بلدیہ کے مالی اختیارات کا مسئلہ

ظہیر اختر بیدری  جمعرات 17 مئ 2018
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

[email protected]

جمہوری ملکوں میں صوبائی حکومتوں کا بوجھ کم کرنے کے لیے بلدیاتی نظام رائج کیا گیا ۔ بلدیاتی اداروں کو آزادی کے ساتھ علاقائی مسائل حل کرنے کے لیے انتظامی اور مالی اختیارات دے دیے تاکہ انھیں صوبائی حکومتوں کے تابع نہ رہنا پڑے ۔

بلدیاتی اداروں کے اس کردار سے جہاں علاقائی مسائل آسانی سے حل ہونے لگے وہیں صوبائی حکومتوں پرکام کا بوجھ بھی کم ہوگیا۔ ہماری سیاسی جماعتیں بلدیاتی الیکشن جیت کر اپنا میئر لے آتی ہیں اور میئر کی سربراہی میں ٹاؤن سے لے کر یوسی تک ایک فعال نظام وجود میں آجاتا ہے جو گلی محلے تک عوامی مسائل حل کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔

پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ کسی جمہوری حکومت نے کبھی بلدیاتی الیکشن کروا کر بلدیاتی نظام قائم کرنے کی زحمت نہیں کی۔ اس المیے کو کیا کہیں کہ بلدیاتی ادارے صرف فوجی حکومتوں کے دوران ہی قائم کیے گئے ۔ سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے پہلی بار ناظمین پر مشتمل ایک ایسا جامع بلدیاتی نظام قائم کیا جو علاقائی مسائل بڑی کامیابی سے حل کرتا رہا۔ اسی دور میں میئر کراچی مصطفیٰ کمال نے وہ کارنامے انجام دیے جن کا شہرہ ساری دنیا تک پہنچ گیا اور کراچی کے میئر کی عالمی سطح پر پذیرائی ہوئی۔

پاکستان کی جمہوری تاریخ میں پہلی بار بلدیاتی انتخابات کرائے گئے جس سے یہ امید بندھی کہ شاید اب علاقائی مسائل آسانی سے حل ہوسکیں گے لیکن ہماری صوبائی وڈیرہ شاہی حکومتوں نے بلدیاتی اداروں کو مالی اختیارات سے محروم کرکے عضو معطل بناکر رکھ دیا ہے۔ شہر کراچی چلا رہا ہے کہ سارا شہر کچرے کے ڈھیر میں بدل گیا ہے بلدیہ کے پاس فنڈ نہیں کہ وہ سڑتے ہوئے کچرے کے ڈھیروں کو ہٹا سکے یہی حال ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کا ہے وہاں کے بلدیاتی ادارے بھی فنڈ نہ ہونے کی وجہ سے بے دست و پا ہوکر رہ گئے ہیں۔

بلدیاتی اداروں کو فعال رکھنے کے لیے بھاری فنڈ مختص کیے جاتے ہیں صوبائی حکومتوں کی نظر میں یہ بھاری فنڈ کھٹکتے رہتے ہیں۔ صوبائی حکومتیں اس بھاری فنڈ پر قابض ہونا چاہتی تھیں سو انھوں نے ساری جمہوری اخلاقیات اور ذمے داریوں کو روند کر بلدیاتی اداروں کے بھاری فنڈز پر قبضہ کرلیا ۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ بلدیاتی ادارے ٹھپ ہوکر رہ گئے ہیں سخت گرمی میں پانی کے قحط کی وجہ سارے شہر میں کربلا کی سی صورتحال ہے، لوگ سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں دھرنے دے رہے ہیں لیکن صوبائی حکومت کے کان پر جوں نہیں رینگ رہی ہے۔ ہماری کارکردگی کا عالم یہ ہے کہ شہر کا کچرا اٹھانے کا ٹھیکہ ایک چینی کمپنی کو دیا گیا تھا جو ہماری کوتاہیوں سے ٹھپ ہوکر رہ گیا ہے۔

صوبائی حکومتوں کے اکابرین کو یہ شکایت ہے کہ بلدیاتی عہدیدار فنڈز کا درست استعمال نہیں کرتے، ہوسکتا ہے یہ الزام درست ہو لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ بلدیاتی اداروں کے مالیاتی اختیارات ہی چھین لیے جائیں ، ویسے تو سارے ملک ہی میں کرپشن کلچر عام ہے اور اعلیٰ ترین سطح پر ہونے والی کرپشن کی داستانیں عام ہیں ملک کا بچہ بچہ دیکھ اور سن رہا ہے کہ اعلیٰ عدالتوں میں اربوں کی کرپشن کے کئی کیس زیر سماعت ہیں۔

اعلیٰ ترین سطح پر کرپشن کا حال یہ ہو تو بلدیاتی اداروں پر کرپشن کا الزام مضحکہ خیز لگتا ہے۔ بلدیاتی اداروں کے فنڈز روکنے کے کس قدر المناک واقعات ہو رہے ہیں غالباً ہماری صوبائی حکومت کو پیش ان المناک حالات کے تذکرے سے قبل ایک سوال۔ کیا صوبائی حکومت پر کرپشن کے الزامات نہیں ہیں؟

بلدیاتی فنڈز روکنے کی وجہ سے بلدیہ کے ملازمین کی تنخواہیں وقت پر نہیں مل رہی ہیں۔ اس حوالے سے ایک سنگین المیہ یہ ہے کہ بلدیہ کے ریٹائرڈ ملازمین جن میں ٹاؤن کی سطح کے ریٹائرڈ ملازمین بھی شامل ہیں دو دو تین تین سال سے اپنی پنشن اور واجبات کے لیے در در کی خاک چھان رہے ہیں کوئی پرسان حال نہیں۔ ایک ملازم اپنی عمر کا نصف سے زیادہ حصہ سرکاری ملازمت میں گزار کر بوڑھا ہو جاتا ہے۔

ملازمت سے ریٹائر ہونے کے بعد اس کی نگاہ پنشن اور واجبات پر لگی رہتی ہے کیونکہ ریٹائرمنٹ کے بعد اس کا کوئی ذریعہ آمدنی نہیں رہتا جس کا نتیجہ فاقہ کشی کی صورت میں اس کے سامنے کھڑا رہتا ہے۔ 40-30 سال سرکاری ملازمت میں گزارنے کے بعد وہ اس قابل نہیں رہتا کہ کوئی اور کام کرسکے۔

دیگر اداروں میں یہ اہتمام کیا جاتا ہے کہ ملازم کے ریٹائر ہونے سے پہلے ہی اس کی پنشن اور واجبات کی پوری کاغذی تیاری کردی جاتی ہے اور ریٹائر ہوتے ہی اس کی پنشن جاری ہوجاتی ہے اور واجبات ادا کردیے جاتے ہیں، لیکن بلدیہ کی ڈی ایم سیز کا عالم یہ ہے کہ تین تین چار چار سال گزر جاتے ہیں نہ پنشن ملتی ہے نہ واجبات ۔اس مالیاتی ظلم کے نتیجے میں ریٹائرڈ ملازمین فاقہ کشی کا شکار ہوکر رہ جاتے ہیں بعض ریٹائرڈ ملازمین تو پنشن اور واجبات کی حسرت دل میں لیے اس دنیا سے رخصت ہوگئے ہیں اور بعض فالج کا شکار ہوکر پتھر بن گئے ہیں۔

ڈی ایم سی کے حکام کہتے ہیں ہمارے پاس فنڈز ہی نہیں ہم کیا کرسکتے ہیں۔ فنڈز صوبائی حکومت مہیا کرتی ہے۔ کیا صوبائی حکومت خاص طور پر وزیر اعلیٰ ان تلخ حقائق سے واقف ہیں جس کا سامنا بلدیہ کے ریٹائرڈ ملازمین خاص طور پر ڈی ایم سیز کے ملازمین کو کرنا پڑ رہا ہے۔ شہر میں ہر جگہ کچرے کے ڈھیر لگ گئے ہیں تعفن کی وجہ سے ادھر سے گزرنا مشکل ہے بارشوں کی آمد آمد ہے سارے شہر کے نالے کچرے اور مٹی سے اٹے پڑے ہیں بارشوں کا پانی ان منہ تک بھرے ہوئے نالوں سے بہہ کر گھروں میں داخل ہوگا تو صورتحال کیا ہوگی؟

صوبائی حکومت کی طرف سے کہا جا رہا ہے کہ بلدیہ فنڈز کا غلط استعمال کر رہی ہے یعنی کرپشن اور خورد برد کا ارتکاب کر رہی ہے اول تو حقیقت یہ ہے کہ ملک کے ہر سرکاری ادارے میں کرپشن کی بھر مار ہے اگر کراچی کی بلدیہ میں بھی بدعنوانیاں ہو رہی ہیں تو ان کی تحقیقات کرکے ذمے داروں کو قرار واقعی سزا دی جائے لیکن بلدیہ کے فنڈز روک کر شہر کو جس طرح کچرے اور گندگی کے ڈھیر میں بدل دیا گیا ہے اور ریٹائرڈ ملازمین اپنی پنشن اور واجبات سے محروم ہوکر جس کسمپرسی کے عالم میں زندگی گزار رہے ہیں۔

یہ صورتحال اس قدر المناک ہے کہ صوبائی حکومت کے لییشرم کا مقام ہے۔ ہمارے محترم چیف جسٹس صاحب مظلوموں کی داد رسی کر رہے ہیں بلدیہ کے مالی اختیارات چھین لینے سے سارا شہر اور اس شہر کے دو کروڑ سے زیادہ عوام سخت مشکلات کا شکار ہیں۔ کیا چیف جسٹس صاحب کو اس سنگین مسئلے کا ازخود نوٹس لینا چاہیے؟



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔