’’بینظیر،بگٹی قتل اورججزحراست کیس ثابت کرنامشکل ہوگا‘‘

غلام نبی یوسفزئی  پير 22 اپريل 2013
سابق صدرپرویز مشرف کے خلاف بغاوت کیس میں ٹرائل اورسزاملنے کاقوی امکان ہے. فوٹو فائل

سابق صدرپرویز مشرف کے خلاف بغاوت کیس میں ٹرائل اورسزاملنے کاقوی امکان ہے. فوٹو فائل

اسلام آباد: سابق صدرپرویزمشرف کیخلاف بغاوت کیس میں ٹرائل اورسزاملنے کا قوی امکان ہے دیگر مقدمات کے مقابلے میں یہ سب سے مضبوط کیس ہے۔

سابق صدرکیخلاف اس وقت متعدد فوج داری مقدمات  عدالتوں میں زیرسماعت ہیں،جن میں بینظیربھٹواورنواب اکبرخان بگٹی کے قتل کے علاوہ چیف جسٹس پاکستان سمیت اعلیٰ عدلیہ کے ججزکوزیرحراست رکھنا سرفہرست ہے تاہم ان مقدمات میں الزام ثابت کرنااستغاثہ کیلیے مشکل مرحلہ ہوگا،قتل ثابت کرنے کیلیے گواہ اورثبوت کا ہونا لازمی قانونی شرط ہے اورسردست استغاثہ کے پاس بینظیراورنوب اکبربگٹی قتل کیس میں پرویزمشرف کیخلاف نہ توگواہ موجود ہے اورنہ ہی ان میں سابق صدرکے ملوث ہونے کے ٹھوس موادجبکہ ججزکیس میں بھی انتظامیہ کوثابت کرنا پڑے گاکہ ججزکونظربندرکھنے کے احکام پرویزمشرف نے دیے تھے۔

بغاوت کیس میں استغاثہ کیلیے الزام ثابت کر نااس لیے سہل ہے کہ سابق صدرنے عبوری آئینی حکم کے ذریعے3نومبر2007کوآئین معطل کیایہ اقدام انھوں نے مسلح افواج کے سربراہ کی حیثیت میںکیا اور پی سی اوسرکاری گزٹ کاباقاعدہ حصہ ہے۔ علاوہ ازیں سپریم کورٹ نے سندھ ہائی کورٹ بارکیس کے فیصلے میں اس اقدام کوآئین سے بغاوت قرار دیاہے۔ سپریم کورٹ کی طرف سے واضح آبزرویشن کے بعداستغاثہ کیلیے الزام  ثابت کر نا قطعاًمشکل نہیں تاہم غداری  کے قانون کے تحت بغاوت کامقدمہ درج کرنا وفاقی حکومت کاصوابدیدی اختیارہے اوراگروفاقی حکومت چاہے توکسی بھی شخص کواپنانمائندہ قرار دے کرشکایت کے اندارج کیلیے مجازبنایاجا سکتاہے۔ موجو دہ نگراں حکومت یا پھرآنے والی منتخب حکومت کو پرویز مشرف کیخلاف بغاوت کے الزام میں کارروائی کرناپڑے گی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔