اہل غزہ عزت سے جینا جانتے ہیں

محمد سعید رفیق  بدھ 16 مئ 2018
لگتا ہے اسرائیل کے ناجائز قیام کے 70 ویں یوم آزادی پر فلسطین کی آزادی کا بھی فائنل راؤنڈ شروع ہو گا۔ فوٹو: انٹرنیٹ

لگتا ہے اسرائیل کے ناجائز قیام کے 70 ویں یوم آزادی پر فلسطین کی آزادی کا بھی فائنل راؤنڈ شروع ہو گا۔ فوٹو: انٹرنیٹ

نوٹ: نہتے فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی جارحیت جاری ہے، صہیونی فوج کی حالیہ فائرنگ سے پچاسوں فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔ قارئین اس بلاگ کو اس کے پس منظر میں پڑھیں۔ 

یہ خبر بھی پڑھیں: اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے 58 فلسطینی شہید، 2700 زخمی

فلسطینی قیادت کے 6 ہفتوں کے ممکنہ مارچ آف نو ریٹرن کے پہلے روز اسرائیلی جارحیت کے نتیجہ میں مظاہرین پر براہ راست فائرنگ سے 15 فلسطینی شہید اور 1400 سے زائد زخمی ہو گئے۔ 30 ہزار فلسطینیوں نے مقامی قیادت، سیاسی و غیر سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے متفقہ فیصلے پر عمل کرتے ہوئے غزہ کی پٹی پر 700 میٹر کے علاقے میں خیمے لگائے اور ناجائز اسرائیلی قبضے کے خلاف احتجاج کیا۔ جواب میں اسرائیلی فوج نے تربیت یافتہ ماہر نشانہ بازوں کے ذریعہ مظاہرین کو کچلنے کی کوشش کی۔ حماس کی قیادت کا عزم ہے کہ شہادتوں کے باوجود 6 ہفتوں پر مشتمل مارچ 15 مئی تک جاری رہے گا جبکہ 14 مئی کو اسرائیل نے اپنے ناجائز قیام کے 70 سال مکمل ہونے پر ٹرمپ کے اعلان کو عملی جامہ پہنانے کےلیے مقبوضہ بیت المقدس میں امریکی سفارتخانے کا سنگ بنیاد رکھنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

اس تناظر میں فلسطینیوں کے احتجاجی مارچ کو دیکھا جائے تو صورتحال بڑی گھمبیر اور آنے والے دنوں میں کشیدہ ہوتی نظر آ رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں امریکہ اسرائیل گٹھ جوڑ فلسطین میں کسی نئی خون کی ہولی کا سرا غ دے رہا ہے۔

گوکہ جنرل اسمبلی میں مقبوضہ بیت المقدس میں امریکی سفارتخانے کے قیام کے اعلان کیخلاف قرار داد بھاری اکثریت سے منظور ہو چکی ہے۔ مگر کسی خوش فہمی کے بغیر اس قرارداد کو بھی اقوام متحدہ کی بے قدر ہونے والی سینکڑوں دوسری قراردادوں کی طرح ہی دیکھنا چاہئے۔

یوم الارض فلسطین ہر سال 30 مارچ 1976 کے افسوسناک واقعہ کی یاد میں منایا جاتا ہے جب 5 غیر مسلح فلسطینیوں کو اپنی زمینوں سے بے دخلی پر احتجاج کے جرم میں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا۔ مگر اس بار ایسا نہیں لگتا، فلسطینیوں کی جانب سے نو ریٹرن مارچ مقبوضہ بیت المقدس میں امریکہ اسرائیل گٹھ جوڑ کے خلاف ایک عملی احتجاجی تحریک کے آغاز کا پتہ دے رہا ہے۔ فلسطینی معاشرہ اسرائیلی ظلم و جبر کے خلاف متحد ہے، جس کا سب سے بڑا ثبوت غزہ کی پٹی میں اسرائیلی سرحد کے ساتھ 6 مختلف مقامات پر ہزاروں مظاہرین کا منظم مارچ اور پرجوش نعرے ہیں، جو بدترین فائرنگ، جیٹ طیاروں کی بمباری اور ٹینکوں کی گولہ باری کے باوجود جاری ہے۔ 70 سال سے عالمی طاقتوں کا بغل بچہ اسرائیل کے سامنے سینہ سپر فلسطینیوں کے عزم کو شکست نہیں دی جاسکتی۔ پہلے روز سات آ ٹھ ہزار مظاہرین سے شروع ہونے والا احتجاج بہیمانہ فائرنگ اور فوجی تشدد کے بعد 30 ہزار تک پہنچ گیا۔

برطانوی اخبار گارجین کے مطابق اسرائیلی سرحد پر نو ریٹرن مارچ میں شریک 65 سالہ خاتون فاطمہ نصیر نے کہا کہ وہ اور اس کے سات بچے جو تمام کے تمام بیروزگار ہیں، اس احتجاجی مارچ میں شریک ہیں۔ خاتون کا کہنا تھا کہ وقار سے مرنا ذلت سے بھرپور پُرآسائش زندگی سے لاکھ گنا بہتر ہے۔ مظاہرے میں شریک 18 سالہ نوجوان محمد یونس نے جذ بات سے بھرپور اور کھنکتی آواز میں کہا کہ ہم دنیا کو بتانا چاہتے ہیں کہ اہل غزہ وقار کے ساتھ جی سکتے ہیں۔ یونس نے کہا کہ کوئی ہمارے بارے میں فکر مند نہ ہو، ہم یہاں روز آئیں گے؛ جب تک دنیا کے مشکل ترین قضیہ کا حل نہیں نکل آتا۔

صدر محمود عباس نے اسرائیلی فائرنگ کی مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ سے مظاہرین کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ گوکہ بات سرحد کی نہیں ہے، مگرپھر بھی مختلف تبصروں میں اسرائیلی بربریت کی مذمت کرتے ہوئے فلسطین کی حدود میں رہتے ہوئے احتجاج پر سرحد پار سے کی جانے والی فائرنگ کو بین الاقوامی سرحدی اخلاقیات کے خلاف قراردیا جا رہا ہے۔

فلسطین کی پیچیدہ اور بڑھتی کشیدہ صورتحال کے تناظر میں امریکی دورے پر آئے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی بین المذاہب رواداری کےلیے امریکی یہودی عالموں سے ملاقات کی حد تک تو ٹھیک ہے، مگر ریاض سے تل ابیب تک بھارتی ایئر ائن کی پروازوں کی شروعات اور سعودی و اسرائیلی انٹیلی جنس کے خفیہ تعلقات آزادی فلسطین کی راہ میں حائل ہو سکتے ہیں۔ ضروری ہے کہ قبلہ اول کی آزادی کیلئے سعودی حکمران امت محمدیہ کی قیادت کرتے ہوئے اسرائیلی جارحیت کے خلاف دو ٹوک مو قف اپنائیں؛ تاکہ عرب ممالک سمیت تمام مسلم دنیا مسئلہ فلسطین پر ایک بار پھر لمتحد ہوسکے۔

عزم، حوصلہ، برداشت اور لڑائی کی صلاحیت۔ ہمارے فلسطینی بھائیوں کے پاس سب کچھ ہے، 70 سالوں سے جانیں نچھاور کرنے والوں کو خراج ملنے کا وقت تو آئے گا ہی نا، کو ئی کیوں اور کب تک مزاحم ہو سکتا ہے؟ لگتا ہے اسرائیل کے ناجائز قیام کے 70 ویں یوم آزادی پر فلسطین کی آزادی کا بھی فائنل راؤنڈ شروع ہو گا۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔