سچا ہونا کافی نہیں ہوتا

جاوید چوہدری  جمعـء 18 مئ 2018
www.facebook.com/javed.chaudhry

www.facebook.com/javed.chaudhry

میاں نواز شریف وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اپنی سیاست اور اپنی زندگی دونوں کے لیے خطرناک ہوتے جا رہے ہیں‘ کیوں؟ ہم جواب کی طرف آنے سے پہلے ذرا سا پس منظر میں جھانکیں گے۔

یہ ملک ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے بنا تھا‘ یہ حقیقت ہے لیکن اس حقیقت کے پیچھے بے شمار حقیقتیں چھپی ہیں مثلاً یہ ملک ایک طاقتور فوج کے لیے بھی بناتھا‘ کیوں؟ دو وجوہات ہیں‘ پاکستان دو عالمی طاقتوں روس اور چین اور دنیا کی تیسری ابھرتی ہوئی عالمی طاقت بھارت کی سرحد پر واقع ہے‘ پاکستان کی مضبوط فوج تینوں طاقتوں کی عالمی خواہشات کے راستے میں رکاوٹ ہے‘ آپ فرض کر لیجیے پاک فوج مضبوط نہ ہوتی تو کیا ہوتا؟

سوویت یونین 1960ء تک بحیرہ عرب‘ خلیج فارس اور خلیج عمان تک پہنچ گیا ہوتا اور امریکا1980ء کی دہائی کی افغان جنگ بھی نہ جیت سکتا اور یہ افغانستان میں دہشتگردی کے خلاف جنگ بھی نہ لڑ سکتا‘ امریکا پاک فوج کی وجہ سے بھارت کو بیسیوں مرتبہ میز پرلے کر آیا اور یہ جنرل یحییٰ خان تھے جنہوں نے امریکا اور چین کے مذاکرات شروع کرائے چنانچہ امریکا اور یورپ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کی نوعیت کبھی بھی معاشی نہیں رہی‘ ہمارے تعلقات ہمیشہ دفاعی رہے۔

امریکا ہمیشہ پاکستان کے ساتھ دفاعی تعلقات استوار کرتا ہے اور یہ ہمیشہ دفاعی تعلقات ہی توڑتا ہے‘ امریکا پر جب بھی پاکستانی لیڈر یا فوج دونوں میں سے کسی ایک کے انتخاب کا وقت آتا ہے یہ ہمیشہ لیڈر فوراً قربان کر دیتا ہے‘ آپ ایوب خان سے لے کر بینظیر بھٹو تک تمام لیڈروں کے بارے میں امریکا کا رویہ دیکھ لیجیے‘ ایوب خان امریکا کی آنکھوں کا تارا تھے لیکن جب انھیں 1968ء میں ضرورت پڑی تو امریکا فوج کے ساتھ کھڑا ہو گیا۔

یحییٰ خان صدر بنے تو امریکی سفیر بنجمن ہلبرن نے سب سے پہلے مبارکباد پیش کی‘ یحییٰ خان نے امریکا اور چین کو ایک میز پر بٹھایا لیکن 1971ء کی جنگ کے بعد جب یحییٰ خان اور فوج میں سے ایک کے انتخاب کا وقت آیا تو امریکا فوج کے ساتھ کھڑا ہو گیا‘ یحییٰ خان قربان ہو گئے‘ ذوالفقار علی بھٹو اور جنرل ضیاء الحق کے وقت بھی امریکا نے فوج کا ساتھ دیا‘ امریکا نے 1988ء میں اپنے ہیرو جنرل ضیاء الحق کے ساتھ اپنا سفیر آرنلڈلیوس رافیل بھی قربان کر دیا۔

نواز شریف اور بل کلنٹن دوست تھے لیکن جب جنرل مشرف اور نواز شریف میں انتخاب کا وقت آیا تو امریکا فوج کے ساتھ کھڑا ہو گیا‘ جنرل مشرف نو سال امریکا کی آنکھوں کا تارا رہے لیکن جب فوج نے یہ بوجھ اتارنے کا فیصلہ کیا تو امریکا نے جنرل مشرف کے حق میں کلمہ خیر تک کہنے سے انکار کر دیا‘ جنرل مشرف آج بھی دبئی میں رہتے ہیں‘ امریکا نہیں‘ محترمہ بینظیر بھٹو کو امریکا پاکستان لے کر آیا تھا لیکن جب وہ شہید ہوئیں تو امریکی وزارت خارجہ نے محترمہ کے لابسٹ مارک سیگل کی ای میلز تک کی تصدیق سے انکار کر دیا اور آج پاک فوج اور امریکا کے تعلقات انتہائی خراب ہیں لیکن یقین کیجیے جب میاں نواز شریف کھل کر میدان میں اتریں گے تو امریکا ان کا ساتھ نہیں دے گا‘ یہ نواز شریف کے بیانات کو تاش کا پتہ بنا کر پاک فوج کے ساتھ اپنے تعلقات ٹھیک کر لے گا‘ یہ نواز شریف کو دھوکا دے دے گا۔

ہم اب ایک اور حقیقت کی طرف آتے ہیں‘ پاک فوج ملک کی بقا کے لیے ضروری ہے‘ میں دل سے سمجھتا ہوں یہ ملک فوج کے بغیر بچ نہیں سکتا اور یہ جمہوریت کے بغیر چل نہیں سکتا‘ ہم نے جس دن فوج کمزور کر دی‘ یہ ملک اس دن پانچ حصوں میں تقسیم ہو جائے گا۔

عوام یہ حقیقت جانتے ہیں چنانچہ یہ فوج پر کمپرومائز نہیں کرتے‘ آپ خواہ ذوالفقار علی بھٹو جیسے کرشماتی سیاستدان ہی کیوں نہ ہوں اور آپ خواہ الطاف حسین جیسے مضبوط لیڈر ہی کیوں نہ ہوں آپ فوج کو گالی دے کر پاکستان میں سیاست نہیں کر سکتے‘ آپ کے اپنے لوگ آپ کا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں‘ یہ آپ کو بھائی سے صاحب اور قائد ملت سے قائد قلت بنا دیتے ہیں چنانچہ ہمیں ماننا ہو گا‘ عوام لاکھ اختلافات کے باوجود فوج سے محبت کرتے ہیںاور ملک میں جب بھی سیاستدانوں اور فوج کے درمیان ریفرنڈم ہوگا لوگوں کا ووٹ فوج کے ساتھ ہو گا۔

یہ نواز شریف کے ساتھ کھڑے نہیں ہوںگے اور تیسری حقیقت پنجاب کا کردار ہے‘ ہم پنجابیوں میں کھڑے ہونے کے جینز ہی نہیں ہیں‘ راجہ پورس اور رنجیت سنگھ کے علاوہ آج تک پنجاب کا کوئی لیڈر کسی سے نہیں لڑا‘ راجہ پورس خطے کی دس ہزار سال کی تاریخ کا واحد بادشاہ تھا جس نے کسی حملہ آور کا راستہ روکا ورنہ سینٹرل ایشیا سے جو بھی آیا ہم نے دریائے سندھ پر اس کے گلے میں ہار ڈالے اور اسے پانی پت چھوڑ کر آئے‘ وہ جیت گیا تو ہم اس کی جیت میں شامل ہو گئے اور اگر وہ ہار گیا تو ہم نے شکست زدہ فوج کو لوٹ لیا‘ یہ ہماری تاریخ ہے۔

تاریخ کا پہیہ صرف ایک بار بدلہ تھا‘ انگریز پانی پت سے لاہور آئے تھے‘ ہم نے اس بار انھیں راوی کے کنارے سے لیا تھا اور کابل چھوڑ کر آئے تھے‘ انگریز اس کے بعد 1947ء تک افغانوں کے ساتھ لڑتا رہا‘ ہم پنجابی طاقتوروں کے ساتھ لڑتے نہیں ہیں‘ ہم سچوں کے ساتھ کھڑے بھی نہیں ہوتے‘ یہ ہمارا کریکٹر‘ یہ ہماری تاریخ ہے جب کہ ہمارے مقابلے میں سندھ نے آج تک بھٹو کو مرنے نہیں دیا۔

بلوچ تین نسلوں سے اپنے سرداروں کے ساتھ کھڑے ہیں اور مولانا فضل الرحمن کے پی کے میں دوسری نسل اور اسفند یار ولی تیسری نسل سے لیڈر ہیں‘ ان تینوں صوبوں نے انتہائی ناقص کارکردگی اور غلط سیاسی اتحادوں کے باوجود اپنے لیڈروں کو تنہا نہیں چھوڑا جب کہ پنجاب نے ستر برسوں میں ستر لیڈربدلے‘ ہم چڑھتے سورج کی پرستش کرنے والے لوگ ہیں‘ آپ کو یقین نہ آئے تو آپ پاکستان تحریک انصاف کی نئی سیاسی فہرست دیکھ لیجیے‘ آپ کو اس میں بلوچستان‘ سندھ اور پختونخوا کے لوگ کم اور پنجاب کے زیادہ دکھائی دیں گے۔

آج اگر عدالت میاں نواز شریف کے حق میں فیصلہ دیدے یا نواز شریف کی اسٹیبلشمنٹ سے صلح ہو جائے تو آپ دیکھ لیجیے گا کل عمران خان بنی گالہ میں اکیلے بیٹھے ہوں گے چنانچہ میاں نواز شریف اگر یہ جنگ پنجاب کی بنیاد پر لڑنا چاہتے ہیں تو پھر یہ میدان سجنے سے پہلے یہ جنگ ہار جائیں گے کیونکہ اس جنگ میں شاید محمود خان اچکزئی اور حاصل بزنجو ان کا ساتھ دے دیں لیکن پنجاب ان کے ساتھ کھڑا نہیں ہوگا‘ یہ لوگ دل نواز شریف کو دے کر تلواریں نئے آنے والوں کے حوالے کر دیں گے‘ ہم پنجابی فطرتاً کوفی ہیں۔

میاں نواز شریف نے بدقسمتی سے یہ تمام حقیقتیں جانے اور تاریخ کا ادراک کیے بغیر یہ جنگ چھیڑ دی اور یہ دن بدن پھنستے چلے جا رہے ہیں‘ میاں نواز شریف کی اس جنگ میں ان کا سگا بھائی اور بھائی کا خاندان بھی ان کے ساتھ نہیں ہے‘ ان کے دل اور تلواریں دونوں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ہیں‘ یہ سمجھتے ہیں ہمیں صلح کر لینی چاہیے لیکن میاں نواز شریف ضد پر اڑ گئے ہیں‘ میاں صاحب یہ حقیقت ماننے کے لیے بھی تیار نہیں ہیں مشاہد حسین سید تابوت کا آخری کیل ہیں‘ یہ کیل انھیں بچانے نہیں دفن کرنے آیا ہے اور میاں صاحب یہ ماننے کے لیے بھی تیار نہیں ہیں امریکا اور بھارت مستقبل میں ان کے بیانات کو تاش کے پتوں کی طرح استعمال کریں گے۔

یہ ان کی مدد سے اپنے اپنے الو سیدھے کریں گے اور آخر میں انھیں تنہا چھوڑ دیں گے‘ کاش میاں نواز شریف سرل المیڈا کی اسٹوری کے بعد کے واقعات دیکھ لیں‘ یہ دیکھ لیں ان کے سگے بھائی میاں شہباز شریف اور ان کی اپنی حکومت ان کے ساتھ کھڑی نہیں ہوئی۔

شہباز شریف نے کہہ دیا تھا ’’میاں نواز شریف کے الفاظ پارٹی پالیسی کی نمایندگی نہیں کرتے‘‘ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کے اجلاس میں نواز شریف کے موقف کو گمراہ کن اور غلط قرار دے دیا تھا‘ یہ جب نواز شریف سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس کے لیے وزیراعظم سیکریٹریٹ آئے اور انھوں نے اپنے وزراء کو بتایا’’مریم بی بی کہتی ہیں‘ ہم اپنا ردعمل بونیر کے جلسے میں دیں گے‘‘تو وزراء نے وزیراعظم کو پریس کانفرنس منسوخ کرنے کا مشورہ دیا۔

وزیراعظم پریس کانفرنس منسوخ کرنے کی ہمت نہ کر سکے تو پھر دو وفاقی وزراء نے وزیراعظم کی پریس کانفرنس ’’آن ائیر‘‘ نہیں ہونے دی۔ یہ وزراء وزیراعظم کو سمجھاتے رہے میاں نواز شریف نے سرل المیڈا کو انٹرویو دے کر غلطی کی اور آپ نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کے اعلامئے کے بعد نواز شریف کا ساتھ دے کر حماقت کر رہے ہیں اور یہ حماقت پورے سسٹم اور پوری جماعت کو لے کر بیٹھ جائے گی۔

کاش میاں صاحب یہ دیکھ کر ہی سنبھل جاتے‘ کاش یہ اشارے کو کافی سمجھ لیتے لیکن میاں نواز شریف بدقسمتی سے الطاف حسین کے راستے پر چل نکلے ہیں‘ الطاف حسین بیان دیا کرتے تھے اور پارٹی اس بیان میں سے ’’سیاق و سباق‘‘ نکالتی رہ جاتی تھی یہاں تک کہ ایک دن الطاف حسین نے پاکستان کے خلاف نعرہ لگا دیا اور ان کی اپنی پارٹی نے انھیں الطاف بھائی سے الطاف صاحب بنا دیا‘یہ اپنوں کے لیے بھی اجنبی ہو گئے۔

مجھے خطرہ ہے میاں نواز شریف نہ رکے تو یہ بھی الطاف حسین کی طرح قائد محترم سے قائد فراموش ہو جائیں گے‘ طارق فضل چوہدری جیسا وفادار اور مخلص ساتھی بھی اپنے مچلکے واپس لینے پر مجبور ہو جائے گا‘ میاں نواز شریف کے پاس اب بھی وقت ہے یہ مزید سیاسی غلطیاں نہ کریں ورنہ یہ سیاست کے ساتھ ساتھ اپنا سب کچھ کھو دیں گے‘ کیوں؟

کیونکہ سیاست ایک ایسا کھیل ہے جس میں صرف سچا ہونا کافی نہیں ہوتا‘ سمجھ دار بھی ہونا چاہیے اور سمجھ داروہ ہوتا ہے جو اشاروں کو کافی سمجھے‘ جو مچھلی کی طرح واپسی سے پہلے پتھر نہ چاٹے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔