جو کل کرے سو آج جو آج کرے سواب

سعد اللہ جان برق  بدھ 13 جون 2018
barq@email.com

[email protected]

ایک مشہور قول زرین ہے کہ آج کا کام کل پر مت چھوڑو اگر چہ اس میں یہ گنجائش ہے کہ کل پر مت چھوڑوں ’’پرسوں ‘‘ تا ’’برسوں ‘‘ پر بے شک چھوڑو۔ لیکن پھر بھی ہم اس کے وہی معنی لیں گے جو عام طور پر غلط فہمی کی بناء پر لیے جاتے ہیں کہ آج کا کام کل پر مت چھوڑو۔ اس کی تائید سائیں کبیر داس وہی ’’ کبیرا ‘‘ جو ہر بات پر ’’ رویا ‘‘ کرتا ہے اس نے اس قول زرین میں تھوڑا سا اضافہ کرکے اسے یو اپ ڈیٹ کیا ہے ۔

جو کل کرے سو آج جو آج کرے سو اب

یعنی ٹی بی کا علاج کل نہیں آج ۔ اگر چہ بزرگوں نے اپنی غلط سلط باتوں سے اختلاف کو توہین عدالت کی طرح تو ہین بزرگان کے زمرے میں ڈالا ہوا ہے یعنی ’’ خطائے بزرگاں گرفتن خطاست ‘‘ عجیب سینہ زوری ہے کہ خطا کو خطا کہہ کر بیھ اس کی گرفتن پر گرفت لگادی بلکہ یہ بات خود ان بزرگوں کی ’’ خطا ‘‘ پر دلالت کرتی ہے جو ان کو دل ہی دل میں پتہ تھا کہ وہ غلط کہہ رہے ہیں اس لیے پہلے ہی سے ’’ توہین عدالت ‘‘ کا دفعہ نافذ کرکے حق بات کہنے پر قدغن لگادی ورنہ ہر کہ حساب پاک است از محاسبہ چہ باک است ۔ جسے اپنی سچائی پر اعتماد ہو وہ ایسا کرفیو کیوں لگائے گا غالباً یہی بات بزرگوں سے ’’ تعزیرات ‘‘ بنانے والوں نے اخذ کی ہے کہ ’’بزرگ ‘‘ جو بھی خطا کریں ان پر گرفت کرنے والے کو توہین عدالت کے جرم میں گرفتار کیا جائے گا ۔ لیکن ہم بزرگوں کی توہین عدالت سے نہیں ڈرتے اور ببانگ دہل کہہ رہے ہیں کہ یہ قول زرین بالکل غلط ہے کہ آج کا کام کل پر مت چھوڑو ان لوگوں کو پتہ کیا تھا کہ آج کا کام کل پر چھوڑنے ہیں جو ’’ مزا ‘‘ ہے وہ کام کرنے میں بھی نہیں ہے اور غالباً پاکستان میں سب ک اس ’’ مزے ‘‘ کا پتہ ہے نہ صرف پتہ ہے بلکہ ہر چھوٹا بڑا حتی المقدور یہ ’’ مزا ‘‘ لوٹتا بھی ہے۔

تجربہ کرکے دیکھئے ایک کام کرنے کی ٹھان لیجیے مثلاً روزہ اور پھر اپنے ’’ ٹھان ‘‘ کر ٹائیں ٹائیں کر دیجیے ۔ دیکھئے کتنا مزا آتا ہے ۔بخدا ہم تو روزانہ یہ مزے لوٹتے ہیں ہمارا مطلب روزے سے نہیں بلکہ دوسرے کاموں سے ہیں جن کو ہم کل پر چھوڑتے ہیں تو جو ’’ آیندہ ‘‘ ملتا ہے وہ ویسا ہی ہوتا ہے جیسے کسی کے گلے سے جلاد پھانسی کا پھندا اتار کر کہے کہ جا تیری پھانسی معاف ۔بلکہ آج کل تو ہم اس ’’ مزے ‘‘ میں ناک ناک تک ڈوبے ہوئے ہیں ارادہ کرتے ہیں کہ کل پشاور جائیں گے ساری رات سو نہیں پاتے دل میں یوں یوں ہوتا رہتا ہے کہیں ایسا نہ ہو جائے کہیں ویسا نہ ہو جائے صبح جب اٹھتے ہیں اور یہ سوہان روح خیال آتا ہے کہ آج سولی پر چڑھنا ہے تو چائے کا گھونٹ بھی حلق میں اٹک جاتا ہے لیکن پھر اچانک خیال آتا ہے کہ جس کا م کے لیے جا رہے ہیں وہ اتنا ضروری تو نہیں بلکہ ایسے ہی فالتو اور فضول کام ہے اور پھر اچانک سوکھے دھانوں میں پانی پڑ جاتا ہے۔

آج نہیں کل چلے جائیں گے اور آرام سے چادر کھینچ کر مزے ہی مزے لوٹنے لگتے ہیں۔آپ شاید سوچ رہے ہیں کہ آج کا کام کل پر چھوڑ کر ہم بچ تو نہیں گئے کہ کل کو بھی تو آنا ہوتا ہے لیکن ہم نہیں آپ بھول رہے ہیں جو کل آئے گی وہ آج بن کر آئے گی اور آج کو کل بنانے میں دیر ہی کیا لگتی آج کے بعد ’’ کلوں ‘‘ کا کال تو بن پڑا ہے آتے رہیں ہمیں کیا ہم بھی انھیں آج بنا کر پٹاتے رہیں گے ۔

اگر آپ یہ سوچ رہے ہیں کہ یہ سارا کٹھراگ بلکہ ’’بیانیہ ‘‘ ہم نے محض اپنی بات سنانے کے لیے پھیلایا ہے تو سراسر ویسے ہی غلطی پر ہی جیسے پورے ستر سال سے غلطی پر تھے غلطی پر ہیں او ر غلطی پر ہوں گے ۔کیونکہ ہمیں جب اس انتہائی خوش گوار بلکہ مزیدار شغل کی لذت کا احساس ہوا جو آج کا کام کل پر چھوڑنے میں ہے توہم نے اس ملک کے تمام رفتہ گذشتہ و پیوستہ تمام سابق اور لاحق ’’ لیڈروں ‘‘ کو معاف کردیا بلکہ ان کے لیے عام معافی کا اعلان کردیا جو ستر سال سے آج کاکام کل پر چھوڑتے چلے آرہے ہیں اور کل ’’کو آبنا کر ’’ کل ‘‘ ’’ کل ‘‘ کرتے رہتے ہیں ۔ ’’ تو گویا یہ بات تھی ‘‘

کل کے کہنے میں بھی قدرت نے مزا رکھا ہے

اور بہت زیادہ رکھا ہے کسی دن چکھ کر دیکھئے مزا نہیں آیا تو پیسے واپس ویسے آپ کو سمجھانے کی ضرورت ہے بھی نہیں کہ آپ پاکستان ہیں اور پاکستان ہو بہو اپنے لیڈروں پر گئے ہیں یا چلیے الٹا کر دیجیے کہ لیڈر آپ ہی پر گئے ہیں اسی ’’دودھ ‘‘ کی بالائی کی ہی توہیں یا چلیے سمجھوتہ کرکے مان لیتے ہیں کہ دونوں ہی ایک دوسرے پر گئے ہیں ۔

اس لیے آج کام کام کل پر ’’ چھوڑنے ‘‘ کا مزا آپ سے زیادہ اورکون جان سکتا ہے ہائے کب کم بخت تم نے پی ہی نہیں۔اس کی ایک زبردست مثال بھی ہمارے پاس ہے بلکہ اس مثال سے نہ صرف آپ اس ’’مزے ‘‘کااندازہ کر لیں گے جو آج کا کام کل پر چھوڑنے میں ہے بلکہ ان ’’فوائد‘‘ سے بھی آگاہ ہو جائیں گے جو اس ’’ عادت ‘‘سے انسان کو حاصل ہو جاتے ہیں مثال کے طور پر عرصہ ہوا ہمیں کلاشن کوف کے کچھ کارتوس مل گئے تھے ان کا رتوسوں کو دیکھئے ہوتے اچانک دل میں ایک ’’نیک خیال ‘‘ آیا کہ کیوں نہ ان کارتوسوں کے لیے کوئی کلاشن کوف بھی حاصل کیا جائے اور پھر اس سے پاکستان کے سارے چھوٹے بڑے ’’مسائل ‘‘ کو گولی مار کر ’’ حل ‘‘ کیا جائے وہ تو آپ کو بھی پتہ ہے ۔ کہ ہمارا اشارہ کونسے ’’ مسائل ‘‘ کی طرف ہے مرشد نے بھی ان کی طرف اشارہ کیا ہے کہ

گولی بغیر مر نہ سکا ’’ مسٔلہ ‘‘ اسد

بچپن میں وہ پٹے ہوئے بلی کا دودھ تھا

یہ تو بالکل عام سی بات ہے کہ پاکستان کو جتنے ’’مسائل‘‘ لاحق ہیں وہ سارے تو نہیں لیکن اگر ان خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں جن میں بچے کی پرورش بلی کے دودھ سے کی جاتی ہے اور یہ بات ہمیں ایک نہایت ثقہ قسم کی دائی نے بتائی ہوئی ہے ۔

خیر تو بڑی مشکلوں سے ہم نے کلاشن کوف بھی حاصل کیا ۔ اور پھر ٹھاں لیا کہ کل سے ان مسائل کو ’’ حل ‘‘ کرنے نکلیں گے اور پھر جب وہ کل آج ہوئی تو اپنی اس عادت نے انٹری دی کہ چلو کل کر آج مزا لیتے ہیں وہ دن اور آج کا دن ہم مزے ہی مزے لوٹ رہے ہیں جس میں فائدہ یہ ہوا ہے کہ اگر ہم آج کا کام کل پر نہ چھوڑتے ہوئے نکل پڑتے تو خود ہی اندازہ کر لیجیے کہ ہم کہاں ہوتے ؟ اور وہ مقصد بھی پورا نہ ہو پاتا کیونکہ پاکستان کو لاحق ان مسائل کو حل کرنا ممکن ہی نہیں کہ ایک کو مار دیا تو وہ خود بھی ’’ مزار ‘‘ بن کر مسائل کی فیکٹری بن جاتا ہے اور اپنی جگہ پر کولیس کی بلا کی طرح دو چار ’’ سر ‘‘ اور اگا لیتا ہے۔ اور یہ سارا کرشمہ اس خوبصورت دل کش اور دل پذیر عادت کا ہے جو ہمارے اندر کوٹ کوٹ کر بھری ہے کہ آج کا کام کل پر نہیں بلکہ پرسوں برسوں پر چھوڑ دیا کرو اور مزے کے ساتھ ساتھ بے حساب ’’ فوائد ‘‘ بھی حاصل کرو ۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔