پرانے لاہور میں مسجد خراسیاں

طلحہ شفیق  جمعـء 1 جون 2018
مسجد خراسیاں کی تعمیر نو کا آغاز 1990 میں ہوا اور تین سال کی تعمیری مدت میں اس پر کل 26 لاکھ روپے خرچ ہوئے۔ (تصاویر بشکریہ بلاگر)

مسجد خراسیاں کی تعمیر نو کا آغاز 1990 میں ہوا اور تین سال کی تعمیری مدت میں اس پر کل 26 لاکھ روپے خرچ ہوئے۔ (تصاویر بشکریہ بلاگر)

پرانے لاہور کے لوہاری دروازہ میں بخاری چوک کے قریب چوک سے جنوب کی جانب ایک مسجد ہے جسے مسجد خراسیاں کہا جاتا ہے۔ انگریز عہد میں چوک بخاری کو چوک چکلا کہا جاتا تھا۔ اس مسجد کا اصل نام مسجد صدر جہاں تھا جسے 1015ھجری (1606 عیسوی)، عہدِ جہانگیر میں صدر جہاں نے تعمیر کروایا تھا۔

میراں صدر جہاں سے زمانہ شہزادگی میں جہانگیر نے چہل حدیث پڑھی تھی۔ صدر جہاں کو بعد میں صدارت کل کا عہدہ اور دو ہزاری منصب بھی جہانگیر نے دیا تھا۔ کہا جاتا ہے آپ بہت مخیر تھے اور خاصی لمبی عمر آپ نے پائی۔

انقلابِ زمانہ سے یہ مسجد خاصی خستہ ہوگئی تھی۔ 1924 میں اہل محلہ نے چندہ کرکے اس کی تجدید کی۔ اس مسجد کے ساتھ چوک جھنڈا کی طرف باغیچہ مسجد خراسیاں بھی تھا جو بعد میں باغ نہال چند کے نام سے جانا گیا۔

میں مسجد کے باہر کھڑا مسجد کو دیکھ رہا تھا کہ ایک بزرگ نے آواز دی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ انجمن تاجران لوہاری گیٹ کے صدر ہیں اور اس مسجد کی تعمیر نو انہوں نے کروائی ہے اور اس وقت وہ اس مسجد کی دیکھ بھال کررہے ہیں۔

انہوں نے کمال محبت سے مسجد کے متعلق بتانا شروع کیا۔ مسجد خراسیاں کی تعمیر نو کا آغاز 1990 میں ہوا۔ تین سال کی تعمیری مدت میں اس پر کل 26 لاکھ روپے خرچ ہوئے۔ مسجد خراسیاں کی روکار پر سفید اور سبز رنگ کی چینی ٹائلیں لگائی گئی ہیں۔ نیچے دکانیں ہیں جبکہ بالائی دو منزلوں پر مشتمل مسجد ہے۔

مسجد خراسیاں میں وقتاً فوقتاً مرمت و بحالی کا کام ہونے کی وجہ سے اب پرانے خدوخال نظر نہیں آتے۔ البتہ اس کی سیڑھیوں میں سرخ پتھر کا ایک کتبہ موجود ہے۔ فارسی زبان میں یہ کتبہ عبداللہ الحسینی نامی خطاط کے ہاتھ لکھا ہوا ہے۔ گو کہ مسجد خراسیاں میں آج قدیم دور کی جھلک بھی نہیں لیکن یہ مسجد ہے بے حد خوبصورت اور آج بھی دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔