میاں صاحب بھارت چلے جائیں

عبدالقادر حسن  بدھ 16 مئ 2018
Abdulqhasan@hotmail.com

[email protected]

آج سے کچھ وقت قبل یہ پیش گوئی کی تھی کہ دور رائیونڈمیں بیٹھا ہوا نواز شریف اب  زیادہ خطرناک ہوگا، اس وقت ہم سب کے مدنظر یہ بات تھی کہ اگرنواز شریف کو سیاست اور اقتدار سے الگ کر دیا گیا تو وہ بھر پور مزاحمتی سیاسی کردارادا کریں گے اور اس طرح اپنے مخالفین کے لیے سیاسی طور پر مشکل ترین حریف ثابت ہوں گے لیکن یہ معلوم نہ تھا کہ میرے لکھے ہوئے چند الفاظ کی تعبیر نواز شریف ملکی مفاد کے مخالف اور دشمن کے حق میں بیانات کے ذریعے دیں گے۔

بھارت اور پاکستان کے درمیان اب تک باقاعدہ جنگوں کے علاوہ ہر وقت جنگی صورتحال برقرار رہتی ہے کیونکہ بھارت نے پاکستان کے وجودکو تسلیم ہی نہیں کیا اور اس کی ہمہ وقت یہ کوشش رہتی ہے کہ پاکستان کو غیر مستحکم کیا جائے اور دنیا میں پاکستانی ریاست اگر باقی بھی رہتی ہے تب بھی اس کی پہچان ایک غیر مستحکم ریاست کے طورہو۔کشمیرمیں شروع دن سے جنگ جاری ہے، لاکھوں کشمیری پاکستان کے لیے اپنی جانیں قربان کر چکے ہیں، لاتعداد ماؤں کی گودیں اجڑ چکیں، ہماری معصوم کشمیری بیٹیاں اپنی عصمتیں تک قربان کر چکی ہیں۔

بچے گولیوں کی گھن گرج میں اپنی ماؤں کی گودوں میں سہم کر اپنا بچپن اور کھیل کود کے دن گزار رہے ہیں اور مائیں اپنے بچوں کو پاکستان پر قربان ہونے کے لیے تیار کر رہی ہیں ۔ہمارا ملک دو لخت کیا گیا اور کس نے کیا یہ سب جانتے ہیں ۔ بھارت نے ہمارا پانی روک دیا ہے، وہ بند پر بند بنائے جا رہا ہے، اس کا منصوبہ ہمیں خشک اور بنجر کر کے برباد کرنے کا ہے، ہمارے گھروںکے اندر وہ ٹیلیویژن کے ذریعے گھس چکا ہے ۔

پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے اس کے جاسوس ایک لمبا چوڑا جال بچھا چکے ہیں جن میں سے کچھ پکڑے بھی گئے ہیں جنہوں نے اپنے جرائم کا اعتراف بھی کر لیا ہے، عالمی برادری میں بھارت کوئی موقع نہیں جانے دیتا جس میں پاکستان کی سبکی ہوسکتی ہو ۔ بھارت کی پاکستان مخالف ریشہ دوانیوں کی ایک طویل فہرست ہے جس کا کوئی اختتام نہیں ہوتا بلکہ اس فہرست کے آخر میں شائد پاکستان کے خاتمے کی بات درج کی گئی ہے جو بھارت کی ازلی اور شدید خواہش ہے۔

ہم اپنی طرف دیکھیں تو ہماری کئی حکومتیں درپردہ بھارت نواز رہیں اور ان کی شدید خواہش رہی کہ وہ بھارت کو پسندیدہ ملک قراد دے سکیں لیکن پاکستانی عوام کے خوف سے وہ اپنی اس شدید خواہش کو عملی جامہ نہ پہنا سکیں ۔ ہمارے سابق وزیر اعظم نواز شریف نے اپنی حکومت کے قیام کے فوراً بعد کہا تھا کہ عوام نے ان کو بھارت دوستی کے نام پر ووٹ دیے ہیں جس پر عوام نے احتجاج بھی کیا ۔ ہمسایہ ملک کے نام پر بھارت کے ساتھ خوشگوار تعلقات کسی فرد واحدکی خواہش ہوسکتی ہے لیکن عملی طور پر یہ ممکن نہیں کیونکہ بھارت کے ہندوؤں کے خمیر میں مسلمان دشمنی شامل ہے اوریہ مسلمان چاہے ان کے اپنے ملک میں بستے ہوں یا کسی دوسرے ملک میں ان کے ساتھ دوستی کا سوال ہی پیدا نہیںہوتا۔

میاں نواز شریف تین دہائیوں کی سیاسی زندگی کے بعد جب سے نظریاتی ہوئے ہیں، ان کے نظریات شکوک و شبہات کا ہی شکار ہیں، ان کے ارد گرد گھیرا کیے ان کے سیاسی حلیفوں کے نظریات کے بارے میں پاکستانی قوم اچھی طرح سے آگاہ ہے، ان ہی کے سائے کے زیر اثر میاں نواز شریف نے نظریاتی ہونے کا اعلان کیا ہے جس کے بارے میں خود ان کے پارٹی لیڈر بھی مشکوک ہیں اور چوہدری نثار تو یہ تک ان سے پوچھ چکے ہیں کہ کہیں یہ نظریہ محمود خان اچکزئی والا تو نہیں۔ میاں نواز شریف کو جب بھی موقع ملا انھوں نے بھارت کی خوشنودی اور خوشامد کی ۔

ان کا نیا بیانیہ بھی بھارت نواز بیانیہ دکھائی دے رہا ہے، ان کا لب و لہجہ ایک پاکستانی کا نہیں بلکہ کسی دشمن ملک کا لگ رہا ہے، وہ اپنے ہی ملک کے خلاف اور دشمن کے حق میںاپنے بیانیہ پر ڈٹے ہوئے ہیں، یہ بیانیہ کسی بھارتی سیاستدان کا تو ہو سکتا ہے لیکن کسی پاکستانی سیاست دان اور ایسا سیاستدان جس کو پاکستانی قوم نے تین مرتبہ وزیر اعظم کے عہدے پر بھی بٹھایا، اس کا یہ بیانیہ قوم کو قبول نہیں ۔ جاتی عمرہ بھارت میں بیٹھ کرنواز شریف ایسا بیان ضرور دے سکتے ہیں لیکن جاتی عمرہ پاکستان سے ایسا بیان قوم قبول نہیں کر رہی ۔ نواز شریف پہلے بھی اس بات کے حامی رہے ہیں اور اس کا کئی مرتبہ وہ برملا اظہار بھی کر چکے ہیں کہ بھارت اور پاکستان درحقیقت ایک ہی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ہماری ثقافت ایک ہے، ہمارا رہن سہن ایک جیسا ہے اور ہم بھی اسی خدا کو مانتے ہیںجس کی ہندو پوجا کرتے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے آج سے چند سال قبل ہمارے بھارت نواز دوستوں کی ایک تنظیم سفما کے زیر اہتمام لاہور میںمنعقدہ ایک تقریب میں کیا تھا ۔میاں صاحب اقتدار سے الگ ہونے کے بعد ایک مختلف روپ میں سامنے آئے ہیں اور قوم نے ان کا یہ روپ پہلی مرتبہ دیکھا ہے۔ انھوں نے سب سے پہلے ملکی اداروں کو تنقید کا نشانہ بنانا شروع کیا اور اب تو وہ حد سے گزر گئے ہیں۔

انھوں نے پاکستان کو بھارت میں دہشت گردی کا ملزم قرار دیا ہے، اسی پاکستان کو جس کے وہ تین مرتبہ وزیر اعظم رہ چکے ہیں اور اب بھی ان کی پارٹی پاکستان کی حکمران ہے۔ اقتدار سے دوری نے ان کو پاکستان سے دور کر دیا ہے، ان کو شائد وہی پاکستان پسند ہے جس میں وہ بطور حکمران بادشاہی کریں اور ایسے پاکستان کی ان کے لیے کوئی حیثیت نہیں جس میں وہ حکمران نہ ہوں، ا ن کا نیا بیانیہ اس بات کو تقویت دے رہا ہے کہ نواز شریف کا پاکستان الگ ہے اور پاکستان کے شہریوں کا پاکستان الگ ہے ۔

معذرت کے ساتھ عرض کروں گا کہ میاں نواز شریف اپنا تازہ بیانیہ لے کر اپنے پرانے وطن بھارت سدھار جائیں کیونکہ ان کا یہ بیانیہ قوم کو قبول نہیں، اس طرح کی ملک دشمن گفتگو اور وہ بھی بھارت کے حق میں ہمیں ہضم نہیں ہو رہی۔ درخواست ہے کہ وہ اپنے تازہ فرمان جاتی عمرہ بھارت میں بیٹھ کر جاری کریں، پاکستانی قوم کے لیے آپ کی باتیں ناقابل قبول ہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔