رحمتوں کا خزینہ رمضان المبارک

رمضان شریف کی برکت سے جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔ فوٹو : فائل

رمضان شریف کی برکت سے جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔ فوٹو : فائل

ہماری خوش قسمتی ہے کہ ربِ قدوس کے خاص فضل و کرم سے ہمیں ایک بار پھر رمضان شریف کے مبارک مہینے کی بے شمار برکتیں، رحمتیں اور نیکیاں سمیٹنے کا موقع مل رہا ہے، تاکہ ہم اللہ تبارک و تعالیٰ اور اُس کے پیارے حبیبؐ کی خوش نودی اور قرب حاصل کرسکیں۔

ارکانِ اسلام میں ’’روزہ‘‘ تیسرا بنیادی رکن ہے جس کی پابندی شہادت توحید و رسالتؐ اور نماز کے بعد فرض کا درجہ رکھتی ہے۔ آیت روزہ شعبان المعظم کے ماہِ مقدس میں نازل ہوئی جس میں رمضان المبارک کو ماہِ صیام قرار دیتے ہوئے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہلِ ایمان سے ارشاد فرمایا: ’’پس! تم میں سے جو شخص ماہِ رمضان کو پالے تو اُسے چاہیے کہ وہ روزہ رکھے۔‘‘

اس آیۂ مبارکہ میں روزہ رکھنے کا حکم ہر اُس صاحبِ ایمان کو دیا گیا ہے جو اپنی زندگی میں اس ماہ مقدس کو پالے، لہٰذا خدائے بزرگ و برتر نے روزے کی فضیلت کے باب میں بلا امتیاز مرد و زن تمام اہلِ ایمان سے ارشاد فرمایا، مفہوم: ’’اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلی امتوں پر فرض تھے، تاکہ تم پرہیزگار اور متقی بن جاؤ۔‘‘

حضرت سلمان فارسیؓ سے مروی ہے کہ رحمت عالم ﷺ نے شعبان المعظم کے آخری ایام میں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’اے لوگو! تم پر ایک بہت بڑی عظمت و برکت والا مہینہ سایہ فگن ہونے والا ہے۔ اور یہ وہ مہینہ ہے جس کی ایک رات ہزار مہینوں سے افضل و بہتر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس مہینے میں تم پر روزے فرض کیے ہیں۔

اگر کوئی شخص اس مہینے میں کوئی ایک نیک کام اپنے دل کی خوشی سے خود کرے، وہ ایسا ہوگا جیسے رمضان کے سوا دوسرے مہینوں میں فرض ادا کیا ہو۔ اور جو اس مہینے میں فرض ادا کرے تو وہ ایسا ہوگا جیسے رمضان کے سوا دوسرے مہینوں میں ستّر فرض ادا کیے ہوں۔ یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا بدل جنّت ہے۔ اور یہ مہینہ معاشرے کے غریب اور حاجت مندوں کے ساتھ مالی تعاون اور ہم دردی کا مہینہ بھی ہے۔‘‘

رمضان شریف کی برکت سے جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، دوزخ کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں اور تمام شیاطین قید کردیے جاتے ہیں۔

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’روزہ ڈھال ہے۔ پس! روزے دار کوئی فحش بات نہ کرے۔ اگر کوئی اس سے لڑے یا گالی دے تو کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں۔ قسم ہے اُس ربِ کائنات کی کہ جس کے قبضۂ قدرت میں میری (محمدؐ کی) جان ہے، روزہ دار کے منہ سے آنے والی بُو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی خوش بو سے بھی زیادہ محبوب تر ہے۔‘‘

اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا، مفہوم: ’’روزہ دار محض میرے لیے کھانا ترک کرتا ہے اور لذتوں سے بھری چیزیں چھوڑ دیتا ہے۔ پس! روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا اجر دوں گا۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے ہم گناہ گاروں کے لیے اس ماہ مبارک میں فضائل و برکات، نیکیوں اور رحمتوں کا بے حد اہتمام کیا ہے۔ اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ اور اُس کے پیارے محبوب رسول اکرمؐ کی خوش نودی اور دولت ایمان کے حصول کے لیے کس قدر نیکیاں اور رحمتیں سمیٹتے ہیں۔

رمضان شریف کا مقصد یہ نہیں کہ سحری کے وقت بھی پیٹ بھرلیا اور افطار کے وقت بھی پیٹ بھر کھانا کھالیا اور بس! ماہ صیام کا اصل مقصد یہ ہے کہ اس ماہ مبارک میں امت مسلمہ اپنے روز مرہ کے معمولات میں اچھی اور مثبت تبدیلیاں لائے۔ قربِ خداوندی حاصل کرنے کے لیے ذکر و اذکار میں مشغول رہنا، رسولِ ہاشمی ﷺ کی محبت حاصل کرنے کے لیے درود پاک کا کثرت سے ورد کرنا، روحانی اور پاک محفلیں سجانا، نمازِ پنج گانہ کی ادائی کو اپنی عادت بنانا، جھوٹ کو چھوڑ کر صرف حق و سچ کو اپنانا، خدا کی راہ میں صدقہ خیرات دینا، نصاب کے مطابق پوری زکوٰۃ ادا کرنا، نیک کاموں میں رب العالمین کی عطا کردہ دولت کو فراخ دلی سے خرچ کرنا، یتیموں غریبوں اور مسکینوں سے محبت کرنا اور اُن کی مالی مدد کرنا، عید کے دن مسرتوں اور خوشیوں بھرے لمحات میں پرخلوص طریقے سے محروموں کو شامل کرنا، دلوں سے نفرتوں اور رنجشوں کو باہر نکال کر اُن میں ایمان کی روشنیاں پیدا کرنا، ہر معاملے میں مساوات کو پیش نظر رکھنا، دوسروں کے حقوق غضب کرنے سے اجتناب کرنا، آقا ﷺ کی سنتوں پر عمل کرتے ہوئے اسلام میں پورا داخل ہونے کی کوشش کرنا، یہ ساری تربیت رمضان شریف میں ہوتی ہے۔

ہمارا یہ فرض بنتا ہے کہ ہم مذکورہ بالا کاموں کو اپنی زندگی کا معمول بنائیں اور یہی ہماری زندگی کا اصل مقصد بھی ہے۔ محض ماہ صیام کے تیس روزے رکھ کر، پورا مہینہ بھوکا یا پیاسا رہنا، اللہ کے نزدیک قابلِ قبول نہیں ہے، بلکہ وہ تو ہمیں متقی اور پرہیزگار دیکھنا چاہتا ہے۔

رسولِ کریم ﷺ کا فرمانِ مقدس ہے: ’’جس شخص نے روزے رکھنے کے باوجود جھوٹ بولنا اور اُس پر عمل کرنا نہیں چھوڑا تو اللہ تعالیٰ کو اُس کے بھوکے رہنے سے کوئی دل چسپی نہیں۔‘‘ گویا اس صورت میں روزہ رکھنا بے سود ہے۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم روزہ رکھنے کے ساتھ اس کا حق ادا کرنے کی بھی کوشش کریں۔ قرآن پاک کی کثرت سے تلاوت کریں، تراویح میں اس کی سماعت کا اہتمام کریں اور اپنے ربِ کریم کو راضی کرنے کی بھرپور کوشش کریں۔

تاج دارِ انبیاء ﷺ نے ارشاد فرمایا: روزہ اور قرآن مومن کی سفارش کریں گے۔ روزہ کہے گا کہ اے میرے رب! میں نے اس شخص کو دن میں کھانے اور پینے سے روکے رکھا اور یہ رکا رہا۔ اے اللہ! اس شخص کے لیے میری سفارش قبول فرما۔ اور قرآن کہے گا کہ میں نے اسے رات میں سونے سے روکے رکھا، یہ اپنی میٹھی نیند چھوڑ کر نماز اور قرآن میں مصروف رہا، اس شخص کے لیے میری سفارش قبول فرما۔ اور اللہ تعالیٰ ان دونوں کی سفارش قبول فرمائے گا۔

رمضان المبارک کی مبارک راتیں، مبارک دن اور رحمت بھری ساعتیں زندگی میں بار بار نہیں آتیں۔ کیوں نہ ہم سب ان مبارک لمحات اور رحمت بھری ساعتوں کو اپنے دامن میں سمیٹ لیں۔ کیا پتا آئندہ ہمیں رمضان شریف دیکھنا نصیب ہو یا نہ ہو۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اسلام میں پورا پورا داخل ہونے کی توفیق و ہمت عطا فرمائے۔ آمین



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔