عمران خان نے کہا، ’’مجھے اقتدار مکمل اختیارات کے ساتھ چاہیے‘‘

سید بابر علی / عرفان علی  اتوار 27 مئ 2018
 پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل اورمیڈیا ایڈوائزر عمران اسماعیل سے مکالمہ۔ فوٹو: ایکسپریس

 پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل اورمیڈیا ایڈوائزر عمران اسماعیل سے مکالمہ۔ فوٹو: ایکسپریس

ملک کے سیاسی حلقوں کے لیے عمران اسماعیل کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ 2015ء کو متحدہ قومی موومنٹ کے گڑھ سمجھے والے حلقے این اے 246میں تحریک انصاف کی جانب سے کھڑنے ہونے والے امیدوار عمران اسماعیل اُن دنوں شہہ سُرخیوں میں رہے۔

اٹلی سے لیدر ٹیکنالوجی میں اعلٰی تعلیم حاصل کرنے والے عمران اسماعیل کا تعلق ایک صنعت کار گھرانے سے ہے۔ اس وقت پاکستان تحریک انصاف کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل اور چیئرمین عمران خان کے میڈیا ایڈوائزر ہیں۔ آئندہ آنے والے انتخابات اور سندھ میں پاکستان تحریک انصاف کا انتخابی لائحہ عمل جاننے کے لیے ان سے ایک ملاقات کا اہتمام کیا گیا، جس میں ہونے والی قارئین کی نذر ہے۔

ایکسپریس : آپ نے اٹلی سے لیدر ٹیکنالوجی میں اعلٰی تعلیم حاصل کی، اچھا خاصا کاروبار ہونے کے باوجود سیاست کے خار دار راستے پر کیوں قدم رکھا؟

عمران اسماعیل: کاروبار تو زندگی کے لیے ضروری ہوتا ہے، لیکن ایسا کاروبار جس میں پھنس کر آپ ساری زندگی صرف پیسے بناتے رہیں تو یہ کام تو ہر کوئی کر رہا ہے۔ انسان بھی ایک سماجی جانور ہے لیکن اللہ نے انسان کو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت دی ہے کہ وہ اپنی ذات سے نکل کر دوسروں کی فلاح کے لیے بھی کام کر سکے۔

میرا ہمیشہ سے یہی یقین تھا کہ ایسا کام کیا جاسکے جس سے پاکستان کو مثبت پہلو سامنے آسکے۔ آج ہماری نئی نسل تعلیم حاصل کرنے کے بعد یورپ، امریکا کا رخ کر رہی ہے، کیوں کہ یہاں ان کے لیے روزگار کے آگے بڑھنے کے مواقع نہیں ہیں۔ میرا تعلق ایک صنعت کار گھرانے سے ہے۔ میں اللہ کے کرم سے بہت خوش حال زندگی گزار رہا تھا، اس کے باوجود میں نے عمران خان کے جذبے کو دیکھتے ہوئے پاکستان کے مستقبل کے لیے اس پُرخار میدان میں قدم رکھا، میں نے سوچا کہ مجھے بھی اس ملک کے لیے کچھ نہ کچھ کرنا چاہیے اور مجھے یقین ہے کہ پاکستان کو تبدیل کرنے کے جس منزل کے لیے اپنا سیاسی سفر شروع کیا تھا، بائیس سال کی جدوجہد کے بعد ہم اس کے قریب پہنچ گئے ہیں۔

ایکسپریس: عملی سیاست اور عوامی جدوجہد کا یہ سفر کیسا رہا؟ سیاست میں آنے پر گھر والوں کی مخالفت یا حمایت کس حد تک رہی؟

عمران اسماعیل : میں1992ء سے خان صاحب کے ساتھ ہوں، شوکت خانم اسپتال کے لیے فنڈ ریزنگ کی، خان صاحب نے تازہ تازہ ورلڈ کپ جیتا تھا، اُس وقت تک میرا سیاست کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ 1996ء میں جب خان صاحب نے پاکستان تحریک انصاف بنانے کا فیصلہ کیا تو میں نے اس فیصلے کی تائید کی اور مجھے فخر ہے کہ میں پی ٹی آئی بنانے والے چار اولین لوگوں میں سے ایک ہوں۔ گھر والوں نے میرے اس فیصلے کی بھرپور تائید کی کیوں کہ شوکت خانم اسپتال کے حوالے سے خان صاحب کا میرے گھر آنا جانا تھا، سب انہیں اچھی طرح جانتے تھے۔ والد صاحب نے بھی مجھے قومی دھارے کی سیاست میں جانے سے نہیں روکا بلکہ حوصلہ افزائی کی۔

ایکسپریس: کاروباری اور سیاسی مصروفیات کے باوجود اہلیہ اور بچوں کے لیے وقت کس طرح نکالتے ہیں؟ یا گھر والوں نے اس پر سمجھوتا کرلیا ہے؟

عمران اسماعیل : تمام تر مصروفیات کے باوجود میری کوشش ہوتی ہے کہ چھٹی کے دن کوئی کام نہ رکھوں، کوئی ٹی وی شو نہ رکھوں، سیاسی سرگرمی نہ ہوں، اس کے باجود گھر والوں کے لیے وقت نکالنا مشکل ہوجاتا ہے، لیکن ان کو بھی اس بات کی عادت ہوگئی ہے۔

ایکسپریس : آپ نے اس وقت پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی جب وہ قومی دھارے میں ایک نئی جماعت تھی، کیا بات تھی جس نے آپ کو اس جماعت سے وابستہ ہونے پر آمادہ کیا؟

عمران اسماعیل: دیکھیں میں نے پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار نہیں کی بل کہ میں پی ٹی آئی کے بانی ارکان میں سے ایک ہوں۔ میں نے ایک مشکل راستے کا انتخاب کیا ، میرے اپنے دوست بھی یہ بات کہتے ہیں۔ کچھ ایم کیو ایم کے دوستوں نے بھی مجھے مختلف آفرز کیں، لیکن میرے ذہن میں بس ایک چیز تھی کہ مجھے اس شخص کے پیچھے چلنا ہے جو کرپٹ نہ ہو، اپنی ذات سے بڑھ کر سوچے۔ میں نے عمران خان کو وہ شخص پایا ہے جو وہ اپنے نفع نقصان کا سوچے بنا عوام کے مفاد کے لیے کام کرتا ہے۔

انہوں نے ایسے کئی فیصلے کیے جس سے ہمیں لگا کہ خان صاحب کو سیاسی طور پر نقصان ہوگا، لیکن وہ نفع نقصان کی فکر کیے بنا نڈر ہوکر ایسے فیصلے کرتے ہیں۔ خان صاحب کی ایک سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس شخص کو پیسے کی ہوس نہیں ہے۔ تو ایسے شخص کے ساتھ چلنے میں، اس کے لیے جان مال، اپنا وقت قربان کرنے میں مزا آتا ہے، جو بے لوث ہو، جسے ملک و قوم کا خیال اپنے ذاتی مفاد سے زیادہ ہو۔ یہ خصوصیت مجھے اب تک صرف عمران خان میں نظر آئی ہے۔ آپ نوازشریف کو دیکھ لیں، ان کے ذاتی مفاد پر آنچ آئی تو انہیں قومی سلامتی کے ادارے بُرے لگنے لگے، پاک آرمی بُری لگنے لگی، عدلیہ بُری لگتی ہے، نیب کا ادارہ انہیں بُرا لگتا ہے۔ وہ اپنی ذات تک محدود ہیں۔

یہ شخص (عمران خان ) اپنی ذات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے دن رات قوم کے لیے کام کرتا ہے۔ ہم نے نئے پاکستان کا خواب دیکھا ہے، یہ شخص اسے تکمیل تک لے جانا جانتا ہے، مجھے یقین ہے کہ اگر ایک بار اللہ نے عمران خان کو اقتدار دیا تو وہ پاکستان کو کرپشن سے پاک اور ترقی کی راہ پر گام زن کردے گا۔ 1997ء کے عام انتخابات میں نوازشریف نے ہمیں (انتخابی 36 نشستیں دینے کی پیش کش کی، خان صاحب نے اپنے قابل اعتماد ساتھیوں سے مشورہ کیا تو زیادہ تر کا مشورہ یہی تھا کہ ہمیں یہ پیش کش قبول کر لینی چاہیے، کیوں کہ اس سے ہمیں اقتدار میں آنے کا موقع ملے گا۔ لیکن خان صاحب کا کہنا یہی تھا کہ مجھے پھر ان کی مرضی پر چلنا ہوگا، مجھے اقتدار مکمل اختیارات کے ساتھ چاہیے۔ آج بھی لوگ کہتے ہیں کہ خان صاحب اگر یہ پیش کش قبول کرلیتے تو اب تک دو تین بار اقتدار میں آچکے ہوتے۔ عمران خان کو اللہ نے کیا نہیں دیا؟ عزت دولت شہرت، تو انہیں وزارت عظمی میں آکر ایسی کیا چیز مل جائے گی جو ابھی ان کے پاس نہیں ہے، لیکن وہ انہوں نے سب کچھ جانتے بوجھتے پاکستان کے بہتر مستقبل کے لیے سیاست میں قدم رکھا۔

ایکسپریس: کیا سیاست میں آنے کے لیے آپ کے پاس پی ٹی آئی کی شکل میں ایک ہی آپشن تھا، کبھی کسی اور جماعت نے شمولیت کی دعوت دی؟

عمران اسماعیل: نوجوانی کے دور میں ہم لوگ کوکن گرائونڈ، ہل پارک گرائونڈ اور ناظم آباد میں کرکٹ کھیلتے تھے، وہاں اکثر ایک ولیز جیپ آتی تھی، جس میں الطاف حسین، ڈاکٹر عمران فاروق، عظیم احمد طارق، آفاق احمد اور دو چار دوسرے لوگ ہمارا میچ ختم ہونے کا انتظار کرتے ، جس کے بعد وہ ہمیں بتاتے کہ جی مہاجروں کے ساتھ زیادتی، ناانصافی ہو رہی ہے۔ اُردو اسپیکنگ ہونے کی وجہ سے ہمیں ان کے باتیں درست بھی لگتی تھیں،کیوں کہ اس وقت مہاجروں کے ساتھ زیادتی ہو تو رہی تھی، کالج یونیورسٹی جاتے ہوئے بس کنڈیکٹر بد معاشی کرتے تھے۔ رکشہ ٹیکسی والے بدمعاشی کرتے تھے۔

پولیس بد معاشی کرتی تھی، تو ہمیں ان کی باتوں میں ان مسائل کا حل تو نظر آتا تھا لیکن پتا نہیں کیوں میرا دل کبھی الطاف حسین کی باتوں پر مطمئن نہیں ہوا، اس کی بات پر یقین نہیں ہوا کبھی کہ جی یہ بندہ واقعی مخلص ہے۔ اگر پی ٹی آئی وجود میں نہ آتی تو میں سیاست میں بھی نہیں آتا، میرا ارادہ اپنے کاروبار کو بڑھانے کا تھا۔ آپ کو ایک بات اور بتائوں کے سیاسی اور نظریاتی اختلافات اپنی جگہ لیکن میرے زیادہ تر دوستوں کا تعلق بھی ایم کیو ایم سے ہی ہے۔ رضاہارون ، فیصل سبزواری، خواجہ اظہارالحسن اور حیدر عباس رضوی سے میری بڑی اچھی دوستی ہے، لیکن خوشی، غمی دوستی یاری میں ہم نے کبھی اپنی سیاست کو نہیں آنے دیا۔ اس بات پر میری اپنی پارٹی کے اندر ہی مجھ پر بہت تنقید ہوئی۔

میری تو پاکستان پیپلزپارٹی والوں سے بھی بہت دوستیاں ہیں، مسلم لیگ ن واحد جماعت ہے جس میں میری کسی سے کوئی دوستی نہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں سے کوئی اس قابل نہیں کہ اس سے دوستی کی جاسکے، پارٹی کو ایک طرف رکھ دیں تب بھی میں ان سے بات بھی نہیں کرنا چاہتا۔ میری سمجھ میں تو یہ بات نہیں آتی کہ آخر یہ لوگ ٹی وی پر آکر اتنی گندی زبان کیسے استعمال کر لیتے ہیں؟ میں ان سب باتوں کا بہت خیال کرتا ہوں، اگر ٹی وی پر میری کسی سے لڑائی بھی ہوجائے تو میری بیٹی، بیٹا مجھ سے ناراض ہوتے ہیں کہ بابا آپ کیوں اتنا غصہ کر رہے ہیں، مجھے تو غصہ کرنے میں بھی ہچکچاہٹ ہوتی ہے۔ یہ لوگ پتا نہیں کس طرح واہیات باتیں کرلیتے ہیں یا پھر انہیں اس بات کی پروا ہی نہیں ہے کہ ان کے گھر والے کیا سوچیں گے، ان کے لیے سب کچھ صرف نوازشریف ہے۔

ایکسپریس: پاکستان تحریک انصاف موروثی سیاست کے خاتمے کی بات کرتی ہے لیکن این اے 154 کے ضمنی الیکشن میں جہانگیر ترین کے سیاست میں نو وارد بیٹے علی خان ترین کو ٹکٹ دے دیا گیا،کیا پی ٹی آئی کے پاس کوئی دوسرا موزوں امیدوار نہیں تھا ؟

عمران اسماعیل: سب سے پہلے تو آپ کو یہ بات واضح کرنی ہوگی کہ موروثی سیاست کیا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے بعد بے نظیر نے قیادت سنبھالی، اس کے بعد آصف زرداری اور اب قیادت بلاول بھٹو کے ہاتھ میں ہے۔ اسی طرح مسلم لیگ ن میں دیکھ لیں کہ نوازشریف مریم نواز کو سامنے لے آئے ہیں، اسی طرح ان کی جماعتوں کی قیادت ان کے بچوں کے پاس ہی آئے گی۔ انہیں آپ دور جدید کے شہنشاہ بھی کہہ سکتے ہیں۔ بلاول بھٹو کی تاج پوشی سولہ برس کی عمر میں ہوئی اور جنہوں نے انہیں گود میں کھلایا وہ آج بھی بلاول کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوتے ہیں۔

یہ لوگ کبھی پارٹی چیئرمین بننے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ اسی طرح مریم نواز کے سامنے سارے ن لیگی راہ نما غلاموں کی طرح ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوتے ہیں۔ میں تمام تر اختلافات کے باوجود چوہدری نثار کی اس بات کی تعریف کرتا ہوں، کہ انہوں نے اپنے سامنے کی بچی کی اطاعت قبول کرنے سے انکار کردیا اور ہر باغیرت آدمی کو یہی کرنا چاہیے۔ اگر عمران خان اپنے بیٹوں کو پارٹی چیئر مین بنادیں تو میں ان کی ماتحتی میں کام نہیں کروں گا، ہاں اگر کوئی اپنی محنت کی بنیاد پر آگے آتا ہے تو مجھے اس کوئی اعتراض نہیں ہے۔ شاہ محمود قریشی، اسد عمر یا جہانگیر ترین میرے بہت بعد میں تحریک انصاف میں آئے لیکن آج اگر یہ پارٹی عہدے میں مجھ سے آگے ہیں تو مجھے اس پر کوئی تکلیف نہیں ہے کیوں کہ انہوں نے یہ مقام خود اپنی محنت سے حاصل کیا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف میں ایسا ہرگز نہیں ہے عمران خان نے اپنے خاندان کے کسی ایک فرد کو بھی پارٹی میں نہیں آنے دیا۔ وہ تو اسے شوکت خانم اسپتال کی طرح ایک انسٹی ٹیوشن بنانا چاہتے ہیں۔ اب شوکت خانم اسپتال کو عمران خان کی ضرورت نہیں ہے، اب وہ ایک خود مختار ادارہ بن گیا ہے۔ اسی طرح وہ پارٹی کو اس طرز پر لانا چاہتے ہیں جس میں ہر کسی کو اپنی قابلیت کی بنیاد پر آگے بڑھنے کا موقع ملے۔ جہاں تک این اے 154 کے ضمنی الیکشن کی بات ہے تو اس حلقے میں ہمارے پاس اعلٰی ترین سے زیادہ موزوں امیدوار کوئی تھا ہی نہیں۔ اور اگر ہوتا تو یقیناً علی ترین کی جگہ وہ انتخابات لڑتا۔

ایکسپریس: عمران خان نے تبدیلی کے نعرے کے ساتھ قومی سیاست کا آغاز کیا، لیکن دیکھا جائے تو تبدیلی تو آپ کی صفوں میں بھی نظر نہیں آتی ، کیوں کہ ہر جماعت سے نکالا ہوا اور عوام کا آزمایا ہوا سیاست داں پی ٹی آئی میں نظر آتا ہے، اس بارے میں کیا کہیں گے۔

عمران اسماعیل: بہت سے سیاست داں اپنی جماعت چھوڑ کر ہمارے پاس آرہے ہیں، کچھ لوگ نظریات سے متاثر ہو کر آرہے ہیں، بہت سے لوگ اس لیے آرہے ہیں کہ انہیں پی ٹی آئی اقتدار میں آتی نظر آرہی ہے۔ جو لوگ پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہورہے ہیں ان میں اچھے بُرے ہر طرح کے لوگ ہوں گے۔ اگر ٹاپ پوزیشن پر  بیٹھا بندہ چوری نہیں کرتا، کرپشن نہیں کرتا تو اس کے ماتحت عملے میں بھی کرپشن نہیں ہوگی، ہم نے کے پی کے میں سو فی صد نہیں تو اسی نوے فی صد تو تعلیم، پولیس اور صحت کے نظام میں بہتری کی ہے۔ جب عمران خان وزیراعظم کی نشست پر بیٹھے گا تو یہ لوگ کرپشن نہیں کر پائیں گے، بات ساری صرف نظام کی ہے یورپ ، امریکا میں سارے سیاست داں شریف نہیں ہوں گے لیکن ان کا سسٹم اتنا سخت ہے کہ وہ انہیں کرپشن ، لوٹ مار کا موقع ہی نہیں دیتا۔ جب خان صاحب کے بنائے ہوئے سسٹم پر عمل ہوگا تو کوئی ایک روپے کی کرپشن نہیں کر سکے گا۔ جو ایمان دار ہوگا وہی ہمارے ساتھ چل سکے گا۔

ایکسپریس : لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال ہے کہ پی ٹی آئی اگر انہی آزمائے ہوئے سیاست دانوں کو اگلے الیکشن میں ٹکٹ دیتی ہے تو اس سے تبدیلی کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے؟

عمران اسماعیل: مجھے پتا ہو کہ پی ٹی آئی سندھ کا وزیر اعلٰی کرپٹ ہے، پیسے کھاتا ہے تب تو آپ مجھے رشوت کی پیش کش کریں گے اور میں رشوت لوں گا بھی، کیوں کہ مجھے پتا ہے کہ میرے اوپر بیٹھا شخص رشوت کھا رہا ہے، لیکن جب مجھے پتا ہوگا کہ میرا وزیراعلیٰ کرپٹ نہیں ہے اور میں اس کے پاس رشوت کی پیش کش لے کر گیا تو وہ مجھے بھی جیل میں ڈالے گا اور دوسروں کو بھی تو میں چاہتے ہوئے بھی غلط کام نہیں کرسکوں گا۔ پی ٹی آئی میں کرپشن کی کوئی گنجائش نہیں ہے چاہے وہ عمران خان ہی کیوں نہ ہوں۔

اس کی سب سے بڑی زندہ مثال تو یہی ہے کہ ہم نے سینیٹ الیکشن میں پیسے لینے والے بیس ایم پی ایز کو ایک منٹ میں نکال باہر کیا، پارٹی میں اس بات کی زیادہ تر لوگوں نے مخالفت کی ، ان کا کہنا تھا کہ خان صاحب ہم نے بیس ایم پی ایز نکال دیے تو اسمبلی میں ہماری طاقت کم ہوجائے گی، یہ سیاسی خودکشی ہے، جس پر خان صاحب نے کہا کہ حکومت جاتی ہے تو جائے لیکن ہم کرپشن کا ساتھ نہیں دیں گے۔ جس دن سینیٹ الیکشن ہوئے اسی دن خان صاحب کراچی آئے ، میں گاڑی چلا رہا تھا خان صاحب نے گاڑی میں بیٹھتے ہی کہا کہ ہماری پارٹی کے سترہ لوگ بکے ہیں، میں نے پریشان ہوکر پیچھے مڑ کر دیکھا کہ گاڑی میں کون کون بیٹھا ہے جس نے یہ بات سنی، مڑ کر دیکھا تو پچھلی نشست پر عارف علوی، شاہ محمود قریشی اور علی زیدی بیٹھے ہوئے تھے، میں دل میں خدا کا شکر ادا کیا کہ چلو کوئی ایسا نہیں ہے جس سے یہ بات باہر جائے گی۔ میں نے خان صاحب سے کہا کہ آپ کھلے عام یہ بات نہ کریں میڈیا کو بھنک پڑگئی تو مسئلہ ہوجائے گا، ہم پہلے اس مسئلے کی انٹرنل انکوائری کرتے ہیں۔

جب ہم ایئرپورٹ سے باہر نکلے تو خان صاحب نے میڈیا سے بات کرنے کے لیے گاڑی رکوائی، میں خان صاحب کے ساتھ ہی تھا، انہوں نے میڈیا سے گفت گو میں کہا،’’سینیٹ کے انتخابات میں اربوں روپے چلے ہیں اور ہماری پارٹی کے بھی سترہ سے بیس لوگ بکے ہیں، جن کی میں فہرست بنا رہا ہوں۔‘‘ میں خان صاحب کی شکل دیکھتا رہ گیا، گاڑی میں بیٹھتے ہی خان صاحب نے ہنستے ہوئے مجھے دیکھا اور کہا، اب ٹھیک ہے؟ اب تو بات باہر نہیں جائے گی؟

پارٹی اجلاس میں جب اس مسئلے پر بات ہوئی تو خان صاحب نے کہا کہ میرے پاس اس بات کے شواہد ہیں اور میں تین دن سے سویا نہیں ہوں کہ میری جماعت میں کرپٹ لوگ بیٹھے ہیں، اور میں صرف اس لیے انہیں نہ نکالوں کہ ہماری حکومت کم زور ہوجائے گی تو یہ مجھ سے نہیں ہوسکتا۔ اور اگلے دن ہی انہوں نے پریس کانفرنس میں ان ارکان اسمبلی کو پارٹی سے باہر نکال دیا۔ یہی سب اقتدار میں آنے کے بعد بھی ہوگا، اور اگر کوئی یہ سوچ کر آرہا ہے کہ وہ اس جماعت کے اقتدار میں آنے کے بعد پیسے بنالے گا تو میں اس کے آگے ہاتھ جوڑتا ہوں کہ بھائی جان بھاگ جائو، یہ وہ جماعت نہیں ہے، کیوں کہ یہ جو شخص جس کا نام عمران خان ہے یہ ایک پیسے کی کرپشن نہیں کرنے دے گا۔ یہ خود اپنا احتساب بھی کرتے ہیں، اور ہر سیاسی سرگرمی کے بعد ہم اس کا تجزیہ بھی کرتے ہیں کہ ہماری خامی کیا تھی، طاقت کیا تھی، اور آپ یقین نہیں کریں گے کہ کور کمیٹی کے اجلاس میںہم خان صاحب کے فیصلوں کو بلاجھجک چیلینج بھی کرتے ہیں۔ دیگر جماعتوں کے برعکس ہماری جماعت میں زیادہ جمہوریت ہے۔

ایکسپریس : معراج محمد خان اور جسٹس ریٹائرڈ وجیہ الدین صدیقی جیسے ایمان دار لوگ پی ٹی آئی میں وہ مقام کیوں حاصل نہیں کرسکے جس کے وہ حق دار تھے؟

عمران اسماعیل: معراج محمد خان صاحب اور جسٹس وجیہہ کی ایمان داری، اور بے داغ سیاسی کیریئر پر کوئی شک نہیں کیا جاسکتا۔ معراج محمد خان صاحب ہماری جماعت کے جنرل سیکریٹری رہے۔ وہ ایک سوشلسٹ ذہن کے آدمی تھے اور اپنے ان نظریات کو پی ٹی آئی کی پالیسی میں لانا چارہے تھے، لیکن سوشل ازم ہماری پالیسی میں کہیں فٹ نہیں ہو رہا تھا۔ اس سے وہ تھوڑا بد دل ہوئے ورنہ انہیں خان صاحب اور پارٹی پر کوئی اعتراض نہیں تھا۔ جسٹس وجہیہ الدین صدیقی بہت قابل قدر آدمی ہیں، پارٹی نے انہیں بہت عزت دی ، لیکن ایک وقت ایسا آیا کہ انہوں نے یک طرفہ فیصلہ کرتے ہوئے پوری پارٹی کو فارغ کردیا۔ ہم نے انہیں مصالحت کار بنایا تھا۔ انہوں نے عمران خان اور کسی دوسرے راہ نما سے مشورہ کیے بنا ایسا فیصلہ دیا ۔

جس سے پارٹی کے وجود کو بچانا مشکل ہوگیا تھا، لیکن ہم نے پھر بھی ان کے فیصلے کو مانتے ہوئے اپنی جماعت ڈس مینٹل کردی، کور کمیٹی توڑ دی، سارے عہدے ختم کردیے۔ لیکن پارٹی تو چلانی تھی اس کے لیے ہم نے ایک ایڈہاک باڈی بنائی کہ جب تک پارٹی کے اندرونی انتخابات نہیں ہوتے تب تک یہ ایڈہاک باڈی پارٹی کے معاملات دیکھے گی ۔ لیکن جسٹس صاحب نے پہلے اس باڈی سے استعفی دیا، پھر اپنے پارٹی عہدے سے بھی مستعفی بھی ہوگئے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان کا فیصلہ ذرا زیادہ سخت اور متعصبانہ تھا۔ وہ خود ناراض ہوکر گئے ہمارے دروازے ان کے لیے ہمیشہ کھلے ہیں یہ جسٹس وجیہہ صاحب کی پارٹی ہے وہ جب چاہیں آئیں۔ خان صاحب نے ان کے تحفظات دور کرنے کی بھی بہت کوشش کی لیکن وہ مانے ہی نہیں۔

ایکسپریس : کہا جاتا ہے کہ چند مخصوص افراد نے پی ٹی آئی کو یرغمال بنا رکھا ہے اور خان صاحب ان کے مشوروں کے مطابق سیاست کررہے ہیں، کیا ایسا ہی ہے؟

عمران اسماعیل : جی! اور ان مخصوص افراد کی فہرست میں مجھے بھی شامل کیا جاتا ہے۔ بات یہ ہے کہ ایک ہی گھر میں باپ کو بھی چار بیٹوں میں سے کسی ایک پر زیادہ بھروسا ہوتا ہے ، وہ اس کے مشوروں کو زیادہ وزن دیتا ہے۔ تو ایسا ہی کچھ معاملہ یہاں ہے، خاں صاحب کو بھی دوسروں کی بہ نسبت اپنے چار پانچ قریبی لوگوں پر زیادہ بھروسا ہے۔ اس میں اسد عمر ہیں، شاہ محمود قریشی، عامر کیانی، جہانگیر ترین ہیں اور وہ ان کے مشوروں کو زیادہ وزن دیتے ہیں۔

ایکسپریس: سینیٹ انتخابات میں آپ کے اور پاک سرزمین پارٹی کے مابین رابطوں کے بعد آپ ان کی حمایت حاصل کرنے میں کام یاب رہے۔ کیا اس بار عام انتخابات میں اس جماعت سے اتحاد یا سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہو سکتی ہے؟

عمران اسماعیل : ہمارے دروازے ماسوائے مسلم لیگ ن سب جماعتوں کے لیے کُھلے ہیں۔ ہم آئندہ انتخابات میں پاک سرزمین پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کر سکتے ہیں، لیکن یہ بات واضح کردوں کہ پی ٹی آئی اپنے انتخابی نشان بلے کے ساتھ الیکشن لڑے گی، ہم اتحاد نہیں صرف ایڈجسٹمنٹ کرسکتے ہیں۔

ایکسپریس : آپ سمجھتے ہیں کہ اگر بلاول تنظیم کو مکمل طور پر اختیار کے ساتھ چلائیں تو وہ اپنے نانا اور بانی پی پی پی ذوالفقار علی بھٹو کے عوامی خدمت کے مشن کو پورا کرسکتے ہیں یا پی پی پی اب کبھی عوامی جماعت نہیں بن سکتی؟

عمران اسماعیل : دیکھیں یہ بات تو آپ کنفرم کرلیں کہ اب پاکستان پیپلز پارٹی کا نظریہ وہ نہیں رہا جو ذوالفقار علی بھٹو کا تھا۔ مجھے نہیں لگتا کہ یہ اب کبھی عوامی جماعت بن سکے گی۔ اب قوم بھٹو کا قرض اتار اتار کر تھک گئی ہے۔ پہلے لوگوں کے پاس کوئی متبادل نہیں تھا، اب لوگوں کے پاس پی ٹی آئی کی شکل میں ایک بہتر متبادل ہے۔

ایکسپریس: اندرون سندھ کئی اہم شخصیات آپ کی پارٹی کا حصہ بنی ہیں اور چند اہم اور بڑے جلسے بھی منعقد کیے ہیں۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ سندھ پر برسوں سے راج کرنے والی پی پی پی کو اس بار الیکشن میں آپ کی وجہ سے سخت مقابلہ کرنا پڑے گا؟

عمران اسماعیل: انتخابات 2018 میں ہم پاکستان پیپلز پارٹی کو سرپرائز دیں گے، اور اگلے ایک ہفتے میں پی پی پی کے بڑے بڑے نام، جن پر یہ جماعت بڑی اچھل کود کرتی ہے ان کی پی ٹی آئی میں شمولیت ہوگی۔ ہماری اُن سے روزانہ کی بنیاد پر میٹنگز ہورہی ہیں۔ ذوالفقار مرزا کی پوری فیملی ہمارے رابطے میں ہے، ہم نے انہیں پی ٹی آئی میں شمولیت کی دعوت دی ہے اب فیصلہ انہیں کرنا ہے۔

ایکسپریس: سندھ میں ملک کے دیگر حصوں کی نسبت پی ٹی آئی کو زیادہ مقبولیت کیوں حاصل نہیں ہوسکی؟ کہا جاتا ہے کہ اس کی ایک وجہ سندھ کے مختلف اضلاع میں پارٹی اختلافات ہیں اور دوسرا یہ کہ آپ کی قیادت نے سندھ میں پارٹی سرگرمیوں کو اپنی ترجیحات میں شامل نہیں رکھا؟

عمران اسماعیل: گذشتہ انتخابات میں ہم نے کراچی میں تو ایم کیو ایم کو لپیٹ دیا تھا، ہاں اندرون سندھ ہمارے پاس امیدواروں کی کمی تھی، ہم اتنی محنت نہیں کرسکے جتنی ہمیں کرنی چاہیے تھی۔ شاید ہم لوگوں کو کنوینس کرنے میں ناکام رہے۔ جہاں تک بات ہے اندرونی اختلافات کی تو وہ ہر جمہوری جماعت میں ہوتے ہیں۔ اس کے دو ہی طریقے ہیں کہ یا تو الطاف حسین کی طرح اختلاف کرنے والے کو اوپر بھیج دیا جائے، دوسرا طریقہ یہ ہے کہ مہذب انسانوں کی طرح معاملات کو حل کیا جائے۔

ایکسپریس : کیا آپ کو لگتا ہے کہ حکومتِ سندھ کی کارکردگی سے ناخوش اندرون سندھ کے عوام اس بار تبدیلی کا ساتھ دیں گے؟

عمران اسماعیل : سندھ کے عوام پی پی پی سے متنفر ہیں، ڈائن بھی سات گھر چھوڑ دیتی ہے لیکن انہوں نے اپنے ہی علاقے لاڑکانہ کو نہیں چھوڑا، اربوں روپے کھا گئے، نہ تعلیم کا نظام بہتر کیا، نہ پانی فراہم کیا، آج بھی سندھ کے بیشتر شہروں میں سیوریج اور نکاسی آب کا باقاعدہ نظام موجود نہیں ہیں اور ہمیں امید ہے کہ اندرون سندھ کے عوام اس بار تبدیلی کا ساتھ دیں گے۔

عمران اسماعیل : آپ کی جماعت کو سندھ خصوصاً کراچی میں بہت سی حریف جماعتوں کا سامنا ہے، لیکن آپ اور آپ کی اعلٰی قیادت زیادہ تر صرف ایم کیو ایم کو ہی تنقید کا نشانہ بناتی ہے، اس کی وجہ؟

عمران اسماعیل : کراچی میں الطاف حسین کی ایم کیو ایم نے پچھلے تیس سال حکومت کی اور ان تیس سالوں میں انہوں کراچی کو لاشوں، بھتا خوری، چوری چکاری، اغوا اور دہشت کے علاوہ کچھ نہیں دیا۔ مہاجروں کے نام پر سیاست کی اور مہاجروں کو ہی سب سے زیادہ نقصان پہنچایا۔ کوٹا سسٹم جس کی بنیاد پر ایم کیو ایم بنائی وہ تک ختم نہیں کرا سکے۔ آج تک اس مسئلے پر اسمبلی میں بات نہیں کی۔ تو جس جماعت نے کراچی پر تین دہائی تک حکومت کی، کراچی پر سیاسی قبضہ کیا، کراچی کو تباہ کیا تو پھر تنقید بھی تو اسی جماعت پر کی جائے گی۔

ایکسپریس : عمران خان نے کراچی کے لیے اپنے دس نکاتی ایجنڈے میں میئر کراچی کی تقرری کو سر فہرست رکھتے ہوئے کہا کہ ہم اقتدار میں آنے کے بعد میئر کراچی کے براہ راست انتخاب کا طریقہ لائیں گے اور انہیں درکار تمام وسائل اور اختیارات دیں گے، لیکن موجودہ میئر کراچی کے اختیارات کے حوالے سے آپ نے اسمبلی میں کوئی آواز نہیں اٹھائی؟

عمران اسماعیل : یہ تاثر بلکل غلط ہے کہ ہم نے میئر کراچی کے اختیارات کے لیے بات نہیں کی۔ خرم شیر زمان نے اس مسئلے پر اسمبلی میں قرارداد پیش کی۔ ہماری جماعت کے منتخب نمائندوں نے میئر کراچی کے ساتھ سڑکوں پر مظاہرہ کیا، کیوں کہ ہم نے بلدیاتی انتخابات سے پہلے یہ وعدہ کیا تھا کہ میئر کا تعلق چاہے کسی بھی جماعت سے ہو، ہم کراچی کے مسائل کے حل کے لیے اس کا ساتھ دیں گے، میئر کے اختیارات اور فنڈ دلانے کے ہر ممکن سپورٹ کریں گے، کیوں کہ وسائل اور اختیارات کے بغیر تو کوئی بھی شخص کچھ نہیں کرسکتا۔

ایکسپریس : کہا جاتا ہے کہ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کو پی ٹی آئی میں لانے میں آپ نے اہم کردار ادا کیا۔ اس حوالے سے پارٹی صفوں میں مخالفت بھی کی گئی۔ کیا یہ درست ہے؟

عمران اسماعیل : جی یہ بات بالکل درست ہے، عامر لیاقت کی پی ٹی آئی میں شمولیت میں میں نے اہم کردار ادا کیا اور اس میں مجھے اپنی جماعت کے کچھ لوگوں کی مخالفت کا سامنا بھی کرنا پڑا، لیکن پارٹی اجلاس میں باہمی مشاورت کے بعد ہی انہیں پارٹی میں لایا گیا۔

ایکسپریس : اگر آپ نے عامر لیاقت کو کسی نشست پر ٹکٹ دیا تو کیا آپ کو یہ لگتا ہے کہ کراچی میں اس نشست پر پی ٹی آئی کو یقینی کام یابی ملے گی؟

عمران اسماعیل : ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کی مقبولیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا، لوگوں کی بڑی تعداد انہیں پسند کرتی ہے۔ اور اگر ڈاکٹرعامر انتخابات میں حصہ لینا چاہیں تو ہم انہیں ضرور ٹکٹ دیں گے۔ اب تو کراچی سب جماعتوں کے لیے کُھلا ہوا ہے۔ تیس برس بعد یہ پہلے الیکشن ہوں گے جس میں کراچی کے عوام کسی جبر، دہشت کے بغیر اپنی مرضی سے اپنے نمائندے منتخب کریں گے۔ ہماری خواہش تو یہی ہے کہ ڈاکٹر صاحب اس حلقے سے انتخابات میں حصہ لیں جہاں کسی زمانے میں متحدہ قومی موومنٹ کی اکثریت ہوتی تھی، اب یہ ان کی صوابدید پر ہے۔

ایکسپریس : نوازشریف کے حالیہ انٹرویو کے بارے میں آپ کا کیا کہنا ہے؟

عمران اسماعیل: اس سارے معاملے کو ڈان لیکس کے تناظر میں دیکھیں تو سارا کھیل سمجھ میں آجائے گا، یہ کام سوچی سمجھی سازش کے تحت ہورہا ہے ۔ وہی اخبار، وہی رپورٹر اور وہی کہانی۔ یہ بھی عجیب بات ہے کہ جو زبان جو اسرائیل ، بھارت پاکستان کے لیے استعمال کرتا ہے وہی زبان نوازشریف بولتا ہے۔

یہ ایک بین الاقوامی اسکرپٹ ہے۔ نوازشریف کے حالیہ بیان نے کشمیر کی تحریک اور دنیا بھر میں پاکستان کے امیج کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ جب آپ (نواز شریف) اقوام متحدہ میں تقریر کرنے جاتے ہیں تو کلبھوشن کا ذکر کرنا بھول جاتے ہیں، لیکن دس سال پہلے ہونے والے ممبئی حملے یاد رہتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس معاملے کو بہت سنجیدگی سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اس وقت پاک آرمی دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن پر لڑ رہی ہے، اور آپ دنیا بھر میں اس کے خلاف پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔ آپ پاکستان کے ساتھ ہیں یا بھارت کے؟ نوازشریف کا یہ بیان پاکستان کے قومی سلامتی کے اداروں پر بین الاقوامی دبائو ڈلوانے اور امریکی خوشنودی حاصل کرنے کے ایجنڈے کا حصہ ہے۔ انہیں اچھی طرح پتا ہے کہ جیل ان کا مقدر ہے اور اب یہ کسی نہ کسی طرح سیاسی شہید ہونا چاہ رہے ہیں۔

ایکسپریس : پاکستان تحریک انصاف خود کو متوسط طبقے کی جماعت کہتی ہے ، لیکن آئندہ انتخابات میں قومی اسمبلی کے ٹکٹ کی قیمت ایک لاکھ اور صوبائی اسمبلی کے ٹکٹ کی قیمت پچاس ہزار روپے رکھی گئی ہے، کیا آپ کو نہیں لگتا کہ اس طرح آپ نے ٹکٹ کو عام آدمی کی پہنچ سے دور کردیا ہے؟ جب کہ کراچی میں آپ کی حریف جماعت متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان) انتخابی ٹکٹ کے لیے کوئی مالی شرط عائد نہیں کرتی۔

عمران اسماعیل : نہیں ایسا ہرگز نہیں ہے، کیوں کہ ہم ٹکٹ کی مد میں جو رقم لے رہے ہیں وہ اسی امیدوار کی انتخابی مہم پر ہی خرچ کی جائے گی۔ اور اس میں کوئی برائی نہیں ہے، کیوں کہ ایک ایسی جماعت جس کے وسائل محدود ہوں اس کے لیے سب سے بہتر طریقہ یہی ہے۔ ایم کیو ایم اپنے امیدواروں سے انتخابی ٹکٹ کی مد میں رقم اس لیے نہیں لیتی تھی کہ وہ بھتے، اغوا برائے تاوان سے حاصل ہونے ولی رقم یہاں خرچ کر دیتی تھی۔

ایکسپریس: کن موضوعات پر کتابیں پڑھنا پسند ہیں۔ پسندیدہ شاعر؟ پسندیدہ ادیب؟

عمران اسماعیل : تاریخ ، سیاست اور شاعری کی کتابیں پڑھنا بہت پسند ہے، مرزا غالب، پروین شاکر، حبیب جالب، فیض احمد فیض اور احمد فراز بہت پسند ہیں۔

ایکسپریس : گلوکار کون سا اچھا لگا؟ اداکار؟ اداکارہ؟ فلم جو پسند آئی؟

عمران اسماعیل : اگر وقت مل جائے تو فلمیں دیکھ لیتا ہوں، قوالی غزلیں، اور کلاسیکل موسیقی بہت پسند ہے۔ جگجیت سنگھ اور مہدی حسن پسندیدہ غزل گائیک ہیں۔ امجد صابری شہید کی قوالیاں مجھے بہت پسند تھیں۔ اور اکثر ایسا ہوتا تھا کہ امجد صابری کے ساتھ علی زیدی بھی قوالی گاتے تھے، علی زیدی بھی بہت اچھے قوالی گاتے ہیں۔

نہاری کھلانے کی سزا!
این اے 246 کی انتخابی مہم سے جُڑا ایک واقعہ

جب میں کراچی کے حلقے این اے 246 امیدوار کی حیثیت سے کھڑا ہوا تو اس وقت وہاں بہت دہشت تھی۔ وہ الیکشن بہت ٹینشن میں گزرا۔ اس وقت جب لوگ الطاف حسین کا نام لینے سے ڈرتے تھے تو اس دور میں اس کے علاقے میں، محلے میں جا کر الیکشن لڑنا اسے چیلینج کرنے کے مترادف تھا۔ مجھے اندازہ تھا کہ یہاں سے جیتنا مشکل ہے ۔ اس وقت سارے ایم کیو ایم والے یہ سوچتے تھے کہ یا تو یہ آدمی پاگل ہے یا پھر اس کے پیچھے کوئی سازش ہے جو ہمارے گڑھ میں الیکشن لڑ رہا ہے۔ الطاف حسین کو تو ہر بات میں سازش کی بو آتی تھی۔

اس نے پورے کراچی اور حیدرآباد سے اپنے کارکنان کو بھر کر اس حلقے میں پہنچا دیا تھا، یہ الیکشن اس کے لیے زندگی و موت کا سوال بن گیا تھا۔ آپ یقین نہیں کریں گے کہ خوف کی وجہ سے کوئی ہمیں پینے کا پانی تک نہیں دیتا تھا۔ کراچی میں پہلی بار اگر ایم کیو ایم نے الیکشن کمپین کی ہے تو وہ این اے 246میں کی ہے۔ میں آ پ کو ایک دل چسپ واقعہ سناتا ہوں، میں ایک دن لیاقت آباد دس نمبر پر اپنے انتخابی کیمپ میں بیٹھا ہوا تھا، اس علاقے میں بہت تنائو تھا بس یوں سمجھیں کہ ایک تیلی دکھانے کی دیر تھی۔ کچھ دیر گذری کہ حیدر عباس رضوی ہمارے کیمپ میں آکر بیٹھ گئے اور کہنے لگے یار عمران، چائے پلائو۔ تو میں نے ان سے کہا کہ ہمارے پاس پینے تک کا پانی نہیں اور آپ چائے کی بات کر رہے ہیں۔ یہ بات سُن کر حیدر عباس رضوی میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے کیمپ میں لے گئے۔

جب میں وہاں پہنچا تو ایک صاحب اور بیٹھے تھے، حیدر بھائی نے مجھ سے پوچھا، آ پ ان کو جانتے ہیں؟ میں نے کہا، نہیں تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ یہ جاوید نہاری والے ہیں۔ اس کے بعد وہ صاحب مجھ سے کہنے لگے کہ بھائی آپ تو نہاری کھا کر چلے گئے، لیکن اس دن سے آج تک میری ڈیوٹی یہاں لگی ہوئی ہے اور میں ابھی تک اپنی دکان واپس نہیں گیا۔ ایک دن میں نے جلسے میں اعلان کیا کہ پیر کو دوبارہ جاوید نہاری کھانے جائوں گا۔ جب میں پیر کے روز وہاں پہنچا تو دکان بند تھی شٹر پر ایک بڑا سا بینر لٹکا ہوا تھا جس پر درج تھا، ’جاوید بھائی کی بھابھی کے انتقال کی وجہ سے آج دکان بند رہے گی۔‘

میں نے لڑکوں سے کہا کہ چلو ان کی بھابھی کی تعزیت کے لیے جاوید بھائی کے گھر چلتے ہیں لیکن لوگوں نے کہا کہ نہیں نہیں بہت ٹینشن ہوجائے گی۔ واپس اپنے کیمپ پہنچا تو مجھے کسی نے بتایا کہ سر ان کی بھابھی کا انتقال تو دو ماہ پہلے ہوا تھا اور انہوں نے صرف آج آپ کی وجہ سے اپنی دکان بند کی ہے۔ انہیں میرے نہاری کھانے سے کوئی ایشو نہیں تھا بات صرف یہ تھی وہ نائن زیرو کے علاقے میں آکر کھانے کو اپنے لیے چیلینج تصور کرتے تھے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔