نگران حکومت کا پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ چلانے سے انکار

ویب ڈیسک  پير 22 اپريل 2013
احکامات کے باوجود پرویزمشرف سے ملاقات کی اجازت نہیں دی، معاملہ سپریم کورٹ میں اٹھائیں گے،  وکیل احمد رضا قصوری  فوٹو فائل

احکامات کے باوجود پرویزمشرف سے ملاقات کی اجازت نہیں دی، معاملہ سپریم کورٹ میں اٹھائیں گے، وکیل احمد رضا قصوری فوٹو فائل

اسلام آ باد: وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ میں  پرویز مشرف کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت غداری کا مقدمہ چلانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ سابق صدر کے خلاف کارروائی کرنا نگراں حکومت کے مینڈیٹ میں شامل نہیں۔

جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بنچ نے پرویزمشرف کے خلاف غداری کیس کی سماعت کی، اس موقع پروفاقی حکومت نے پرویزمشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ چلانے سے انکارکرتے ہوئے کہا کہ سابق صدر کے خلاف کارروائی کرنا نگراں حکومت کے مینڈیٹ میں شامل نہیں، حکومت کا جواب آنے کے بعد عدالت کا کہناتھا کہ وزارت داخلہ اورقانون نے نہ ہی ماضی میں کچھ کیا ہے اور نہ ہی اب کچھ کرنا چاہتی ہیں۔ عدالت نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی

اس سے قبل دوران سماعت پرویزمشرف کے وکیل احمد رضا قصوری نے کہا کہ گزشتہ تین دنوں سے ان کا اپنےموکل سےکوئی رابطہ نہیں، انہیں پرویزمشرف کے گھر جانے کی اجازت بھی نہیں دی جارہی جس پر جسٹس جواد نے ریمارکس دیئے کہ اپنے وکیل سے ملاقات اور قانونی مشاورت کسی بھی ملزم کا آئینی حق ہے۔

سپریم کورٹ سےاجازت ملنے کے بعد پرویزمشرف کے وکلاان سے ملاقات کے لئے سب جیل پہنچے لیکن جیل حکام نے مشرف کے وکلاکو اپنے مؤکل سے ملنے سے روک دیا، جیل حکام کا مؤقف تھا کہ انہیں کسی طرف سے کوئی تحریری حکم  یا ہدایت نامہ نہیں ملا اس لئے وہ وکلا کی مشرف سے ملاقات نہیں کراسکتے۔

اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق صدر کے وکیل احمد رضا قصوری نے کہا کہ سپریم کورٹ کے احکامات کے باوجود انہیں پرویزمشرف سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی اورہم یہ معاملہ عدالت عظمیٰ میں اٹھائیں گے۔

دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ میں پرویزمشرف کے فارم ہاؤس کو سب جیل قراردینے کےنوٹیفکیشن کوبھی چیلنج کردیا گیا، درخواست گزاراسلم گھمن نے ہائی کورٹ سے استدعا کی ہے کہ پرویزمشرف کواڈیالہ جیل منتقل کیا جائے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔