مرنا اگر یہی ہے تو جینا فضول ہے

شاہد سردار  پير 28 مئ 2018

آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں قلت آب کے شکار ملکوں میں پاکستان تیسرے نمبر پر پہنچ چکا ہے اور اس کی سب سے بڑی وجہ پانی کا ذخیرہ نہ کرنا اور اس کا نامناسب استعمال ہے۔

بھارت کی جانب سے پاکستانی دریاؤں پر مسلسل ڈیموں کی تعمیر ، بارشوں کی کمی ،آبی ذخائر کا فقدان، درجہ حرارت بڑھ جانے سے برف باری میں کمی اور آبادی میں ہونے والے اضافے کے باعث گھریلو سطح پر پانی کا استعمال بڑھ جانا ۔ یہ وہ عوامل ہیں جو پانی کے بحران کو روز بروز سنگین تر بنا رہے ہیں ۔ پاکستان زرعی معیشت کا حامل ملک ہے خریف کی کاشت کا وقت سر پر ہے جس کے لیے پانی کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔

ویسے بھی پانی کو زندگی مان اور جان لیا گیا ہے اور اس کے بغیر واقعی زندگی کا تصور بھی محال ہے لیکن ملک میں پانی کے ذخائر کم سے کم ہوتے چلے جانے کے باوجود اس مسئلے کے حل کے لیے ٹھوس کوششیں تو درکنار حکمرانوں اور سیاسی قیادتوں کی سطح پر یہ موضوع کہیں بھی زیر بحث نہیں لایا جاتا۔ پانی کی حد درجہ بڑھتی ہوئی قلت کے حوالے سے یہ ایک چشم کشا اور ہولناک حقیقت ہے کہ نئے پانی کے ذخائرکی تعمیر نہ ہونے کے سبب ایک کروڑ 23 لاکھ ایکڑ میٹھا پانی ہر سال سمندر کی نذر ہو رہا ہے جب کہ پانی کا غیر ضروری استعمال روکنے کے لیے بھی ضروری اقدامات عمل میں نہیں لائے جا رہے ہیں ۔

بھارت ہمارے حصے کے پانی پر قبضہ جماتا جا رہا ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے متعدد ڈیموں کی تعمیر ناگزیر ہے اور بھارت کو ’’سندھ طاس معاہدے‘‘ کی خلاف ورزیوں سے روکنے کے لیے اس معاملے کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا ضروری ہے لیکن وفاق اور صوبوں کی جانب سے نئے آبی ذخائر کی تعمیر اور دیگر ضروری اقدامات میں مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ ہو رہا ہے جب کہ ہمارے پاس مزید وقت ضایع کرنے کی گنجائش نہیں اور نئے آبی ذخائر کے بغیر گزارا ممکن نہیں۔

عالمی ماہرین آب کے مطابق ملک میں کم ازکم 120 دنوں کے پانی کا ذخیرہ ہونا ضروری ہے لیکن ہم آج صرف تیس دن کی ملکی ضرورت کا پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جو کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے قطعی غیر تسلی بخش ہے۔ خیال ہے کہ اگر صورتحال یوں ہی رہی تو آیندہ پندرہ سالوں میں چالیس فیصد لوگوں کو پاکستان میں پینے کا پانی دستیاب نہ ہوگا۔

یہ بات گزشتہ ایک دہائی سے کہی جا رہی ہے کہ اب اگر کسی مسئلے پر عالمی جنگ چھڑی تو وہ پانی کے مسئلے پر ہوگی۔ مگر حیرت ہے کہ سیاست دانوں سے لے کر سوشل میڈیا تک ہم بے شمار غیر ضروری امور پر لایعنی بحث و مباحثے میں تو الجھے رہتے ہیں مگر قلت آب جیسا سنگین مسئلہ کسی سطح پر زیر گفتگو نظر نہیں آتا حالانکہ اس جانب فوری توجہ نہ دی گئی تو کسی دشمن کی کارروائی کے بغیر اس ملک کی آبادی کا بہت بڑا حصہ پانی نہ ملنے کے باعث ہولناک تباہی اور جانی و مالی نقصانات سے دوچار ہوسکتا ہے۔

70 سال میں ہم صرف دو ڈیم بناسکے اور وہ بھی ڈیڈ لیول پر ہیں ۔ پاکستان کی خوش قسمتی کہیے کہ شمالی علاقہ جات خیبر پختونخواہ، بلوچستان، آزاد کشمیر اور شمالی پنجاب میں ایسے ہزاروں قدرتی مقامات ہیں جنھیں ڈیموں میں تبدیل کرکے مون سون کی بارشوں کا پانی سال بھر کے لیے ذخیرہ کیا جاسکتا ہے۔ ہمارے ارباب اختیار نے کبھی سندھ طاس منصوبے کو پڑھنے کی زحمت تک گوارا نہیں کی۔

بھارت 85 فیصد بجلی پانی سے بنا رہا ہے اور ہمارے ہاں پانی کا شعبہ لاوارث چلا آرہا ہے۔ حکومت پاکستان کی طرف سے بھارتی آبی جارحیت کے خلاف عالمی ثالثی عدالت میں نہ جانے میں تاخیر سے بھارت کی حوصلہ افزائی ہو رہی ہے اور اس کے ذمے دار پاکستان کے ’’آبی غدار‘‘ ہیں۔ کون نہیں جانتا بھارتی آبی جارحیت پاکستان کو بنجر اور ریگستان بنانے کی گھناؤنی سازش ہے، پاکستان کی جانب آنے والے دریاؤں پر 62 ڈیم بنا لینا، سندھ طاس معاہدے ہی کی نہیں بلکہ بین الاقوامی آداب کے بھی منافی ہے۔

ہمارے آبی ماہرین بتا چکے ہیں کہ اگر بھارت نے کشمیر سے نکلنے والے دریاؤں پر ڈیمز بنانے کے منصوبے مکمل کرلیے تو صرف دو سال بعد یعنی 2020 تک پاکستان کا پانی مکمل طور پر بند کرنے کے وہ قابل ہوجائے گا، جب کہ کارگل ڈیم میں سندھ کا 45 فیصد پانی موڑ کر ایک سرنگ کے ذریعے ڈالا جا رہا ہے، لیکن حکومتی سطح پر اس سلسلے میں کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی ایسے میں پاکستان کو ایک بنجر ملک میں بدلنے سے کون روک سکتا ہے؟ یہ آج کا سب سے بڑا اور سنگین سوال ہے۔

بھارتی آبی جارحیت کا توڑ اندرون ملک ہائیڈل منصوبوں کی تکمیل ہے، جب کہ سندھ و پنجاب کے دریا سوکھے پڑے ہیں، کینجھر جھیل ڈیڈ لیول تک پہنچ گئی ہے اورکراچی کا پانی بند ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے اور پاکستان کی آبادی میں اضافے کی شرح اگر موجودہ طرز پر ہی بڑھتی رہی تو خدشہ ہے کہ اگلے پانچ سالوں میں پاکستان میں پانی کی شدید قلت ہوجائے گی۔ یہ ایک مسلمہ امر ہے کہ پاکستان میں استعمال ہونے والے پانی کا تقریباً نوے فیصد حصہ زراعت کے لیے استعمال ہوتا ہے اور پاکستان پانی کو ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کے اعتبار سے بھی باقی دنیا سے بہت پیچھے ہے۔

60 فیصد سے زائد ریونیو کما کر دینے کے باوجود وفاق اور صوبے کی جانب سے کراچی شہر کوکچھ نہیں مل رہا۔ اس شہر میں نئی نئی ہاؤسنگ سوسائٹیز اور غیر قانونی آبادی قائم ہو رہی ہیں لیکن پانی کے ذرائع نہیں بڑھائے جا رہے۔ شہر کو مختلف مافیاز کنٹرول کر رہی ہیں جن میں واٹر ٹینکر مافیا بھی شامل ہے، بلدیاتی حکومت کا نظام بحسن و خوبی چلتا رہتا تو آج شہریوں کو پانی سمیت دوسرے مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ واٹر ٹینکر کا سب سے بڑا خریدار ڈی ایچ اے کا متمول طبقہ ہے۔ کراچی میں 193 غیر قانونی ہائیڈرنٹس اور 2100 غیرقانونی واٹر کنکشن منقطع کیے گئے۔ واٹر بورڈ کراچی میں باقاعدہ طور پر کام نہیں کر رہا جس کی وجہ سے پانی اکثر شہریوں تک سروس کے بجائے ’’جنس‘‘ کی صورت میں پہنچ رہا ہے۔

اس وقت کراچی شہر کے پانی پر ہائیڈرنٹ مافیا کا قبضہ ہے جو ہمارے سیاستدان چلا رہے ہیں۔ یہ بات کب کی عیاں ہوچکی ہے کہ پینے کے پانی میں زہریلے عناصر کے شامل ہونے سے سندھ اور پنجاب کا ہر تیسرا شخص ہیپاٹائٹس میں مبتلا ہوکر بعدازاں کینسر کے عارضے میں مبتلا ہوکر جان سے جا رہا ہے، لیکن اس جانب بھی کسی کی توجہ نہیں ہے۔

ضرورت اس امرکی ہے کہ محدود ذخیرہ آب کو انتہائی سوچ سمجھ کر استعمال کیا جائے اور ایک ایک قطرے کو ضایع کرنے سے بچانے کا اہتمام کیا جائے۔ زیر زمین پانی کو بھی جسکی سطح بتدریج کم ہو رہی ہے اسے کفایت سے استعمال کیا جائے اور پینے کے پانی کو شفاف بنا کر اس کی ترسیل کی جائے اور پانی کو ذخیرہ کرنے کے لیے چھوٹے چھوٹے ڈیم تیار کیے جائیں ورنہ وطن عزیز کا ہر جاندار بوند بوند پانی کو ترسے گا کیونکہ ہم نے بہت وقت ضایع کردیا ہے، شاید اس لیے بھی کہ ہم ہر سبق بہت دیر سے حاصل کرنے کے عادی ہوچکے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔