کسے خبر تھی ہمیں رہبر ہی لوٹیں گے

رحمت علی رازی  اتوار 13 مئ 2018
rehmatraazi@hotmail.com

[email protected]

پاکستان کی سب سے بڑی عدالت کی طرف سے ’’سمدھی صاحب‘‘ کی ایوانِ بالا کی عبوری طور پر رُکنیت معطل کیے جانے پر وطنِ عزیز میں اطمینان کی ایک لہر دوڑ گئی ہے۔وہ سپریم کورٹ کے حکم کی تعمیل نہ کرتے ہُوئے عدالت میں پیش نہیں ہورہے تھے۔کہتے ہیں بیمار ہُوں لیکن سب جانتے ہیں وہ کتنے بیمار ہیں۔

عدالت بھی اُن کی بیماری تسلیم نہیں کررہی۔چند ہفتے قبل پہلے جب ’’سمدھی صاحب‘‘ کو شریف اور اشرافیہ خاندان کے دباؤ پرسینیٹ کا رکن منتخب کیا گیا تو سچی بات یہ ہے کہ پورے ملک میں عوامی سطح پر حیرت، استعجاب اور پریشانی کو واضح طور پر محسوس کیا گیا تھا۔ موصوف اشتہاری اور ملک سے مفرور ہیں ۔ اُنہیں پاکستان سے فرار کروانے میں مقتدر پارٹی اور اِس کے کرتا دھرتا افراد نے بنیادی کردا رادا کیا تھا۔ مبینہ طور پر اس فرار میں اُس شخص کا بھی سب سے بڑا ہاتھ ہے جو ایک عدد ذاتی ایئر لائن کا مالک بھی ہے اور اِس وقت ایوانِ اقتدار میں اُسے مرکزی مقام بھی حاصل ہے۔

دن دیہاڑے ’’سمدھی صاحب‘‘ کے برطانیہ فرار پر پاکستان کے بائیس کروڑ عوام انگشت بدنداں رہ گئے تھے۔ لیکن اِس سے بڑا حادثہ فاجعہ اُس وقت رُونما ہُوا جب بہت سے سنگین الزامات کے باجود اِس شخص کو دوبارہ ایوانِ بالا کا رُکن منتخب کر لیا گیا۔ اور یہ حیرتناک واقعہ اُس جماعت اور اُس کے وابستگان کے ہاتھوںتخلیق کیا گیا جس نے گزشتہ چار پانچ برسوں کے دوران ہر کام پر میرٹ کی مٹّی پلید کی ہے۔اِس کے باوجود کہ ’’سمدھی صاحب‘‘ عدالتوں کو بھی مطلوب تھے لیکن ڈھٹائی اور ضِدسے اُنہیں سینیٹر بنا دیا گیا۔

جمہوریت گویا اپنے ذاتی مفادات کے حصول کا نام ہے اور شریف و اشرافیہ خاندان نے اِس جمہوریت کو اپنے گھر کی لَونڈی بنا کر بھی دکھا دیا ہے۔ حیرانی کی بات لیکن یہ ہے کہ اتنے متنوع اور متعدد مفادات سمیٹنے کے باوجود سابق نااہل وزیر اعظم محمد نواز شریف کو پاکستان سے گِلے ہیں۔ وہ اپنے ہر جلسے و جلوس میں بھی اور ہر عدالتی پیشی کے بعد عدالتوں اور عسکری اداروں پر بُری طرح برس رہے ہیں۔

غصے اور طیش سے مغلوب دکھائی دیتے ہیں۔ وہ دانستہ عدالتوں میں عدل و انصاف کا ترازو تھامنے والوں کو مشتعل کرنا چاہتے ہیں لیکن اﷲ کریم کا شکر ہے کہ ہمارے سبھی عزت مآب جج صاحبان اشتعال میں آرہے ہیں نہ غصے سے مغلوب نظر آتے ہیں۔لاتعداد ایسے واقعات اور بیانات سامنے آ چکے ہیں جن کی بنیاد پر نواز شریف اور اُن کی صاحبزادی پر توہینِ عدالت لاگو ہو سکتی ہے۔ عدالت دونوں باپ بیٹی کو قانون کی طاقت سے اپنے سامنے طلب کر سکتی ہے لیکن عدلیہ صبر اور تحمل سے کام لے رہی ہے۔

ہمارے جج صاحبان دنیا اور شریف و اشرافیہ خاندان کو کوئی ایسا موقع فراہم نہیں کرنا چاہتے جس کی بنیاد پر راج دلاری اور نواز شریف یہ پروپیگنڈہ کر سکیں کہ اُن سے امتیاز برتا جارہا ہے۔ جج صاحبان کے اِس روئیے کو سارے ملک میں تحسین اور تعریف کی نگاہوں سے دیکھا جارہا ہے ۔ لیکن نواز شریف باز نہیں آرہے اور نہ ہی راج دلاری عدلیہ مخالف بیان دینے اور ٹویٹس جاری کرنے سے پیچھے ہٹ رہی ہیں۔ اس ڈھٹائی کوہر نوٹ کرنیوالی جگہ پر نوٹ کیا جارہا ہے لیکن ہمارے دونوں اہم ترین ادارے صبر کا دامن دانستہ ہاتھ سے نہیں چھوڑ رہے۔

پہلے تو سابق نااہل وزیر اعظم نواز شریف براہِ راست ہمارے ان اداروں پر حملہ آور ہوتے تھے لیکن اب اُنہوں نے اپنا پینترا بدلا ہے اور یہ پینترا پہلے کی نسبت زیادہ پُر خطر اور قابل ِ گرفت ہے۔ نواز شریف اب اداروں پر حملہ آور ہونے کے لیے اشاروں کا سہارا لینے لگے ہیں۔ آجکل اُن کی زبان پر ’’خلائی قوتوں‘‘ کی نئی اصطلاح بہت رواں ہے۔ وہ اِس ٹرم کا سہارا لے کر واویلا بھی کرتے سنائی دے رہے ہیں اور دشنام بھی دیتے ہیں۔

حیرانی کی بات یہ ہے کہ راج دلاری اِس معاملے میں اُن سے بھی دو ہاتھ آگے ہے۔ جیسا کہ ، چند دن پہلے جب اسلام آباد کی ایک عدالت نے عمران خان کو دھرنے کے ایام میں ایک سینئر پولیس افسر کے حوالے سے قائم کیے گئے ایک مقدمے میں بری کیا تو اخبار نویسوں کے سوال پر راج دلاری نے تبصرہ کرتے ہُوئے کہا:’’ بری اس لیے کیا گیا ہے کہ اوپر سے اشارہ آیا ہوگا۔‘‘

کیا تعصب اور بُغض میں کوئی اِس حد تک بھی آگے بڑھ سکتا ہے؟ لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ راج دلاری نے یہ حد بھی پھلانگ لی ہے۔ لیکن متعلقہ حلقے اِسے فی الحال نظر انداز تو یقینا کررہے ہیں لیکن اِسے فراموش نہیں کیا جارہا۔ نوٹ بُک میں نوٹ کیا جارہا ہے اور نوٹ کیا بھی جانا چاہیے ، وگرنہ بصورتِ دیگر ہمارا سماج قانون کے خوف سے آزاد ہو کر ایک بے مہار اور بے لگام معاشرہ بن جائے گا۔ پھر یہ معاشرہ منظّم معاشرہ نہیں رہے گا بلکہ یہ ایک وحشی عفریت کی شکل اختیار کر جائے گا۔

نواز شریف خواہ اداروں کے خلاف کتنا ہی زہر کیوں نہ اُگل دیں، ہمارے ادارے اِس سماج کو اِس کی متعینہ حدود سے انشاء اللہ متجاوز نہیں ہونے دیں گے۔ میاں صاحب مگر یہ چاہتے ہیں کہ اُنہیں کھُل کھیلنے کے سارے ممکنہ مواقع فراہم کیے جائیں اور کوئی قوت اور طاقت محتسب بن کراُن کے راستے میں مزاحم نہ ہو سکے۔ ایسا کیا جانا ممکن نہیں ہے۔

مسٹر نواز شریف نے پچھلے ساڑھے تین عشروں کے دوران ، مقتدر رہ کر خوب کھُل کھیلا ہے لیکن اب حساب اور جواب دینے کا موقع آیا ہے تو وہ اپنے اوسان خطا کر بیٹھے ہیں۔ اُن کی فرسٹریشن میں روز بروز اضافہ ہی دیکھنے میں آرہا ہے۔ وہ غصے میں قانون اور احتساب کی ہر دیوار ، ہر ادارے کو مسمار کر دینا چاہتے ہیں لیکن ان مضبوط دیواروں کو ڈھا دینا اور پاؤں تلے روند دینا کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔

نواز شریف صاحب کے بس کی بات بھی نہیں۔ اُنہوں نے ڈرا دھمکا کر بھی دیکھ لیا ہے لیکن اُن کی بات بننے کے بجائے مسلسل بگڑی ہی ہے۔ وہ دراصل تاریخ کی ڈھلوان پر کھڑے ہیں جہاں زوال سامنے نظر آرہا ہے؛ چنانچہ میاں صاحب زوال کی کھائی میں گرنے سے قبل بچنے کی ہر ممکنہ سعی کررہے ہیں۔ ہاتھ پاؤں ماررہے ہیں لیکن وہ مسلسل نشیب میں گرتے جارہے ہیں۔اپنی ہی غلطیوں کے کارن۔ اب وہ اشاروں کا سہارا لے کر مزید بے سہارا ہورہے ہیں۔

در حقیقت وہ آج جن عذابوں کا سامنا کررہے ہیں ، اِن کی دعوت خود اُنہوں نے دی تھی۔ قومی اسمبلی میں اُنہوں دھاڑ کر اپنی بے گناہی کا ذکر کیا تھا اور خود ہی یہ پیشکش کی تھی کہ عدالت چاہے تو اُن کا حساب لے سکتی ہے۔ اور اب عدالت حساب لے رہی ہے تو وہ مغضوب الغضب ہو گئے ہیں۔ اُنہیں کبھی ’’خلائی مخلوق‘‘ اپنے خلاف متحرک نظر آرہی ہے اور کبھی’ ’نادیدہ ہاتھ‘‘ اُنہیں اپنا سیاسی گلا دباتے نظر آرہے ہیں۔

دراصل اُن کے گناہ مجسّم ہو کر اُنہیں خوابوں میں آ کر خوفزدہ کررہے ہیں۔ ’’پانامہ کیس‘‘ کسی پاکستانی خفیہ ادارے یا خلائی مخلوق یا نادیدہ قوتوں نے تخلیق نہیں کیا تھا۔ یہ کام تو غیر ملکی صحافیوں کا تھا جس کی زَد میں دنیا کے کئی صاحبانِ اقتدار بھی آئے۔ پانامہ انکشافات کے نتیجے میں کئی عالمی سیاسی شخصیات کو مستعفی اور نادم ہو کر گھر کی راہ لینا پڑی لیکن نواز شریف بدستور رَٹ لگا رہے ہیں : مجھے کیوں نکالا؟ جناب والا، آپ دل کی گہرائیوں سے خوب جانتے ہیں کہ آپ کو کیوں نکالا۔ نکالے جانے کے معاملے میں آپ اتنے بھی ناواقف اور انجان نہیں ہیں۔ آپ کواصل ڈر اب یہ ہے کہ ’’نیب‘‘ کا فیصلہ آئے گا تو شائد آپ کا سب کچھ بہا لے جائے گا۔ اِسی لیے تو آپ کہہ اٹھے ہیں کہ ’’کوئی ہاتھ دھو کر میرے پیچھے پڑا ہے۔ مجھے جیل بھیجنے کی سرتوڑ کوشش ہو رہی ہے۔‘‘

یہ دراصل آپ کا خوف بول رہا ہے جس نے آپ کے اعصاب اور زبان کو بے قابو کر دیا ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ اگر نواز شریف اور راج دلاری ہمت سے سچ کا راستہ اپناتے تو اُن کے عذاب اور سزائیں شائد کم بھی ہو سکتی تھیں اور وہ سچ بول کر قوم کے سامنے سُرخرو بھی ہو سکتے تھے لیکن اُنہوں نے سنہری موقع ضائع کر دیا۔ عدالتوں نے تو ملزم نواز شریف کو وضاحتوں اور صراحتوں کے سب مواقع فراہم کیے ہیں ۔ اُنہیں احتسابی عدالت کے رُو برو آنے کے دوران سب سہولیات بھی بہم پہنچائی گئیں۔ نواز شریف صاحب کسی معاملے میں شکوہ نہیں کر سکتے۔ وہ اب تاویلیں نہ کریں۔

سچ اور حقائق کا سامنا کریں اور اپنے کیے گئے اقدامات کا بھگتان بھگتیں، جیسا کہ دنیا کے ہر ملزم کو اِسی متعینہ راستے سے گزرنا پڑتا ہے۔ میزان تو قائم ہو چکی ہے ، اسلیے یہیِں حساب ہو گا اور یہیِں جزا اور سزا بھی ملے گی۔ راج دلاری نے تو کہا تھا کہ ’’باہر تو کیا، میری تو ملک میں بھی کوئی ذاتی جائیداد نہیں ہے‘‘ اور اب جب کہ جائیدادوں اور دولتوں کا حساب کتاب سامنے آرہا ہے تو اُنہیں صبر اور تحمل سے اِن مناظر کا سامنا کرنا چاہیے۔ راج دلاری اپنے باپ سمیت بے نقاب ہو رہی ہیں۔ مخفی باتیں اور چھپائے گئے راز منصہ شہود پر آرہے ہیں ۔ راج دلاری خود بھی شرمسار ہورہی ہیں ، اوروں کو بھی شرمسار کررہی ہیں۔

کوئی شیخ جاسم اور اُس کی گواہی کام نہیں آرہی۔ جو جو جعلسازیاں کی گئی تھیں، وہ عیاں ہو کر سامنے آرہی ہیں۔ یہ کسی ’’خلائی مخلوق‘‘ کا کارنامہ نہیں بلکہ وہ کارنامے ہیں جو نواز شریف اور اُن کے پیاروں نے خود اپنے ہاتھوں سے انجام دیے۔ان کارناموں کے نتائج رفتہ رفتہ سامنے آنے لگے ہیں تو نواز شریف کے ہوش اُڑ رہے ہیں اور وہ احتسابی عدالتوں کے خاتمے ہی کی باتیں بھی کرنے لگے ہیں؛ چنانچہ عالمِ پریشانی میں اُنہوں نے جہلم کے ’’عظیم الشان‘‘ جلسے سے خطاب کرتے ہُوئے کہا ہے کہ’’میرے کیس کا فیصلہ ہونے دے، پھر نیب اور نیب قوانین کو بھی دیکھ لیں گے۔‘‘

اور یہ کہ’’ ججز کی تعیناتی اور سپریم جوڈیشل کونسل کا طریقہ کار بھی بدلنا ہوگا۔‘‘ یعنی اگر مَیں اور میری پارٹی پھر اقتدار میں آگئی تو ہر اُس ادارے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکوں گا جو میرا احتساب کرنے کی جرأت کررہا ہے۔ اِس بیان سے نواز شریف کی منتقم مزاجی پوری طرح بے نیام اور بے نقاب ہو کر سامنے آرہی ہے۔ کیا ایسا انتقامی لہجہ کسی ایسے شخص کو زیب دیتا ہے جو اسلامی جمہوریہ پاکستان کا تین بار وزیر اعظم اور دو بار وزیر اعلیٰ بھی رہ چکا ہو؟

سچی بات یہ ہے کہ ’’نیب‘‘ تو میرٹ پر کیس بنارہی ہے، میرٹ پر ہی تحقیقات کررہی ہے اور اپنی مصدقہ اطلاعات کے مطابق ہی ملزمان پر ہاتھ ڈال رہی ہے ۔ پھر اس قومی اور آئینی ادارے کے خلاف بغض کیوں؟ کیا اسلیے کہ اِس کے ہاتھوں میں آپ کی سیاسی اور معاشی تقدیر آ چکی ہے؟ہم دیکھ رہے ہیں کہ پچھلے ہفتے کے دوران ’’نیب‘‘ کے اقدامات اور فیصلوں کے خلاف میڈیا کے بعض حصوں میں ایک خاص مہم چلائی جارہی ہے۔ مضامین لکھے اور پروگرام نشر کیے گئے ہیں۔ شبہ ہے کہ ’’نیب‘‘ ایسے قومی ادارے کے وقار اور اعتبار کو گزند پہنچانے کے لیے دانستہ یہ مہم جوئی کی جارہی ہے۔

ممکن ہے اس مہم کو اُن بڑے ملزمان کی بھی پُشت پناہی حاصل ہو جنہیں عنقریب نیب عدالتوں کی طرف سے آخری فیصلہ سنایا جانے والا ہے۔احتساب عدالت کی طرف سے کہا گیا ہے کہ شریف فیملی کے تینوں مقدمات کا فیصلہ ایک ساتھ سنایا جائے گا؛ چنانچہ ملزمان کی پریشانی اور پشیمانی قابلِ دید ہے۔ہماری عدالتیں تو اﷲ کے فضل سے کسی بھی امتیاز کے بغیر فیصلے دے رہی ہیں۔جیسا کہ اصغر خان کیس میں سابق فوجی افسران کے خلاف کارروائی کے لیے ایک ہفتے کی مہلت دینے کی بات سامنے آئی ہے۔ بے شک یہ معمولی اقدام نہیں ہے۔پھر نون لیگ اور اس کے رہبرو رہنما کسی امتیازی سلوک کی گردان کیسے پڑھ سکتے ہیں؟

حقیقت تو یہ ہے کہ نون لیگ کے اپنے افعال اور اعمال اُسے یہ دن دکھا رہے ہیں۔ اگر اعلیٰ نون لیگی قیادت نے اقتدار کی بلند مسند پر بیٹھ کر اپنے ساتھیوں کے ساتھ مناسب سلوک کیا ہوتا توآج اُنہیں یہ دن بھی نہ دیکھنا پڑتا ۔

’’جنوبی پنجاب صوبہ محاذ‘‘ کے سبھی نمایاں ترین اور الیکٹیبلزافراد پی ٹی آئی میں شامل نہ ہو رہے ہوتے۔ لیکن نواز شریف کا غرور اپنی جگہ اٹل ہے۔ اپنے قریبی ساتھیوں کے دکھ درد اُنہیں کتنے عزیز ہیں، اِس کا اندازہ محض اِس ایک مثال سے لگایا جا سکتا ہے کہ وزیر داخلہ احسن اقبال اپنے حلقہ انتخاب میں قاتلانہ حملے میں شدید زخمی ہو گئے۔ اِس سانحہ کے دوسرے ہی دن نواز شریف کا جہلم میں جلسہ تھا لیکن اُنہوں نے اپنے مجروح وزیر داخلہ کے بارے میں ایک بار بھی ذکر نہ کیا۔ ہاں، البتہ میاں صاحب نے اپنی صاحبزادی کا ذکرِ خیر کئی بار کیا۔ آیا یہ خبر احسن اقبال تک نہیں پہنچی ہو گی اور اُن کا دل پاش پاش نہیں ہُوا ہو گا؟

بعد ازاں نواز شریف وزیر داخلہ کی عیادت کے لیے اسپتال ضرور گئے لیکن یہ جا نا محض دنیا داری تھی۔اُن کے برعکس میاں شہباز شریف کا نون لیگی ساتھیوں کے ساتھ سلوک اور برتاؤ کہیں بہتر اور قابلِ تعریف ہے۔ اِس کا اندازہ اِس نظیر سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ جونہی وزیر داخلہ کے شدید زخمی ہونے کی خبر نشر ہُوئی، شہباز شریف نے کسی تاخیر کے بغیر اپنا ہیلی کاپٹر جائے حادثہ پر پہنچا دیا تاکہ زخمی وزیر داخلہ کو فوری طور پر لاہور منتقل کیا جائے جہاں علاج معالجے کی نسبتاً بہتر سہولیات دستیاب ہیں۔

اِس اقدام سے بلا شبہ زخمی احسن اقبال کو فائدہ پہنچا ہے کہ اُن کا آپریشن بھی بروقت ہو گیا اور کامیاب بھی۔ یہ کام دراصل نواز شریف اور شاہد خاقان عباسی کو کرنا چاہیے تھا لیکن اُن کا کردار سب کے سامنے ہے۔ ہم یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتے کہ اپنے اِنہی اقدامات اور فیصلوں کی بنیاد پر وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف صاحب عوام میں زیادہ محبوب اور پسندیدہ سمجھے جاتے ہیں۔ اُن کے کام نظر بھی آتے ہیں۔ محض نظر ہی نہیں آتے، بلکہ پنجاب کے کروڑوں عوام ان سے استفادہ بھی کررہے ہیں۔ یہ شنیدہ واقعہ نہیں بلکہ دیدہ ہے۔ اِس کا مشاہدہ ہم نے خود اپنی نظروں سے چند دن پہلے کیا ہے۔

کوئی ایک عشرے کے بعد ہمیں میاں شہباز شریف کے ساتھ سفر کرنے کا موقع ملا ۔ اُن کی طرف سے دعوت آئی تھی اور ہم اُن کے ساتھ ان کے جہاز میں سوار ویہاڑی پہنچ گئے۔ اُن کے ساتھ اُن کی خصوصی ٹیم میں وزیرِ صحت خواجہ عمران نذیر ، سیکریٹری صحت علی جان، وزیراعلیٰ کے ڈپٹی سیکریٹری مہتاب خان ، ممتاز صحافی رؤف طاہر اور چوہدری دلاور بھی تھے ۔ ہم نے میاں صاحب سے عرض کیا کہ آپ نے اسپتالوں کو جدید ترین بنانے کے لیے جو اقدامات کیے ہیں انکو عوام کی نظروں سے اوجھل کیوں رکھا ۔ دوسرا آپ جب بھی کسی واقعہ کا نوٹس لیتے ہیں اور متعلقہ محکموں سے رپورٹ منگواتے ہیں اُن کا پتہ نہیں چلتا کہ ذمے داروں کے خلاف کیا عبرت ناک کارروائی ہوئی ؟

تیسرا کالموں میں خامیوں کی نشاندہی کے باوجود اس کا عوام کو پتہ نہیں چلتا کہ آپ نے ان خامیوں کو دور کر دیا یا نہیں؟ جب ہم نے انھیں باور کرایا کہ اگر وہ پہلے کی طرح محنتی، مسلمہ دیانت دار اور خوفِ خدا رکھنے والے افسروں، وزیروں اور مشیروں کا انتخاب کرتے رہتے تو آج انھیں سنگین مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ جن مہاکلاکار افسروں اور مشیروں پر انھوں نے تکیہ کیا وہی پتے اب ہوا دینے لگے ہیں۔ ہم نے انھیں یہ بھی باور کرایا کہ وہ مخالفین کو برا بھلا کہنے کے بجائے اپنی کارکردگی سے عوام کو مطمئن کرنے میں کامیاب ہو گئے تو الیکشن میں انھیں کافی فائدہ ہو سکتا ہے۔

جن مہاکلاکاروں نے انھیں اس قدر سخت حصار میں لے رکھا ہے کہ ان تک ہوا بھی نہیں جا سکتی وہ انھیں اصل حقائق، حالات اور واقعات سے کیسے آگاہ کرتے ہوں گے۔ اگر میاں صاحب اب بھی ان مہاکلاکاروں سے جان چھڑالیں تو ہو سکتا ہے وہ غیرمعمولی نقصان سے بچ جائیں۔ ہم نے انھیں یہ بھی باور کرایا کہ ان مہاکلاکاروں نے کیسے کیسے عظیم اخبارنویسوں کو اپنے انتقام کے لیے آپ سے دُورکر دیا۔

جب ہم ضلع بھر میں صحت کی سہولیات کے بارے میں جائزہ لینے کے لیے ویہاڑی کے ڈی ایچ کیو پہنچے اور دیکھا کہ اسپتال فی الواقعہ ایک اسٹیٹ آف دی آرٹ اسپتال ہے۔ لاہور کے کسی بھی جدید اسپتال سے کسی بھی شکل میں کم نہیں۔ میاں شہباز شریف کی موجودگی میں یہ مشاہدات ہمارے لیے باعثِ حیرت بھی تھے اور خوشی و اطمینان کا موجب بھی۔ ویہاڑی ڈی ایچ کیو میں ایسی جدید لیبارٹری نصب کی گئی ہے جہاں کسی بھی مریض کے ٹیسٹ فوری طور پر لاہور بھی منتقل ہوجاتے ہیں کہ کمپیوٹر ٹیکنالوجی نے ویہاڑی اور دیگر اضلاع کو لاہور کے اسپتالوں سے باہم مربوط کر دیا ہے۔

اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہُوا ہے کہ اگر خدانخواستہ کسی بھی ضلع کے کسی مریض کو ہنگامی طور پر لاہور منتقل ہونا پڑے تو اُسے لاہور پہنچ کر دوبارہ میڈیکل ٹیسٹ نہیں کروانا پڑیں گے۔ اُس کا میڈیکل ریکارڈ پہلے سے وہاں موجود ہوگا۔ یہ سہولیات ضلع ویہاڑی کے علاوہ صوبے کے دیگر 16 اضلاع کے اسپتالوں کو فراہم کر دی گئی ہیں۔ لاکھوں مقامی اس سے مستفید ہو رہے ہیںاور وزیر اعلیٰ پنجاب کو دعائیں بھی دے رہے ہیں۔ سب جانتے ہیں کہ ہیپاٹائٹس کا مرض پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ پنجاب میں اِس مہلک مرض پر قابوپانے کے لیے 100خصوصی ہیپا ٹائٹس کلینک کا قیام عمل میں آرہا ہے۔

ایڈز اور ہیپاٹائٹس کے امراض کی فوری تشخیص کے لیے پنجاب بھر میں BSL-3بیکٹریالوجی لیب اور BSL-3وائرالوجی لیب قائم کی جا چکی ہیں۔ محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر نے اسپتالوں کے خطرناک کوڑے کو تلف کرنے کا مربوط نظام بنایا ہے۔ کوڑے کو الگ الگ کرنے، اسے مخصوص ییلو روم میں اسٹور کرنے، اسے مخصوص گاڑیوں کے ذریعے منتقل کرنے، اسے Incinerators میں ہونے تک کا پروٹوکول کام کر رہا ہے۔ میاں شہباز شریف سے بات چیت میں یہ خوش کن بات بھی سامنے آئی کہ پنجاب کے پرائمری اینڈ ہیلتھ کیئر ڈیپارٹمنٹ کا بجٹ112 ارب روپے تک بڑھا دیا گیا ہے۔

پنجاب انفرمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کی مدد سے 25ضلعی اور 15تحصیل ہیڈ کوارٹر اسپتالوں کے مریضوں کا ریکارڈ کمپیوٹرز میں محفوظ کیے جانے کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے۔ کہا جا سکتا ہے کہ ابھی آئیڈیل صورتحال تو نہیں ہے لیکن شہباز شریف آئیڈیل صورتحال تک پہنچنے کی سعی تو کرتے نظر آرہے ہیں۔ جعلی ادویات فروخت کرنے اور دو نمبر دوائیں بنانے والے مجرموں پر ہاتھ بھی ڈالا جارہا ہے۔ ادویات کا معیار جانچنے کے لیے پراونشل کوالٹی کنٹرول بورڈ قائم کر دیا گیا ہے۔

پنجاب کی بڑھتی آبادی کے پیشِ نظر کوشش کی جارہی ہے کہ پنجاب کے سرکاری اسپتالوں میں ڈاکٹروں، نرسوں اور دیگر میڈیکل عملے کی تعداد میں مطلوبہ حدتک اضافہ کیا جائے تاکہ مریضوں کاخاطر خواہ علاج کیا جا سکے۔ ابھی شکایات کا ایک انبار ہے لیکن وزیر اعلیٰ پنجاب سے ہونے والی مفصل گفتگو سے ہمیں یہ اندازہ ہُوا کہ وہ عوامی شکایات ، مسائل اور مصائب کو کم سے کم سطح پر لانے کی کوششیں کررہے ہیں۔ عوام کے لیے اُن کی دردمندی اور دوڑ دھوپ قابلِ ستائش ہے۔ اب وہ نون لیگ کے مرکزی صدر بھی بن چکے ہیں۔ امید کی جا سکتی ہے کہ وہ زیادہ بہتر انداز ، وسیع تر دائرے اور عوام کے وسیع تر مفاد میں پاکستان کی خدمت کر سکیں گے!!

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔