بھارتی سپریم کورٹ کا سانحہ کٹھوعہ کے مقدمے کے گواہان کو تحفظ فراہم کرنے سے انکار

خبر ایجنسیاں  جمعـء 18 مئ 2018
بھارتی فوج کا متعدد علاقوں میں گشت جاری، مودی ہفتے کو مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرینگے۔ فوٹو: فائل

بھارتی فوج کا متعدد علاقوں میں گشت جاری، مودی ہفتے کو مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرینگے۔ فوٹو: فائل

 سری نگر / نئی دہلی:  بھارتی سپریم کورٹ نے جموں کے علاقے کٹھوعہ کی ننھی آصفہ کی بے حرمتی اور قتل کے مقدمے کے گواہان کو تحفظ فراہم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

کٹھوعہ بے حرمتی اور قتل کیس کے 3 گواہان نے بتایا ہے کہ پولیس انھیں ہراساں کر رہی ہے اور انھوں نے عدالت عظمیٰ سے تحفظ فراہم کرنے کی استدعا کی، انھوں نے عدالت میں ایک درخواست میں کہا کہ وہ پہلے ہی پولیس اور مجسٹریٹ کے سامنے اپنے بیانات ریکارڈ کرا چکے ہیں تاہم انھوں نے کہاکہ پولیس انھیں دوبارہ پیش ہو کر بیان ریکارڈ کرانے کا کہہ رہی ہے اور ان کے اہلخانہ پر دباؤ ڈالاجا رہا ہے۔

بھارتی امیگریشن حکام نے امرتسر اٹاری چیک پوسٹ پر پاکستان کا سفر کرنے والے 3 کشمیری نوجوان گرفتار کر لیے، بھارتی پولیس نے جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک کو سرینگر میں گرفتار کر لیا۔

یاد رہے کہ سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور یاسین ملک پر مشتمل مشترکہ حریت قیادت نے نہتے فلسطینیوں پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف آج پر امن مظاہروں کی کال دی ہے، مقبوضہ کشمیر میں سینئر حریت رہنماؤں نے بھارت کی طرف سے کشمیر میں رمضان المبارک کے دوران جنگ بندی کے اعلان کو ایک نمائشی اقدام قراردیا ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں کٹھ پتلی انتظامیہ نے بھارتی وزیر اعظم کے دورے سے قبل ہفتے کو ہی پورے مقبوضہ علاقے میں سخت پابندیاں نافذ کردی ہیں،

کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق بھارتی پولیس اور سینٹرل ریزروپولیس فورس کی بڑی تعداد کو پورے مقبوضہ علاقے خاص طور پر جموں اور سرینگر کے شہروں میں تعینات کیا گیا ہے، بھارتی فوج متعدد علاقوں میں گشت بھی کر رہی ہے، نریندر مودی 330 میگا واٹ کے کشن گنگا پن بجلی منصوبے کے افتتاح کیلیے ہفتے کو مقبوضہ کشمیر کا دورہ کریں گے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔