پانی کے بدلتے ہوئے درجہ حرارت سے تیرنے والا روبوٹ

ویب ڈیسک  جمعرات 17 مئ 2018
موٹر، بیٹری اور الیکٹرانک کے بغیر تیرنے والے روبوٹ کی فرضی تصویر۔ فوٹو: تیان چین اور اسامہ بلال

موٹر، بیٹری اور الیکٹرانک کے بغیر تیرنے والے روبوٹ کی فرضی تصویر۔ فوٹو: تیان چین اور اسامہ بلال

کیلیفورنیا: کیلیفورنیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اور زیورخ کے سائنسی ادارے ای ٹی ایچ کے انجینئروں نے دنیا کا پہلا ایسا روبوٹ بنایا ہے جس میں کوئی موٹرنہیں، بیٹری بھی نہیں اور وہ صرف درجہ حرارت میں تبدیلی سے اپنی صورت تبدیل کرتے ہوئے آگے بڑھتا ہے۔

تیرنے والا یہ روبوٹ اسامہ بلال اور تیان چین نے بنایا ہے جو اپنی شکل بدل کر پانی میں تیرتا رہتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ روبوٹ درجہ حرارت میں تبدیلی سے خود کو بدلتا ہے اور آگے بڑھتا ہے۔ روبوٹ ایک نئی ٹیکنالوجی کے تحت تیار کیا گیا ہے جو حرارت یا روشنی کو استعمال کرتے ہوئے اپنا کام انجام دیتے ہیں۔ ان میں روشنی سے آگے بڑھنے والے روبوٹ کیڑے، گرمی میں کھلنے اور پھیلنے والے اوریگامی آلات اور شکل بدلنے والے اسمارٹ مٹیریلز شامل ہیں۔

یہ نئی تخلیق حرارت سے حساس پولیمر سے بنائی گئی ہے۔ عام حالت میں یہ مڑا ہوتا ہے اور گرمی پاتے ہی سیدھا ہوجاتا ہے۔ اس صلاحیت پر روبوٹ پر باریک چپو لگائے جو کم یا زیادہ ہوتی ہوئی حرارت پر آگے پیچھے ہوتے ہیں اور اس طرح روبوٹ پانی میں تیرنے لگتا ہے۔

پولیمر کی مختلف موٹائی کی وجہ سے اس کے حصے اپنے اپنے لحاظ سے متحرک ہوتے ہیں جبکہ روبوٹ کےلیے موٹر اور بیٹری کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ روبوٹ کے تخلیق کار اسامہ بلال نے بتایا، ’سادہ حرکات پر مشتمل روبوٹ کو اس طرح بنایا گیا ہے کہ یہ بہت پیچیدہ کام بھی کرسکتا ہے۔‘

فی الحال اس روبوٹ کے استعمال محدود ہیں اور یہ ایک مرتبہ ہی آگے بڑھتا ہے جس کےبعد ہاتھ سے دوبارہ اسے پہلی حالت میں لانا پڑتا ہے۔ اگلے مرحلے پر اسے خودکار انداز میں آگے بڑھنے کے قابل بنایا جائے گا جس کےلیے دیگر مٹیریلز پر بھی کام کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ روبوٹ پر کام کرنے والے مرکزی ماہر ڈاکٹر اسامہ بلال کا آبائی تعلق مصر سے ہے اور اسمارٹ مٹیریلز ان کی تحقیق کا میدان ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔