ڈاکٹر مہاتیر محمد

مقتدا منصور  جمعرات 17 مئ 2018
muqtidakhan@hotmail.com

[email protected]

ڈاکٹر مہا تیر بن محمد92 برس کی عمر میں گزشتہ جمعرات کو ایک بار پھر ملائیشیا کے وزیراعظم منتخب ہوگئے۔ اس سے قبل وہ 1981سے2003 تک تسلسل کے ساتھ 22 برس تک وزیر اعظم رہنے کے بعد ریٹائرمنٹ کا اعلان کر چکے تھے ۔

انھوں نے 1957سے برسر اقتدار اس بریسان نیسنیال(نیشنل فرنٹ) کو شکست دی ہے، جس کے ٹکٹ پر وہ خود بھی 22 برس تک وزیر اعظم اور اس سے قبل پانچ برس تک نائب وزیر اعظم کے عہدے پر فائز رہے۔ حالیہ انتخابات میں انھوں نے اپنی ہی سابقہ جماعت کے خود اپنے ہاتھوں نامزد کردہ وزیر اعظم کو شکست دے کر ان سے یہ عہدہ چھین لیا ہے ۔

سوال یہ ہے کہ مہا تیر محمد کو ریٹائرمنٹ کے اعلان کے بعد اس پیرانہ سالی (93ویں برس میں داخل ہونے کے باوجود اچھی صحت کے مالک ہیں) میں انھیں دوبارہ ملک کی قیادت سنبھالنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی ؟ ایک اور سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ کیا ان کی شخصیت ، کردار اور ویژن اس قدر بلند ہے کہ 15برس گذرجانے کے باوجود ملائی عوام انھیں اور ان کی خدمات کو فراموش نہیں کرسکیں ؟ اس اظہاریے میں کوشش کریں گے کہ ملائیشیا کی سیاسی تاریخ کا مختصراً جائزہ لیتے ہوئے درج بالادونوں سوالات کا جواب بھی تلاش کریں ۔

ملائیشیا ہم سے 10برس بعد یعنی 31اگست 1957 کو برطانوی استعمار سے آزادی حاصل کرنے میں کامیاب ہوا ۔ ملائیشیا چھوٹی چھوٹی بادشاہتوں یعنی (Princely States) پر مشتمل 13ریاستوں کا وفاق ہے ۔ 1961 میں یہ ملایا سے ملائیشیا بن گیا۔ 1969میں مقامی ملائی اور چینی باشندوں کے درمیان بدترین فسادات ہوئے اور پورا ملک ایک ہفتے تک مکمل مفلوج رہا ۔ ان فسادات کے بعد ریاستی منصوبہ سازوں نے چند دور رس فیصلے کیے، جن کی وجہ سے ملک میں پائیداراور دیرپا امن قائم ہوا ، جو آج تک قائم ہے۔

اول، ہر چینی اور ہندوستانی باشندے کو پابند کیا گیا کہ وہ اپنے کاروبار میں مقامی ملائی شہری کو لازمی پارٹنر بنائے گا، یوں ملائی عوام جو آزادی کے وقت انتہائی غریب اور پسماندہ تھے، معاشی طور پر مستحکم ہونے لگے ۔ دوئم،O لیول تک تعلیم مفت اور لازمی قرار دی گئی ۔ ذہین بچوں کو بیرون ملک تعلیم کے حصول کے لیے وظائف اور آسان اقساط پر قرضے دیے گئے۔ سوئم، کابینہ کے لیے یہ کلیہ طے کردیا گیا کہ اگر کابینہ 10 اراکین پر مشتمل ہو، تو اس میں 6 ملائی، 3چینی اور ایک ہندوستانی شامل ہوگا، اگر تعداد زیادہ ہو تو اسی تناسب کو مد نظر رکھا جائے گا۔ یوں ہر لسانی گروہ کی نمایندگی کا کلیہ طے کردینے سے جھگڑا ختم ہوگیا ۔

ان دنوں ملائیشیا کی معیشت کا انحصار ربڑ، ٹین اور پام آئل کی پیداوار پر تھا۔ دوسرے وزیر اعظم تن رزاق کے دور میں فیصلہ کیا گیا کہ معاشی ترقی کے لیے صرف قدرتی وسائل پر انحصار نہیں کیا جاسکتا ۔اس مقصد کے لیے صنعت کاری ضروری ہے۔ چنانچہ 1970کے عشرے میں جاپان جن صنعتوں کو چھوڑ کر آگے بڑھ رہا تھا، ملائیشیا نے ان صنعتوں کی ٹیکنالوجی لے کر ان کے لیے صنعتی میدان میں قدم رکھا۔ جن میں چھوٹی گاڑیوں کی تیاری، ٹیلی ویژن، ٹرانسسٹر اور دیگر چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں کے ذریعے اپنی معیشت مستحکم کرنے پر توجہ مرکوز کی ۔ یہ وہ زمانہ تھا،جب مہاتیر محمد ، تن رزاق (حال ہی میں فارغ ہونے والے وزیر اعظم نجیب رزاق کے والد) کی کابینہ میں بطور منصوبہ بندی کے وزیر شامل کیے گئے تھے۔

یہ ملائیشیا کی معیشت کے استحکام کے دور کا آغاز تھا ۔ اس دور میں جن ایشیائی ممالک کو معاشی ترقی، سماجی و سیاسی استحکام کے حوالے سے ایشین ٹائیگر کا خطاب دیا گیا تھا، ان میں جنوبی کوریا (جس نے پاکستانی منصوبہ ساز ڈاکٹر محبوب الحق کی خدمات سے استفادہ کیا)، تائیوان اور فلپائن کے ساتھ ملائیشیا کا نام بھی شامل تھا ۔ 1994-96کے دوران بعض عالمی ایکٹروں نے ان ممالک میں معاشی بحران پیدا کرنے کی کوشش کی، لیکن ملائیشیا خود کو اس بحران سے بچانے میں خاصی حد تک کامیاب رہا، جو ڈاکٹرمہاتیر محمدکی سیاسی بصیرت اور حکمت عملیوں کا نتیجہ تھا۔

کہا جاتا ہے، جو درست بھی ہے کہ ملائیشیا میں کنٹرولڈ جمہوریت ہے۔ جس میں 1957سے2018 کے اوائل تک ایک ہی جماعت اقتدار میں رہی  ہے، یعنی یونائیٹڈ ملائی نیشنل آرگنائزیشن(UMNO)۔ مہاتیر محمد 1964 میں UMNO میں شامل ہوئے۔

1970 میں جب تن رزاق نے وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالا تو انھیں بھی کابینہ میں شامل کیا گیا۔ 1976میں جب حسین عون وزیراعظم بنے، تو مہاتیر نائب وزیر اعظم بنادیے گئے۔ 1981میں حسین عون کے مستعفی ہونے پر مہاتیر محمد وزیر اعظم منتخب ہوگئے۔ جو 2003 تک ہر انتخاب میں بھاری اکثریت سے کامیاب ہوکر وزیر اعظم کے عہدے پر برقرار رہے۔ 2003 میں از خود ریٹائرمنٹ لے کر عبداللہ احمد بداوی کو اپنی جگہ وزیر اعظم منتخب کرا دیا، کیونکہ پارٹی پر ان کی گرفت ہنوز مضبوط تھی۔

مگر جلد ہی ان کی کارکردگی سے مایوس ہوکر ان کی جگہ اگلے انتخابات میں تن رزاق کے بڑے بیٹے کو وزیراعظم منتخب کرایا۔ جو2009سے اس سال9 مئی تک وزیر اعظم رہے ۔ مہاتیر محمد کو متذکرہ بالا دونوں وزرائے اعظم سے کرپشن، بدانتظامی اورغیر ذمے دارانہ طرزعمل کی شکایت تھی ۔

جب پارٹی نے ان شکایات پر توجہ نہیں دی تو UMNO سے مستعفی ہوگئے اور ملائیشین یونائیٹڈ انڈیجینس پارٹی کے نام سے ایک نئی جماعت تشکیل دی ۔ ساتھ ہی انھوں نے اپنے سابق نائب وزیر اعظم انور ابراہیم کے ساتھ مل کر Pakatan Harapan  اتحاد قائم کیا ۔ یاد رہے کہ شدید اختلافات کے بعد1998 میں انھوں نے انور ابراہیم کو کابینہ سے برطرف کرکے جنسی بد فعلی کے الزام میں قید کردیا تھا۔

اس نئے اتحادPakatan Harapan نے 9 مئی کو ہونے والے عام انتخابات میں 222کے ایوان زیریں (دیوان رکیات) میں113نشستیں حاصل کیں۔ ایک صوبائی جماعت Sabah Heritage Party جس نے8نشستیں حاصل کی ہیں، وہ اس اتحاد کا حصہ بن گئی ہے، جب کہ 3 آزاد اراکین کے ساتھ مہاتیر محمد کو 124 اراکین کی حمایت حاصل ہوگئی ہے ۔ ان کی سابقہ جماعت  یعنی سابقہ برسراقتدار جماعت کو صرف 79 نشستیں مل سکی ہیں ۔

اب ان سوالات کی جانب آتے ہیں کہ مہاتیر محمد کو پیرانہ سالی میں دوبارہ وزارت عظمیٰ سنبھالنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟ اور کیا عوام انھیں فراموش نہیں کر سکے؟ پہلی بات یہ کہ جب کوئی شخص کسی عمارت کی تعمیر کرتا ہے اور دیکھتا ہے کہ اس میں رہائش پذیر لوگ اسے تباہ کر دینے پر آمادہ ہیں، تو وہ یہی کچھ کرتا ، جو مہاتیر محمد نے کیا۔ قائد اعظم بھی اگر کچھ برس اور زندہ رہتے تو پاکستان کا جو حال ان کے جان نشینوں نے کیا ، اسے دیکھتے ہوئے وہ بھی مہاتیر کی طرح خود فعال ہوجاتے ۔

دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ عوام اپنے محسنوں کو بہت کم ہی فراموش کرتے ہیں ۔ ایک ایسا شخص جس کے دامن پر نہ کرپشن کا کوئی داغ ہو نہ کسی بد انتظامی کا دھبہ۔ جو ایک ایسے رہنما کے طور پر سامنے آیا ہو ، جس نے ان کی زندگیوں میں خوشحالی، سکون اور ترقی دینے کے ساتھ دنیا کی نظروں میں انھیں ایک با وقار قوم کے طور پر متعارف کرایا ہو ، کس طرح فراموش کرسکتے ہیں ۔

ہم مہاتیر محمد کو دوبارہ وزیر اعظم منتخب ہونے پر مبارکباد دینے کے ساتھ ملائی عوام کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے اپنے بہتر مستقبل کی خاطر درست فیصلے کیے ہیں ۔ کاش ہمارے عوام بھی اسی طرح درست فیصلے کرتے ہوئے قابل، ایماندار اور عزم و بصیرت رکھنے والی قیادت سامنے لاسکیں ۔ کاش ہمارے ریاستی ادارے ادارہ جاتی مفادات سے بلند ہوکر وسیع تر قومی مفاد کو اہمیت دینے لگیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔