میری دیوانگی اورمشرف

نصرت جاوید  جمعـء 26 اپريل 2013
nusrat.javeed@gmail.com

[email protected]

صدر زرداری کے مبینہ طورپر سوئس بینکوں میں رکھے ڈالروں کا سراغ لگانے کے لیے خط نہ لکھنے کے جرم میں وزارت عظمیٰ سے فارغ کر دیے جانے سے پہلے یوسف رضا گیلانی سرکاری طور پر برطانیہ بھی گئے تھے۔ اپنے چار  سالہ دورِ اقتدار میں انھوں نے کبھی مجھے اپنے کسی غیر ملکی دورے پر جانے کی دعوت نہیں دی تھی۔ اگر مدعو کرتے بھی تو انکار کر دیتا۔ کسی نام نہاد اصول پسندی کی بنا پر نہیں۔

بلکہ صرف اس وجہ سے کہ ہفتے میں چار دن ٹیلی ویژن کے لیے Live پروگرام کرنا ہوتا ہے اور مجھے اس پروگرام کے مناسب پیسے ملتے ہیں اور خود کو اس وجہ سے اپنی عمر میں پہلی بار خوش حال ٹائپ محسوس کرنے کی راحت مل رہی ہے۔ بہرحال برطانیہ کے دورے کے لیے مجھے ساتھ لے جانے کے لیے جب ان کے دفتر نے رابطہ کیا تو میں نے معذرت کر لی اور بعد ازاں اپنے اسی کالم میں بڑی تفصیل سے لکھ ڈالا کہ میں کن ٹھوس وجوہات کی بناء پر 1990ء سے کسی بھی صدر یار وزیر اعظم کے ہمراہ کسی غیر ملکی دورے پر جانے سے اجتناب برتتا ہوں۔

سرکاری دوروں سے اس پرہیز کے باوجود میں نے ٹیلی ویژن جرنلزم کی طرف منتقل ہو جانے سے پہلے بے تحاشہ سفر کیے ہیں۔ زیادہ تر دعوتیں مختلف سیمینارز میں شرکت کی ہوا کرتی تھیں اور پھر عراق، لبنان اور افغانستان جیسے ملک ہیں جہاں کے حالات اکثر بہت خطرناک ہو جایا کرتے ہیں اور مجھے جنگ زدہ حالات کی رپورٹنگ کرنے کا خبط لاحق ہے۔ اس سب کے باوجود ہماری وزارتِ اطلاعات نے سپریم کورٹ کو سرکاری خزانے پر عیش کرنے والے جن صحافیوں کی فہرست فراہم کی، اس میں برطانیہ کے دورے میں گیلانی صاحب کے ساتھ جانے والوں میں میرا نام بھی شامل کر دیا گیا۔

یہ نام ڈالتے وقت میرے کرم فرمائوں نے جن کی سرکاری ریکارڈ تک پوری رسائی حاصل ہے، پاسپورٹ، نادرہ اور ایف آئی اے کے محکموں سے یہ حقیقت بھی جاننے کی کوشش نہ کی کہ اس بدنصیب نے اپنی ذاتی حیثیت میں آخری مرتبہ برطانیہ کا سفر 2002ء کے دسمبر میں کیا تھا۔ لندن میرے پسندیدہ شہروں میں سے ایک ہے۔ اکثر مجھے وہاں کی انڈر گرائونڈ ریل، لائبریریاں، میوزیم اور تھیٹر بہت یاد آتے ہیں۔ مگر رزق کی مجبوریوں نے باندھ رکھا ہے۔

میری طرح کچھ اور صحافی دوستوں کے نام بھی سپریم کورٹ کی سرکاری ویب سائٹس پر مشتہر شدہ فہرست میں غلط طور پر ڈالے گئے ہیں۔ وہ اپنی ساکھ بچانے اب عدالت میں چلے گئے ہیں۔ کمال مہربانی سے انھوں نے مجھے بھی اپنے ساتھ فریق بننے کی دعوت دی۔ عاصمہ جہانگیر جیسے مہربان وکیل دوستوں نے بھی از خود تعاون کے لیے رابطہ کیا۔ ان کا بہت شکریہ۔ مجھے اپنے بارے میں پارسائی کی شہرت پھیلانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ہر رات بڑے مطمئن ضمیر کے ساتھ سوتا ہوں۔ مجھے انصاف کی تھپکیوں کی کوئی ضرورت نہیں اور نہ ہی کوئی ایسی لوری جو مجھے میری پارسائی کا یقین دلاتی ہو۔

میرا اصل دُکھ تو یہ ہے کہ بحیثیت قوم ہم فروعات میں اُلجھ کر رہ گئے ہیں۔ ہماری بے حس اشرافیہ نے برسوں کی بری حکمرانی کی وجہ سے سنگین مسائل کے جو پہاڑ کھڑے کیے ہیں ان کے قابلِ عمل حل کے راستے ڈھونڈنے کی طرف کوئی توجہ نہیں دے رہا۔ نام نہاد پڑھے لکھے لوگوں کا ایک ہجوم دن رات محض اس فکر میں مبتلا دِکھ رہا ہے کہ کسی نہ کسی حوالے سے اچھی یا بری شہرت رکھنے والوں کی برائیاں ڈھونڈ کر سارے جہاں میں اس کا ڈھنڈورا پیٹا جائے۔ محض اپنے آپ کو یہ تسلی دینے کے لیے کہ وہ بڑے حاجی، غازی اور اصول پسند ہیں۔

لوگوں کی ذات پر گند اُچھالتے ہوئے ہم اس گمان میں مبتلا ہو چکے ہیں کہ پاکستان اب ایک مختلف قسم کا ملک ہو چکا ہے۔ یہاں آزادی رائے ہے، میڈیا مستعد اور عدلیہ آزاد۔ خلق ِخدا راج کر رہی ہے اور کوئی شخض خواہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو اس کے سامنے جوابدہ ہے۔ میرے جیسے دیوانے جب اس شک کا اظہار کرتے ہیں کہ ابھی منیر نیازی والی قیامت نہیں آئی تو فوراََ میری توجہ اس ’’مکافاتِ عمل‘‘ کی طرف موڑ دی جاتی ہے جس کا نو سال تک اس ملک پر بادشاہی کرنے والے جنرل مشرف بادی النظر میں گزشتہ چند ہفتوں سے سامنا کر رہے ہیں۔ سمجھ نہیں آتی کہ جواباََ طلسماتی کہانیوں کے راویوں کی طرح ہنسوں یا روئوں۔

’’مکافاتِ عمل‘‘ کی دہائی دینے والوں کو بس یاد کر لینا چاہیے کہ جنرل مشرف کے خلاف اس ملک سے غداری اور بے نظیر بھٹو جیسی کرشماتی شخصیت کے قتل جیسے سنگین الزامات لگائے گئے ہیں۔ یہ بات ذہن میں رکھتے ہوئے بس اتنا بتا دیجیے کہ اس ملک میں قتل کے کتنے ملزم عدالتوں سے اپنی ضمانتیں رد کیے جانے کے بعد ریاست ہی کے دوسرے اداروں کی طرف سے فراہم کردہ محافظوں کے سائے میں اپنے گھر لوٹ جاتے ہیں اور بڑے شور و غوغا کے بعد ان کے اپنے گھروں کو ’’سب جیل‘‘ قرار دے کر حکام کو تفتیش کے لیے وہیں جانے کا حکم دیا جاتا ہے۔

ہمارے عام متوسط طبقے کے گھروں میں کوئی قیمتی چیز چوری ہو جائے تو وہاں کے ڈرائیور، خانسامے اور صفائی کرنے والے پولیس شکایات درج کرنے کے فوری بعد اُٹھا کر تھانوں میں بند کر دیتی ہے۔ بعض اوقات تو چوری نہ کرنے کے باوجود ایسے ملزمان پولیس کے بہت ہی ’’انسانی سلوک‘‘ کی بدولت اقبالِ جرم بھی کر لیتے ہیں۔ جنرل مشرف خوش نصیب ہیں۔ ان کے ساتھ ایسا کوئی واقعہ نہیں ہو گا۔ کچھ روز تماشہ چلے گا اور بالآخر ان کے ساتھ وہی سلوک ہو گا جو بادشاہ بادشاہوں کے ساتھ برتا کرتے ہیں۔ برائے مہربانی مجھے جھوٹے الزامات لگاکر اور بُرا کہہ لیجیے۔ بس اتنا یقین دلا دیں کہ جنرل مشرف کے ساتھ وہ کچھ نہیں ہو گا جس کی میں توقع کر رہا ہوں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔