سعودی ولی عہد منظر سے غائب، صحت سے متعلق قیاس آرائیاں

خبر ایجنسی  جمعـء 18 مئ 2018
گزشتہ ماہ سعودی شاہی محل میں ہونے والی فائرنگ کے نتیجے میں زخمی ہونے کا اندیشہ۔ فوٹو: سوشل میڈیا

گزشتہ ماہ سعودی شاہی محل میں ہونے والی فائرنگ کے نتیجے میں زخمی ہونے کا اندیشہ۔ فوٹو: سوشل میڈیا

ماسکو / تہران: سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان گزشتہ کچھ عرصے سے منظر عام سے غائب ہیں جس کے بعد ایرانی وروسی میڈیا نے ان کی صحت کے حوالے سے قیاس آرائیاں شروع کردی ہیں۔

روسی نشریاتی ادارے کی رپورٹ نے ایرانی میڈیا کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کچھ عرصے سے منظر عام سے غائب ہیں اور اس بات کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ گزشتہ ماہ سعودی عرب کے شاہی محل میں پیش آنے والے مبینہ فائرنگ کے واقعے کے بعد ان کی صحت ٹھیک نہیں۔

ایران کے اخبارروزنامہ کیھان نے ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں اس نے دعوی کیا ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے ایک خفیہ رپورٹ نامعلوم عرب ملک کو بھجوائی گئی ہے جس کے مطابق21 اپریل کو ریاض کے شاہی محل پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے میں محمد بن سلمان مبینہ طور پر زخمی ہوئے، اس کے بعد سے وہ کسی عوامی مقام پر نظر نہیں آئے۔

ایک اور ایرانی نشریاتی ادارے نے کہا ہے کہ فائرنگ کے واقعے کے بعد سے سعودی حکام کی جانب سے محمد بن سلمان کی کوئی تصویر یا ویڈیو جاری نہیں کی گئی اور جب اپریل کے آخر میں امریکا کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو اپنے پہلے دورے پر ریاض پہنچے تھے تو اس موقع پر بھی محمد بن سلمان کہیں دکھائی نہیں دیے۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس نے بھی لکھا ہے کہ محمد بن سلمان ایسے شخص ہیں جو اکثر میڈیا کے سامنے آتے رہتے ہیں لیکن ریاض میں فائرنگ کے واقعے کے بعد سے 27 روز تک ان کا میڈیا کے سامنے نہ آنا ان کی صحت کے حوالے سے سوالات کو جنم دے رہا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔