بلوچی چپل اور عید تہوار کی خوشیاں

ببرک کارمل جمالی  جمعرات 14 جون 2018
بلوچی چپل کے ڈیزائنوں میں نوریزی کٹ، بالاچ کٹ، مینگل کٹ، شکاری کٹ، سندھی کٹ اور براہوی کٹ زیادہ مشہور ہیں۔ (تصاویر بشکریہ: بلاگر)

بلوچی چپل کے ڈیزائنوں میں نوریزی کٹ، بالاچ کٹ، مینگل کٹ، شکاری کٹ، سندھی کٹ اور براہوی کٹ زیادہ مشہور ہیں۔ (تصاویر بشکریہ: بلاگر)

کوئٹہ میں عید پر ہاتھ سے تیار کیے گئے بوٹ اور چپلوں کی مانگ بڑھ جاتی ہے، کاریگر محنت سے پائیدار مال تیار کرتے ہیں جبکہ شہری شوق سے سستی خریداری کرتے ہیں۔ مناسب قیمت اور پائیدار ہونے کی وجہ سے گاہگ بھی خوشی خوشی ہاتھ سے تیار کی گئی چپلیں اور بوٹ خرید لیتے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت اگر حوصلہ افزائی کرے تو مقامی صنعت کو فروغ مل سکتا ہے۔

جب بلوچ قوم نے سونے اور بیٹھنے کےلیے بستر اورقالین کی ضرورت محسوس کی تو پیش سے چٹائی بناکر اُسے بچھانا شروع کردیا۔ جب اُس نے رہنے کےلیے گھر کی ضرورت محسوس کی تو لکڑیوں کے ساتھ چٹائی باندھ کر اور اُس کی چھت پر پیش ڈال کر اپنا گھر تعمیر کرلیا۔ جب بلوچ قوم نے اپنے پیروں کو ننگا محسوس کیا تو پیش سے چپل بناکر پہننا شروع کردیا۔ یہ چپل انتہائی دیدہ زیب ہے مگر یہ بلوچی چپل بہت جلد ختم ہوجاتے ہیں اور ان کی مدت انتہائی قلیل ہوتی ہے۔

کوئٹہ میں عید قریب آتے ہی مقامی سطح پر ہاتھ سے تیار کیے گئے بوٹوں اور چپلوں کی مانگ بڑھ گئی ہے۔ کاریگر چمڑے سے مختلف اقسام کے بوٹ، نوروزی، بند، ہوائی چپل اور سینڈل محنت سے تیار کرتے ہیں اور عید قریب آتے ہی مال فروخت کےلیے مارکیٹ لایا جاتا ہے۔

بلوچی چپل ”سواس“ اسی پیش سے بنائی جاتی ہے۔ کسان اس پیش سے بننے والی چپل کو شوق سے پہنتے ہیں کیونکہ یہ نرم اور نازک ہوتے ہیں۔ سواس چپل پہاڑی علاقوں میں بہت پہنی جاتی ہے جہاں یہ چپل مہینے میں ایک سے دو بار ختم ہوجاتے ہیں۔ ان کی مدت انتہائی کم ہوتی ہیں اس لیے اکثر علاقوں میں اس چپل کا رواج بھی ختم ہوگیا ہے۔ البتہ اس سواس چپل کے ڈیزائن کے چمڑے کی چپل بھی بازار میں آرام سے دستیاب ہوجاتی ہیں جنہوں نے سواس چپل کو خاصا دھچکا لگایا ہے۔

بلوچی چپل نہ صرف بلوچستان کی ثقافت کا ایک حصہ ہے بلکہ پورے ملک میں لوگ اسے بہت شوق سے پہنتے ہیں۔ مرد ہوں یا خواتین، بلوچی چپل کو بطور فیشن اور دلفریب لگنے کےلیے بہت شوق سے پہنتے ہیں۔ بلوچی چپل انتہائی دیدہ زیب ڈیزائن میں بنائے جاتے ہیں۔ آج کل بلوچی چپلیں نہ صرف بلوچستان بلکہ پوری دنیا میں اپنی خوبصورتی کی وجہ سے شہرت رکھتے ہیں۔ بلوچی چپل کی تیاری بالکل آسان نہیں، اس کی بناوٹ میں مضبوط دھاگہ استعمال ہوتا ہے اور انتہائی مضبوط چمڑا اور مخصوص اوزاروں کے ساتھ بلوچی چپل بنایا جاتا ہے۔ ان چپلوں کی تیاری میں ایک سے دو ہفتے بھی لگ سکتے ہیں جنہیں پہننے والے بہت خوشی سے پہنتے ہیں جبکہ بلوچ خواتین چپلیں اس قدر دیدہ زیب ہوتی ہیں کہ خواتین انہیں خود پہننے کے علاوہ اپنے عزیز و اقارب تک کو بطور تحفہ خاص بھی دیتی ہیں۔

بلوچی چپل خوبصورت کشیدہ کاری کے ساتھ، دیدہ زیب انداز میں بنائی جاتی ہے۔ ان چپلوں کے ساتھ بلوچی ٹوپیاں اور بلوچی واسکٹس بلوچستان میں رہنے والے سب لوگ بہت شوق سے پہنتے ہیں۔ سچ تو یہ ہےکہ شادی کے دن اگر دولہا بلوچی چپل نہ پہنے تو اس کی شادی ادھوری سمجھی جاتی ہے۔ بلوچستان میں بلوچی چپل کے مختلف ڈیزائن ہیں مگر چند ڈیزائن زیادہ مقبول ہیں جن میں نوریزی کٹ، بالاچ کٹ، مینگل کٹ، شکاری کٹ، سندھی کٹ، براہوی کٹ کے ساتھ ساتھ اور بھی دوسرے کٹ مشہور ہیں۔

بلوچی چپل گرمیوں میں، خاص کر شادی کے دنوں میں نایاب ہوجاتے ہیں جبکہ دکانوں پر مردانہ، زنانہ اور بچوں کے سائز اور کئی اقسام کی چپلیں پہلے دستیاب نہیں ہوتیں۔ ریڈی میڈ بڑی مشکل سےملتے ہیں مگر آج کل مختلف کمپنیوں اور برانڈز کے جوتے اے سی والی دکانوں پر موجود تو ہیں، لیکن بلوچستان کے عوام کی پہلی ترجیح بلوچی چپل ہی ہوتی ہے۔ ہر سال بلوچستان بھر میں بلوچی چپلوں کی ثقافت کو مختلف پہلوؤں سے اجاگر کیا جاتا ہے اور ہر سال مختلف ڈیزائن مارکیٹوں کی زینت بنتے ہیں۔ بلوچستان کے تمام ایم پی اے اور ایم این اے کی پہلی ترجیح بلوچی چپل ہی ہوتی ہیں جنہیں وہ شوق سے پہنتے ہیں۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

ببرک کارمل جمالی

ببرک کارمل جمالی

بلاگر ایم اے بین الاقوامی تعلقات میں ماسٹرز کرچکے ہیں جبکہ بلوچستان کے مسائل پر دس سال سے باقاعدہ لکھ رہے ہیں۔ پاکستان کے مختلف اخبارات میں آپ کے کالم اور بلاگ شائع ہوتے رہتے ہیں۔ ان سے [email protected] پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔