سعودی عورتیں، قانون سازی اور جمہوریت

شیخ جابر  بدھ 24 اپريل 2013
shaikhjabir@gmail.com

[email protected]

اس مرتبہ ہمیں ٹائم میگزین قریباً ایک ہفتے کی تاخیر سے وصول ہوا۔ ہمارے ایک کرم فرما فرما رہے تھے کہ یہ غیر ملکی رسائل عالمی ساکھ رکھتے ہیں لیکن افسوس کہ پاکستان میں یہ رسائل کبھی وقت پر صارف تک نہیں پہنچتے۔ ممکن ہے کچھ مبالغہ ہو، لیکن بات ٹھیک ہی لگتی ہے۔ بہرحال جاذبِ نظر سرورق اور کئی مضامین نے اپنی جانب توجہ مبذول کروائی۔ ٹائم ہر ہفتے ’’بریفنگ‘‘ کے زیرِ عنوان ساری دنیا سے، چُنیدہ خبریں ابتدائی صفحات کی زینت بناتا ہے۔ سعودی عرب کے حوالے سے خبر لگائی گئی عنوان تھا، ’’عورتوں کو قانون سازی کا حق ہونا چاہیے۔‘‘  یہ فرمان سعودی شاہزادی ریم الفیصل کا ہے۔

ٹائم میگزین نے سعودی خواتین کی اکثریتی رائے کو دانستہ نظر انداز کرتے ہوئے ایک شاذ رائے کو بڑی اہمیت دے دی۔ ریم معروف شاہ فیصل کی پوتی ہیں اور شوقیہ فوٹوگرافر ہیں۔ نہ معلوم  شاہزادی  نے یہ بیان کس تناظر میں دیا۔ میرے خیال میں  قانون تو وہ ہے جو اللہ تعالیٰ اور نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرما دیا۔ اب امت کے جلیل القدر فقہاء اور علماء اپنے اپنے وقت میں اللہ اور رسول کے فرامین کی روشنی میں احکامات اخذ کرتے ہیں۔ اسی طرح اجتہاد اور فتویٰ بھی ہر شخص کا بنیادی حق نہیں ہے۔ یہ صرف اور صرف اہلِ علم اور اہل فقہ کی ذمے داری ہے۔ اہلِ علم و تفقہہ میں سے بھی صرف اُن کی جو عابدین میں شامل ہوں۔ وہ فقہا و علماء جو خوفِ خدا میں بہت آگے ہوں۔ جو دنیا کو حقیر ترین سمجھتے ہوں۔

9/11 کے بعد سے سعودی فرمانرواں پر بہت دبائو تھا۔ شاید اسی دبائو کے زیرِ اثر سعودی عرب میں شاہ عبداللہ کو بعض غیر مقبول فیصلے کرنے پڑے۔ مثال کے طور پر سعودی عرب میں وہاں کی روایات کے برخلاف مخلوط یونی ورسٹی کا قیام۔ شاہ کا خواتین کے گاڑی چلانے کے بارے میں رائے کا اظہار۔ خواتین کو شوریٰ میں جگہ دینا۔2012کے اولمپک کھیلوں میں روایات کے برخلاف خواتین کی شمولیت  وغیرہ ایسے فیصلے ہیں کہ جن کا ماضی میں کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔ انھی اقدامات کی وجہ سے قدامت پسند اُنھیں مغرب زدہ اور امریکا کے قریب کہتے ہیں۔ ادھر مغرب بھی سعودی عرب میں ریفارمز سے خوش نہیں ہے۔ مغربی حلقوں میں ان فیصلوں کو نمائشی کہا جا رہا ہے۔ گویا نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم۔

ٹائم نے تو شاہزادی کی رائے کو بہت اہمیت دی۔ اگر یہ دیکھا جائے کہ سعودی عرب کی اکثریتی خواتین کیا سوچتی ہیں؟ کیا اُن کی بھی یہ ہی رائے ہے؟ جواب نفی میں ملتا ہے۔ ٹائم میگزین، 19 اکتوبر2009 کو اپنے ایک مضمون کے اندرونی صفحات پر بر سبیلِ تذکرہ رقم طراز ہے کہ سعودی خواتین کو روایتی نظام میں کسی قسم کی تبدیلی پسند نہیں۔ 2006 میں سعودی حکومت نے رائے شماری کی۔ نتائج کے مطابق86 فی صد سعودی خواتین مخلوط ماحول میں کام کرنے کے حق میں نہیں تھیں۔ ٹائم نے سعودی عرب سے شایع ہونے والے لڑکیوں کے رسالے ’’حیات‘‘ کے مدیر کا بیان نقل کیا ہے۔

اُن کا کہنا ہے کہ ’’حیات‘‘ کی زیادہ تر قاریائیں مخلوط ماحول میں کام کے حق میں نہیں۔ آج سعودی عرب کے باہر بیٹھ کر تو سعودی خواتین کے گاڑی چلانے پر بہت بات کی جاتی ہے، لیکن سعودی خواتین خود اس بارے میں کیا کہتی ہیں یہ جاننے کی کوشش کم ہی کی گئی۔ اس جائزے کے مطابق سعودی عرب کی 89 فی صد خواتین اس حق میں نہیں ہیں کہ عورتوں کو گاڑی چلانی چاہیے۔ ہم سوچتے ہیں کہ سعودیہ میں جو مال و اسباب کی فراوانی ہے، تو ایسی ہی سوچ بننی چاہیے۔ عمدہ گاڑی اور ڈرائیور میسر ہو تو کون گاڑی چلانا چاہے گا؟ واللہ ُاعلم۔

31 مئی 2010۔ نیویارک ٹائمز، سعودی عرب کی رودھا یوسف کے بارے میں لکھتا ہے کہ رودھا نے ایک مہم چلائی، ’’میرا محرم بہتر جانتا ہے، میرے لیے کیا بہتر ہے۔‘‘ ابتداء میں صرف 15خواتین ہم راہ تھیں۔ چند ہی ہفتوں میں کارواں بن گیا۔ یہاں تک کہ جب محض دو ماہ بعد میرِ کارواں نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا تو پٹیشن پر 5400 سے زیادہ خواتین کے دستخط تھے۔ پٹیشن میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ کچھ لوگ آزادی اور حقوقِ نسواں کی آڑ میں بے حیائی اور مرد و زن کے آزادانہ اختلاط کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔ یہ ہماری روایات، تہذیب، تمدن اور مذہب کے خلاف ہے۔ ایسے افراد سزا کے مستحق ہیں۔

یکم جون 2006۔ واشنگٹن پوسٹ۔ گیلپ سروے کا پتہ دیتا ہے۔ گیلپ سروے کے مطابق سعودی خواتین کی واضح اکثریت رائے رکھتی ہے کہ سعودی عورت کو سیاست اور حکومتی عہدوں سے دور رہنا چاہیے۔ اگرچہ آج  خواتین کو شوریٰ میں شامل تو کر لیا گیا ہے لیکن یہ سعودی روایات کے برعکس ہے۔ یہاں تک کہ وہاں کی خواتین بھی اِس رائے کی حامل نہیں ہیں۔ 2006 میں 500 سے زائد خواتین نے شاہ عبد اللہ کو اس حوالے سے ایک یادداشت پیش کی تھی۔ یادداشت میں درخواست کی گئی تھی کہ سعودیہ کو مغربی یلغار سے بچائیں۔ خاص کر سعودی خواتین کو۔ اُن کا کہنا تھا کہ خواتین کے گاڑی چلانے پر اور ملازمتوں پر عائد پابندی برقرار رہنی چاہیے۔

مغربی فکر عورت مرد کے فطری دائروں کو توڑ کر مخلوط معاشرت کو عام کرتی ہے۔ آج سعودی عرب اُن کا خاص نشانہ ہے۔ وہاں کی عورت کو اُس کے اصل دائرہ عمل سے نکالا جا رہا ہے۔ حقوقِ نسواں، آزادی، ترقی اور معیارِ زندگی کے خوش نما جھانسوں میں پھنسایا جا رہا ہے۔ ہزاروں سال سے رائج روایتی اور آسمانی تقسیم کی تخصیص کے تصورات کو عملاً ختم کر کے عورت کو بازار کی جنس بنایا جا رہا ہے۔ چراغِ خانہ کو شمعِ محفل بنایا جا رہا ہے۔ اور تو اور مذہبی دلائل بھی تراشے جا رہے ہیں۔ اسلام نے واضح طور پر مرد اور عورت کی حدود کا تعین کر دیا ہے۔ ان حدود کی پائمالی فساد فی الارض ہے۔ جدیدیت پسند حضرات مصنوعی مسلط کردہ تمدن کو عین فطری سمجھ بیٹھے ہیں۔ وہ عورت کو وہ تمام اُمور تفویض کرنے کے درپے ہیں جو صرف مردوں کے لیے مختص ہیں۔

کچھ دوستوں کو یہاں یہ اشکال پیدا ہو سکتا ہے کہ مغرب جمہوریت اور آزادیِ اظہار کا حامی ہے۔ جب سعودی خواتین کی اکثریت روایتی طریقوں سے جینا چاہتی ہیں تو کسی کو کیوں اعتراض ہے؟ یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ روایتی تہذیبیں، تمدن، ثقافت اور مذہب، سرمایہ کے آزادانہ پھیلائو کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ دوسری اہم بات یہ کہ آپ کو آزادی چاہنے کی تو آزادی ہے۔ لیکن آپ کو اپنی آزادای سلب کرنے کی آزادی نہیں۔ یعنی آپ کو مادر پدر ہونے کی تو آزادی ہے۔ خود کو کسی غلامی یا بندگی میں دینے کی آزادی نہیں۔ عورتوں کو حقِ رائے دہی دینے کا اور اُنھیں حقوقِ نسواں پر اُبھارنے کا یہ مقصد نہیں کہ وہ اپنے لیے پردہ اور گھر چُن لیں۔ اگر ایسا کیا گیا تو آپ کی آزادی اور آپ کی رائے نہیں مانی جائے گی، بلکہ کُچل دی جائے گی۔

عورت کہیں کی بھی ہو اُس کا اصل مقام گھر ہے۔ گھر سے نکلی ہوئی عورت کو آج وہی کام غیر مردوں کے لیے جبراً کرنے پڑ رہے ہیں جو وہ گھر میں اپنی اولاد کے لیے اپنی خوشی سے کیا کرتی تھی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔