از خود نوٹس اور چیف جسٹس کی آئینی ذمہ داری

حافظ فیصل زمان ایڈووکیٹ  جمعرات 17 مئ 2018
آئین کی دفعہ (3)284 کے تحت بھی سپریم کورٹ ازخود نوٹس لے کر معاملے کی سماعت کرسکتی ہے۔ فوٹو:انٹرنیٹ

آئین کی دفعہ (3)284 کے تحت بھی سپریم کورٹ ازخود نوٹس لے کر معاملے کی سماعت کرسکتی ہے۔ فوٹو:انٹرنیٹ

کسی بھی ملک میں قوانین کا سب سے اہم مجموعہ آئین، جبکہ آئین کے تحت قائم ہونیوالی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ کہلاتی ہے۔ سپریم کورٹ ہی عوام کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرتی ہے اور حکومت یا حکومتی اداروں کی جانب سے بنیادی حقوق کے نفاذ کی خلاف ورزی پر متاثرہ فریق کی درخواست پر یا معاملے کی از خود نوٹس کے ذریعے سماعت کرکے متاثرہ فریق کی داد رسی کےلیے مناسب حکم صادر کرتی ہے۔

ریاست کا بنیادی ڈھانچہ، نظم و نسق، حکومتی امور کی انجام دہی کا طریقہ کار، ریاست اور عوام کے درمیان تعلق کی نوعیت آئین میں بیان کردی گئی ہے۔ جس طرح کسی فرد یا افراد کا قانون کے مطابق عمل نہ کرنا یا قانون کے مخالف عمل کرنا قانونی خلاف ورزی کہلاتا ہے، اسی طرح حکومت یا حکومتی ادارے کا آئین کی منشاء کے مطابق عمل نہ کرنا یا آئین کے مخالف عمل کرنا آئینی خلاف ورزی کہلاتا ہے۔ جس طرح قانون کی خلاف ورزی قابل گرفت ہے، اسی طرح آئینی خلاف ورزی بھی قابل گرفت ہے۔

جیسے قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں متاثرہ فریق کے درخواست نہ گزارنے پر بھی قانون حرکت میں آسکتا ہے، بالکل اسی طرح آئینی خلاف ورزی پر بھی متاثرہ فریق کے درخواست نہ گزارنے پر بھی آئین کی دفعہ (3)284 کے تحت بھی سپریم کورٹ ازخود نوٹس لے کر معاملے کی سماعت کرسکتی ہے۔ آئین کی شق 284 (3) کے مطابق عدالت عظمیٰ اگر سمجھے کہ آئین کے حصہ دوم باب 1 میں بیان کردہ بنیادی حقوق میں سے کسی حق کے نفاذ کے سلسلے میں عوامی اہمیت کا کوئی سوال درپیش ہے تو عدالت عظمیٰ کو اس معاملے میں حکم صادر کرنے کا اختیار ہوگا۔

پاکستان کے آئین کے حصہ دوم باب اول، آرٹیکلز 8 سے لے کر 28 تک بنیادی حقوق کے متعلق ہیں جن میں زندہ رہنے اور علاج معالجہ سے لے کر مساوی سلوک، مذہب، تجارت و کاروبار، تقریر، نقل و حرکت و اجتماع کی آزادی، انصاف کی فراہمی اور تعلیم کا بنیادی حق وغیرہ شامل ہیں۔ حکومت یا حکومتی ادارے کی جانب سے کسی فرد یا افراد کو بنیادی حق سے محروم کرنے پر داد رسی کےلیے متاثرہ فریق خود بھی آئینی عدالت سے رجوع کرسکتا ہے اور سپریم کورٹ معاملے کا ازخود نوٹس بھی لے کر حکم صادر کر سکتی ہے۔

آئین کے اسی حصہ دوم کے باب 2 کی دفعات 29 سے 40 تک حکمت عملی کے اصول کے متعلق ہیں جو عوام کےلیے روٹی، کپڑا، مکان، علاج، تعلیم، مساوی حقوق اور استحصال کے خاتمے کی بابت ہیں۔ یہ حکومت کو ان اصولوں کے تحت حکمت عملی ترتیب دینے کی ہدایات کرتے ہیں۔ حکمت عملی سرانجام دیتے وقت حکومت اگر ان اصولوں کو نظرانداز کردے تو کوئی بھی شخص آئینی خلاف ورزی پر آئینی عدالت سے رجوع کرسکتا ہے جس پر عدالت حکومتی حکمت عملی اور اٹھائے گئے اقدامات کا جائزہ لے سکتی ہے۔

اس سے پہلے عدلیہ پاکستان میں کبھی بھی اتنی طاقتور، خود مختار اور آزاد نہ تھی، لہذا انصاف کی عدم فراہمی اور بنیادی حقوق کے نفاذ کی خلاف ورزی پر عدلیہ کبھی بھی حکمرانوں کی گرفت نہ کر سکی تھی۔ آج جب چیف جسٹس جناب ثاقب نثار صاحب کی سربراہی میں عدلیہ اپنی ذمہ داری کا ادراک کرتے ہوئے حکمرانوں کے احتساب کےلیے، قوم کو انصاف اور بنیادی حقوق کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کر رہی ہے، سپریم کورٹ کے جسٹس صاحبان 16 سولہ گھنٹے کام کر رہے ہیں، جناب چیف جسٹس صاحب خود اسپتالوں اور تعلیمی اداروں کے دورے کر رہے ہیں اور موقعے پر ہی خلق خدا کی داد رسی کےلیے ہدایات دے رہے ہیں تو عادی مجرموں کی چیخیں آسمانی مخلوق کو بھی سنائی دے رہی ہیں۔

ملزمان انصاف و احتساب کے عمل کو مشکوک بنانے کےلیے آئینی اداروں کے خلاف مسلسل زہر اگل رہے ہیں، عملاً ریاست کے خلاف اعلان بغاوت کرکے ملک میں تخریب کاری کی سعی کر رہے ہیں جس پر ان کے خلاف آرٹیکل (1) 6 کے تحت کارروائی کا بھی اطلاق ہو سکتا تھا؛ جس کے مطابق ’’کوئی شخص جو طاقت کے استعمال یا دیگر غیر آئینی ذریعے سے آئین کی تنسیخ کرے یا تنسیخ کرنے کی سعی یا سازش کرے، تخریب کاری کرے یا تخریب کرنے کی سعی یا سازش کرے، سنگین غداری کا مجرم ہوگا۔‘‘

علاوہ ازیں قتل و غارت اور کرپشن میں ملوث ملزمان دانستہ طور پر عدالتوں کو مسلسل نیچا دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں جس کے بارے میں آئین کا آرٹیکل (2) 204 مندرجہ ذیل الفاظ میں واضح ہدایات دیتا ہے:

کسی عدالت کو کسی ایسے شخص کو سزا دینے کا اختیار ہوگا جو:

  • (الف) عدالت کی قانونی کارروائی کی کسی طرح مذمت کرے، اس میں مداخلت یا مزاحمت کرے یا عدالت کے کسی حکم کی نافرمانی کرے؛
  • (ب) عدالت کو بدنام کرے، یا بصورت دیگر کوئی ایسا فعل کرے جو اس عدالت یا عدالت کے جج کے بارے میں نفرت، تضحیک یا توہین کا باعث ہو؛
  • (ج) کوئی ایسا فعل کرے جس سے عدالت کے سامنے زیر سماعت کسی معاملے کا فیصلہ کرنے پر مضر اثر پڑنے کا احتمال ہو؛ یا
  • (د) کوئی ایسا دوسرا فعل کرے جو از روئے قانون توہینِ عدالت کا موجب ہو۔

آج تک عدالت کی طرف سے انتہائی صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا جاتا رہا ہے جو یقیناً خوش آئند بات ہے؛ لیکن یہ سلسلہ اب لامتناہی صورت اختیار کرتا جارہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ احتساب، انصاف کی فراہمی اور عوام الناس کو بنیادی حقوق کی فراہمی کےلیے سپریم کورٹ کو جو آئینی ذمہ داری دی گئی ہے اور جسے پورا کرنے کےلیے چیف جسٹس ثاقب نثار صاحب کی سربراہی میں سپریم کورٹ تاریخ میں پہلی مرتبہ اپنا حقیقی کردارادا کر رہی ہے، اسے نہ صرف جاری رہنا چاہیے بلکہ عدالتوں کو بدنام کرنے، آئینی اداروں اور ریاست پاکستان کے خلاف مسلسل ہرزہ سرائی کرنے والے قومی مجرموں کو بھی اب لگام ڈال دینی چاہیے۔ ورنہ ہر مجرم عدالت کے احکامات کا اسی طرح مذاق اڑاتا رہے گا اور آئینی اداروں کی تضحیک کرتے ہوئے ریاست کے مفاد کو چیلنج کرتا رہے گا۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

حافظ فیصل زمان ایڈووکیٹ

حافظ فیصل زمان ایڈووکیٹ

بلاگر پاکستان میں سات سال تک وکالت و تدریس کے شعبہ سے وابستہ رہنے کے بعد گزشتہ تین سال سے کینیڈا میں بطور پیرالیگل کام کررہے ہیں۔ بطور قانون دان وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستانی نظامِ قانون میں اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔