مشرف والا وقت کسی پر نہ آئے

عبدالقادر حسن  ہفتہ 20 اپريل 2013
Abdulqhasan@hotmail.com

[email protected]

جنرل پرویز مشرف کو اب بھی ریٹائر لکھتے ہوئے دل ڈرتا ہے مگر کیا کریں اب تو تھانے کے محرر نے بھی انھیں زبان پر پنسل لگا کر اس سے انھیں ریٹائرڈ لکھ دیا ہے، اس طرح سرکاری طور پر اب وہ پولیس کے لیے بھی ریٹائر ہیں، بلکہ ایک ملز م ہیں جن کو گرفتار کر کے پولیس نے ان کے ریمانڈ لیتی پھرتی ہے یا باری تعالیٰ کیا یہ وقت بھی آنا تھا کہ جس نے عدالت عظمیٰ کے ججوں کو اپنے قلم کے ایک اشارے سے ادھر سے ادھر کر دیا۔

آج وہ خود ایک تھانہ محرر کے زیر قلم ہے۔ ہم لکھنے والے زیر قلم کی معنی خوب جانتے سمجھتے ہیں بلکہ اخبارات میں چھپی ہوئی وہ تصویر نہ جانے کب تک ہماری حیران آنکھوں کے سامنے رہے گی جس میں وہ پولیس والوں کی تحویل اور نگرانی میں ہیں۔ انھیں ان کے محلات چک شہزاد سے گرفتار کر کے عدالت میں پیشی کے لیے لے جایا جا رہا ہے۔

مُکے باز کا آج کا چہرہ بے بسی‘ بے چارگی اور ہزاروں آفات کا نمونہ بنا ہوا ہے۔ عبرت کا مرقع بھی ہے اور صاحب اقتدار لوگوں کے لیے ایک نہ بھولنے والا سبق بھی۔ یہی جمعہ کا دن تھا جب عدالت عظمیٰ کا سربراہ جسٹس افتخار چوہدری ان کی خود ساختہ عدالت میں پیش تھا۔ ’’مسٹر جسٹس‘‘ پرویز مشرف اپنے کئی جرنیل ججوں کے ساتھ موجود تھے جو اس تن تنہا جج سے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہے تھے، اس وقت افتخار چوہدری کا تو ڈرائیور بھی کہیں چلا گیا تھا اور جرنیلوں کی اس عدالت میں ایک یکہ و تنہا ملزم پیش تھا۔ صرف اور صرف اللہ تبارک و تعالیٰ کی مدد اس کے ساتھ تھی جو اسے کہہ رہی تھی کہ اپنے جیسے ان بندوں کو انکار کر دو کیونکہ ہر بے بس کے ساتھ خدا اس کا مددگار ہو تا ہے۔

جمعہ کی نماز کا وقت آیا تو جنرل پرویز مشرف ایک جرنیل کو پیچھے چھوڑ کر اسے یہ ہدایت دے گیا کہ یہ … اگر نہ مانے تو پھر میں ابھی آتا ہوں۔ اتنی بڑی گالی کون سنتا ہے لیکن اس گالی کا بدلہ قدرت نے لینا تھا جو آج لیا جا رہا ہے اور زمین کا ایک جعلی فرعون موسیٰ کے حکم سے سانپ بن جانے والے ڈنڈوں سے ڈر رہا ہے۔ وہی جو زبانی کلامی ڈرتا ورتا نہیں تھا۔ مشرف کا وہ محل جو اس نے اس قوم سے لوٹے گئے سرمائے سے تعمیر کیا تھا آج وہ ایک پرانی داستان بنا ہوا ہے جو یوں شروع ہوتی ہے کہ ایک تھا بادشاہ لیکن وہ اتنا غریب ہو گیا کہ اپنے محل کے باہر ایک چارپائی پر پڑا رہتا تھا جو ٹوٹی ہوئی تھی۔

وہ اپنی بیٹیوں کی آمد کا انتظار کرتا رہتا جو ندی پر کپڑے دھونے گئی ہوئی تھیں کہ وہ واپس آئیں تو اسے کچھ کھانے کو دیں۔ کہانی آگے چلتی ہے لیکن پرویز مشرف کی حالت شروع میں ہی بیان ہو جاتی ہے کہ چک شہزاد میں واقع اس محل کی تعمیر کو ناجائز بھی کہا جا رہا ہے اور وہ اب اس سے باہر پولیس کی تحویل میں ہے جیسے اپنے اس محل کے باہر چارپائی پر پڑا ہوا ہے۔

مشرف کا مستقبل کیا ہے کسی کو معلوم نہیں۔ ہمارے پاکستانی بڑے لوگ اپنی غلامانہ ذہنیت کے ساتھ کبھی امریکا سے اور کبھی کسی امریکی پروردہ دوسرے کسی حکمران سے پوچھتے ہیں کہ اس کا کیا کریں تو اس وقت تک صورت حال یہ ہے کہ جواب ملتا ہے جو آپ کا قانون کہتا ہے۔ ہمارا قانون تو آئین کی دفعہ 6 کے تحت اسے گردن زدنی قرار دیتا ہے۔

پوری پاکستانی قوم اسے آئینی مجرم قرار دیتی ہے اور اس میں اگر کوئی فی الحال غیرمرئی رکاوٹ ہے تو وہ فوج ہو سکتی ہے تاہم اس فوج نے ابھی تک برسر عام کوئی ایسی بات کہی نہیں لیکن کچھ باتیں کہی نہیں بھی جاتیں مگر ہوتی ہیں اور متعلقہ کانوں کو سنائی بھی دیتی ہیں۔ فارسی کا ایک شاعر کہتا ہے کہ یہ نہ سمجھو کہ میں بے زبان ہو گیا ہوں‘ اپنے کان میرے ہونٹوں کے قریب لاؤ کہ ایک آواز ہے ’’گوش نزدیک لبم آر کہ آوازے ہست‘‘۔

یہ ایک قدرتی بات ہے کہ فوج جیسے منظم اور افسری ماتحتی والے ادارے میں بعض افراد یہی محسوس کر رہے ہوں کہ ان کا سابق سربراہ بچ جائے لیکن فوجی بھی پاکستانی مٹی سے بنے ہوئے ہیں اور ہم میں سے ہیں، انھیں بھی ہمارا آئین جو ہمارے جتنا ان کا بھی ہے، عزیز رہنا چاہیے۔ یہ بات بالکل غلط ہے جو غالباً جنرل ضیاء الحق نے کہی تھی کہ آئین کیا ہے بس کاغذ کے چند ورق ہی ہیں۔ بڑے ادب سے عرض کیا تھا کہ حضور کاغذ کے چند اوراق کی کچھ اور کتابیں بھی ہیں۔ ذرا زبان قابو میں رکھئے۔ صدر مشرف نے پاکستان کا آئین بلاتکلف توڑا ہے اور وہ اس میں درج سزا کا مستحق ہے۔

یہ عدالتی ریمانڈ اور پیشیاں تو بہت ہی معمولی باتیں ہیں۔ ڈرتے رہئے اس وقت سے جو خدا کسی پر نہ لائے لیکن شاید کسی کو اپنے اعمال کی معافی مل جائے۔ ’’اے میرے خدا تیری ذات پاک ہے بے شک ظالموں میں سے تو میں ہی تھا۔‘‘ لیکن مجھے لگتا ہے ابھی تک جنرل صاحب کو واپس عام زندگی میں لوٹنے میں خاصا وقت لگے گا۔ وردی کی کلف اترے گی اور ٹوپی کی کلغی بھی کچھ مُرجھائے گی پھر پتہ چلے گا کہ اصلی ’’بلڈی سویلین‘‘ کیا ہوتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔