بجلی کا طویل بریک ڈاؤن

ایڈیٹوریل  جمعـء 18 مئ 2018
سیاسی و عوامی حلقوں میں بجا طور پر طویل بریک ڈاؤن اور مسلسل لوڈشیڈنگ پر حیرت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ فوٹو: فائل

سیاسی و عوامی حلقوں میں بجا طور پر طویل بریک ڈاؤن اور مسلسل لوڈشیڈنگ پر حیرت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ فوٹو: فائل

نیشنل پاور کنٹرول سینٹر کے ترسیلی نظام میں فنی خرابی کے باعث راولپنڈی، اسلام آباد اور لاہور سمیت پنجاب اور خیبر پختونخوا کے بیشترعلاقوں میں بدھ کو کئی گھنٹوں تک بجلی کی فراہمی بند رہی، جس سے نظام زندگی نہ صرف مفلوج ہوکر رہ گیا بلکہ اتنا سنگین اور بدترین پاور بریک ڈاؤن ناقابل فہم سمجھا جا رہا ہے۔

کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاور بریک ڈاؤن سے سندھ، بلوچستان اور بعض ملحقہ علاقے بھی متاثر رہے، تاہم کراچی کے پوش اور ڈیفالٹر علاقوں میں بدستور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ جاری ہے جب کہ سپریم کورٹ کی سرزنش کا بھی کے الیکٹرک پر کوئی اثر نہیں ہوا۔

ادھر سیاسی و عوامی حلقوں میں بجا طور پر طویل بریک ڈاؤن اور مسلسل لوڈشیڈنگ پر حیرت کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ ایک طرف تو ملک کو تاریکیوں سے نجات دلانے کے بلند بانگ حکومتی دعوے ہیں کہ بجلی کی ملک گیر لوڈشیڈنگ ختم ہوگئی ہے جب کہ دوسری جانب اتنی بدترین لوڈشیڈنگ ہورہی ہے کہ الامان والحفیظ۔

اخباری اطلاع کے مطابق بدھ کی صبح کو ہونے والے بریک ڈاؤن سے اسلام آباد، راولپنڈی اور لاہورکے علاوہ چکوال، تلہ گنگ، ملتان، وہاڑی، چشتیاں، مظفر گڑھ، کوٹ ادو، رحیم یار خان، ساہیوال، ہارون آباد، بھکی، قصور، پاکپتن، شیخوپورہ، چیچہ وطنی، ننکانہ، فیصل آباد، جھنگ، سرگودھا اور خیبرپختونخوا کے اکثر شہر بھی متاثر رہے، جہاں معمولات زندگی درہم برہم ہوکر رہ گئے، کمرشل سرگرمیاں بند ہوگئیں، اسپتالوں میں آپریشن ملتوی کردیے گئے۔

گھروں، تعلیمی اداروں، مساجد اور اسپتالوں میں پانی کی شدید قلت پیدا ہوگئی، متبادل نظام بھی جواب دے گئے جب کہ متعدد علاقوں میں موبائل ٹاورز کی بیٹریاں جواب دینے سے موبائل سگنلز بھی غائب ہوگئے اور انٹرنیٹ سروس بھی معطل ہوگئی، نیو اسلام آباد ایئرپورٹ بھی اندھیرے میں ڈوب گیا اور متعدد پروازوں کا شیڈول متاثر ہوا، جب کہ متبادل نظام نہ ہونے سے مسافر پریشانی کا شکار رہے۔

بلاشبہ اس بریک ڈاؤن سے پاور سسٹم کو ایڈہاک ازم پر چلانے کی کاریگری سامنے آئی ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ کوئی ایسا ٹیکنیکل ’’ٹروبل شوٹر‘‘ میکنزم موجود نہیں جو پورے سسٹم کو ناگہانی ٹرپنگ اور سسٹم کے فیلیئر کو روکتا، جب کہ نیشنل گرڈ پر پڑنے والے تباہ کن بوجھ کا سدباب کرنے کی کوئی موثر تدبیر کی جاتی۔

اگر اس دلیل کو تسلیم بھی کیا جائے کہ سسٹم اپ گریڈیشن ہوئی ہے اور پاور سیکٹر میں اصلاحات کا سلسلہ حالیہ دنوں میں مکمل ہوا ہے تو میڈیا یہ راز کیوں کھولتا ہے کہ پاو سیکٹر میں انتظامی اور مانیٹرنگ سمیت تکنیکی اہلیت اور فعالیت کے معاملات انتہائی سنگین اور میرٹ پر پورے نہیں اترتے، جب کہ بجلی کا نظام تاحال ناقابل بیان پیچیدگیوں کا شکار ہے، بریک ڈاؤن کی حقیقت تحقیق طلب ہے اور بجلی کی جنریشن، ڈسٹری بیوشن، مجموعی توانائی بحران، یا لوڈشیڈنگ سمیت پاور سیکٹر میں سب ٹھیک نہیں ہے۔

میڈیا کے مطابق پنجاب کی صنعتوں کو 10گھنٹے لوڈشیڈنگ کا اعلامیہ بھی جاری کردیا گیا جس پر بدھ سے عملدرآمد ہوا ہے۔ ترجمان پاور ڈویژن کے مطابق گزشتہ روز گدو مظفرگڑھ ٹرانسمشن لائن ٹرپ کرگئی جس سے فریکوئنسی میں اتار چڑھاؤ کی وجہ سے تربیلا، منگلا اور غازی بروتھا کی سپلائی لائنز بھی ٹرپ کرگئیں، جس کے نتیجے میں پنجاب اور خیرپختونخوا کو بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی تاہم سندھ اور بلوچستان کو ٹرانسمیشن نظام میں لگائے گئے پروٹیکشن سسٹم نے بجلی کے بریک ڈاؤن سے بچا لیا۔

ترجمان نے بتایا بریک ڈاؤن کی وجوہات کے تعین کے لیے ایڈیشنل سیکریٹری پاور ڈویژن وسیم مختار کی سربراہی میں 4 رکنی انکوائری ٹیم بنا دی گئی ہے جو اپنی تحقیقات مکمل کرنے کے بعد رپورٹ وفاقی وزیر اویس لغاری کو دے گی۔

بہرحال اس بات کا جائزہ لینا بھی ناگزیر ہے کہ کیا واقعی پاور سیکٹر میں نان ٹیکنیکل بیوروکریٹس عہدوں پر فائز ہوگئے جس سے توانائی بحران ختم ہونے کے بجائے مزید شدت اختیار کرگیا، ترسیلی سسٹم اپ گریڈ نہ ہونے کے باعث ایک ماہ میں بجلی کے دو ملک گیر بریک ڈاؤن ہوگئے، بتایا جاتا ہے کہ توانائی ڈویژن کے دو نان ٹیکنیکل جوائنٹ سیکریٹری پاور سیکٹر کو ’’کنٹرول‘‘ کر رہے ہیں۔

حکومت کی طرف سے بجلی کے شعبے میں اختیار کی گئی کام چلاؤ پالیسی کی وجہ سے ابھی تک ملک میں بجلی کے بحران پر قابو پانا تو دور کی بات ہے ٹرانسمیشن سسٹم بھی اپ گریڈ نہیں کیا جاسکا، جب کہ نان ٹیکنیکل افراد کی اہم عہدوں پر تعیناتیوں سے ان محکموں میں خدمات انجام دینے والے انجینئرز مایوسی کا شکار ہیں، جس کی بڑی وجہ سربراہان کا پاور سیکٹر کے تکنیکی معاملات کو نہ سمجھنا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ پاورسیکٹر کے انتظامی ڈھانچہ کی تیزی سے تباہی کی طرف بڑھنے پر عوامی تشویش میں بھی اضافہ ہوگیا ہے، جس کا سدباب لازمی ہے۔ حکومت بجلی کی فراہمی کے لیے متعدد منصوبوں پر کام کررہی ہے مگر پھر بھی عوام پاور سیکٹر میں بجلی کی پیداوار اور تقسیم کے نظام کو شفاف اور فالٹ فری دیکھنے کے منتظر ہیں، حکومت کے رخصت ہونے کے دن قریب آگئے ہیں، الیکشن مہم میں جہاں سیاسی جماعتیں اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹرز کے پاس جائیں گی وہاں موجودہ حکومت کے پاس لوڈشیڈنگ کے خاتمہ کا کریڈٹ لینا جوئے شیر لانے سے کم نہ ہوگا۔

سنا ہے قائمہ کمیٹی برائے توانائی نے صورتحال کا نوٹس لے لیا ہے، اب وہ ارباب اختیار کو ٹھوس سفارشات بھی ارسال کرے تاکہ بجلی کا موثر ملک گیر نظام ٹھوس بنیادوں پر قائم ہوسکے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔