ، پچھے مڑ کے نہ ویکھیں اور دلابھٹی شامل ہیں ۔مدثر بشیر کو پنجاب ، پنجاب کی دھرتی ، پنجابی زبان اور پنجابی کلچر سے پیار ہی نہیں عشق ہے وہ عموماً یہاں کی بودو باش ، لوگوں کی زندگی ، رہن سہن، ثقافت اور تاریخ کو اپنی تحریروں کا موضوع بناتے ہیں۔

اب تک ان کی کم و بیش آٹھ کتابیں شائع ہوکر منظر عام پر آچکی ہیں اور اس سے نصف کے قریب اشاعت کے مختلف مراحل میں ہیں ۔زیر نظر کہانیوں میں بھی سماج کے رویوں ، فکری تضادات اور زوال پذیر قدروں کو اجاگر کیاگیا ہے۔ کہانیوں کے اس مجموعے کو بجاطور پر پنجابی کی نثری ادب میں ایک گراں قدر اضافہ قرار دیا جاسکتا ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔