پرویز مشرف فرار کیس؛ آئی جی اسلام آباد کے خلاف 24 گھنٹوں میں کارروائی کا حکم

ویب ڈیسک  منگل 23 اپريل 2013
واقعے کے ذمے دارآئی جی اسلام آباد ہیں، اس طرح کے شخص کوآئی جی نہیں ہونا چاہیے، جسٹس شوکت صدیقی. فوٹو فائل

واقعے کے ذمے دارآئی جی اسلام آباد ہیں، اس طرح کے شخص کوآئی جی نہیں ہونا چاہیے، جسٹس شوکت صدیقی. فوٹو فائل

اسلام آباد: ہائی کورٹ نے پرویز مشرف فرار کیس میں آئی جی اسلام آباد بن یامین کی جانب سے جھوٹ بولنے پر ان کے خلاف 24گھنٹے میں کارروائی کا حکم دے دیا ہے، 

جسٹس شوکت صدیقی پر مشتمل اسلام آباد ہائیکورٹ کے سنگل بنچ نے کیس کی سماعت کی، دوران سماعت ایڈیشنل آئی جی آپریشنز سلطان تیموری نے عدالت میں رپورٹ پیش کی جس میں کہا گیا ہے کہ ایس ایس پی آپریشن یاسر فاروق نے سابق صدر کی گرفتاری کے لئے 40 اہلکاروں کی تعیناتی کا حکم دیا تھا تاہم پرویز مشرف کے عدالت سے فرار ہونے کے وقت صرف 3 اہلکار کمرہ عدالت میں موجود تھے جبکہ ڈی ایس پی سیکریٹریٹ سرکل ہائیکورٹ میں ڈیوٹی پر ہی موجود نہیں تھے دوسری جانب رینجرز کے 140 اہلکاروں نے پرویز مشرف کو احاطہ عدالت میں اپنے حصار میں لے رکھا تھا۔ واقعے کے ذمہ دار ایس ایچ او تھانہ سیکریٹریٹ قیصر گیلانی کو شوکاز نوٹس جاری کردیا گیا ہے جبکہ ڈی ایس پی سیکریٹریٹ ادریس راٹھور کوفرائض میں غفلت برتنے پرمعطل کردیا گیا ہے تاہم ایس پی کیپٹن الیاس اور ایس ایس پی آپریشن کے خلاف تاحال کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔

اس موقع پر جسٹس شوکت صدیقی نے ریمارکیس دیئے کہ جو کانسٹیبل معطل کیے گئے کیا ان کو بحال کردیا گیا ہے، سیکریٹری داخلہ نے اب تک کیا کیا ہے، عدالت قراردے چکی ہے کہ واقعے کے ذمے دارآئی جی اسلام آباد ہیں، اس طرح کے شخص کوآئی جی نہیں ہونا چاہیے، انہوں نے ریمارکس دئیے کہ ڈی ایس پی اپنے پلاٹ بیچے یا ڈیوٹی کرے، پوری دنیا کا میڈیا دکھا رہا تھا کہ مشرف گرفتار نہ ہونے پرکہاں تھے۔

سماعت کے دوران جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیئے کہ آئی جی جیسے عہدے پرتعینات شخص عدالت سے جھوٹ بول رہا ہے،اس معاملے پر رعایت نہیں برتی جاسکتی، جس پر ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ وزیر داخلہ کراچی میں ہیں ان کی واپسی پرعدالتی حکم کے مطابق اقدامات کیے جائیں گے، عدالت نے حکم دیا کہ آئی جی اسلام آباد بن یامین کے خلاف عدالت سے جھوٹ بولنے پر 24گھنٹے میں تادیبی کارروائی کی جائے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔