پیپلز پارٹی کے مخالف سندھ کی سیاست پر غلبہ حاصل کر سکیں گے؟

جی ایم جمالی  بدھ 13 جون 2018
ڈاکٹر فاروق ستار کا فیصلہ کراچی کی سیاست کے حوالے سے بہت اہمیت کا حامل ہو گافوٹو:فائل

ڈاکٹر فاروق ستار کا فیصلہ کراچی کی سیاست کے حوالے سے بہت اہمیت کا حامل ہو گافوٹو:فائل

 کراچی: سندھ میں الیکشن کی گہما گہمی کا آغاز ہو گیا ہے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے پیپلز پارٹی نے سندھ کے ساتھ ساتھ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں اپنے امیدواروں کا اعلان کر دیا ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ دے دیا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ ( ایم کیو ایم ) پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ انتخابات میں پتنگ کا نشان ایم کیو ایم بہادر آباد گروپ کو ملے گا۔ پاکستان تحریک انصاف نے بھی پورے ملک کے ساتھ ساتھ سندھ میں بھی اپنے امیدواروں کا اعلان کر دیا ہے۔ گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس ( جی ڈی اے ) کے امیدواروں نے صوبے کی زیادہ تر نشستوں کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرا دیئے ہیں۔ سندھ میں انتخابی مقابلوں کے حوالے سے صورت حال بہت حد تک واضح ہو چکی ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کی قومی اسمبلی کی تمام 61 اور صوبائی اسمبلی کی 130 جنرل نشستوں کے لیے امیدواروں کا اعلان کر دیا ہے۔ خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں پر بھی پیپلز پارٹی کے امیدواروں نے بڑی تعداد میں کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں ۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کے امیدواروں کی جو فہرست سامنے آئی ہے، اس سے یہ امکان ظاہر ہوتا ہے کہ صوبے کی آئندہ وزیر اعلی سابق صدر آصف علی زرداری کی ہمشیرہ ، بلاول بھٹو زرداری کی پھوپھی اور پیپلز پارٹی شعبہ خواتین کی صدر فریال تالپور ہو سکتی ہیں کیونکہ آئندہ انتخابات میں انہیں قومی اسمبلی کی بجائے صوبائی اسمبلی کی نشست پی ایس۔ 10 لاڑکانہ سے الیکشن لڑانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

پیپلز پارٹی کے امیدواروں کی فہرست سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ پیپلز پارٹی سے ناراض خاندانوں کو راضی کر لیا گیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ پیپلز پارٹی میں شامل ہونے والے ٹھٹھہ کے شیرازی برادران بھی صرف دو نشستوں پر راضی ہو گئے ہیں۔ گھوٹکی کے مہر خاندان کو صوبائی اسمبلی کی دو نشستوں کے لیے ٹکٹ دیئے گئے ہیں ۔ سردار محمد بخش مہر پی ایس۔ 20 گھوٹکی اور سردار علی نواز خان مہر پی ایس۔ 21 گھوٹکی سے پیپلز پارٹی کے امیدوار ہوں گے۔

مہر خاندان میں سے سابق وزیر اعلی سندھ سردار علی محمد مہر اور سردار علی نواز خان مہر کے بڑے بھائی سردار علی گوہر خان مہر اب بھی ناراض ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ وہ اپنے چچا زاد بھائی اور اپنے بھائی کے ساتھ ساتھ گھوٹکی میں پیپلز پارٹی کے دیگر امیدواروں کی مخالفت میں کس قدر موثر ہوتے ہیں۔ دوسری طرف مٹیاری میں مخدوم خاندان کو قومی اسمبلی کی ایک اور صوبائی اسمبلی کی دو نشستیں دی گئی ہیں۔ مخدوم جمیل الزمان قومی اسمبلی کے حلقہ این اے۔ 223  مٹیاری سے پیپلز پارٹی کے امیدوار ہوں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ وزیر اعلی سندھ کے عہدے کی دوڑ سے نکل گئے ہیں۔ مخدوم محبوب الزمان پی ایس۔ 58 اور مخدوم رفیق الزمان پی ایس۔ 59 سے پیپلز پارٹی کے امیدوار ہوں گے۔

ناراض رہنما ملک اسد سکندر کو بھی پیپلز پارٹی کا ٹکٹ دے دیا ہے اور وہ پی ایس۔ 82 جامشورو سے الیکشن لڑیں گے۔ ٹھٹھہ کے شیرازی برادران میں سے سید ایاز شاہ شیرازی این اے۔ 231 سجاول اور سید حسین شاہ شیرازی پی ایس۔ 75 سجاول سے پیپلز پارٹی کے امیدوار ہوں گے۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین سندھ سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے۔ 200 لاڑکانہ اور این اے۔ 246 لیاری کراچی سے الیکشن لڑیں گے۔

تحریک انصاف نے سندھ کی قومی اسمبلی کی 61 نشستوں میں سے صرف 18 نشستوں پر اپنے امیدواروں کا اعلان کیا ہے، جن میں سے 11 نشستیں کراچی کی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تحریک انصاف کا فوکس سندھ نہیں ہے۔

عمران خان خود کراچی کے حلقہ این اے۔ 243 سے الیکشن لڑیں گے۔ ان کا مقابلہ پیپلز پارٹی کی خاتون رہنما اور سابق ڈپٹی اسپیکر سندھ اسمبلی سیدہ شہلا رضا کریں گی۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے بھی سندھ کی چند نشستوں پر امیدواروں کا اعلان کیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف  نے کراچی کے قومی اسمبلی کے تین حلقوں این اے 248، این اے 249 اور این اے 250 سے کاغذات جمع کرائے ہیں۔ اس طرح سندھ میں تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) دونوں پیپلز پارٹی کے لیے کوئی سیاسی چیلنج نہیں ہیں۔

البتہ گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس ( جی ڈی اے ) کے امیدوار بدین، میرپورخاص، سانگھڑ، نوشہروفیروز میں پیپلز پارٹی کے امیدواروں کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ بدین میں پیپلز پارٹی کے لیے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ پیپلز پارٹی کے منحرف رہنما ڈاکٹر ذوالفقار مرزا اور ان کی اہلیہ سابق اسپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا  نے جی ڈی اے میں شمولیت اختیار کرلی ہے اور بدین میں پیپلز پارٹی کے امیدوار سب نئے لوگ ہیں۔

کراچی میں انتخابی دنگل بہت دلچسپ ہو گا۔ ایم کیو ایم کے مختلف دھڑوں میں اتحاد نہیں ہو سکا ہے۔ ایم کیو ایم  پی آئی بی کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار عدالتی جنگ ہار چکے ہیں اور اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ دے دیا ہے۔ ایم کیو ایم بہادر آباد کے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی پارٹی کے کنوینر ہیں۔ عدالتی فیصلے کے مطابق ’’پتنگ ‘‘کا نشان ایم کیو ایم بہادر آباد کو الاٹ ہو گا۔ اب ڈاکٹر فاروق ستار کے پاس دو ہی راستے ہیں کہ وہ ایم کیو ایم بہادر آباد کے ساتھ غیر مشروط صلح کر لیں اور خود سمیت اپنے امیدواروں کے لیے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی سے ٹکٹ حاصل کریں۔ دوسرا راستہ یہ ہے کہ وہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کریں اور اس طرح ایم کیو ایم کے دونوں دھڑوں کے مابین انتخابی عمل کے دوران بھی عدالتی جنگ جاری رہے۔ ڈاکٹر فاروق ستار کا فیصلہ کراچی کی سیاست کے حوالے سے بہت اہمیت کا حامل ہو گا۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔