جمہوریت اور اس کے تقاضے

شکیل فاروقی  بدھ 13 جون 2018
S_afarooqi@yahoo.com

[email protected]

یہ امر باعث اطمینان ہے کہ وطن عزیز میں آئینی اور جمہوری حکومت دوسری مرتبہ اپنی مدت پوری کرکے رخصت ہوچکی ہے اور نگراں حکومت نے 60 روز کے لیے اپنی ذمے داریاں سنبھال لی ہیں۔ یہ صورتحال ماضی کے مقابلے میں خاصی امید افزا ہے، اس پیش رفت کے نتیجے میں وطن عزیزکے اندر سیاسی استحکام اور آئین کی بالادستی کا تصور مستحکم اور مضبوط ہوتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ جمہوریت کے اس تسلسل کو قائم رکھنے کے لیے سیاسی مبصرین آیندہ انتخابات کے بروقت انعقاد کو خصوصی اہمیت دے رہے ہیں۔

دریں اثناء بعض حلقے اس سلسلے میں قیاس آرائیوں اور بے یقینی کا اظہار کررہے ہیں، ادھر بلوچستان اسمبلی نے الیکشن کو موخرکرنے کی قرارداد منظور کرکے ایک بے یقینی کی سی فضا پیدا کردی ہے۔ ملک کے دیگر صوبوں کے بعض سیاسی حلقوں میں بھی گو مگو کی سی کیفیت دکھائی دے رہی ہے ، تاہم الیکشن کمیشن نے اس بارے میں تمام خدشات اور تحفظات کو ایک مرتبہ پھر سختی سے مسترد کرتے ہوئے عام انتخابات کے طے شدہ پروگرام کے مطابق انعقاد کا یقین دلاتے ہوئے ایک مستحسن قدم اٹھایا ہے اس کے علاوہ نگراں وزیراعظم اور چیف جسٹس آف پاکستان نے بھی واضح یقین دہانی کرائی ہے کہ آیندہ انتخابات اعلان کردہ شیڈول کے مطابق مقررہ وقت پر ہوںگے ۔ ہمارے خیال میں ان یقین دہانیوں کے بعد بے یقینی کے منڈلاتے ہوئے سائے ختم ہوجائیںگے اور قوم پوری یکسوئی کے ساتھ عام انتخابات کی تیاریوں پر اپنی توجہ مرکوز کرسکے گی۔

نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ وطن عزیز میں انتخابی عمل اب تک کبھی بھی شفافیت اور غیر جانبداری کا حامل نہیں رہا۔ ہمارے یہاں اس حوالے سے تشدد، دھونس، دھمکی، رشوت، جعل سازی، دھاندلی، سرکاری وسائل کے ناجائز استعمال اور سیاسی اثر و رسوخ سمیت ہر وہ حربہ سیاسی ماحول اور انتخابی نتائج پر اثر انداز ہونے کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے جس کی قانون اجازت نہیں دیا ۔ حقیقت یہ ہے کہ ملک میں شفاف اور عوام دوست جمہوریت کی بنیاد ڈالنے کے لیے انتخابی عمل کو اس طرح کی تمام سیاسی گندگیوں اور آلائشوں سے پاک رکھنا ناگزیر ہے، انتخابات کے دوران پائی جانے والی بے ضابطگیوں اور بے قاعدگیوں کے ملک و ملت پر مرتب ہونے والے اثرات کو جاننے کے لیے صرف گزشتہ پانچ سال کا جائزہ لینا ہی کافی ہوگا۔

مثال کے طور پر مسلم لیگ ن کو اپوزیشن کی جانب سے انتخابی بے ضابطگیوں کے معاملے میں طرح طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جس کی وجہ سے اس کی توانائیوں کا خاصا بڑا حصہ کسی پیش رفت کے بجائے اپنے سیاسی دماغ اور اپنی بقا پر خرچ کرنا پڑا ۔ ظاہر ہے کہ ملک کی معیشت بھی بڑی حد تک اس سیاسی بحران کی زد میں آئی جس کے نتیجے میں وطن عزیز کو بڑے پیمانے پر مالی دشواریوں اور مالیاتی خسارے سے دو چار ہونا پڑا، لہٰذا امید کی جاتی ہے کہ الیکشن کمیشن آیندہ انتخابات کے حوالے سے 2013 کے عام انتخابات کے تجربات سے پورا پورا فائدہ اٹھائے گا اور ان چور دروازوں کو بند کرنے کی پوری کوشش کرے گا کہ جن کے ذریعے عوام کے حق رائے دہی پر ڈاکہ ڈالا جاتا ہے۔ چنانچہ ضروری ہے کہ شفاف انتخابات کے پہلے مرحلے کے طور پر 60 نکاتی ضابطہ اخلاقی پر عمل در آمد کو یقینی بنایا جائے اور کسی قسم کے ڈھیل کو شفافیت کے راستے میں رکاوٹ نہ بننے دیا جائے۔

ماضی کے تلخ تجربات اور موجودہ حالات وواقعات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ پچھلی غلطیاں دہرانے کی مزید کوئی گنجائش نہیں ۔ اس حقیقت سے انکار بھی ممکن نہیں کہ گردوپیش کے حالات سازگار نہیں ہیں، پاکستان کی دشمن طاقتیں ہرگز نہیں چاہیں گی کہ انتخابی مرحلہ آسانی کے ساتھ طے پا جائے۔ ان خدشات کے حوالے سے سیکریٹری الیکشن کمیشن کو خود یہ اعتراف کرنا پڑا کہ بیرونی طاقتیں الیکشن 2018 کو سبوتاژ کرنے کی خواہش مند ہیں۔اس تناظر میں تمام قومی حلقوں اور متعلقہ اداروں کو ہر وقت ہوشیار اور چوکنا رہنے اور اپنے فرائض منصبی انتہائی تندہی کے ساتھ ادا کرنے کی ضرورت ہے چنانچہ نادیدہ دشمن کی سازشوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ملک میں سیاسی استحکام اور جمہوری ارتقا کو برقرار رکھنے کی اشد ضرورت ہے خدا نہ کرے اگر ہماری کسی کوتاہی یا غفلت یا کسی غیر شعوری اقدام سے ملک دشمن طاقتوں کو اپنا ایجنڈا آگے بڑھانے کا موقع میسر آگیا تو اس سے بڑھ کر ہمارے لیے اور کوئی ناکامی نہیں ہوسکتی ۔

اس حوالے سے ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کو درپیش حالات کی حساسیت کا ادراک کرنا چاہیے اور بالغ النظری کا مظاہرہ کرنا چاہیے اس کے علاوہ انھوں نے اب تک بعض مواقعے پر جو غیر جمہوری ، غیر سیاسی اور غیر اخلاقی طرز عمل اختیار کیا تھا اس  پر نظر ثانی کی ضرورت ہے بڑے دکھ کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارا سیاسی کلچر روز بروز پستی کی طرف گامزن ہے۔

امانت و صداقت، اعتدال و بالغ النظری، کشادہ دلی اور اعلیٰ ظرفی اور برداشت کی جگہ عدم برداشت، تنگ نظری، الزام تراشی اور کردار کشی جیسے عناصر ہماری قومی سیاسی میں در آئے ہیں جن کے تباہ کن اثرات پوری قوم کے سامنے ہیں، اگر ہم نے اپنے بگڑتے ہوئے سیاسی ماحول کی اصلاح نہ کی تو اس کا خمیازہ پوری قوم و ملک کو بھگتنا پڑے گا جس کے نتیجے میں ہمارے عوام مزید انتشار اور خلفشار کا شکار ہوںگے اور ملکی سلامتی بھی خطرے میں پڑسکتی ہے۔  یاد رہے کہ ملک کی تعمیر اور ترقی اور عوام کی خوشحالی کا راز پر امن انتقال اقتدار میں مضمر ہے جب کہ عوام کا اعتماد جمہوری نظام پر بحال کرنا اور انھیں ووٹ کی اہمیت کا احساس دلانا ہماری سیاسی جماعتوں اور متعلقہ اداروں پر لازم ہے۔

ہمارے ملک میں جمہوریت کے بڑے چرچے ہیں اور تمام سیاسی رہنما ہمارے جمہوری نظام کی تعریف میں دن رات راگ الاپتے رہتے ہیں مگر نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے ملک میں جو جمہوری نظام رائج ہے وہ محض دعوے کی حد تک جمہوری ہے جس میں سیاسی جوڑ توڑ سے اقتدار تو حاصل کرلیا جاتا ہے مگر اس کے ثمرات عام آدمی تک نہیں پہنچ پاتے۔ کڑوا سچ یہ ہے کہ نام نہاد جمہوریت کی علمبردار ہماری بیشتر سیاسی جماعتیں اپنی صفوں میں بھی جمہوریت کو پھلتا پھولتا ہوا دیکھنا نہیں چاہتیں۔ ہم آمریت کی بات توکرتے ہیں لیکن کیا کبھی کسی جمہوری حکومت کو سیاسی اور آئینی اداروں کو مضبوط بنانے کی کوشش کی توفیق بھی ہوئی؟ ہم جمہوریت کے بارے میں بس اتنا ہی جانتے ہیں کہ اگر حکمران سول پوشاک میں ملبوس ہو تو جمہوریت اور اگر وردی پہنے ہوئے ہو تو آمریت۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔