افغانستان میں فورسز اور طالبان کے درمیان شدید لڑائی، 21 پولیس اہلکار جاں بحق

خبر ایجنسی  جمعرات 17 مئ 2018
مواصلاتی نظام میں خراب ،ہلاکتوں کے اعداد و شمار نہ مل سکے،ہرات میں بھی 4سیکیورٹی اہلکارجاں بحق،درجنوںدہشت گردہلاک۔ فوٹو : فائل

مواصلاتی نظام میں خراب ،ہلاکتوں کے اعداد و شمار نہ مل سکے،ہرات میں بھی 4سیکیورٹی اہلکارجاں بحق،درجنوںدہشت گردہلاک۔ فوٹو : فائل

کابل / ہرات: افغان صوبے غزنی میں سیکیورٹی فورسز اورطالبان کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے جس میں 21پولیس اہلکار جاں بحق ہو گئے ہیں جب کہ پولیس ہیڈ کوارٹرز نذر آتش کر دیا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق افغانستان کے جنوب مشرقی صوبے غزنی میں سیکیورٹی فورسز اور طالبان کے مابین شدید جھڑپیں جاری ہیں۔ صوبائی کونسل کے ایک رکن ناصر احمد فقیری نے کہا ہے کہ کم از کم 5اضلاع میں لڑائی اس وقت بھی جاری ہے، جس میں 21پولیس اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔

ناصر احمد فقیری کے مطابق یہ چھڑپیں بدھ کی درمیانی شب شروع ہوئیں جو اب تک جاری ہیں۔ ضلع جغتو میں جنگجوں نے پولیس ہیڈ کواٹرز کو بھی نذر آتش کر دیا ہے جب کہ دوسری طرف افغان صوبے فراہ میں طالبان حملے کے بعد امریکی اور افغانستان کی سیکیورٹی فورسز نے عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر شدید بمباری کی، فائرنگ سے شہری بھی متاثر ہوئے،این ڈی ایس بلڈنگ ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو گئی، مواصلاتی نظام میں خرابی کے سبب ہلاکتوں کے اعداد و شمار موصول نہیں ہوسکے تاہم4 سیکیورٹی اہلکاروں اور متعدد جنگجوؤں کی ہلاکت ہوئی۔

افغان صوبے فراہ کے دارالحکومت میں طالبان کی جانب سے حملے کے بعد امریکی اور افغانستان کی سیکیورٹی فورسز نے عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر شدید بمباری کی، جس سے شہری بھی متاثر ہوئے۔

افغان صوبے قندھار اور ہرات کی اسپیشل فورسز نے بھی اس لڑائی میں حصہ لیا جسکے حوالے سے مقامی افراد کا کہنا تھا کہ یہ لڑائی رات گئے شروع ہوئی اور کافی دیر تک جاری رہی۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔