رحمت مغفرت اور جہنم سے آزادی کا مہینہ

drtayyabsinghanyi100@gmail.com

[email protected]

’’اے ایمان والو! تم پر اسی طرح روزے فرض کیے گئے ہیں، جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔‘‘روزے کو عربی میں ’’صوم‘‘ کہتے ہیں جس کا لغوی معنی کسی ارادی فعل سے باز رہنے اور رک جانے کے ہیں۔

اصطلاح شریعت میں روزے کی تعریف یہ بیان کی گئی ہے کہ ’’روزے کی نیت کے ساتھ طلوع فجر سے غروب آفتاب تک ہر قسم کے مفطرات سے رک جانا ‘‘ روزے کا اصل مقصد تقویٰ کا حصول ہے اگر انسان روزہ رکھ کر بھی متقی نہ ہوسکا تو سمجھیے کہ وہ روزے کا حقیقی مقصد نہ پا سکا۔

روایات کے مطابق روزے کی فرضیت کا حکم دوسری ہجری میں تحویل قبلہ کے واقعے سے دس روز بعد ماہ شعبان میں نازل ہوا۔ اسلام کے پانچ ارکان میں روزہ تیسرا بنیادی رکن ہے جوکہ ہر عاقل بالغ مرد وعورت پر فرض ہے۔ لسان العرب کے مطابق رمضان کو رمضان کا نام اس لیے دیا گیا ہے کہ وہ گناہوں کو جلا دیتا ہے ۔

حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا ’’ جس نے ایمان اور احتساب کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے وہ گناہوں سے اسی طرح پاک ہو جاتا ہے جس طرح ابھی ابھی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہو ۔‘‘ (سنن نسائی)

حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی رحمتؐ نے فرمایا کہ جس شخص نے ایمان اور احتساب کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے اس کے پچھلے گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔ (بخاری)

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ جب رمضان شروع ہوتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جنت کے تمام دروازے بھی کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں اور شیاطین جکڑ دیے جاتے ہیں۔ (صحیح بخاری و مسلم)

رسول کریمؐ نے فرمایا کہ ’’ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں محمد کی جان ہے روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کو مشک سے زیادہ پیاری ہے۔‘‘ (صحیح بخاری و مسلم)

صحیح بخاری میں حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ ’’نبی کریمؐ نے فرمایا کہ ’’ روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں ایک افطار کے وقت اور دوسری خوشی اپنے رب سے ملاقات کے وقت۔‘‘

حضرت سہل بن سعدؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا کہ ’’جنت میں ایک دروازہ ہے جسے ’’ریان‘‘ کہا جاتا ہے قیامت کے روز روزے دار ہی اس دروازے سے جنت میں داخل ہوں گے اور ان کے سوا کوئی داخل نہیں ہوگا ۔ کہا جائے گا کہ کہاں ہیں روزے دار؟ پس وہ کھڑے ہوں گے، ان کے علاوہ اس میں سے کوئی اور داخل نہیں ہوسکے گا، جب وہ داخل ہوجائیں گے تو اس دروازے کو بند کردیا جائے گا پھر کوئی اور اس سے داخل نہیں ہوسکے گا ۔‘‘ (صحیح بخاری)

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ حضور اکرمؐ نے ارشاد فرمایا کہ ’’بنی آدم کا نیک عمل دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک بڑھایا جاتا ہے اللہ نے فرمایا روزہ اس سے مستثنیٰ ہے کیوں کہ وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا ۔‘‘ (سنن ابن ماجہ)

حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمؐ نے فرمایا ’’روزہ ڈھال ہے اس کے ساتھ بندہ خود کو دوزخ کی آگ سے بچاتا ہے۔‘‘

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ ’’روزہ ڈھال ہے اور دوزخ کی آگ سے بچاؤ کے لیے محفوظ قلعہ ہے۔‘‘

حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہؐ کو یہ فرماتے خود سنا ہے کہ ’’ہلاکت ہے اس شخص کے لیے جو رمضان کا مہینہ پائے اور پھر اس کی بخشش نہ ہو۔‘‘ (مشکوٰۃ، بیہقی)

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرمؐ نے فرمایا ’’جس نے بغیر عذر اور بیماری کے رمضان المبارک کا ایک روزہ بھی چھوڑ دیا تو خواہ ساری عمر روزے رکھتا رہے وہ اس کی تلافی نہیں کرسکتا۔‘‘(ابو داؤد، ابن ماجہ)

حضرت ابو عبیدہؓ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا ’’روزہ ڈھال ہے جب تک اس کو پھاڑے نہیں۔‘‘ عرض کیا یا رسول اللہؐ ! یہ ڈھال کس چیز سے پھٹ جاتی ہے؟‘‘ فرمایا ’’جھوٹ اور غیبت سے۔‘‘ (طبرانی، بیہقی)

حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا ’’جس نے روزے کی حالت میں بے ہودہ باتیں کرنا اور گناہ کا کام نہیں چھوڑا تو اللہ کو کچھ حاجت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑے۔ کتنے ہی روزے دار ہیں کہ ان کو اپنے روزے سے بھوک پیاس کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا اور رات کو قیام سے جاگنے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔‘‘ (بخاری، دارمی، مشکوٰۃ)

حضرت سلمان فارسیؓ فرماتے ہیں کہ آپؐ نے شعبان کے آخری دن ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا ’’اے لوگو! تم پر ایک عظمت والا، بڑا بابرکت مہینہ آرہا ہے ، اس میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے، اللہ تعالیٰ نے تم پر اس کے روزے فرض کیے ہیں اور اس کے قیام (تراویح) کو نفل (سنت مؤکدہ) بنایا ہے، جو شخص اس میں نیکی کے نفلی کام کے ذریعے اللہ کا قرب حاصل کرے وہ ایسا ہے کہ کسی نے غیر رمضان میں فرض ادا کیا، اور جس نے اس میں فرض ادا کیا وہ ایسا ہے کہ کسی نے غیر رمضان میں ستر فرض ادا کیے۔ یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا اجر جنت ہے اور یہ ہمدردی اور غم خواری کا مہینہ ہے اس میں مومن کا رزق بڑھادیا جاتا ہے اور جس نے اس میں کسی روزے دار کا روزہ افطار کرایا تو وہ اس کے لیے گناہوں کی بخشش کا اور دوزخ سے اس کی گلوخلاصی کا ذریعہ ہے اور اس کو بھی روزے دار کے برابر کا ثواب ملے گا جب کہ روزے دار کے ثواب میں ذرہ برابر بھی کمی نہ ہوگی اور جس نے روزے دار کو پیٹ بھر کر کھلایا پلایا اس کو اللہ تعالیٰ میرے حوض کوثر سے ایسا پانی پلائیں گے کہ کبھی پیاسا نہ ہوگا یہاں تک کہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔ یہ ایسا مہینہ ہے کہ اس کا پہلا حصہ رحمت، درمیانی حصہ مغفرت اور آخری حصہ دوزخ سے آزادی ہے۔‘‘



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔