ذخیرہ اندوزوں کو جیل بھیجا جائے، تاجروں کا مطالبہ

اسٹاف رپورٹر  جمعرات 17 مئ 2018
مارکیٹوں میں شکایتی مراکز بھی قائم کیے جائیں،شکایت کا بروقت ازالہ کیاجائے۔ فوٹو: اے ایف پی/فائل

مارکیٹوں میں شکایتی مراکز بھی قائم کیے جائیں،شکایت کا بروقت ازالہ کیاجائے۔ فوٹو: اے ایف پی/فائل

 کراچی: ایوان صنعت و تجارت نے رمضان المبارک کی آمد پر اشیائے خورونوش اور اشیائے صرف کی قیمتوں میں نمایاں اضافے پرتشویش کا اظہار کرتے ہوئے سندھ حکومت اور بلدیہ عظمیٰ کراچی پر زور دیا ہے کہ وہ ایسے منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائیں جو شہریوں کو لوٹنے کے ذمے دار ہیں اور ایسا ماحول قائم کر رہے ہیں جس میں سحر وافطار میں استعمال ہونے والی زیادہ تر اشیا کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے انھیں عوام بالخصوص غریب طبقے کی دسترس سے باہرکیا جارہا ہے۔

ایوان صنعت و تجارت کے صدر مفسر عطا ملک نے کہاکہ قیمتوں پر قابو پانے کا مؤثر نظام نہ ہونے کی وجہ سے کئی گھریلو اشیا جن میں پھل ، سبزیاں و دیگر اشیاء شامل ہیں ان کی قیمتوں میں بلاخوف اضافہ کردیاگیا ہے جس سے غریب طبقہ بری طرح متاثر ہورہا ہے، شہریوں کی کثیر تعداد نے شکایت کی ہے ضلعی سطح پر انتظامیہ اشیا کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے جب کہ منافع خوروں اورذخیرواندوزوں کو روکنے میں مکمل طور پر ناکام ہوگئی ہے۔

عالمی سطح پر ماہ رمضان کا استقبال کرتے ہوئے کئی اشیاکی قیمتوں میں کمی کردی جاتی ہیں، خصوصی ڈسکاؤنٹس دیے جاتے ہیں لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں لالچی منافع خور اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ کردیا کرتے ہیں ، ذخیرہ اندوز بھی موقع کا فائدہ اْٹھاتے ہوئے مصنوعی قلت پیدا کرتے ہیں۔

مفسر عطا ملک نے کہا کہ کے ایم سی کی جانب سے مستقل بنیادوں پر پرائس لسٹ جاری تو کردی جاتی ہے لیکن دکاندار اس لسٹ پر عمل نہیں کرتے اور بلاخوف و خطر زائد قیمتوں پر اشیا کو فروخت کرتے ہیں۔

صدر مفسر عطا ملک نے تجویز دی کہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے متعلقہ مارکیٹوںکی ایسوسی ایشنز کے ساتھ مل کر ایماندار افسروں پر مشتمل خصوصی کمیٹیاں بنائی جائیں اور انھیں مارکیٹوں میں تعینات کیا جائے،شکایتی مراکز بھی قائم کیے جائیں،قیمتوں کو موثر طریقے سے مانیٹر کیاجاسکے اور کسی بھی شکایت کی صورت میں فوری اقدامات کرتے ہوئے منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف بروقت کارروائی کی جاسکے،بھاری جرمانے عائد کر کے انھیں جیل بھیجا جائے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔