سیاسی تناؤ میں کمی قومی ضرورت

ایڈیٹوریل  جمعرات 17 مئ 2018
ملک سیاسی تھیٹر بنا ہوا ہے، جس کے اسٹیج پر سنسنی خیز ڈرامے دیکھے جارہے ہیں۔ 
فوٹو: فائل

ملک سیاسی تھیٹر بنا ہوا ہے، جس کے اسٹیج پر سنسنی خیز ڈرامے دیکھے جارہے ہیں۔ فوٹو: فائل

آئندہ انتخابات کے تناظر میں ملکی سیاست کا منظرنامہ بدستور تناؤ اور الجھاؤ کے بھنور میں پھنسا ہے، سابق وزیراعظم نواز شریف کے بیان سے پیدا ہونے والے ارتعاش میں کمی نہیں آئی۔

ادھر بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ میڈیا میںجاری تجزیوں، سیاسی کشیدگی کے تسلسل اور الیکشن کے باعث سیاسی جوڑ توڑ میں عروج اعصاب شکن ہے، انتخابات جیتنے کی زبردست اہلیت رکھنے کی حامل سیاسی شخصیات اور ڈائنامک رہنما انتخابی موسم کے جبر اور ترغیب کے تحت اڑانیں بھررہے ہیں، جب کہ کرپشن، اختیارات کے ناجائز استعمال، غیر ممالک میں اربوں کے اثاثوں کی چھان بین سے متعلق کئی مقدمات سیاست میں بھونچال کی کیفیت پیدا کرسکتے ہیں، بعض نے پاکستانی سیاست کے موجودہ دورانئے کو ایک طرح کے نشاۃ ثانیہ سے تعبیر کیا ہے۔

مزید برآں سیاسی مبصرین کی توجہ کا مرکز نواز شریف کا انفرادی بیانیہ، ن لیگ کی اجتماعی دانش کے امتحان اور مسلم لیگ ن کے نومنتخب صدر اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی چومکھی کوششوں اور کولیٹرل ڈیمیج کو کم کرنے کے جتن، سبھی سیاسی زلزلے سے قریبی تعلق رکھتے ہیں، کوئی یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتا کہ محاذ آرائی، تزویراتی رازوں کی نقاب کشائی، برہمی، خلش اور پوائنٹ اسکورنگ کا کھیل ملک کو کس سمت لے جائے گا۔

تاہم اس بات پر عوام امید پرستی کا دامن تھامے ہوئے ہیں کہ انتخابات کے شفاف طریقے سے انعقاد کے بعد صورتحال بے یقینی، انتشار، منزل گریز سیاسی چپقلش اور اضطراب سے نکل کر جمہوری اسپرٹ کے لیے سپیس مہیا کرے گی۔

ادھر ن لیگ کے سیاسی مخالفین کو خدشہ ہے کہ نواز شریف کا اپنے ممبئی حملہ اور نان اسٹیٹ ایکٹرز کو کنٹرول کرنے کے بیان پر جمے رہنے سے انتخابات کے قریب آنے تک بہت سارے منظرنامے اور خواہشات کے پل دھڑام سے زمیں بوس ہوسکتے ہیں، مگر سیاسی اور جمہوری عمل میں کسی قسم کا رخنہ پڑنے کا کوئی امکان نہیں، کیونکہ عدالت عظمیٰ اور بالخصوص عسکری قیادت جمہوریت سے اپنی کمٹمنٹ اور قومی امنگوں اور ملکی سالمیت کے لیے ہمہ وقت تیار رہنے کا عزم ظاہر کرچکی ہے۔

تاہم تجزیہ کار یہ بتاتے ہیں کہ ملکی سیاست کسی منزل آشنا جمہوری سفر کے دوران حادثات سے دوچار ہوتی رہی، ادارے مستحکم نہ ہوسکے، جمہوریت اور آمریت کی بلاجواز اور ناخوشگوار کشمکش نے بھی قومی سیاست کی اخلاقی شناخت متاثر کی، سیاست عبادت سے دور ہوکر نفع خوری کے مجرمانہ اور تاجرانہ رجحانات کی اسیر ہوگئی۔ اور اس استدلال کی تصویر بلاشبہ حالات حاضرہ ہیں۔

ملک سیاسی تھیٹر بنا ہوا ہے، جس کے اسٹیج پر سنسنی خیز ڈرامے دیکھے جارہے ہیں، الزامات اور کردار کشی کے کلچر نے رہی سہی کسر بھی پوری کردی ہے۔ اگر باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو ریاستی معاملات شو ڈاؤن کی طرف چل نکلے ہیں، قوم کے سامنے حکمرانی، عسکری قیادت، سیاسی ایشوز پر مکالمہ کا شوروغوغا کسی مدلل بحث سے زیادہ معرکہ آرائی پر جاکر دم لیتا ہے، چنانچہ گزشتہ روز قومی اسمبلی میں نواز شریف کے مذکورہ بیان کے مضمرات اور ردعمل سے پیدا شدہ صورتحال پر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ نواز شریف کو حب الوطنی کے کسی سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں، ان کے انٹرویو میں ایک جملہ غلط رپورٹ ہوا اور ملک کو ناقابل تسخیر بنانے والے پر غداری کا الزام لگایا جارہا ہے۔ فیصلہ عوام الیکشن میں کر دیتے ہیں، اس معاملے پر ماضی میں جانا ہے تو پارلیمنٹ ایک کمیشن بنا دے مجھے کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔

ان خیالات کا اظہار انھوں نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن کی طرف سے نوازشریف کے انٹرویو کے حوالے سے اٹھائے گئے نکات کا جواب دیتے ہوئے کیا۔ نوازشریف کا بیان بھارتی میڈیا نے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا اور یہاں پر اسے سیاسی مقاصد کے لیے پھیلایا جارہا ہے جب کہ نواز شریف اپنے بیان پر نظر ثانی کے لیے تیار نہیں، ان کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی کمیٹی کا اعلامیہ افسوسناک ہے، جسے انھوں نے مسترد کردیا، اسے بھی مخالفین نے بوکھلاہٹ سے تعبیر کیا ہے اور فہمیدہ حلقوں کا صائب مشورہ ہے کہ سیاسی صورتحال کی گیند بہرطور سیاست دانوں کے اپنے کورٹ میں رہنی چاہیے، اور اسے پانی پت کا میدان نہ بنایا جائے، اگر بدقسمتی سے سیاست دانوں اور ریاستی اداروں کے درمیان مفاہمت اور خیر سگالی کا فقدان اور بے اعتمادی کی خلیج مزید گہری ہوگئی، قوم سیاسی تمازت اور اختلافات و الزامات کے میوزیکل چیئر سے سخت تنگ آجائے گی۔ پھر حالات کسی کے بس میں نہیں رہیں گے۔

اپوزیشن بلاشبہ مشتعل اور مضطرب ہے، اس کے پاس اس کا جواب اور جواز بھی ہے، اسی طرح حکومت کی شکایات بھی لائق توجہ ہیں، ریاست کے اندر ریاست جمہوریت کے شایان شان نہیں ہوتی، مگر ملک کو انتہاپسندی اور دہشتگردی کے جن عفریتوں نے گردن سے پکڑا وہ آسمان سے تو نہیں آئے تھے، خلائی مخلوق تو ایک سیاسی استعارہ ہے، مگر حقائق تلخ ہی سہی ہماری اپنی کوتاہیوں اور ناتدبیریوں کا نتیجہ ہیں۔

واضح رہے لاہور ہائی کورٹ نے نواز شریف کا بیان اور قومی سلامتی کمیٹی اجلاس کی پریس ریلیز طلب کی ہے، نواز شریف حقائق اور ملکی سیاست کے پوشیدہ رازوں اور زخموں سے چور سسٹم کو تکلیف دہ قرار دیتے ہیں، قومی سلامتی کمیٹی کا انداز نظر یہ ہے کہ اس بیان سے دشمن ملک کو فائدہ پہنچا، حقیقت یہ بھی ہے کہ سیاسی ٹکراؤ سے پارلیمانی اور جمہوری اساس کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

اس لیے ضرورت افہام وتفہیم اور رواداری کی ہے، احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر سابق وزیراعظم نواز شریف، ڈاکٹر مصدق ملک اور پرویز رشید کے ساتھ کسی موضوع پر طویل صلاح مشورہ کرتے رہے جو وقت کی ضرورت بھی ہے، ن لیگ دو بیانیوں کے درمیان سینڈوچ ہوگئی ہے، نواز شریف اور مقابل قوتوں کو جنگ بندی کی طرف آنا ہوگا، نیا انتخابی معاہدہ عمرانی انتہائی ناگزیر ہے، تصادم کسی کے مفاد میں نہیں، لہجوں کی چنگھاڑ کم ہونی شرط ہے، جمہوریت کو بے وقار نہ ہونے دیا جائے، خطے کی صورتحال کا ادراک ناگزیر ہے۔

دریں اثنا قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے چیئرمین نیب کو بدھ کو طلب کیا، اپوزیشن کے بعض اراکین کا کہنا تھا کہ اس سے اداروں کی تحقیر ہوگی، ادارے کمزور ہوجائیں گے، لیکن معاملہ پر قانونی بنیادوں اور ثبوتوں کے حوالہ سے اگر موقف اپنایا گیا ہے تو اس کے لیے حقیقی پوزیشن واضح ہونی چاہیے۔

ملکی سیاست کولہو کا بیل بننے کے بجائے دیگر امور حیات کو بھی اپنے حصار میں لے، مثلاً قومی سلامتی کے مشیر ناصر خان جنجوعہ نے منگل کو کہا ہے کہ پاکستان افغانستان میں پائیدار امن چاہتا ہے، ہمسایہ ملک الزام تراشی سے گریز کرے، کیونکہ یہ دونوں ملکوں کے مفاد میں نہیں ہے۔ وہ پاکستان، افغانستان اور چین کے درمیان غیر رسمی سفارتکاری کے تحت سہ فریقی اجلاس کی افتتاحی نشست سے خطاب کررہے تھے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان نے صائب بات کی ہے کہ اے این پی روز اول سے جمہوریت کی بالادستی، آئینی و قانونی اور عدم تشدد کی بنیاد پر اپنی جدوجہد پر یقین رکھتی آئی ہے، یہ بات وہ اس تناظر میں کہہ رہے تھے جب کہ فاٹا انضمام کی امید توانا ہو رہی ہے۔

حکومت نے قومی اسمبلی کی مدت مکمل ہونے سے قبل 30 ویں آئینی ترمیم منظور کرانے کا فیصلہ کرلیا ہے جس کے ذریعے فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کیا جائے گا۔ ملکی حالات تقاضا کرتے ہیں کہ سیاسی تناؤ میں کمی لائی جائے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔