14 مئی فلسطین کی نئی تاریخ

انیس باقر  جمعـء 18 مئ 2018
anisbaqar@hotmail.com

[email protected]

دن تو آتے جاتے رہتے ہیں مگر بعض دن ٹھہر جاتے ہیں اور یہی نہیں اپنے سینے میں درد اور افسردگی بھر لیتے ہیں اور بعض دن شادمانی بھرکے گزر جاتے ہیں۔ شادمانی تو یقینا ایک کیف و مستی لے کے گزرتی ہے مگر تاسف ایک گھاؤ لگا کے گزرتا ہے یہی جو 14 مئی گزرا، وہ فلسطینی بچوں اور نوجوانوں کی 250 لاشیں لے کے گزرا۔ اب اس پر جو بھی واویلا ہو سب کا سب لاحاصل۔

یہ ایک نفسیاتی اور مذہبی مسئلہ ہے 2 نسلیں تو گزر گئیں یا کہو کہ ایک نسل تو تقریباً پوری طرح خاک میں مل گئی، دوسری نسل آخرت کے سفر میں ہے۔ تنگ دستی پتھروں اور گولیوں سے چھلنی بدن زمین دوز ہوتے گھر دیکھتے گزر گئے۔

یاسر عرفات جیسے بہادر اور زیرک لیڈر کے بعد یہ قوم تقسیم ہوگئی اور امریکا نے صلح صفائی اور باہمی احترام کی بنیاد پر ناتن یاہو جو اسرائیل کے وزیر اعظم ہیں ان سے محمود عباس فلسطین کے وزیر اعظم سے دوستی کرائی اور چند قدم آگے بڑھے، مگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے محمود عباس اور اسرائیلی وزیر اعظم میں رابطے بحال کروا کے اعتماد کی نئی لہر پیدا کی۔ یہ سفر ابھی زیادہ طویل نہ تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک نئی اختلاف کی تیلی جلائی اس کی رو سے امریکی سفارت خانے کو مذہبی شہر بیت المقدس منتقل کرنے کی ٹھان لی۔ بیت المقدس اصل میں سہ فریقی مقدس مقام ہے۔

اول تو حضرت عیسیٰ کی پیدائش کا مرکز، یہودیوں کا مرکزی مقام اور مسلمانوں کا قبلہ اول ہے مگر 1948ء میں برطانیہ کو جنگ عظیم دوم کے خاتمے کے بعد سیاسی طور پر اپنے حمایتیوں سے مشورہ کرکے بہت دور کی سوجھی۔ اس نے جرمنی کے زخم خوردہ یہودیوں کے لیے ایک ریاست کے قیام کا سوچا۔

جگہ کے اعتبار سے اس نے ایسی سرزمین کو چنا جہاں کئی مذاہب کا مرکز تھا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ علاقہ مستقل تصادم کا مرکز بنا رہا۔ جب کہ چاہیے تو یہ تھا کہ وہ سہ فریقی کانفرنس بلاتا جس میں مسلم، عیسائی اور یہودی رہنماؤں کو بلاکر ایک مرکز پر جمع کرکے قرارداد پاس کراتے اور دستخط لیتے کہ ہر ایک کو بیت المقدس میں عبادت اور علاقے کی زمین کو تقسیم کردیتے۔ایسا کرنے سے تصادم کا وہ راستہ جو 1948ء سے آج تک جاری ہے بند ہوجاتا  اور اقوام متحدہ جو ان کی کنیز ہے اس سے فیصلہ کراتے۔

یہ تین عقائد والے ممالک ایک دوسرے سے بہت قریب ہیں ہیکل سلیمانی جو حضرت داؤد کی تیار کردہ ہے اور بیت المقدس جس کی تعمیر حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمائی اور ان بڑی بڑی شہتیروں اور وزنی پتھروں کو دیکھ کر لوگ حیرت زدہ ہوتے ہیں کہ جب کوئی مشینری نہ تھی تو یہ کیسے بنائی گئیں اور ترتیب میں جنوں کا گمان ہوتا ہے مگر حضرت عیسیٰ کی صلیب کا تذکرہ عیسائیوں اور یہودیوں کے مناقشے کا منظر ہے، جب کہ مسلمان عقائد کے اعتبار سے صلیب کے قائل نہیں مگر یہ مقام مقدسہ تاریخ کے صفحے پر وہی ہے جہاں حضرت ابراہیم ؑ نے بھی معبد کی تعمیر کی اور نبی آخر الزماںؐ نے بارگاہ خداوندی نے عرش کی جانب پرواز کی اور سدرۃ المنتہیٰ سے بھی آگے پرواز کرتے گئے۔

اس مقام کو مسجد اقصیٰ کے نام سے پکارا گیا لہٰذا یہ علاقہ تین مذاہب کا مقدس ترین شہر ہے جو ہر قسم کے سیاسی مراکز سے پاک تھا مگر مسٹر ٹرمپ جو شوبز کے ایک کلاکار ہیں اور سیاست میں اکابرین سے ڈکٹیشن لینے کے عادی ہیں اور ناتن یاہو سے بے حد متاثر ہیں ان کے کہنے پر امریکن ایمبیسی کو اس شہر منتقل کیا اور نئے سیاسی بحران کو دعوت دی۔ یہ سب کام جس سے امریکا کو کچھ حاصل نہ ہوا یہ سب اس لیے کیا گیا کہ امریکی حکومت کو اور ان کے عرب اتحادیوں کو اس برس زبردست خسارہ اٹھانا پڑا۔

انھوں نے نام نہاد اسلامک اسٹیٹ قائم کی تاکہ وہ مسلمانوں کے مذہبی شہر اور مقدس مقامات کو خود اپنی مرضی سے استعمال کریں۔ مگر عراق کے عوام نے بش سے لے کر ٹرمپ تک کی عاقبت نا اندیشی کا جنازہ نکال دیا۔ وہ عراق میں الیکشن کے دن کوئی کارروائی نہ کرسکے بلکہ انڈونیشیا میں خود کش دھماکا کیا اور عراق میں بش کی حامی فوج زمیں بوس ہوگئی ۔

اسی لیے اسرائیل سے شام کے ٹھکانوں پر چھوٹی موٹی بمباری کی گئی، جس کا جواب بھی ملا مگر افسوس یہ ہے کہ امریکا کے مسلمان حلیفوں نے اس کے حوصلے بڑھائے ہیں۔ آپ نے خود دیکھا کہ شمالی کوریا نے کس طرح امریکی لابی کو سرنگوں کیا اور وہ دوستی کے راگ الاپ رہا ہے، مگر ایران پر آنکھیں نکال رہا ہے کیونکہ امریکا کو معلوم ہے کہ خلیجی ریا ستوں میں ان کے طرف دار بیٹھے ہیں جن کو ایران کے نام پر دھمکا رہا ہے اور اسلحہ فروخت کر رہا ہے۔ جب چاہتا ہے اسلام کو اپنے مفاد میں استعمال کرتا ہے اور جب چاہتا ہے اسلام کو عوام الناس کے مابین فقہی فسادات پیدا کرتا ہے۔

اب تو صورتحال ایسی ہوگئی کہ فلسطین کے صدر محمود عباس کو بھی امریکی دوستی کا نقاب الٹ کے رو برو کہنا پڑا کہ امریکا اسرائیل اور فلسطین کے مابین درمیانی راستہ اختیار نہیں کرنے والا ہے بلکہ یہ تو کھلم کھلا اسرائیل کا طرفدار ہے۔ یہ امریکا ہی ہے جس نے مسلم دنیا کو کئی حصوں میں تقسیم کر دیا ہے انتہا پسندی کا سورج بمعہ توپ اور ہزاروں گاڑیوں پر اسلامی فوج امریکا نے تیار کی جو اسلام دشمن تھی اور اسلام کا امن پسند چہرہ داعش کے ذریعے مسخ کرنا شروع کیا۔

اللہ تعالیٰ بھی بندوں کو معاف کرتا ہے توبہ قبول فرماتا ہے مگر یہ داعش تھی جہاں توبہ کا دروازہ بند تھا آخرکارکیا ہوا عراق سے چودہ سال تک کے بچے میدان جنگ میں نکل پڑے اور داعش کے داغ سے عراق کی سرزمین کو پاک کردیا۔ اس جنگ کے اثرات لبنان تک پہنچے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لبنان میں سعد حریری کے پینل کے مقابلے میں حزب اللہ کا پلڑا بھاری ہوگیا جس کی وجہ سے اسرائیل کا ایک کونہ پرخطر ہوگیا۔

لوگ اب پاکستان کے انتخابات کی باتیں کر رہے ہیں یہاں تو کوئی سیاسی شگوفہ امریکی آشیر باد کے بغیر پھول نہیں بنا۔ ہر طرف امریکی نواز پارٹیاں انتخابی دنگل میں کودی ہوئی ہیں اور عوام کے لیے کوئی فلاحی دوڑ نہیں۔ یہاں کے لیڈروں کے منہ میں قومی زبان نہیں بلکہ بیرونی جملے ہیں۔

پاکستان کے کسی لیڈر نے امریکا کے القدس ایشو پر ایک لفظ نہ کہا۔ کیونکہ ان کے مفاد امریکی اقتدار سے جڑے ہوئے ہیں۔ اسلامی دنیا میں انتشار کی اس لہر سے فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکا نے 70 سالہ پرانے قصبے کو اسرائیل کے سپرد کردیا اور اسلامی ممالک میں جرأت نام کی ’ ج ‘ بھی باقی نہ رہی اور ہر وقت اسلام کا مقدس نام اپنی حکمرانی کے لیے استعمال کر رہے ہیں اور اگر کوئی شخص پینٹ پہننے والے سیاستدانوں کو جدید دورکا حامی سمجھتا ہے تو وہ بھی عوامی فریب کار ہے کیونکہ اس قسم کے لیڈران رجعت پسندوں کو مالی فوائد دے رہے ہیں اور امریکی سرزمین ان لوگوں کے لیے چندہ جمع کرنے کا دفینہ ہے۔

ظاہر ہے جو لوگ بہ آسانی ایسے ملک سے پاکستان میں سیاست کر رہے ہیں وہ کس طرح عوام الناس کے لیے نصاب تعلیم ایک کرسکتے ہیں۔ کیونکہ ان کو امریکا نواز عوام الناس پیدا کرنے ہیں، اگر آپ غور کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ یہ اقتدار پرست ٹولہ امریکا کے خلاف عوام کو ابھارتا ہے تاکہ اس کو بلیک میل کرسکے یہی اس کی سیاست کی بنیاد ہے ان کا ظاہر و باطن ذاتی مفاد کی گرفت میں ہے اور نہ ہی یہ ملک کے بہی خواہ ہیں۔ اگر یہ لیڈران اسلامی اقدار اور مسلم امہ کے طرفدار ہوتے تو وہ آج کے دن احتجاجی مارچ ضرور کرتے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ امریکا نے یروشلم میں اپنا سفارت خانہ اس وقت کیوں منتقل کیا اس کی بھی ایک وجہ ہے کہ شام پر کئی حملے کرنے سے بھی شکست خوردہ انتہا پسندوں اور ان کے حامیوں کو قرار نہیں آیا تھا مگر یروشلم میں امریکی سفارت خانے کی آمد نے گفتگو کا دائرہ اور لاشوں کی تعداد نے کسی حد تک بشار الاسد کی فتح کی آگ کو کسی حد تک سرد بھی کردیا اور لبنان اور عراق کی آگ کو کسی حد تک ٹھنڈا بھی کردیا مگر آنے والے دن فلسطینی، عراقی، شامی اور لبنانی مشرق وسطیٰ میں نئی تحریک کو جنم دیں گے اور آج کا دن ہمیشہ کے لیے یادگار رہے گا۔

کیونکہ سلامتی کونسل کے ارکان نے بھی 250 شہدا اور کئی سو زخمی نوجوانوں کے غم میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی اور امریکی طرفداروں کو بھی مذمتی قراردادیں پیش کیں جن میں پاکستان بھی پیش پیش ہے۔ اس لیے بجا طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی اہداف حاصل ہونے کے بجائے سیاسی شرمندگی حاصل ہوئی جس سے امریکی سیاست کو زبردست نقصان ہوا مگر امریکی ہمنواؤں کی یہ چند روزہ آہ و زاری ہے پھر بھی وہ امریکا کے ہی دائمی اتحادی رہیں گے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔