میاں صاحب کا بیان اور اُن کے سینے میں دفن راز

محمد اعظم عظیم اعظم  منگل 15 مئ 2018
نواز شریف اسی راہ پر آگے بڑھتے ہوئے اپنے سینے میں دفن، بہت سے دوسرے راز افشا کرنے کی تیاری کررہے ہیں۔ (فوٹو: فائل)

نواز شریف اسی راہ پر آگے بڑھتے ہوئے اپنے سینے میں دفن، بہت سے دوسرے راز افشا کرنے کی تیاری کررہے ہیں۔ (فوٹو: فائل)

مُلک کے تین مرتبہ وزیراعظم رہنے والے میاں نوازشریف ممبئی حملے کے حوالے سے گمراہ کن بیان دینے کے بعد ملکی سلامتی اور بقاء کےلیے اتنے خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں، اِس کا تو کسی کوگمان بھی نہیں تھا۔ اتنا ضرور تھا کہ نوازشریف کا جھکاؤ بھارت کی طرف زیادہ ہے اور مودی سے اِن کے اچھے یارانے ہیں۔ مگرایسا کبھی بھی، کسی نے نہیں سوچا تھا کہ نواز شریف یہ بھی کرسکتے ہیں۔ آج ایسا لگتا ہے جیسے نواز شریف ممبئی حملے پر بیان دینے کے بعد ’’ہم تو ڈوبے ہیں صنم، تم کو بھی لے ڈوبیں گے‘‘ کی مثال پر کاربند ہیں۔ نوازشریف کے اِس بیان میں کتنی صداقت ہے؟ اِس کی تحقیقات ہونا باقی ہیں۔

اَب اِس میں کوئی دو رائے نہیں رہی کہ یہ میر جعفر اور میر صادق کے روپ میں کھل کر سامنے آرہے ہیں۔ نوازشریف کا ممبئی حملے پر دیا جانے والا حالیہ بیان سراسر مُلک دُشمنی کے مترادف ہے۔ آج اگر اِنہیں لگام نہ دی گئی تو ممکن ہے کہ کہیں یہ اپنی آف شور کمپنیوں، اقامے اور کرپشن کے سیاہ کرتوتوں کے عیاں ہونے کے بعد اپنی نااہلی کی سُبکی دور کرنے، اِس کا داغ دھونے اور دنیا کی ہمدردیاں حاصل کرنے کےلیے اِسی طرح دنیا بھر میں ماضی، حال اور مستقبل میں جہاں کہیں بھی دہشت گردی کے واقعات رونما ہوں گے، ان سب کے ڈانڈے سرزمینِ پاک سے ملانے سے گریز نہیں کریں گے۔

یہ کہنا قبل اَز وقت ہوگا کہ میاں صاحب قانون کی گرفت سے آزاد رہیں اور پھر کوئی ایسی بڑی اور خطرناک حرکت کر بیٹھیں جس سے مُلک و قوم کا وقار مجروح ہو اور پاکستان دنیا بھر میں دہشت گرد مُلک کے روپ میں مقبول ہوجائے۔ لازمی ہے کہ مُلک میں سیکیورٹی اور آئین و قانون کی پاسداری کرنے والے ادارے سابق وزیراعظم نوازشریف کے ممبئی حملے والے بیان کا فی الفورجائزہ لیں اور صاف و شفاف تحقیقات کے بعد (مُلکی استحکام اور سالمیت پر غیر ذمہ دارانہ بیانات کا سہارا لیتے ہوئے، وزیراعظم کے عہدے کےلیے چوتھی باری کے منتظر میاں محمد نوازشریف کو) فوری گرفتار کریں اور اِنہیں اڈیالہ جیل کی راہ دکھائیں۔

اِس کے علاوہ اِنہیں لگام دینے اور مُلک دُشمنی پر مبنی بیان بازی سے روکنے کا کوئی چارہ نہیں کیوں کہ اَب یہ متوقع انتخابات سے پہلے اور بعد میں جتنے دن بھی آزاد رہیں گے، اِن سے مُلک و قوم کےلیے اچھائی کی اُمید رکھنا فضول ہے۔ اِس لیے کہ ممبئی حملے کے حوالے سے دیئے گئے بیان کے بعد اِن سے مُلک و قوم کےلیے سب کچھ غلط کرنا ممکن ہوگیا ہے۔

آج اِس میں کو ئی شک نہیں کہ پچھلے ستر سال کے دوران ارضِ مقدس پاکستان میں ذاتی اور سیاسی مفادات کے دلدادہ حکمرانوں اور سیاست دانوں نے سیاست جیسے عوامی خدمت کے شعبے کو بند گلی میں لا کھڑاکیا ہے۔

غرضیکہ ہمارے یہاں پون صدی سے مٹھی بھر اشرافیہ نے سیاست کو اندھیرا کنواں اور عوام کو اِس کنوئیں کے مینڈک بنا کر رکھا ہوا ہے۔ آج جیسا حکمران اور سیاستدان عوام سے کہتے ہیں، اور جو کرنے کو کہتے ہیں، عوام اِس پر آنکھیں بند کرکے یقین کرلیتے ہیں۔ تب ہی میاں نوازشریف اپنی نااہلی کے بعد ’’مجھے کیوں نکالا؟‘‘ کی راگنی چھیڑ کر عوام کو سڑکوں پر لارہے ہیں اور اِنہیں اداروں کے خلاف اُکسا رہے ہیں۔ مگر بیچارے عقل کے اندھے تو عوام ہیں کہ یہ میاں صاحب کے سیاسی عزائم کی تکمیل کے خاطر اِن کے دُم چھلّے بنے ہوئے ہیں۔

وہ تو اللہ بھلا کرے کہ ابھی تک پاکستان کے عوام جہالت، جذباتیت اور شخصیت پرستی کے کڑے حصار میں ہیں ورنہ یہ حکمرانوں، سیاست دانوں اور افسر شاہی کا وہ حشر کرتے کہ اِنہیں کہیں منہ چھپانے کےلیے کوئی جگہ بھی نہیں ملتی۔

بہرکیف، اِس میں شک نہیں کہ اپنی نااہلی کے بعد سابق وزیراعظم نوازشریف اداروں سے محاذ آرائی پرتلے ہوئے ہیں۔ یہ پہلے ہی اداروں کے خلاف اپنے بیانات کی وجہ سے اپنے گرد گھیرا تنگ کرتے جارہے تھے کہ اَب اِن کے حالیہ انٹرویو میں ممبئی حملے کے حوالے سے آنے والے بیان نے نہ صرف ملکی سیاست بلکہ عالمی سطح پر بھی ہلچل پیدا کردی ہے؛ اور بھارت جیسے ازلی پاکستان دُشمن کے منہ میں بھی پاکستان مخالف منفی پروپیگنڈوں کو حقیقی رنگ میں پیش کرنے اور جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کےلیے زبان دے دی ہے کہ ممبئی حملے کے اصل ڈانڈے کہاں سے ملتے ہیں۔ آج میاں صاحب کا انٹرویو لے کر بھارت نے چیل کی طرح چیخ چیخ کر ساری دنیا کو سر پر اُٹھالیا ہے۔

دوسری جانب سابق وزیراعظم نوازشریف کی جانب سے پیدا کردہ اِس گمراہ کن صورتِ حال میں اہل دانش و سیاسی تجزیہ کاروں اور تبصرہ نگاروں کا خیال یہ ہے کہ یقیناً نوازشریف نے ممبئی حملے کے حوالے جو کہا ہے یہ اِن کا دیدہ دانستہ ذاتی بیان ہے، کیونکہ یہ اپنی نااہلی کے بعد بُری طرح مایوس ہوچکے ہیں اور آستینیں چڑھا کر قومی اداروں سے پنچہ آزمائی پر اُترچکے ہیں اور سینہ کوبی و آہ و بکا کرتے ہوئے ’’مجھے کیوں نکالا؟‘‘ کے بعد نادیدہ قوتوں اور خلائی مخلوق کا استعارہ استعمال کرکے قومی اداروں سے پنگا لے رہے ہیں۔

یہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ نادیدہ قوتیں اور ستر سال سے مُلک پر قابض خلائی مخلوق مُلک میں جمہوریت کے خلاف ہیں اِسی لیے یہ نظر نہ آنے والی طاقتیں مُلک سے جمہوریت اور اِنہیں راستے سے ہٹانا چاہتی ہیں لہذا اِنہیں انتقام کا نشانہ بنارہی ہیں۔ عوام میرے ساتھ ہیں اور میں عوام کے ساتھ ہوں۔ نادیدہ قوتیں اور خلائی مخلوق سُدھر جائیں ورنہ میں بھی اِنہیں بے نقاب کردوں گا۔

اَب میاں نوازشریف سمجھ رہے ہیں کہ اِنہیں زیادہ دیر نہیں کرنی چاہئے۔ سو اَب وہ اپنی نااہلی اور کرپشن کے داغ اور اپنی سُبکی مٹانے کےلیے اپنے سینے میں دفن رازوں کو نکالنے کی راہ پر چل پڑے ہیں۔

اَب آگے آگے دیکھیے کہ قانون کی گرفت سے آزاد نواز شریف مزید کیا گُل کھلاتے ہیں۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔