اس ملک کا اﷲ نگہبان…

نجمہ عالم  اتوار 21 اپريل 2013

کراچی کی صورت حال پر سپریم کورٹ، چیف الیکشن کمشنر، نگراں حکومت کے صاحبان اختیار کے علاوہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تمام سربراہان کو بے حد تشویش ہے اور بڑی مستعدی سے سرچ آپریشن ہورہے ہیں۔

تقریباً ہر روز درجنوں دہشت گرد مع اسلحہ گولہ بارود اور اپنے مطلوبہ افراد کی ہٹ لسٹ کے ساتھ پکڑے جارہے ہیں۔ جب سے ہمارے عزت مآب چیف جسٹس صاحب نے کراچی کے حالات کا ازخود نوٹس لیا ہے اس دن سے اگر روز پکڑے جانے والوں کی تعداد کا بغور جائزہ لیا جائے تو ہزاروں نہ سہی سیکڑوں دہشت گرد تو اب تک پکڑے جاچکے ہیں، مگر ہماری ناقص عقل میں نہیں آتا کہ آخر ان کا ہوتا کیا ہے؟ کیونکہ آج تک کسی ملزم یا دہشت گرد جو خود درجنوں قتل اور کئی بم دھماکوں کا خود اعتراف کرچکے ہوتے ہیں، کیفر کردار تک پہنچنے کی نوید قوم نے نہیں سنی۔ درجنوں قتل کرنے والوں کو تو سرعام پھانسی نہیں تو کم ازکم عمر قید تو ضرور ہونی ہی چاہیے، مگر ایسا کچھ ہوتا نظر آرہا ہے نہ سنائی دے رہا ہے۔

دوسری جانب طرفہ تماشا کہ یہ دہشت گرد اور ملزم اس قدر معزز ہوتے ہیں کہ ان کی عزت نفس کو مجروح کرنا گناہ کبیرہ سمجھا جاتا ہے یعنی انھیں چہرے چھپا کر پولیس وین میں بٹھایا جاتا ہے اور چہرے چھپا کے ہی عدالت میں پیش کیا جاتا ہے کہ اگر خدانخواستہ کسی نے ان کے چہرے دیکھ لیے تو کس قدر شرمندگی محسوس کریں گے، معاشرے میں ان کو سبکی کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ معاشرے میں تو وہ بہت معزز و معتبر بن کر رہتے ہیں، ان کے اہل محلہ بھی ان کے کرتوتوں سے واقف نہیں ہوتے۔

اس صورت حال سے عوام میں یہ تاثر عام ہوتا جارہا ہے کہ ’’جانے کن بے چاروں کو پکڑ لاتے ہیں اپنی کارکردگی دکھانے کے لیے پھر ان سے معافی مانگ کر بلکہ کچھ دے دلا کر یا ان کی دو چار دن کی دیہاڑی جس سے وہ اس دوران محروم رہے دے کر چھوڑ دیتے ہیں‘‘۔ اب یہ عوام ہیں، آزاد ملک کے آزاد شہری ان کا حق ہے کہ وہ جس انداز میں سوچیں۔ خیر ہم تو اس قسم کا خام خیال نہیں رکھتے مگر یہ ضرور سوچتے ہیں کہ آخر یہ دہشت گرد ہیں یا مچھر کھٹمل کہ جتنا ان کو مارو اتنے ہی پھر سے موجود ہوتے ہیں؟ جو تعداد اب تک گرفتار ہونے والوں کی بیان کی گئی ہے، اس لحاظ سے تو اب تک کراچی میں امن وامان کی صورت حال یقیناً بہتر ہی نہیں بلکہ بالکل نارمل ہوچکی ہوتی مگر حالات اس کے برعکس ہیں۔

گزشتہ دنوں چیف جسٹس صاحب کی کراچی آمد پر قانون نافذ کرنے والوں نے جو اپنی کارکردگی ان کے سامنے پیش کی تھی چیف جسٹس صاحب نے اس کو محض فراڈ اور ڈرامہ قرار دیا تھا، مطلب یہ کہ جسٹس صاحب ان کی اعلیٰ کارکردگی سے قطعی مطمئن نہ تھے۔ ان کو مزید مہلت دے کر کراچی سے ’’نوگوایریا‘‘ ختم کرنے اور کراچی کا امن وامان بحال کرنے کا حکم فرما گئے تھے۔ سوال اب یہ اٹھتا ہے کہ کوئی ان دہشت گردوں کا خاتمہ کرنا بھی چاہتا ہے یا نہیں بلکہ ان کی پردہ پوشی کی جارہی ہو، انھیں کھلی چھٹی دی گئی ہے کہ بے فکر ہوکر جس کو چاہو قتل کرو، اغوا کرو، بھتہ لو، لوٹ مار کرو ہم تمہاری پشت پر ہیں۔

ایک خاص قسم اور نام کے اسلام کے ٹھیکیدار دہشت گردوں نے تو مخصوص نسبتاً روشن خیال سیاسی جماعتوں کو کھلی دھمکی دی ہوئی ہے، نہ صرف دھمکی بلکہ اس پر عملدرآمد کا آغاز بھی ہوچکا ہے کہ ان سیاسی پارٹیوں کے قومی اور صوبائی اسمبلی کے امیدواروں کو قتل بھی کیا جاچکا ہے اور مزید ابھی زد پر ہیں۔ انتخابات کا ایک ماحول ہوا کرتا تھا، اب انتخابات میں گنتی کے دن رہ گئے مگر شہر بھر بلکہ ملک بھر میں کوئی گہماگہمی یا انتخابی جوش و خروش کہیں بھی نظر نہیں آرہا۔ (اگر کوئی جلسہ یا جلوس اکا دکا ہوئے بھی تو وہ دہشت گردی کا نشانہ بن گئے) تمام دانشور، کالم نگار، تجزیہ کار اس بات پر زور دے رہے ہیں بلکہ قوم سے اپیل کر رہے ہیں اس بار ووٹ کا استعمال اپنا قومی و اخلاقی فریضہ سمجھ کر کریں تاکہ ملک میں جمہوریت کی جڑیں مضبوط ہوں مگر جو صورت حال ہے کیا اس میں ووٹرز گھر سے نکل سکیں گے؟

کیا ان کو تحفظ ملے گا؟ یا یہ سارا کھیل ہی اس لیے کھیلا جارہا ہے کہ اتنا خوف و ہراس پھیلایا جائے کہ جو ووٹر واقعی اس بار اپنا حق رائے دہی ضرور استعمال کرنا چاہ رہا تھا وہ بھی اس خیال کو عملی جامہ نہ پہناسکے۔ وہ سنجیدہ سیاسی پارٹیاں جو حقیقتاً انتخابات میں حصہ اور اس کو کامیاب بنانا چاہتی ہیں وہ بھی کئی بار اس شبہ کا اظہار کرچکی ہیں کہ یہ سب کچھ انتخابات ملتوی کروانے کی سازش تو نہیں ہے تاکہ وہ عناصر جو اس ملک کو جاہلوں، مذہبی انتہا پسندوں، ذہنی و جسمانی معذوروں (پولیو مہم کی مخالفت کرکے) اور تنگ نظروں کا ملک بنانا چاہتے ہیں اور جو پاکستان کی نصف سے زیادہ آبادی (عورتوں کو) قبل از اسلام کے اندھیرے معاشرے میں دھکیلنا چاہتے ہیں وہی خدانخواستہ اس ملک پر چھا جائیں۔ جمہوریت کو تو وہ ویسے بھی کفار کا نظام حکومت قرار دے چکے ہیں۔

دوسری جانب سنجیدہ اور غیر جانبدار باشعور عوام یہ بھی سوچنے میں حق بجانب ہیں کہ مخصوص سیاسی جماعتوں کو دھمکیاں دینے کا مقصد یہ تو نہیں کہ ان عناصر کو انتخابات میں کامیاب کرایا جائے جو ان کے لیے اپنے دل میں نرم گوشہ رکھتے ہوں تاکہ جب وہ اقتدار میں آجائیں تو ان سے اپنی مرضی کے فیصلے کرائے جائیں، خواتین پر تعلیم کے دروازے بند کیے جائیں، ملکی ترقی میں ان کا حصہ، مذہبی رواداری، غیر متعصبانہ انداز فکر کو ملک میں پنپنے نہ دیا جائے اور تمام روشن خیال جماعتوں کو جو غریب اور متوسط طبقے کے افراد کے علاوہ خواتین کو ایوانوں میں بھیجنے کے دعویدار ہیں انھیں انتخابی عمل سے دور رکھا جائے۔ اب آخری سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا سپریم کورٹ، الیکشن کمیشن یا افواج پاکستان اس صورت حال پر انتخابات سے قبل قابو پاسکیں گے یا خوف و دہشت کا ماحول یوں ہی برقرار رہے گا؟ ان سب کو جلدازجلد فعال ہونا پڑے گا ورنہ اب وقت ہی کتنا بچا ہے۔ اﷲ اس ملک کا نگہبان!

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔