کرناٹک کے انتخابات کا نتیجہ بہت واضح اور بلند آہنگ ہے

کلدیپ نئیر  جمعـء 18 مئ 2018

تکنیکی طور پر کانگریس کو کچھ کامیابی ملی ہے۔ مگر  ریاستی کرناٹک کے عوام نے ریاستی قانون ساز اسمبلی کے لیے کانگریس کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ اس کے باوجود کانگریس نے ریاستی اسمبلی کی 222  نشستوں میں سے 78 نشستیں جیت لی ہیں۔

پارٹی کی ہائی کمان نے حفظ ماتقدم کے طور پر جنتا دل (سیکولر) کی حمایت حاصل کرنے کا اعلان کر دیا ہے جس نے صرف 38 نشستیں جیتی ہیں اور یوں کانگریس نے اپنی شکست کو متوازن کرنے کی اپنی سی کوشش کی ہے اور  بی جے پی کے لیے تھوڑی مشکل پیدا کرنے کی چال چلی ہے جو 104 نشستیں جیت کر صوبے میں سب سے بڑی پارٹی کے طور پر ابھری ہے لیکن اس کے باوجود وہ تنہا حکومت نہیں بنا سکے گی بلکہ اسے سابق وزیراعظم دیو گوڈا کے ساتھ سودا بازی کرنا پڑے گی جس کو غیر متوقع طور پر اہمیت حاصل ہوگئی ہے۔ تاہم بی جے پی کی کامیابی کو یکسر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔

جس کا تمام تر کریڈٹ وزیراعظم نریندر مودی اور پارٹی کے صدر امیت شاہ کو جاتا ہے جنہوں نے دو متحارب گروپوں کو اکٹھا کرنے میں کامیابی حاصل کی جن میں سے ایک کی قیادت بی ایس بیدی اورپا اور دوسرے کی قیادت بی سری رامو کرتے ہیں۔ آر ایس ایس اپنے طور پر مطمئن ہے کہ اس کے منتخب کردہ امیدوار کامیاب رہے ہیں۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ بی جے پی کو شمالی ہند میں بھی قدم جمانے کا موقع ملا ہے اور جنوب میں اس کو ویسے ہی اثر رسوخ نمایاں ہے۔ چنانچہ اس کامیابی کا اثر آندھرا کے انتخابات پر بھی پڑے گا۔

خاص طور پر جب وزیراعلیٰ این چندرا بابونائیڈو نے فیصلہ کیا وہ بی جے پی کی مدد لیں گے کیونکہ مرکزی حکومت نے اس ریاست کو خصوصی درجہ دینے سے انکار کر دیا تھا۔ جہاں تک کیرالہ کا تعلق ہے تو وہ روایتی طور پر کمیونسٹوں کا گڑھ ہے جب کہ تامل ناڈو ابھی تک دو ڈرواڈین پارٹیوں ڈی ایم کے اور اے آئی اے ڈی ایم اے کے، کے زیر اثر ہے۔ لہٰذا ان دو ریاستوں میں اپنی جگہ پیدا کرنا بی جے پی کے لیے مشکل ہے۔

لیکن اس کے باوجود پارٹی نے ابتدائی تیاریاں شروع کر دی ہیں جس کے لیے پارٹی کے ذہن میں مستقبل کے انتخابات کا خیال ہے۔ جہاں تک تلنگانہ کے وزیراعلیٰ کے چندرا شیکھر راؤ کا تعلق ہے، ان کی بی جے پی کے ساتھ گاڑھی چھنتی ہے لیکن جہاں تک مجموعی صورت حال کا تعلق ہے، سیکولر جماعتوں کے لیے ابھی تک فضا سازگار نہیں۔ اس کا احساس سب سے زیادہ کانگریس کو ہوا۔ جس کی وجہ سے پارٹی کی ہائی کمان نے اپنے دو سینئر رہنماؤں غلام نبی آزاد اور اشوک چلہوٹ کے پاس بن گلورو بھجوا دیا تاکہ ایچ ڈی کمار سوامی کے لیے حکومت سازی کی خاطر مدد دے سکیں۔ اس عمل میں کانگریس بی جے پی کو اقتدار سے الگ کرنے کے قابل ہوگئی۔

اس حوالے سے صرف ایک رکاوٹ در پیش آئی جب سبکدوش ہونے والے وزیراعلیٰ سدرہ مایا کو اعتماد میں لے کر کمارا سوامی کو قیادت کی پیش کش کی حالانکہ یہ بات گوا، منی پور اور میگھالیا میں پارٹی کی پالیسی کے بالکل برعکس تھی۔ جہاں پر بی جے پی نے بڑی سرعت سے حکومتیں قائم کرلیں جس کے لیے ان کی منصوبہ بندی کی پھرتی قابل دید تھی۔ یہ غالباً ایسی چیز تھی جس کا بی جے پی نے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا۔ اس موقع پر گیند ریاستی حکومت کے کورٹ میں تھی۔ اس کا انحصار اس بات پر تھا کہ وہ حتمی طور پر کیا فیصلہ کرتی ہے۔ روایت کے مطابق گورنر سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی پارٹی کو حکومت سازی کی دعوت دیتا ہے۔

بعدازاں اس کی اکثریت کی پارلیمنٹ کے ایوان میں تصدیق ہوتی ہے لیکن حال ہی میں جو تجربات کیے گئے وہ خوش کن نہیں تھے۔ گوا اور منی پور میں کانگریس سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی اکیلی پارٹی تھی لیکن اس کے باوجود گورنر نے کانگریس کو حکومت سازی کی دعوت نہیں دی۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ جے ڈی (ایس) اور کانگریس کی مخلوط حکومت کو واضح اکثریت حاصل ہے لیکن یہ صرف قبل انتخابات کا بندوبست ہے۔

جس کے لیے سرکاری طور پر کوئی اجازت حاصل نہیں ہے۔ معمول کے مطابق ووٹنگ سے پہلے جو دھڑے بندیاں کی جاتی ہیں اس پر ریاست کے گورنر محفوظ طور پر اعتماد کرتے ہیں جو بعدازاں ایک مستحکم حکومت کے قیام میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ جیسے کہ اب جے ڈی (ایس) اور کانگریس کے اتحاد میں نظر آرہا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ اتحاد بی جے پی کو اقتدار میں آنے سے روکنے کے لیے قائم کیا گیا ہے لیکن اصل حساب کتاب انتخابات میں جیتنے والے اراکین آئین ساز اسمبلی کی اصل تعداد پر منحصر ہوگا۔

سپریم کورٹ کے جج ایس آر بومائی کے فیصلے میں واضح طور پر لکھا ہے کہ پارٹیوں کے اراکین کی تعداد کا فیصلہ ایوان پارلیمنٹ میں ہوگا نہ کہ راج بھون میں ہو گا۔ موجودہ حالات میں مثالی طریقہ یہی ہوسکتا ہے کہ اسمبلی کا اجلاس جس قدر جلد ممکن ہو بلا لیا جائے۔ اس مقصد کے لیے ایک پروٹرم اسپیکر تعینات کیا جا سکتا ہے جوکہ تمام منتخب اراکین کی حلف برداری کی تقریب منعقد کرے۔

اس موقع پر جس کو اراکین کا اعتماد حاصل ہوا اس کو وزیراعلیٰ کا منصب سونپ دیا جائے۔ اس کی حکومت کے پہلے 4 برس کا جائزہ لیا جائے۔ اگر وہ دو انتخابی حلقوں میں سے ایک میں بھاری اکثریت حاصل کر لے تو  اس کی جیت کو عوام میں اس کی مقبولیت کی دلیل سمجھا جائے۔ کرناٹک کے لوگوں نے اس سے پہلے کبھی برسراقتدار پارٹی کو دو بار حکومت کرنے کا موقع نہیں دیا۔ البتہ کانگریس اور سدرہ مایا نے گزشتہ تین عشروں میں مسلسل حکومت کی ہے حالانکہ کرناٹک کے عوام حکومت سے اترنے والی پارٹی کو دوبارہ اقتدار کا موقع نہیں دیتے۔ نتیجتاً کانگریس ایک اور ریاست میں بالادستی حاصل کر سکتی ہے۔

یہ اتفاق ہے کہ راہول گاندھی کے پارٹی صدر بننے کے بعد سے پارٹی شکستوں کا شکار ہونا شروع ہو گئی ہے۔ کانگریس کے پاس اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں کہ وہ پارٹی کی سربراہی کسی نئے چہرے کے حوالے کر دے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ راہول کی جگہ کون آئے گا۔ یہ ایک سوالیہ نشان ہے۔ بہتر تو یہ ہو کہ گر سونیا گاندھی خود ہی اس منصب پر دوبارہ قبضہ کر لیں۔ اب اس بات کی زیادہ اہمیت نہیں رہی کہ سونیا اطالوی نژاد ہے جو کہ اس کی راہ میں بڑی رکاوٹ تھی۔ دوسرا راستہ پریانکا واڈرا کو آگے لانے کا ہو سکتا ہے اگر اسی خاندان کو سرفہرست رکھنا ہے۔

اگرچہ کانگریس پارٹی میں بہت سے قابل اور مقبول عام دیگر لیڈر بھی موجود ہیں۔ مگر پارٹی نہرو گاندھی خاندان کو ہی سرفہرست رکھنا چاہتی ہے۔ تو یہ ان کی مجبوری ہے۔ اس حوالے سے المیہ یہ ہے کہ بھارت کے عام لوگ نہرو، گاندھی خاندان سے آگے بڑھ چکے ہیں تاہم ان کی سوچ ابھی تک پرانے اصولوں پر بدستور قائم ہے۔ کرناٹک  کے انتخاب کے نتائج سے بھارت کی سیاست کے مستقبل کا انداز ہ لگایا جا سکتا ہے۔ اگرچہ وزیراعظم مودی ملک کے سب سے مقبول سیاستدان کے طور پر ابھرے ہیں لیکن 2019ء کے انتخابات کے بارے میں مودی یا بی جے پی کے حوالے کوئی حتمی پیش گوئی نہیں کی جاسکتی۔

(ترجمہ: مظہر منہاس)



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔