خیرپور، گمبٹ اسپتال میں گردوں اور جگر کی مفت پیوند کاری

عرفان حیدر خان  منگل 12 جون 2018
ایسے مریضوں کےلیے جن کا علاج پیوند کاری ہی سے ممکن ہے، گمبٹ انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (گمس) امید کی ایک کرن ہے جو مسیحا کی تلاش میں نکلنے والوں کو راستہ دکھا رہی ہے۔ (تصاویر بشکریہ بلاگر)

ایسے مریضوں کےلیے جن کا علاج پیوند کاری ہی سے ممکن ہے، گمبٹ انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (گمس) امید کی ایک کرن ہے جو مسیحا کی تلاش میں نکلنے والوں کو راستہ دکھا رہی ہے۔ (تصاویر بشکریہ بلاگر)

دکھی انسانیت کی خدمت اور اسے علاج معالجے کی سہولیات کی آسان فراہمی ایک عظیم کارخیر ہے، جو اس کارِخیر کو خود پر لازم تصور کرتے ہوئے مرکزی کردار اور خدمات ادا کرتے ہیں یقیناً وہ تعریف کے حقدار بھی ہیں۔ ملک میں کئی ایسی مثالیں ہیں جو لائق تحسین ہونے کے ساتھ ساتھ قابلِ تقلید بھی ہیں۔ ایسی ہی ایک مثال لاڑکانہ سے 50 کلومیٹر دور ضلع خیرپور میرس کی تحصیل گمبٹ میں واقع ہے۔

گمبٹ ایک شہر ہے جو ضلع خیرپور، سندھ میں واقع ہے اور انتظامی اعتبارسے ایک تحصیل کا درجہ رکھتا ہے۔ گمبٹ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز اسپتال اپنی نوعیت کا جدید ترین اسپتال ہے جو علاج  کی آس لگائے، بھاری اخراجات کے باعث زندگی سے دور ہوتے ہزاروں مریضوں کےلیے زندگی کی نوید ہے۔ یہاں جگر کی پیوند کاری کی مفت سہولت سے لے کر کئی مہنگے ترین امراض کے مفت علاج کی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔ پاکستان میں اعضاء کی ناکارگی (آرگن فیلیور) کے باعث ہر سال ایک لاکھ 50 ہزار سے زائد ایسے مریض جان سے گزر جاتے ہیں جن کا علاج اعضاء کی پیوندکاری سے ہی ممکن ہوتا ہے۔ ایسے مریضوں کےلیے گمبٹ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (گمس) امید کی ایک ایسی کرن جو مسیحا کی تلاش میں نکلنے والوں کو راستہ دکھا رہی ہے۔ گمس کی حدود میں بہترین جمنگ کی سہولیات کے ساتھ ساتھ حفظانِ صحت کے اصولوں پر قائم بہترین کینٹین آنے والوں کو خوش آمدید کہتی نظر آتی ہے، جبکہ لائبریری کو بھی بیش بہا کتابوں اور ٹیکنالوجی سے مرصع کیا گیا ہے۔ یہی نہیں بلکہ مریضوں اور اُن کے اہل خانہ کےلیے پارک اور آڈیٹوریم بھی اس ادارے کی جدید تقاضوں سے ہم آہنگ تعمیر کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

گمبٹ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز جسے پیر سید قادر شاہ جیلانی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، ایسے مریضوں کےلیے دارالامان کا درجہ رکھتا ہے جن کے پاس علاج معالجے کی سکت نہ ہونے سے گویا زندگی کی آس ہی ٹوٹ گئی تھی۔ گمس کے سربراہ ڈاکٹررحیم بخش ہیں جنہوں نے 43 برس قبل 2 کمروں پر مشتمل ڈسپنسری سے ابتداء کرتے ہوئے، اپنی جانفشاں ٹیم سے مل کر نہ صرف 800 بستروں والے جدید ہسپتال میں تبدیل کردیا بلکہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل سے رجسٹرڈ میڈیکل کالج کا درجہ دلوا دیا ہے۔

میڈیکل سائنس کے شعبے میں ہونے والی حیرت انگیز ترقی کے باعث جو بیماریاں ماضی میں لاعلاج سمجھی جاتی تھیں، اب ان کا  بھی علاج دستیاب ہے۔ جگر، دل اور گردوں کی پیوندکاری اب ایک عام علاج ہے لیکن اس قسم کی بیماریوں کے علاج اس قدر مہنگے ہیں کہ ایک غریب آدمی ہی نہیں بلکہ مڈل کلاس کا کوئی مریض تک اس قسم کے مہنگے علاج کے اخراجات برداشت نہیں کرسکتا۔ البتہ مشکل ہی سے یقین آتا ہے کہ جس آپریشن پر 40 سے 60 لاکھ روپے کا خرچ آتا ہے وہ آپریشن اور اس سے متعلق تمام سہولتیں ایک چھوٹے سے علاقے کے ایک اسپتال میں مفت فراہم کی جا رہی ہیں! گمس کےلیے جدید ترین مشینری درآمد کی گئی ہے جو ایشیائی اور عرب ممالک میں کہیں نہیں۔ گمس میں جنرل میڈیسن کے علاوہ سرجریز، ڈائیلیسس، انجیوگرافی، انجیو پلاسٹی، بائی پاس، ہڈی کے گودے کی پیوند کاری (بون میرو ٹرانسپلانٹ) سمیت، بچوں اور خواتین کی بیماریوں کے تمام آپریشنز مفت کیے جاتے ہیں؛ جبکہ مرض کی تشخیص کےلیے گمس کے پاس اپنی جدید مشینری موجود ہے۔ اس کے علاوہ ٹیسٹ بھی مفت کیے جاتے ہیں، نومولود بچوں کےلیے وینٹی لیٹرز، اینکیوبیٹرز اور ایڈوانس آئی سی یو بھی موجود ہیں۔

گمبٹ انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز سندھ میں جگر کی پیوندکاری کا نہ صرف پہلا بلکہ واحد مرکز بھی ہے۔ یہاں جگر کی پیوندکاری مفت کی جاتی ہے اور مریض سے کوئی پیسہ نہیں لیا جاتا جبکہ پڑوسی ممالک میں جگر کی پیوندکاری پر 70 سے 75 لاکھ روپیہ خرچہ آتا ہے۔ جگر کی پیوندگاری سے پہلے جو جگر کے میڈیکل ٹیسٹ کیے جاتے ہیں، ان کا بھی انتظام گمس میں کیا گیا ہے۔ ضلع خیرپور کی دوسری بڑی تحصیل ہونے کے ناتے گمبٹ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں ملحقہ علاقوں سمیت دور دراز مقامات سے مریض علاج کی غرض سے آتے ہیں جنہیں بغیر کسی فیس کے مفت علاج کی سہولیات بہم پہنچائی جارہی ہیں۔

450 افراد پر مشتمل ڈاکٹرز، پیرامیڈیکس اور معاون عملے کی ٹیم سے سندھ کے اس دوردراز علاقے میں قائم اسپتال کو 2007 میں انسٹی ٹیوٹ جبکہ 2013 میں ڈگری دینے والے ادارے کا درجہ ملا۔ گمس میں کلاسز کا اجراء ہوچکا ہے 2 اسپتالوں کا تعمیراتی کام تکمیل کے آخری مراحل میں ہے جبکہ انسٹی ٹیوٹ میں خطے کا جدید ترین اینیمل ہاؤس اور ٹری پلانٹ قائم کیے گئے ہیں جہاں آنے والے دور میں زیر تعلیم طلبا و طالبات کو ریسرچ کے مواقع میسر آئیں گے۔

ڈسپنسری سے تعلقہ اسپتال، اسپتال سے انسٹیٹیوٹ اور پھر میڈیکل کالج تک کا یہ سفر برسوں پر محیط ہے لیکن اگر کہا جائے کہ اس کی تکمیل اور جدید طرز تعمیر میں لوگوں کی جمع پونجی کے ساتھ ساتھ خون پسینہ بھی شامل ہے تو بے جا نہ ہوگا۔ آئیے سید قادر شاہ جیلانی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے مزید شعبوں اور کارکردگی پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔ یہاں مفت طبی سہولیات میں آرگن ٹرانسپلانٹ کے علاوہ ایڈوانس سرجریز جیسے کہ لیور ٹرانسپلانٹ، کڈنی ٹرانسپلانٹ، کورنیئل ٹرانسپلانٹ، انجیوپلاسٹی، انجیوگرافی، اوپن ہارٹ سرجری، آرتھوپیڈک سرجریز اور جنرل سرجریز بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ گمس میں تمام اقسام کی آؤٹ پیشنٹ سروسز بھی فراہم کی جارہی ہیں جن میں ڈائیلیسس، رینل ٹرانسپلانٹ، ٹراما سینٹر، برنس سینٹر، آئی سی یو، این آئی سی یو، سی سی یو، زچہ و بچہ کی نگہداشت کا سینٹر، اسٹروک کیس مینجمنٹ وارڈ، فزیوتھراپی اینڈ ری ہیبی لٹیشن سروسز، ریڈیالوجی (ایم آر آئی، سی ٹی اسکیننگ، ڈیجیٹل ایکس رے)، الٹراساؤنڈ، ایڈوانسڈ ڈائیگنوسٹک اینڈ ریسرچ لیبارٹریز، بلڈ بینک سروسز، ہاسپٹل فار میس، ویکسی نیشن سروسز، 24 گھنٹے اسٹینڈ بائی ایمبولینس سروسز اور لانڈری سروسز کے ساتھ ساتھ مستقبل قریب میں ہیپاٹو بیلیاری ڈیپارٹمنٹ، کینسر اسپتال، نرسنگ اسکول، اور متعدد پوسٹ گریجویٹ پروگرامز بھی پائپ لائن میں موجود ہیں۔

غرض پیر سید قادر شاہ جیلانی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز یا گمز اسپتال حکومت سندھ کی بھرپور معاونت اور آپ کے تعاون سے فلاح انسانیت میں پیش پیش ہے۔ اسے بحیثیت ادارہ آپ کی ضرورت ہے تاکہ ’’علاج سب کےلیے‘‘ کا نعرہ ہر گھر، ہر دہلیز تک ایک حقیقت کی صورت پہنچے؛ اور کوئی مجبور فرد بھی پیسہ نہ ہونے کی وجہ سے زندگی کی جنگ ہار نہ جائے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

عرفان حیدر خان

عرفان حیدر خان

عرفان حیدر صحافی، ٹی وی پروڈیوسر اور بلاگر ہیں۔ مثبت سرگرمیوں کو اجاگر کرنے کے خواہاں رہتے ہیں



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔