دہشتگردوں کے خلاف آپریشن میں پاک فوج کے کرنل کی شہادت

ایڈیٹوریل  جمعـء 18 مئ 2018
آپریشن ردالفساد کے تحت سیکیورٹی فورسز ملک بھر میں دہشت گردوں کے خلاف پوری جانفشانی اور عزم سے کارروائیاں کر رہی ہیں۔ فوٹو:فائل

آپریشن ردالفساد کے تحت سیکیورٹی فورسز ملک بھر میں دہشت گردوں کے خلاف پوری جانفشانی اور عزم سے کارروائیاں کر رہی ہیں۔ فوٹو:فائل

آپریشن رد الفساد کے تحت بلوچستان میں دہشتگردوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز کے آپریشن میں دو خودکش بمباروں سمیت تین دہشتگرد مارے گئے، آپریشن میں لشکر جھنگوی بلوچستان کا سربراہ سلمان بادینی مارا گیا۔ فائرنگ کے تبادلے میں ملٹری انٹیلی جنس کے کرنل سہیل عابد شہید جب کہ چار جوان شدید زخمی ہوئے جن میں سے دو کی حالت نازک ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاع پر بلوچستان کے علاقے کلی الماس میں آپریشن کیا‘اس آپریشن میں مارا گیا دہشت گرد سلمان بادینی پولیس اہلکاروں اور کوئٹہ کی ہزارہ کمیونٹی  کے سو سے زائد افراد کے قتل میں بھی ملوث تھا۔

آپریشن ردالفساد کے تحت سیکیورٹی فورسز ملک بھر میں دہشت گردوں کے خلاف پوری جانفشانی اور عزم سے کارروائیاں کر رہی ہیں‘ ان کارروائیوں کے دوران متعدد دہشت گرد مارے گئے ہیں ، کئی گرفتار ہوئے اور ان سے بڑی تعداد میں اسلحہ بھی برآمد ہوا۔ موجودہ آپریشن میں ایک پاک فوج ایک بہادر اور جری کرنل کی شہادت اور چار سیکیورٹی جوانوں کا زخمی ہونا، اس بات کا ثبوت ہے کہ پاک فوج کے جوان قوم کی بقا اور سلامتی کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کررہے ہیں۔

بلوچستان میں اس سے پیشتر دہشت گردوں کی متعدد مقامات پر اور ہزارہ کمیونٹی کے خلاف کارروائیاں اس امر پر دلالت کرتی ہیں کہ اس علاقے میں دہشت گردوں کا تاحال ایک مضبوط نیٹ ورک موجود ہے جس کا خاتمہ آسان نہیں۔ آخر کیا وجہ ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی بھرپور کارروائیوں کے باوجود دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ نہیں ہو رہا‘ جس کی ایک وجہ سرحد پار سے دہشت گردوں کو ملنے والی امداد اور اندرون ملک سہولت کاروں کا تعاون بھی بتایا جاتا ہے۔

ملک بھر بالخصوص بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں میں یہ ثبوت مل چکے ہیں کہ دہشت گردوں کے سرحد پار مکمل رابطے ہیں،جس پر پاکستان متعدد بار احتجاج بھی کر چکا ہے مگر ابھی تک اس کے مثبت نتائج سامنے نہیں آئے۔

سرحد پار سے دہشت گردوں کی آمدورفت روکنے کے لیے سیکیورٹی فورسز پاک افغان بارڈر پر خاردار تار نصب کرنے کے علاوہ بارڈر سیکیورٹی مینجمنٹ کو بہتر بنانے پر توجہ دے رہی ہیں‘ سرحد پار سے آنے والے افراد کی سخت چیکنگ کی جا رہی ہے۔

ان اقدامات کے باعث دہشت گردی کے واقعات میں بھی کمی آئی ہے مگر جب تک دہشت گردوں کی باقیات اور ان کے سہولت کار موجود ہیں‘ امن و امان کے حوالے سے چیلنجز اور خطرات کا سامنا رہے گا۔

ناگزیر ہے کہ دہشت گردوں کی بیرون ملک سے امداد اور داخلی سطح پر سہولت کاری کے تمام ذرایع کے خاتمے کے لیے انٹیلی جنس کے نظام کو مزید مضبوط اور جدید آلات سے مزین کیا جائے۔ گراس روٹ لیول پر عوام کی شرکت سے گلی محلوں میں چھپے ہوئے بے چہرہ اور بے شناخت دہشت گردوں کی گرفتاری اور ان کے نیٹ ورک کے خاتمے میں آسانی پیدا ہو جائے گی۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔