کیا غلط کہا

مقتدا منصور  پير 21 مئ 2018
muqtidakhan@hotmail.com

[email protected]

چند روز قبل میاں نواز شریف نے ممبئی حملوں میں عدالتی پیشرفت نہ ہونے پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ جس پر پورے ملک میں لے دے ہورہی ہے۔ ہر چھوٹا بڑا شخص انھیں ہدف تنقید بناتا نظر آیا اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔

سوال یہ ہے کہ انھوں نے ایسا کیا غلط کہہ دیا جس پر ہاہاکار مچی ہوئی ہے؟ اس بات میں کیا خرابی ہے کہ پہلے ہم اپنا گھر درست کرلیں، پھر دوسروں کے بارے میں رائے زنی کریں۔ ہمارا معاملہ یہ ہے کہ دھوبی پہ زور نہ چلا، گدھے کے کان اینٹھے۔ کرنل جوزف کو چلیے سفارتی استثنیٰ حاصل تھا، لیکن ریمنڈ ڈیوس کو کس قانون کے تحت بغیر مقدمہ چلائے واپس بھیج دیا۔ یہ ہماری ریاستی منتظمہ کی دوہری پالیسیوں کا شاخسانہ ہے کہ ہم نے آج تک  درست اور جرأتمندانہ فیصلہ نہیں کیا۔

جہاں تک میاں نواز شریف کی طرزحکمرانی اور ان کی جماعت کی سیاست کا معاملہ ہے، تو ہمیں اس سے کبھی اتفاق نہیں رہا۔ آج وہ جمہوریت اور پارلیمان کی بالادستی کے لیے جس شدومد سے رطب اللسان ہیں، کل جب وہ اقتدار میں تھے، انھوں نے پارلیمان کو اہمیت دی نہ جمہوری اقدار کی پاسداری کی۔ اپنے چار سالہ حالیہ دور اقتدار میں وہ کتنی مرتبہ قومی اسمبلی کے اجلاسوں میں شریک ہوئے؟ وفاقی کابینہ کی کتنی میٹنگز کیں؟ شاید تین یا چار۔ پھر ان پر یہ بھی درست الزام ہے کہ بعض ایسے فیصلے اور اقدامات  کیے جو جمہوریت کش ثابت ہوئے۔

اب جہاں تک کرپشن کا تعلق ہے، تو اس میں دو رائے نہیں کہ ملک کا سیاسی، انتظامی اور عدالتی ڈھانچہ کرپشن کی دلدل میں بری طرح لتھڑا ہوا ہے۔ ایک ایسے ملک و معاشرے میں جہاں میرٹ، شفافیت اور جوابدہی کا کوئی واضح میکنزم موجود نہ ہو، پورا ریاستی نظم و نسق کرپشن کی وبا میں بری طرح مبتلا ہوجاتا ہے۔ اس لیے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ کرپشن دراصل بری حکمرانی (Bad Governance)کا شاخسانہ ہوتی ہے۔

گورننس کے نظام کو بہتر کر لیا جائے، تو کرپشن جیسی عفریت سے چھٹکارا ممکن ہوتا ہے۔ لیکن اچھی حکمرانی (Good Governance) کے لیے پارلیمان کی بالادستی، میرٹ، قانون کی حکمرانی (Rule of Law)، شفافیت، جوابدہی اور ریاستی مشینری کا Responsive ہونا ضروری ہے۔ مگر ہمارے یہاں چونکہ ایک دیدہ منتظمہ کے ساتھ نادیدہ متوازی منتظمہ بھی موجود رہتی ہے، جو بیشتر ریاستی امور میں دیدہ منتظمہ سے زیادہ طاقتور اور فیصلہ کن اختیارات کی حامل ہے۔ اس لیے اچھی حکمرانی کا تصور محض خواب و خیال ہوکر رہ گیا ہے۔

میاں صاحب کے خلاف کرپشن کا مقدمہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ مگر پاناما لیکس کے حوالے سے جو معلومات منظر عام پر آئی تھیں، انھیں پارلیمان خود کو assert کرتے ہوئے حل کرتی تو زیادہ بہتر اور دور رس نتائج سامنے آتے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پارلیمان ایک قانون ساز ادارہ ہے، جو قوانین میں ترامیم واضافے کا اختیار رکھتا ہے۔ جب کہ عدلیہ ان ہی قوانین کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے فیصلہ یا انصاف مہیا کرنے کی پابند ہوتی ہے۔ البتہ اعلیٰ عدلیہ (Apex Court) کو آئین اپنی مختلف شقوں کی تشریح (Interpretation of Statute) اور بنیادی انسانی حقوق سے متصادم شقوں کی تنسیخ کی اجازت دیتا ہے۔ اس لیے عدلیہ سے یہ توقع کرنا کہ وہ آئین و قانون کے دائرے سے باہر کوئی فیصلہ دے گی، محض خام خیالی ہے۔

کرپشن کے متذکرہ بالا مقدمہ کو عدالت میں لے جانا صرف مسلم لیگ (ن) ہی کی سیاسی غلطی نہیں، بلکہ پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف میں موجود ماہرین آئین و قانون کی کوتاہ بینی بھی ظاہر ہوتی ہے۔ گزشتہ برس جس انداز میں عدالت عظمیٰ کے بنچ سے فیصلہ دیا، اس پر تنقید کا حق ہر شہری کو ہے۔ کیونکہ بہت سے ماہرین کی رائے میں یہ فیصلہ اس مقدمہ میں نہیں دیا گیا، جو زیر سماعت تھا۔ بعض غیر جانبدار حلقوں کے مطابق یہ فیصلہ سیاسی عمل میں مداخلت ہے۔ اس لیے میاں نواز شریف کا غم وغصہ اپنی جگہ درست ہے۔

ابھی اس فیصلے کی سیاہی بھی خشک نہیں ہوئی تھی کہ انھیں اپنی جماعت کی سربراہی سے بھی محروم کردیا گیا۔ لہٰذا ان کے مزاج میں مزید تلخی بڑھتی گئی۔ جس پر مدبرانہ انداز میں بحث کرنے کے بجائے، ان سیاسی جماعتوں نے بھی ان پر لعن طعن شروع کردی، جو عدالتی فیصلوں کے نتیجے میں اس سے بھی بدتر حالات سے دوچار ہوتی رہی ہیں۔ جب کہ ان کے مرکزی رہنما جو سال بھر پہلے ریاستی اداروں کی اینٹ سے اینٹ بجانے کا برملا اعلان کررہے تھے، بھیگی بلی بنے ہر فیصلہ کی تائید اور میاں صاحب کے ہر بیانیہ پر تنقید کرتے نظر آئے۔ اس صورتحال نے بھی عوام کو بہت کچھ سکھا اور سمجھا دیا۔

اب آئیے میاں صاحب کے اس حالیہ بیان کی جانب، جس میں انھوں نے ممبئی حملوں میں ملوث افراد کے خلاف عدالتی کارروائی میں تاخیر کا سوال اٹھایا ہے۔ جس پر پرنٹ سے الیکٹرانک تک اور سوشل سے غیر رسمی میڈیا تک نے آسمان سر پر اٹھا رکھا ہے۔ اس سیاسی جماعت کے رہنما بھی پھدک رہے ہیں، جس کے دور اقتدار میں یہ سانحہ رونما ہوا تھا اور جس کے وزیر داخلہ نے دہشتگردوں کے پاکستان سے جانے کی تصدیق کی تھی، وہ نجی چینل بھی بڑھکیں مار رہا ہے، جس نے سب سے پہلے اجمل قصاب کا گھر اور محلہ دکھایا تھا۔ ان کے علاوہ ISPR کے سابق ڈی جی میجر جنرل (ر) اطہر عباس کا ایک انٹرویو بھی ریکارڈ پر ہے، جس میں انھوں نے بعض مذہبی تنظیموں کے اس سانحہ میں ملوث ہونے کے بارے میں اپنے شکوک وشبہات کا اظہار کیا تھا۔

بعض حلقے یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ بیان اس وقت کیوں دیا گیا۔ تو ان احباب سے سوال ہے کہ کس وقت دیا جانا چاہیے تھا؟ جب سابق جنرل پرویز مشرف ایک عالمی ٹیلی ویژن کو انٹرویو میں یہ اعتراف کرسکتے ہیں کہ جینیوا معاہدے کے بعد افغانستان میں ملوث جنگجو جتھوں کو کشمیر میں متحرک کردیا گیا تھا، تو کوئی ان پر تنقید نہیں کرتا۔ سابق وزیر داخلہ نصیراﷲ بابر مرحوم ببانگ دہل طالبان کو اپنی اولاد کہتے نہیں تھکتے تھے۔ پھر سب سے بڑھ کر ریاست خود یہ تسلیم کررہی ہوکہ مذہبی عسکریت پسند گروہوں کی سرپرستی کرتی رہی ہے۔ اس کے بعد ان حقائق کو جھٹلانے کا کیا جواز رہ جاتا ہے۔

میاں نواز شریف کے طرز سیاست، ان کے متلون مزاج رویوں پر بے شک تنقید کی جاسکتی ہے، لیکن حقائق کو جھٹلانا اور غیر ضروری لعن طعن کسی طور مناسب عمل نہیں ہے۔ انھوں نے جو کچھ کہا ہے، وہ ناقابل تردید حقیقت ہے۔ البتہ ان پر یہ تنقید ضرور بنتی ہے کہ جب وہ اقتدار میں تھے تو انھوں نے وسیع البنیاد کمیشن قائم کرکے اس واقعہ سمیت دیگر معاملات کی تحقیق وتفتیش کیوں نہ کرائی۔

اسی طرح 18 ویں ترمیم کی تیاری کے موقع پر انھوں نے جنرل ضیا کی جانب سے آئین میں شامل کردہ شقوں 62 اور 63 کی تنسیخ یا ان میں مناسب ترامیم کی کیوں مخالفت کی تھی؟ لیکن مذہبی جنون پرستی اور دہشت گردی میں ملک کے ملوث ہونے اور اس بارے میں مناسب کارروائی سے گریز کے حوالے سے ان کا استفسار بالکل درست ہے۔

لہٰذا میاں صاحب کو نشانہ ہدف بنانے کے بجائے ان غلط ریاستی اقدامات کا تنقیدی جائزہ لیا جائے، جن کی وجہ سے ملک اور خطے میں مذہبی شدت پسندی کو فروغ حاصل ہوا۔ نہ صرف اندرون ملک مسائل ومصائب کی شدت میں اضافہ ہوا، بلکہ بیرون ملک شدت پسندی کی سرپرستی کا الزام لگا۔ یہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اقتدار کی غلام گردشوں میں جو کھیل کھیلا جارہا ہے، وہ کوئی نیا نہیں ہے۔ یہ وہی کھیل ہے، جس نے ملک کی مشکلات میں ہمیشہ اضافہ کیا ہے۔

لوگ بلوچستان اسمبلی میں لائی جانے والی غیر فطری تبدیلی، سینیٹ کے انتخابات میں دولت کی جھنکار اور اربن سندھ کی نمائندہ جماعت کے ساتھ کیا جانے والا امتیازی سلوک بھولے نہیں ہیں۔ مگر لوگ خاموشی کے ساتھ اس صورتحال کے منطقی انجام تک پہنچنے کا انتظار کررہے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔