تحمل سے کام لینا ہوگا

مزمل سہروردی  جمعرات 17 مئ 2018
msuherwardy@gmail.com

[email protected]

نواز شریف ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت اسٹیبلشمنٹ کو اپنا مخالف فریق ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مجھے نہیں علم اس حکمت عملی کے اہداف کیا ہیں۔ لیکن نواز شریف یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ سیاسی طور پر ان کے مخالف ہے۔ اسی لیے انتخابات میں ان کا براہ راست مقابلہ کسی سیاسی جماعت سے نہیں ہے بلکہ اسٹیبلشمنٹ  سے ہے۔ ان کے مد مقابل سیاسی جماعتیں اور سیاسی قیادت دراصل اسٹیبلشمنٹ کے نمایندے ہیں اور ان کے پیچھے اصل طاقت وہی ہے۔

پہلے انھوں نے یہی بات استعاروں میں کرنے کی کوشش کی اور خلائی مخلوق اور دیگر اصطلاحیں استعمال کیں۔ لیکن اب وہ براہ راست اسٹیبلشمنٹ کا نام بھی لے رہے ہیں اور اسے اپنا سیاسی حریف ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔اس ضمن میں ایک عموی رائے یہی ہے کہ یہ خطرناک کھیل ہے جو ملک کے مفاد میں نہیں۔ جمہوریت کے لیے خطرناک ہے۔ لیکن نواز شریف کسی کی نہیں سن رہے۔ وہ اپنی پالیسی پر ثابت قدم ہیں اور اس سے ایک انچ بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہیں۔

اس سارے منظر نامے میں ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ نواز شریف کی جماعت اس وقت پاکستان میں بر سر اقتدار ہے۔ وہ  نا اہل سہی لیکن  بر سر اقتدار جماعت کے سربراہ ہیں۔ ان کی حکومت ہے۔ اگر اسی ساری صورتحال کو سادہ الفاظ میں بیان کیا جائے تو حکومت ہی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ہو گئی ہے اور اسے  اپنے خلاف حریف سمجھ رہی ہے۔ ایسے کیسے چل سکتا ہے۔

کسی مہذب ملک میں ایسا کیسے ممکن ہے کہ آپ اپنے ہی قومی سلامتی کے ادارے کو دیوار سے لگانے کی حکمت عملی بنا لیں۔کیا اس سے پاکستان کے دشمنوں کو فائدہ نہیں ہو گا۔حساس اداروں کو متنازعہ بنانے سے پاکستان مضبوط نہیں ہو سکتا بلکہ کمزور ہو گا۔

ملک میں انتخابات کا بگل بج چکا ہے۔ سیاسی جماعتوں نے ٹکٹوں کی منڈی لگا دی ہے۔ جلسوں جلوس اور ریلیوں کا بازار گرم ہے۔ ایک ایک دن میں کئی کئی جلسے جلوس ہو رہے ہیں۔ حکومت کے چند دن باقی رہ گئے ہیں۔ لیکن پھر بھی افواہوں کا بازار گرم ہے۔ سول ملٹری تعلقات میں تناؤ کی وجہ سے سیکڑوں پیغام موصول ہوئے جن میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ حکومت ختم ہو رہی ہے۔

شاہد خاقان عباسی نے استعفیٰ کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ایسی پیشن گوئیاں کی جا رہی ہیں کہ دیکھیں صدر مملکت پہلے ہی ملک سے باہر چلے گئے ہیں۔ سنجرانی قائم مقام صدر بن گئے ہیں۔ چیف جسٹس بھی ملک سے باہر چلے گئے ہیں۔ ایک آئینی بحران دستک دے رہا ہے۔ لوگ مفروضے بیان کر رہے ہیں کہ اگر وزیر اعظم مدت سے چند دن قبل استعفیٰ دے دیں تو کیا ہو گا۔ اسمبلیاں مدت سے چند دن پہلے تحلیل ہو جائیں تو کیا ہو گا۔ نظام کے لپیٹنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔

نواز شریف نے قومی سلامتی کمیٹی کا اعلامیہ مسترد کر دیا ہے۔ آج کل وہ بہت سوال پوچھ رہے ہیں لیکن کیا کوئی ان سے سوال پوچھ سکتا ہے کہ قومی سلامتی کمیٹی کا اعلامیہ تو متفقہ تھا۔ ان کے نامزد وزیر اعظم اور دیگر وزراء نے اس پر دستخط کیے ہیں۔ اجلاس میں کسی کو بھی اختلاف کی جرات نہیں ہوئی۔

نواز شریف خود ہی اپنی حکومت کا منظور کردہ اعلامیہ مسترد کر رہے ہیں، وہ اپنی ہی حکومت کو مسترد کر رہے ہیں۔ یہ کیا ہے۔ کیا یہ مذاق نہیں ہے۔ کیا یہ کوئی اصولی سیاست ہے۔ لیکن پاکستان میں تو اصول کی نہیں داؤ کی سیاست ہے۔ نواز شریف حکومت کی مراعات بھی نہیں چھوڑنا چاہتے اور نظام سے بغاوت بھی کرنا چاہتے ہیں۔

ایک سوچ یہ بھی ہے کہ نواز شریف اور ان کے حواریوں نے پہلے عدلیہ کے خلاف محاذ کھولا تھا۔ جیسے اب اسٹیبلشمنٹ کو للکارا جا رہا ہے، ویسے ہی پہلے عدلیہ کو للکارا جا رہا تھا۔ لیکن عدلیہ نے توہین عدالت کے قانون کا موثر استعمال کر کے اپنی عزت بچا لی ہے۔ بلکہ نواز شریف کی ساری ٹیم عدلیہ کے خلاف محاذ آرائی میں بولڈ ہو گئی ہے۔

دانیال، طلال، احسن اقبال، مریم اورنگزیب سب ہی توہین عدالت میں پھنس گئے ہیں۔ اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ نواز شریف کیمپ کو یہ سمجھ آگئی ہے کہ وہ عدلیہ کے خلاف محاذ آرائی کو مزید نہیں چلا سکتے۔ اس طرح تو سب کو توہین عدالت میں سزا ہو جائے گی۔ اس لیے عدلیہ کے خلاف محاذ آرائی کو ختم کر دیا گیا ہے۔

اس کے بعد اب اسٹیبلشمنٹ کے خلاف محاذ کھول دیا گیا ہے۔ شائد نواز شریف کیمپ کی یہ سوچ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے پاس نہ تو جواب دینے کا آپشن ہے نہ ہی توہین عدالت کا قانون ہے۔ اسٹیبلشمنٹ  بس اقتدار پر قبضہ کر سکتی ہے۔

نواز شریف کیمپ کی رائے ہے کہ اس وقت موجودہ جمہوری نظام کو چلانا فوج کی مجبوری ہے۔ اس لیے اسے چینلج کیا جا سکتا ہے۔ نیب کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ نیب کے خلاف بھی محاذ کھولا گیا ہے لیکن نیب نے بھی بھرپور انداز میں کام بھی کیا ہے اور دفاع بھی کیا ہے۔ نواز شریف نے نیب کو بھی سیاسی بنانے کی بہت کوشش کی ہے لیکن کوئی خاطرخواہ کامیابی نہیں ہوئی ہے۔

کیا نواز شریف پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ بظاہر ایسا ممکن نظر نہیں آتا۔ لوگ فوج سے محبت کرتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ عوام فوج کے اقتدار پر قبضہ کرنے کے حق میں نہیں ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ عوام ایک مضبوط اور طاقتور فوج کے خواہاں ہیں۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ شاید جمہوریت کے بغیر تو پاکستان قائم رہ سکتا ہے لیکن کمزور فوج کے ساتھ پاکستان قائم نہیں رہ سکتا۔

اس وقت  اسٹیبلشمنٹ کا کردار مکمل طور پر غیر سیاسی ہے۔ شاید نواز شریف کو ایک غیر سیاسی  اسٹیبلشمنٹ قبول نہیں ہے اور وہ زبردستی اسے  سیاست میں گھسیٹنا چاہ رہے ہیں۔ ایسا نواز شریف پہلی دفعہ نہیں کر رہے ہیں 1999میں بھی انھوں نے پرویز مشرف کو اقتدار میں دھکا دے دیا تھا۔ اس سے قبل 1993میں بھی وہ اپنی صدر اسحاق خان سے لڑائی اس نہج پر لے آئے تھے کہ ملک مفلوج ہو گیا تھا اور مجبوراً اس وقت کے آرمی چیف کو مداخلت کرنا پڑی تھی لیکن تب بھی فوج نے نظام کو قائم رکھا تھا اور آج بھی نظام کو قائم رکھنا چاہتی ہے۔

نواز شریف بار بار قومی کمیشن بنانے کی بات کر رہے ہیں۔ سوال یہ بھی ہے کہ اس قسم کے کمیشن کے خدو خال کیا ہوںگے۔ کیا یہ صرف اسٹیبلشمنٹ کے  کردار کو دیکھے گا۔ یا سیاستدانوں نے جو غیر قانونی اور غیر آئینی حرکتیں کی ہیں، یہ کمیشن اس کو بھی دیکھے گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک مشکل وقت ہے۔اسٹیبلشمنٹ کو در گزر سے کام لینا ہو گا۔ چند دن خاموشی سے  گزارنے ہوںگے۔

ایک دفعہ نواز شریف کی حکومت ختم ہو گئی تو یہ ساری موجیں بھی ختم ہو جائیں گی۔ پنجاب ہاؤس ختم ہو جائے گا۔ پروٹوکول ختم ہو جائے گا۔ پھر آٹے دال کا بھاؤ پتہ چل جائے گا۔ اسٹیبلشمنٹ کو ردعمل نہیں دینا، مشکل وقت ہے لیکن حکمت سے گزارنا ہے۔ اسی میں ملک کی بہتری ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔