فارمیسسٹ نہ بننا یارو…!!

ڈاکٹر نوید اقبال انصاری  بدھ 24 اپريل 2013
apro_ku@yahoo.com

[email protected]

’’ہم بوائز فارمیسی کرنے کے بعد جب ملازمت کے لیے یا انٹرن شپ کے لیے جاتے ہیں تو ہمیں انٹرن شپ کے نام پر 8 ہزار اور ملازمت کی صورت میں محض 12 ہزار کے قریب تنخواہ قبول کرنے کو کہا جاتا ہے، ہمیں گھر کو سپورٹ کرنا ہوتا ہے، ہم زیادہ تنخواہ کا مطالبہ کریں تو لڑکیوں کو ملازمت دیدی جاتی ہے، کیونکہ وہ کم سے کم تنخواہ پر راضی ہوجاتی ہیں، ایسا کیوں ہے؟‘‘

یہ سوال بی فارمیسی کے سال آخر کے ایک طالب علم نے جامعہ کراچی میں شعبہ فارمیسی کے تحت منعقدہ ایک پروگرام میں مختلف اداروں سے آئے ہوئے سینئر فارمیسسٹ Pharmacist سے کیا۔ اس طالب علم کو مطمئن کرنے کے لیے جواب تو دے دیا گیا مگر وہ جواب مجھ سمیت بہت سے طالب علموں کے لیے قابل ہضم نہیں تھا۔

فارمیسسٹ کا پیشہ ایسا ہے کہ جس کی دنیا بھر میں نہ صرف مانگ ہے بلکہ انھیں مناسب تنخواہ اور مراعات بھی دی جاتی ہیں، مگر اس کا کیا کیا جائے کہ ہمارے ملک میں جہاں دیگر معاملات میں الٹی گنگا بہہ رہی ہے وہی فارمیسی کے طلبا کے لیے بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں۔ کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ ان کے ساتھ بڑا ظلم ہے کیونکہ اگر داخلے سے قبل ان کو تمام صورتحال اور حالات سے آگاہ کر دیا جائے تو عین ممکن ہے کہ وہ کسی اور شعبہ میں داخلہ لے لیں یا پھر پہلے ہی سے صبر شکر کی عادت ڈالیں، ایک ایم بی بی ایس طالب علم کے برابر محنت کر کے بھی بہتر ملازمت نہ ملے تو صبر کیسے آئے!

صورتحال کچھ یوں ہے کہ انٹر کے امتحان پاس کرنے کے بعد جب طالب علموں کی اس بڑی تعداد کو جو میڈیکل کالجز میں داخلہ لینا چاہتے ہیں، داخلہ نہیں ملتا، اس وجہ سے کہ تمام ہی کالجز میں 80% کے قریب نمبر حاصل کرنے والے طالب علموں تک تمام سیٹ مکمل ہو جاتی ہیں اور یوں 80% سے کم نمبر والے میڈیکل میں داخلے سے محروم رہ جاتے ہیں، اس کے بعد پری میڈیکل سے تعلق رکھنے والے طالب علموں کے پاس صرف ایک خواب رہ جاتا ہے کہ وہ فارمیسی کی ڈگری حاصل کر لیں، یوں وہ فارمیسسٹ بننے کے لیے سرکاری و نجی جامعات میں داخلہ لینے دوڑتے ہیں۔ اس وقت کوئی انھیں یہ سمجھانے والا اور آگاہ کرنے والا نہیں ہوتا کہ اس ایک خواب کے پیچھے مت دوڑو آپ کے پاس اور بھی بہت سے (Option) راستے ہیں۔

اگر انھیں یہ معلومات فراہم کر دی جائے کہ کس شعبے میں ڈگری حاصل کرنے کے کیا کیا فوائد اور ملازمت و تنخواہ کی مارکیٹ میں کیا صورتحال ہے تو بلا شبہ وہ اپنا راستہ بدل لیں گے اور اپنی زندگی کے پلان کو درست سمت میں ترتیب دے سکیں گے۔ داخلے کے وقت اگر ایک طالب علم کو پتہ چل جائے کہ اسے کسی اسپتال میں ملازمت نہیں انٹرن شپ کے لیے بھی سفارش درکار ہو گی اور اگر ملازمت کے لیے کہیں جائے گا تو سوائے کسی اکاد کا بڑے اسپتال یا ادارے کے کہیں بھی اسے ماہانہ 15 ہزار سے زائد کی تنخواہ نہیں ملے گی تو وہ ہو سکتا ہے کہ بجائے فارمیسی میں داخلہ لے کر اپنے 5 سال گزارنے کے ایک دو سال کا کمپیوٹر ڈپلومہ کر کے ہی کوئی نوکری حاصل کرنے کو ترجیح دے کہ کم و بیش ایک فارمیسسٹ سے زیادہ یا اس کے قریب تر تنخواہ ایک انٹر اور بی اے پاس کمپیوٹر میں ڈپلومہ رکھنے والا بھی حاصل کر لیتا ہے، یا پھر کسی اور شعبے میں محنت کر لے جہاں مارکیٹ ویلیو کچھ بہتر ہو۔

حقیقت یہ ہے کہ انٹر کے بعد فارمیسی کا طالب علم 5 سال پڑھتا ہے جس کی پڑھائی دیگر شعبوں کے مقابلے میں زیادہ محنت طلب ہوتی ہے تاہم اس کے بعد بھی اسے ایک جانب 15 ہزار سے زائد کی نوکری نہیں ملتی، پھر اگر لیکچرار کی آسامی پر درخواست دینا چاہے تو درخواست بھی نہیں دے سکتا کیونکہ اس کی ڈگری کو 16 سالہ تعلیم کے برابر تسلیم نہیں کیا جاتا، جیسا کہ دیگر شعبوں میں انٹر کے بعد 4 سال پڑھیں تو آپ کو 16 سالہ تعلیم (ایم اے یا ایم ایس سی) کی ڈگری ملتی ہے اور اس ڈگری کی بنیاد پر لیکچر شپ کے لیے طالب علم درخواست دینے کا اہل ہوتا ہے، ضرورت تو اس امر کی ہے کہ جب طالب علم ہمارے ہاں میٹرک اور انٹر کا امتحان پاس کرے تو تمام تعلیمی ادارے اپنے اپنے طور پر طلبا کی رہنمائی کے لیے طلبا کو آگاہ کریں کہ کون سی ڈگری حاصل کرنے کے بعد انھیں مارکیٹ میں ملازمت اور تنخواہ کے کیا مواقعے ہوں گے۔

بہر کیف طالب علموں خصوصاً فارمیسی کے طالب علموں کا یہ مسئلہ اداروں کی ایمانداری کے باعث بھی حل ہو سکتا ہے کہ وہ میرٹ پر اور انصاف کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے فارغ التحصیل طلبا کو تنخواہ و مراعات کا پیکیج دیں۔ معاشرے میں جاری مادہ پرستی کے باعث ہم سب جانتے ہیں ایسا ممکن نہیں، ہاں قانون پر عملدرآمد کے لیے حکومتی سطح پر قوت استعمال کی جائے تو یہ صورتحال بدل سکتی ہے، مثلاً قانون کے تحت انڈسٹریز اور میڈیکل اسٹورز میں جہاں فارمیسسٹ کی تعیناتی ضروری ہے اس پر عمل درآمد کرایا جائے تو صورتحال یکسر تبدیل ہو جائے گی۔ جامعہ کراچی شعبہ فارمیسی کے استاد ڈاکٹر شعیب حارث نے بھی ایک تقریب میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اگر قانون پر عمل درآمد ہو جائے تو کراچی شہر میں اس قدر اسپتال اور انڈسٹریز ہیں کہ فارمیسی کی تعلیم حاصل کرنے والا کوئی بھی طالب علم بیروزگار نہیں رہ سکتا۔

قانون پر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث صرف فارمیسی کے ڈگری یافتہ نوجوانوں کا ہی نقصان نہیں ہو رہا، پورا معاشرہ اس سے متاثر ہو رہا ہے، لیکن ہمیں اس کا شاید شعور نہیں، مثلاً میڈیکل اسٹور پر فارمیسسٹ نہ ہونے کا نقصان ہی ملاحظہ کر لیجیے کہ ایک ڈاکٹر جب کسی مریض کو دوا لکھ کر دیتا ہے تو میڈیکل اسٹور پر موجود غیر فارمیسسٹ شخص اس مریض کو غلط دوا بھی فراہم کر سکتا ہے، مثلاً ایک ڈراپس جو آنکھ کے لیے ہے اس کا نام OPTOFIOX ہے جب کہ کان کے ڈراپس کا بھی اس سے ملتا جلتا نام OTOFIOX ہے، اگر میڈیکل اسٹور پر بیٹھا شخص اس فرق کو غلط سمجھ بیٹھے تو آپ خود اندازہ لگایئے کہ اس مریض کا کیا حشر ہو گا جو کان کے ڈراپس کو آنکھوں میں ڈال لے۔

اس طرح میڈیسن تیار کرنے والی کمپنیاں خلاف قانون دوائوں کے ملتے جلتے نام اور اسپیلنگ کو بھی استعمال کر رہے ہیں جو ایک جانب خلاف قانون ہے تو دوسری جانب پروفیشنل فارمیسسٹ ہی اس فرق کو سمجھ سکتا ہے، ظاہر ہے کہ جب پروفیشنل فارمیسٹ کی جگہ کسی اور کو ملازمت دے کر کاروباری لوگ اپنا پیسہ بچالیں گے تو مریض کو غلط دوا کی فراہمی سے کون بچائے گا؟ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں دوائوں کا غلط استعمال عام سی بات ہے اور اس کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں پر بھی کوئی ایکشن نہیں لیا جاتا۔

فارمیسی کے طلبا کی شکایت بجا ہے کہ 15 ہزار میں ایک مرد اپنے گھر کی کفالت کیا کرے؟ جب کہ آج کے دور میں 2 بچوں کے ساتھ خاندان کا گزارا 40 ہزار کی تنخواہ میں بھی ممکن نہیں تو 15 ہزار میں کیسے ہو گا؟ ہمارے ایک فارمیسٹ دوست اکثر مذاق میں کہتے ہیں ’’فارمیسٹ نہ بننا یارو! پچھتائو گے ساری لائف‘‘ شاید زیادہ غلط بھی نہیں کہتے، کیونکہ شادی کے بعد انھیں جس قلیل تنخواہ میں گزارا کرنا پڑ رہا ہے اس کے کرب کا اندازہ وہی کر سکتا ہے جو بی فارم کی ڈگری اور نکاح نامہ بیک وقت لے کر پھنس گیا ہو۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔