ناطقہ سربہ گریباں

رئیس فاطمہ  اتوار 13 مئ 2018
fatimaqazi7@gmail.com

[email protected]

ایسا لگتا ہے جیسے قبل اسلام کا دور جاہلیت واپس آگیا ہے۔ جب لڑکیوں کو پیدا ہوتے ہی زندہ دفن کر دیا جاتا تھا ۔ ہم عصر اخبار میں شایع ہونے والی ایک ہولناک رپورٹ شایع ہوئی ہے ۔ جس میں بتایا گیا ہے کہ صرف کراچی میں 16 ماہ میں 345 نومولود بچوں کو قتل کیا گیا ، جن میں 99 فی صد لڑکیاں تھیں ۔ بھارت میں بھی کچھ ایسا ہی ہو رہا ہے۔ وہاں بھی دوران حمل معلوم کروالیا جاتا ہے کہ بچہ اگر لڑکی ہے تو ’ابارشن ‘کروا لیا جاتا ہے۔

بعض ڈاکٹرز اور لیڈی ڈاکٹرز اس معاملے میں خاصے شہرت یافتہ ہیں ۔ اسی لیے بھارت کے بعض علاقوں میں عورتوں کی آبادی بہت کم ہے اور وہاں کے مرد دوسرے گاؤں اور محلوں میں جاکر شادیاں کرتے ہیں ۔ پاکستان میں معاملہ دوسرا ہے یہ قتل ہونے والے بچے اور بچیاں زیادہ تر ناجائز اولاد ہیں جنھیں معاشرے میں بد نامی کے ڈر سے پیدا ہوتے ہی ماردیا جاتا ہے اورکوڑے کے ڈھیر میں پھینک دیا جاتا ہے۔

ایدھی فاؤنڈیشن نے مختلف شہروں میں جہاں ان کی سروس ہے جھولے رکھوادیے ہیں تاکہ لوگ بچوں کو قتل نہ کریں لیکن ایدھی کی اور چھیپا فاؤنڈیشن کی جھولا مہم زیادہ کامیاب نہیں ہوئی اور ان علاقوں میں ناجائز بچوں کے قتل کا کوئی حساب نہیں ہے جہاں ایدھی فاؤنڈیشن کی سروس موجود نہیں ہے ۔ رپورٹ میں جو انکشافات کیے گئے ہیں وہ ہوش ربا ہیں ۔

رواں برس کے ابتدائی چار ماہ میں یعنی جنوری تا اپریل کراچی میں ایدھی فاؤنڈیشن نے 72 مردہ بچیوں کو اور چھیپا نے 93 نومولود بچوں کی لاشیں دفنائیں ۔ فروری میں ایدھی سینٹر کو ایک نامعلوم فون کال موصول ہوئی جس میں کہا گیا کہ کوڑے کے ڈھیر میں ایک لاش ہے آکر لے جائیں ۔ سینٹر کے اہلکار وہاں پہنچے تو یہ دیکھ کر لرزگئے کہ ان کے سامنے چار دن کی ایک بچی کی لاش پڑی تھی۔ اس کا گلا کٹا ہوا تھا۔ اتنی سفاکی اور بے رحمی کہ انسان کے حواس کھوجائیں۔

ایدھی نے جھولے اس لیے رکھوائے کہ بے اولاد جوڑوں کو وہ بچے ان کی خواہش پر دے سکیں۔ چھیپا اور ایدھی یہ کام کررہے ہیں کہ اگر زندہ بچے انھیں ملتے ہیں تو وہ ان لوگوں سے رابطہ کرتے ہیں جنھوں نے اپنا نام بچہ پالنے کے لیے لکھوایا ہوا ہے بعض اوقات کوڑے کے ڈھیر پر سے زخمی زندہ بچے بھی ملے جنھیں علاج معالجے کے بعد مستحق لوگوں کو اس یقین کے ساتھ دیا گیا کہ وہ اسے پیار دیںگے اور بہترین تعلیم و تربیت کا خیال رکھیں گے۔

اور یہ بھی حقیقت ہے کہ جن لوگوں نے ایدھی اور چھیپا سے بچے گود لیے انھوں نے ان کا بے حد خیال رکھا اور رکھ رہے ہیں لیکن افسوس ہوتا ہے یہ جان کر کہ بعض مذہبی حلقوں نے اس رویے کی تائید نہیں کی۔ ایک ایسا ہی واقعہ اس رپورٹ میں درج ہے کہ جس نے عملے کو ہلاکر رکھ دیا۔

ایدھی سینٹر کے رضاکاروں کو ایک مسجد کے پاس سے ایک نومولود کی لاش ملی جس کو پتھر مار مارکر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ جب لوگوں نے بچے کی لاش دیکھی تو امام مسجد کے حوالے کر دیا گیا۔ امام مسجد نے فرمایا کہ چونکہ یہ ناجائز بچہ ہے اس لیے اسے سنگسارکر دینا چاہیے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ لوگوں نے اس درجہ سفاکی کا ثبوت دیا کہ نومولود کو جو زندہ تھا ۔ پتھر مار مار کر ہلاک کردیا۔

لوگوں کو رحم نہ آیا اور امام مسجد نے اس درجے کی سفاکی کا حکم کیسے دیا ؟ بچے کا کیا قصور وہ تو اسی طرح سے دنیا میں آیا جس طرح دوسرے بچے دنیا میں آتے ہیں۔ ناجائز تو ماں باپ تھے نہ کہ بچہ ! امام مسجد کو چاہیے تھا کہ وہ اس بچے کو ایدھی یا چھیپا کے حوالے کردیتے تاکہ بچہ زندہ رہتا ۔

ہمارے معاشرے میں بیٹے کو بیٹیوں پر فوقیت دی جاتی ہے۔ بھارت ، پاکستان اور بنگلہ دیش میں یہ واقعات زیادہ شدت سے پائے جاتے ہیں۔ ایدھی اور چھیپا نے بے شمار بچوں کی لاشیں اٹھائی ہیں جب کہ ان کے جھولے خالی پڑے رہے اور لاشیں زیادہ ملیں۔ مردہ بچوں کی لاشوں کے ملنے کا ایک سبب غربت بھی ہے، مردہ بچے کی تدفین پر آنے والا خرچہ غریب اور مفلوک الحال والدین نہیں اٹھاسکتے تو وہ کوڑے کے ڈھیر پر لاش ڈال دیتے ہیں۔

بہر حال جو کچھ بھی ہے حد درجہ کی سفاکی ہے۔ پتا نہیں کس دل سے بچوں کو قتل کردیا جاتا ہے ۔ بد نامی سب سے بڑی وجہ ہے جس کے ڈر سے ناجائز بچوں کی لاشیں ملتی ہیں اور ان کا نصیب قبرستان ہوتا ہے۔ خواتین کے حوالے سے دو اور خبریں بھی بڑی دہشتناک ہیں کہ ہمارا معاشرہ کس سمت جا رہا ہے ۔ اخلاقی اقدارکس طرح پامال ہو رہی ہیں ۔ پشتوکی مشہور گلوکارہ نازیہ اقبال نے اپنی دو کم سن بیٹیوں کے ساتھ زیادتی کرنے والے مجرم کے خلاف درخواست دی ۔

میرا قلم یہ لکھتے ہوئے کانپ رہا ہے کہ نازیہ کی دو معصوم بچیوں سے جن کی عمر آٹھ سال اور بارہ سال ہے، زیادتی کرنے والا خود اس کا بھائی ہے جس کی عمر 19 سال ہے، ملزم کافی عرصے سے بچیوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنا رہا تھا ۔ نازیہ نے خود رنگے ہاتھوں اسے پکڑا ۔ نازیہ کا شوہر ملک سے باہر ہوتا ہے، وہ خود اپنے پروفیشن کی وجہ سے اکثر گھر سے باہر ہوتی ہے، اس نے اپنے سگے بھائی کو بلاکر گھر میں رکھ لیا تھا تاکہ بچیاں گھر پر اکیلی نہ رہیں۔ لیکن اس بد بخت نے نہ رشتے کا احترام کیا نہ ہی اسے کوئی خوف و ڈر تھا۔

دوسرا واقعہ جنسی طور پر ہراساں کرنے کا ہے چشتیاں میں اپنی ساتھی کانسٹیبل جوکہ خاتون ہے کے ساتھ مبینہ طور پر زیادتی کرنے والے دو پولیس اہلکاروں کوگرفتارکرلیاگیا ہے۔

پتا نہیں اور کتنی خواتین کے ساتھ اس طرح کے معاملات ہوتے ہیں اور ہوتے رہیںگے۔ کیونکہ عورتیں اور ان کا خاندان بد نامی کے ڈر سے خاموش رہتے ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ خواتین ان موضوعات پر قلم اٹھائیں تو انھیں بھی معتوب قرار دیا جاتا ہے۔ اسی لیے اس قسم کے واقعات تواتر سے کہیں نہ کہیں کسی دفتر میں کسی گارمنٹ فیکٹری میں، محلے میں، رشتے داروں میں ہوتے رہتے ہیں ، لب خاموش رہتے ہیں۔ شکر ہے کہ کچھ خواتین نے ہمت کرکے ’’چپ‘‘ توڑ دی ہے۔

اوباش، عیاش اور بد کردار مرد عورتوں کی اسی ’’چپ‘‘ سے فائدہ اٹھاتے ہیں کہ کچھ بھی کرلو یہ بولیںگی تو نہیں ۔ کچھ آوارہ مزاج ویڈیو بنالیتے ہیں کچھ دوسرے طریقوں سے ہراساں کرتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ آئے دن اس قسم کے واقعات سننے میں آتے ہیں۔ یہ تو وہ واقعات ہیں جو رپورٹ ہوگئے لیکن کتنے ایسے ہیں اور ہوںگے جو ’’خاموشی‘‘ کی نذر ہوگئے ہوںگے جس دن خواتین میں یہ ہمت آگئی کہ وہ ملزم کو منہ توڑ جواب دے سکیں اس دن سے واقعات کا تناسب گھٹ جائے گا۔

جنسی طور پر ہراساں کرنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہوتا ہے کہ انھیں ڈرایا دھمکایا جاتا ہے اور بدنام کیا جاتا ہے۔ خاص طور پر ملازمت پیشہ خواتین کو زیادہ نشانہ بنایا جاتا ہے جہاں مرد ساتھیوں سے ان کا سابقہ پڑتا ہے، جہاں اچھے کردار کے لوگ ہوتے ہیں وہ اپنی ساتھی خواتین کا نہ صرف احترام کرتے ہیں بلکہ بعض مشکل مسائل میں ان کی مدد بھی کرتے ہیں، لیکن خواتین کو اپنی حفاظت خود کرنی چاہیے۔

اپنی طرف اٹھتی ہوئی میلی نظروں کا فوراً نوٹس لینا چاہیے۔ تبھی آپ کی بچت ہوسکتی ہے۔ ڈر اور خوف کو اندر سے نکال دینا چاہیے یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سوشل میڈیا آنے کے بعد ان واقعات میں زیادہ تیزی آئی ہے۔ مادر پدر آزاد سوشل میڈیا بھی جنسی جرائم کو بڑھاوا دینے میں بہت آگے ہے۔ جہاں تعلیم کا تناسب برائے نام ہو اور سوشل میڈیا آزاد وہاں ایسے واقعات ہوتے رہیںگے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔