رہنما نہیں منزل چاہیے

ڈاکٹر توصیف احمد خان  بدھ 16 مئ 2018
tauceeph@gmail.com

[email protected]

رہنما نہیں منزل چاہیے ۔31 سال بعد  ایم کیو ایم کے دونوں دھڑوں نے اپنا بنیادی بیانیہ تبدیل کر لیا۔ مہاجر صوبہ، ہندوؤں کی متروکہ املاک کو بھارت سے ہجرت کرنے والوں کو دینے،کراچی اور حیدرآباد کی پسماندگی اور بے روزگاری کے خاتمے کے نعرے لیاقت آباد کے ٹنکی گراؤنڈ میں ایم کیو ایم کے دونوں دھڑوں کے مشترکہ جلسے میں چھائے رہے، یہی نعرے ایم کیو ایم کے انتخابی نعرے ہونگے، اگرچہ پیپلز پارٹی کے چیئر پرسن بلاول بھٹو کے ٹنکی گراؤنڈ پر ہونے والے جلسے کے ردعمل کے طور پر ایم کیو ایم ،  پی آئی بی کالونی اور بہادرآباد والے اس جلسے میں متحد ہوئے مگر ابھی تک پھر ایک ایم کیو ایم کا معاملہ ہنوز التواء کا شکار نظر آتا ہے ۔

ایم کیو ایم اور ملک کی دوسری جماعتوں کی تنظیم اورکام کے طریقہ کار میں فرق رہا۔ ملک کی سیاسی تاریخ بتاتی ہے کہ مسلم لیگ ، عوامی لیگ ، نیشنل عوامی پارٹی ، پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام اور جمعیت علمائے پاکستان وغیرہ ایک مرکزی شخصیت کے گرد قائم ہوئیں اور اس شخصیت کی بناء پر عوام میں پذیرائی حاصل کی، مگر اپنے بنیادی بیانیے کو ایک شخصیت کے گرد محدود نہیں کیا۔ محمد علی جناح، حسین سہروردی، مجیب الرحمن، مولانا بھاشانی، مولانا مودودی، ذوالفقار علی بھٹو، مفتی محمود اور مولانا شاہ احمد نورانی اپنی اپنی جماعتوں کی مقبولیت کی بنیاد بنے اور ان جماعتوں میں تمام تر فیصلے اپنے مرکزی قائد کی ایماء پر ہوئے مگر اپنے بیانیے میں اپنی جماعت کے فلسفے کو بیان کیا اور نظریہ میں مرکزی شخصیت کی ذات کو محور نہیں بنایا گیا ۔

یہی وجہ ہے کہ ان جماعتوں میں اپنے قائدین پر تنقید بھی ہوئی۔ کچھ لوگوں کو پارٹیاں چھوڑنی پڑیں مگر بہت سے لوگ اپنی جماعتوں میں موجود رہے۔ ان کے اور ان کے اہل خانہ کی زندگیوں کو کوئی خطرہ محسوس نہیں ہوا ۔ سیاسی تاریخ سے یہ حقائق ظاہر ہوتے ہیں کہ یہی وجہ ہے کہ بہت سے رہنما مختلف وجوہات کی بناء پر اپنی پارٹی  میں معتوب قرار پائے یا پارٹیوں سے علیحدگی اختیارکرلی مگر پھر حالات تبدیل ہوئے۔ یہ رہنما اپنے پرانے قائدین کے حلیف بن گئے مگر ایم کیو ایم نے شخصیت پرستی کی بدترین مثال قائم کی تھی۔ ایم کیو ایم کے قائدین نے ’’منزل نہیں رہنما چاہیے‘‘ اور ’’ جو قائد کا غدار ہے موت کا حقدار ہے‘‘ جیسے نعرے لگا کر تنقید اور تجاویز کے راستے بند کردیے ۔ یوں ایم کیو ایم میں ایک فرد کی آمریت قائم ہوئی ۔

ایم کیو ایم میں جن لوگوں نے اپنی قیادت کی پالیسیوں سے انحراف کیا وہ نامعلوم افراد کے ہاتھوں قتل ہوگئے ۔ ایم کیو ایم کے چیئرمین عظیم طارق اور سیکریٹری جنرل ڈاکٹر عمران فاروق اس کی بدترین مثال بنے ۔ اس صورتحال کے منطقی نتیجے کے طور پر ایم کیو ایم پہلے عسکری اسٹیبلشمنٹ کا آلہ کار بنی اور پھر 1988ء سے 1999ء کے درمیان قائم ہونے والی پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی حکومتوں کو گرانے میں ایم کیو ایم کا منفی کردار سامنے آیا۔ ایم کیو ایم مسلسل فوجی آپریشن کی زد میں رہی۔ ان آپریشنوں میں ایم کیو ایم کے سیکڑوں کارکن لاپتہ ہوئے اور بہت سے مارے گئے۔

کراچی شہر میں امن و امان کی صورتحال بگڑنے سے شہرکا پورا ڈھانچہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوا۔ تعلیمی ادارے تباہ ہوئے، بھتہ وصول کرنے کے نئے طریقے ایجاد ہوئے۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں ایم کیو ایم والوں کو آزادی ملی ۔ ہزاروں افراد کے مقدمات واپس ہوئے، برطرف ہونے والوں کو دوبارہ ملازمتیں ملیں ۔ بلدیہ کراچی کو سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ میں تبدیل کیا گیا اور ناظم مصطفی کمال کی قیادت میں کراچی شہر ایک جدید انفرااسٹرکچر کا مالک  بنا۔ شہر میں بسنے والے وسیع العریض سڑکوں ، اوور ہیڈ برج اور انڈر پاس کی تعمیر سے کراچی شہر پورے ملک کا عکاس بن گیا، مگر اس ترقی کے باوجود شہر میں ٹارگٹ کلنگ کا کاروبار عروج پر پہنچا ۔

مذہبی، لسانی اور نا معلوم وجوہات کی بناء پر سیکڑوں افراد قتل ہوئے، خفیہ عسکری اور سول ایجنسیوں کے افسروں نے الزام لگانا شروع کیا کہ کراچی کے ڈسٹرکٹ سینٹرل میں تو ایم کیو ایم کی بھرپور اکثریت ہے ہر گلی کوچے میں ایم کیو ایم کے کارکن آباد ہیں مگر پھر قاتل کہاں لاپتہ ہو جاتے ہیں؟ ایم کیو ایم کے مرکزی دفتر 90 پر چھاپہ مارا گیا۔ کئی ٹارگٹ کلرز کی گرفتاری کی دعویٰ کیا گیا۔کراچی کے تمام اضلاع میں سکون ہوگیا۔

22 اگست کی قائد ایم کیو ایم کی تقریر نے سیاسی صورتحال کو خراب کردیا ۔ ایم کیو ایم کے کارکن آپریشن کی زد میں آئے۔ بہت سے کارکنان گرفتار ہوئے، کئی رہنما فرار ہوکر امریکا اور یورپ میں پناہ گزیر ہوئے۔ سابق ایم کیو ایم کے رہنما مصطفی کمال نے پاک سرزمین پارٹی کے نام سے علیحدہ جماعت قائم کرلی۔ ایم کیو ایم دو مختلف دھڑوں میں تبدیل ہوگئی، بہرحال ایم کیو ایم کی قیادت ایک جگہ  متحد ہوئی او فاشزم پر مبنی نعرے ’’ جو قائد کا غدار ہے موت کا حقدار ہے‘‘ اور ’’منزل نہیں ، رہنما چاہیے ‘‘ سے لاتعلقی کا اعلان کردیا۔ اس اعلان سے یہ واضح ہوا کہ ایم کیو ایم کے قائدین نے ماضی کی غلطیوں سے سیکھ لیا اور ان کی سمجھ میں یہ حقیقت آگئی ہے کہ جمہوریت کے ذریعے ہی اپنے شہریوں کے لیے جدوجہد کی جاسکتی ہے۔

1947ء میں سندھ سے بھارت جانے والے پناہ گزینوں کی چھوڑی ہوئی جائیدادوں کو بھارت سے آنے والے افراد اور ان کے والدین کو دینے کا مطالبہ ہوا۔ ہندوستان کے بٹوارے کے وقت یہ طے ہوا تھا کہ جو شہری اپنی جائیداد چھوڑ کر جائیں گے یہ جائیداد ہجرت کرکے آنے والوں کو الاٹ کی جائے گی، یوں دعویٰ داخل کرنے کے مراحل شروع ہوئے۔ سیاسی تاریخ کا مطالعہ کرنے والے جانتے ہیں کہ اس وقت بہت سے افراد نے جھوٹے دعوے داخل کیے۔ اردو بولنے والے افسروں نے ان دعوؤں کی تصدیق کی۔ اس طریقہ کار کے تحت وہ لوگ ارب پتی ہوگئے جو ہندوستان میں کچھ چھوڑ کر نہیں آئے تھے اور یہ لطیفہ مشہور ہوا کہ ہندوستان سے آنے والا ہر شخص ہندوستان میں پودینے کے باغات چھوڑ آیا تھا۔

اس بدعنوانی کے کاروبار سے برسر اقتدار جماعتوں کے رہنماؤں اور بیوروکریسی نے خوب فائدہ اٹھایا، یوں ان دعوؤں کی بناء پر ایک مصنوعی کلاس وجود میں آئی جو اسلام آباد کی اسٹیبلشمنٹ کا آلہ کار بن گئی۔ سندھیوں نے ہجرت کر کے آنے والوں کے لیے اپنے گھروں کے دروازے کھول دیے تھے۔ انھوں نے مہمان نوازی کی اعلیٰ روایات قائم کیں۔ ان متروکہ املاک جیسے معاملات کو اجاگر کرنے کا مطلب ایک طرف احسان فراموشی تو دوسری طرف سندھ کو نئے تضادات کا شکارکرنا ہوگا۔ ہندوستان سے آنے والے لاکھوں افراد نے تعلیم کی اہمیت کو محسوس کیا۔

ان افراد کے پاس کھونے کوکچھ نہیں تھا، یوں تعلیم کی بناء پر پروفیشنل پیدا ہوئے۔ ان پروفیشنلز کی صلاحیتوں کو ملک میں اور یورپ اور امریکا تک میں سراہا گیا۔ ان لوگوں نے سعودی عرب اور خلیجی ممالک میں اپنی اعلیٰ کارکردگی کی بناء پر جگہ بنائی۔ اب 70 سال بعد ان دعوؤں کی بازیابی کے لیے نعرے لگانے کا مطلب حقائق کو نہ سمجھنا ہے۔ اس طرح کراچی کو سندھ سے علیحدہ کر کے علیحدہ صوبے کا نعرہ لگا کر ایک طرف سندھ میں صورتحال کو بگاڑنے اور دوسری طرف عسکری اسٹیبلشمنٹ کے جمہوری عمل کو سبوتاژ کرنے کے ایجنڈے کو تقویت دینے کے علاوہ کچھ اور اور حاصل نہیں ہوسکتی ۔ یہ وقت ہے کہ ایم کیو ایم کو ایک جدید جمہوری جماعت بنایا جائے۔

ایم کیو ایم نے شہر میں مذہبی تفریق کو ختم کیا، خواتین کے ساتھ مساوی سلوک کو اہمیت دی، یوں ایم کیو ایم ایک سیکیولر جماعت کے طور پر ابھری ۔ یہی وجہ ہے کہ ایم کیو ایم طالبان اور مذہبی انتہا پسندوں کے خلاف ایک مضبوط دیوار بنی۔ ایم کیو ایم کو سندھ میں شہری علاقوں کی تمام آبادی کی آواز بن جانا چاہیے اور اس مقصد کے لیے ایم کیو ایم کو متحد ہونا ہوگا ۔ تمام افراد کے حقوق کے لیے مذہب، نسل اور جنس کے امتیاز کے بغیر جدوجہد کرکے اس کردار جمہوری نظام کو مستحکم کرنا ہوگا تو پھر جمہوریت مستحکم ہوگی اور اس کا فائدہ ہر فرد کو ہوگا ۔

پیپلز پارٹی نے کراچی کی ترقی کو اپنے ایجنڈے میں شامل نہیں کیا ۔ بلاول بھٹو زرداری کی تقریروں سے پیپلز پارٹی اردو بولنے والوں کو اپنی طرف متوجہ نہیں کرسکتی ۔ بلاول کا کراچی کا جلسہ کسی ٹی وی ڈرامے سے زیادہ اہمیت کا حامل نہیں ہے اور ایم کیو ایم کو محدود سوچ سے دستبردار ہوکر وسیع پلیٹ فارم کا حصہ بننا چاہیے ۔ ایم کیو ایم کی قیادت کو محدود سوچ سے چھٹکارا حاصل کر کے ایک مضبوط جمہوری قوت بننا چاہیے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔