ہم دیوالیہ نہیں ہیں

عبدالقادر حسن  بدھ 13 جون 2018
Abdulqhasan@hotmail.com

[email protected]

سپریم کورٹ نے جو کچھ کرنا تھا کر دیا اور مزید جو کچھ ہونے جا رہا ہے اس کا پتہ آنے والے ایک ماہ سے بھی کچھ کم عرصے میں چل جائے گا۔ سپریم کورٹ نے احتساب عدالت کو ایک ماہ کے اندر نواز شریف کے کیس میں فیصلہ کرنے کا حکم دیا ہے تا کہ ملک میں جاری گو مگو کی کیفیت کا خاتمہ ہو سکے ۔ایک مہینے سے کم وقت میں فیصلہ آنے کا مطلب یہ ہے کہ الیکشن سے پہلے نواز شریف کے احتساب عدالت میں کیسوں کا فیصلہ ہو جائے گا۔

اس کے بعد جو صورتحال بنے گی وہ اس وقت دیکھی جائے گی لیکن موجودہ صورتحال میں الیکشن ہیں، امیدوار ہیں اور ہم عوام ہیں عوام جو ایک بار پھر ان امیدواروں کے رحم و کرم پر ہیں اور یہ فیصلہ کرنے جا رہے ہیں کہ اس مرتبہ ان کا حکمران کون ہوگا جو  ان کی تقدیر کے فیصلے کرے گا۔ نواز لیگ بھی اس با ت پر امید ہے کہ عوام ایک بار پھر اس کو حق حکمرانی دیں گے حالانکہ اگر عوام یہ سب دیکھتے تو پرویز الٰہی کے اقتدار کا سورج کبھی غروب نہ ہوتا کیونکہ انھوں نے عوام کے اتنے کام کیے جن کے فوائد آج بھی عوام تک پہنچ رہے ہیں لیکن جب الیکشن کا موقع آیا توعوام نے الیکشن میں ان کو بھی رد کر دیا ۔اسی طرح عمران خان کی پارٹی تحریک انصاف جو نئے پاکستان کے لیے پر جوش ہے مگر نئے پاکستان کا نعرہ لگاتے پرانے سیاستدانوں کا شکار ہو گئی ہے اس کے بارے میں آنے والا وقت بتائے گا کہ عوام میں ان کے نئے پاکستان کے نعرے کی مقبولیت کتنی ہے۔

کہتے ہیں تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے پہلے الیکشن میں کھمبا بھی کھڑا کیا تو وہ جیت گیا تھا لیکن بعد میں وہ بھی اسی طبقے کا شکار بن گئے جس کے وہ خود نمایندہ تھے، صرف کچھ عرصے کے لیے ان سے باغی ہوگئے تھے اور اس بغاوت نے ان کو حکمران بنا دیا لیکن جیسے ہی وہ اپنے سابقہ طبقے میں واپس لوٹے تو اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ تاریخ کا ایک حصہ ہے۔ ملک بھٹو جیسے ایک عقلمند اور جرات مند لیڈر سے محروم ہو گیا۔

اس میں سارا قصور ان کا اپنا تھا، وہ عوام کی بات کرتے کرتے اشرافیہ کا شکار بن گئے۔ کچھ اسی طرح کی صورتحال آج پھر بن رہی ہے جب عمران خان عوام اور خاص طور پر پاکستان کے نوجوان طبقے کے سہارے ملک کے سیاسی منظر پر نمودار ہوئے اور عوامی مقبولیت کے ریکارڈ توڑ دئے لیکن وہ اپنے اس عروج اور مقبولیت کو سنبھال نہیں پائے اور اپنے پرانے ساتھیوں کو چھوڑ کر وزارت عظمیٰ کی دوڑ میں شامل ہو گئے ہیں اور اپنے دست و بازو ان کو بنا لیا جوکبھی بھٹو اور کبھی نواز شریف وغیرہ سمیت سب سیاسی لیڈروں کے ساتھ رہے لیکن عین وقت پر ان کو کندھا دینے سے انکار کر دیا ۔اگر آنکھیں کھول کر دیکھا جائے تو جو لوگ کل نواز شریف کا دم بھرتے تھے۔

آج وہی عمران خان کی پارٹی میں شامل ہو گئے ہیں اور اب تحریک انصاف کے امیدوار بن کر عوام کے پاس جا رہے ہیں۔ ایک شاعر نے بڑی خوبصورت نثر کہی ہے کہ آپ اپنے ہاتھ سے دوسرے ہاتھ کو کاٹ نہیں سکتے جب بھی ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ کو توڑنے کے لیے دبائیں گے تو درد ہونے پر اسے چھوڑ دیں گے ۔ ہمارے دونوں اطراف کے بڑے لوگ جو بدل بدل کر اور باری باری حکومت میں آتے رہتے ہیں، ایک ہی متعفن جسم کے دو ہاتھ ہیں لیکن ایک دوسرے کو توڑ نہیں سکتے شاید یہی وجہ ہے کہ کل کے الیکشن کے بعد جو لوگ آپ کے سامنے بطور امیدوار موجود تھے ،آج بھی وہی ہیں جو کل تک اسمبلی کے رکن تھے اور آنے والی اسمبلی میں پھر سے موجود ہوں گے ۔یہ چکر چلتا رہا تو ہر اسمبلی میں یہی لوگ دندناتے دکھائی دیں گے ۔

اس حالت میں کوئی ووٹروں سے کیا کہے کہ نیا پاکستان کے لیے کس کو ووٹ دو کون سے نئے لوگ ہیں جو نیا پاکستان بنا نے نکلے ہیں، یہ تو وہی جانے پہچانے پرانے اور ہمارے آزمائے ہوئے چہرے ہیں جنہوں نے پچھلے ستر برسوں میں پاکستان کا حلیہ ہی بگاڑ کر رکھ دیا ہے اور اب یہی لوگ نیا پاکستان بنانے کے دعویدار ہیں ۔ ہماری یہ بد قسمتی ہے کہ تبدیلی کے نعرے لگاتے لگاتے ہم خود بھی تبدیل ہوگئے اور کل تک جن کے خلاف جلسوں میںتقریریں اورٹی وی مباحثوں میں ان کی گوشمالی کی جاتی تھی، آج وہی نئے پاکستان کے سفر کے ساتھی بن گئے ہیں۔ گزشتہ کسی کالم میں عمران خان کی بشری خامیوں کا ذکر کیا تھا لیکن یہ معلوم نہ تھا کہ وہ ابھی تک سیاست میں اپنے آپ کو فٹ نہیں کرسکے اور ان کے آس پاس بھی وہی لوگ جمع ہو گئے ہیںجنہوں نے اس سے پہلے کئی نواز شریفوں اور آصف زرداریوں کی حکومتوں کے مزے لوٹے ۔

قوم اس وقت ایک ہی راستے پر جارہی ہے اور وہ راستہ فی الحال صرف اورصرف بنی گالہ کو جاتا ہے، وقتی طور پر قوم نے رائیونڈ سے کنی کترا لی ہے اور شہباز شریف کے بنائے گئے بائی پاس اور نواز شریف کے موٹر وے کو استعمال کرتے ہوئے اسلام آباد اور بنی گالہ کا راستہ چن لیا ہے۔ اس لیے عمران خان کو اپنے ان نئے ہم سفروں سے بچ بچا کر اس ملک کے عوام کی امیدوں پر پورا اترنے کے لیے اپنا ویٹو کا حق استعمال کرنا پڑے گا۔

ان پر ان دنوں مشوروں کی بارش ہو رہی ہے، میں اس میں کسی قطرے کا اضافہ نہیں کرنا چاہتا سوائے اس ایک مشورے کے کہ وہ رسول پاکﷺ کا یہ قول یاد رکھے کہ گناہ وہ ہے جس سے تمہارے دل میں کھٹک پیدا ہو ۔ ہر انسان کا دل اس کا حقیقی محتسب ہوتا ہے اور یہ دل جو ہر وقت سینے  کے اندر دھڑکتا رہتا ہے، قدم قدم پر خبر دار کرتا رہتا ہے، عمراں خان جوپچیس جولائی کو تبدیلی اور کسی نئے پاکستان کی بنیاد کا دن کہہ رہے ہیں، ان سے بھی یہی بات کہی جا سکتی ہے کہ وہ بھی خدا کے حضورجھک کر قومی اسمبلی میں پہنچیں اور اگر وزارت عظمیٰ کا تاج ان کے سر پر رکھا جائے تو خدا کو حاضر ناظر جان کراسے قبول کریں اور اپنا عوام کے ساتھ کیاہوا وعدہ پورا کریں۔

آنے والے وزیر اعظم کے پاس اب نہ پلاٹ ہوں گے نہ دوسری دلکش اور ایمان شکن مراعات ہوں گی،عوام اس قدر بیدار ہو چکے ہیں اور میڈیا اس قدر آزاد اور منہ پھٹ ہو چکا ہے کہ اب کسی حکمران کے لیے کھلی دھاندلی ممکن نہ ہو گی، اس لیے ہر کسی کو چارو ناچار درویش بن کر حکومت کرنی ہو گی اور اس کے پا س اگر کچھ ہو گا تو اس قوم کی خدمت ہو گی جس کے سہارے وہ بطور حکمران زندہ رہے گا ورنہ بیس کروڑ عوام کا سمندر ان کو بہا لے جائے گا۔

عمران نے کچھ اور تو کیا یا نہیں لیکن ایک کارنامہ ضرور کیا ہے کہ عوام کے شعور کو بیدار کر دیا ہے اور وہ عوام کے اندر کرپشن کے خلاف بے پناہ نفرت کو باہر لے آئے ہیں ۔ کرپشن کے خلاف نفرت اور یہ مطالبہ ہمیشہ زندہ رہے گا اگر اس میں کچھ کمزوری پیدا ہوئی تو پھر اپوزیشن کا کوئی جاندار لیڈر اس کو زندہ کر دے گا ۔ عوام کے اس مسلسل احتساب کے دبائو میں رہنے والا مستقبل کا وزیر اعظم سنبھل کر چلے گا اور اگر اس میں اقتصادی شعور ہوا تو وہ وسائل سے مالا مال اس دیوالیہ ملک کو خوشحالی کی راہ پر لگا سکے گا۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔